🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْأَعْمَالِ
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8915
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا) ) قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ} [المعارج: 23]
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنے عمل کا اہتمام کرو، جس کی تم طاقت رکھتے ہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا، حتیٰ کہ تم نہیں اکتا جاؤ گے۔ سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ وہ نماز پسند تھی کہ جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوام کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ ابو سلمہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ لوگ جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8915]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5861، ومسلم: 782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25047»
وضاحت: فوائد: … ہمیشگی والا عمل، یہی وہ خصلت ہے، جس کی وجہ سے خالق ومخلوق کے مابین تعلق میں مضبوطی آتی ہے اور عبادت میں شیرینی اور لذت محسوس ہوتی ہے، اس وقت مسلمان کلی طور پر ایسے اعمال سے غافل ہیں، الا ما شاء اللہ، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات ہماری روٹین کی محتاج ہیں، اگر وقت ملا تو نماز کا اہتمام ہو گا، اگر رات کو سونے میں دیر ہو گئی تو فجر کی نماز کو داؤ پر لگا دیا جائے گا، یہ نہیں ہو سکتا کہ نمازِ فجر کی خاطر رات کو جلدی سو جائیں، مغرب کی ایک، دو یا تین رکعتیں رہ جائیں، ہم پہلے پرتکلف افطاری کرتے ہوئے خوب کھائیں گے، اگر بیوی بچوں پر خرچ کرنے کے بعد کچھ بچا تو غریب کو دیا جائے گا، اگر اپنے گھر کی الجھنوں سے نکلے تو تب ہمسائے کا حق ادا کیا جائے گا، اگر سکول کی تعلیم سے وقت بچا تو تب بچے کو قرآن مجید پڑھایا جائے گا، ہماری زندگی کا ہر شعبہ ان مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ کاش ہم اسلام کو اصل سرمایہ سمجھ لیتے،دین پر چلنا بھی آسان ہو جاتا اور دنیا بھی ہماری تابع ہو جاتی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8916
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ حَزْنٍ الْكَافِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَنْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تُطِيقُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا) )
۔ سیدنا حکم بن حزن کافی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بیشک تم کو جن جن امور کا حکم دیا گیا ہے، تم سب کی ہر گز طاقت نہیں رکھ سکتے، البتہ راہِ صواب پر چلتے رہو اور خوشخبری حاصل کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8916]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابويعلي: 6826، وابن خزيمة: 1452، والبيھقي: 3/ 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17856 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18011»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8917
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ بِمَا يُطِيقُونَ مِنَ الْعَمَلِ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَتْ فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو عمل کا حکم دیتے تو اتنا حکم فرماتے، جس کی وہ طاقت رکھتے، لیکن جب وہ کہتے کہ اے اللہ کے رسول! بیشک ہم توآپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے ہو جاتے،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ مبارک میں غصے کے آثار نظر آنے لگتے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8917]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24793»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی پہلی حدیث میں ایک مثال بیان ہو چکی ہے۔
قارئین ِ کرام!دین کے معاملے میں انتہائی سنجیدگی کی ضرورت ہے، یہ بات اس دین کے شایانِ شان نہیں ہے کہ خیال آ گیا تو اجر و ثواب کے بڑے بڑے کام کر دیئے اور خیال نہ آیاتو بے رخی اختیار کر لی، سنجیدگی کے ساتھ ساتھ بڑی مصلحت اور حکمت کی بھی ضرورت ہے، اس ضمن میں مساجد کے ائمہ و خطباء پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان سے
گزارش ہے کہ وہ اپنے منصب کو سمجھیں اور اپنے ارد گرد رہنے والے ہر فرد پر نظر رکھیں اور اس کی صلاحیت کے مطابق اس کی رہنمائی کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیں، بسا اوقات ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی اطاعت کا بڑا عمل سر انجام دینا چاہتا ہو، لیکن حالات و واقعات کو دیکھ اہل علم حکمت و بصیرت سے کام لیں اور غور کریں کہ اس آدمی کو اس عمل سے روکنا بہتر ہے یا نہیں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض صحابہ کو بعض اعمال صالحہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8918
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ فَأَوْغِلُوا فِيهِ بِرِفْقٍ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ دین مضبوط ہے، تم اس میں نرمی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8918]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13052 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13083»
وضاحت: فوائد: … اگر ایک آدمی میں کسی تقریریا ذاتی مطالعہ کی وجہ سے تلاوت کی رغبت پیدا ہوتی ہے تو اس کو چاہیے کہ ایک ایک پاؤ یا نصف نصف پارے کی تلاوت سے اپنے عمل کا آغاز کرے، پھر مقدار کو آہستہ آہستہ بڑھاتا جائے، اگر کسی آدمی میں ہمسائیوں کے حقوق کے پورا کرنے کی رغبت پیدا ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ایک گھر والوں کے حقوق ادا کر کے اپنی رغبت کو برقرار رکھے، پھر آہستہ آہستہ اپنی صلاحیت اور وقت کے مطابق اس سلسلے کو آگے بڑھائے۔ ہر عبادت کے بارے میں یہی قانون ہے، ما سوائے فرض عبادات کے۔ ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ جب لوگوں میں کسی نہ کسی طرح رغبت پیدا ہو جاتی ہے تو اتنی بڑی مقدار میں عمل شروع کرتے ہیں کہ چوتھے پانچویں موقعہ پر بوریت اور اکتاہٹ میںمبتلا ہو کر مکمل عمل کو ترک کر دیتے ہیں۔
قارئین کرام! آپ غور کریں گے کہ ماہِ رمضان کے شروع ہوتے ہی لوگوں میں اعمال صالحہ کی بڑی رغبت پیدا ہوتی ہے، خاص طور پر پانچ نمازوں اور نمازِ تراویح کی، لیکن رمضان کی پانچ چھ تاریخ تک اکثر لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں میں وہ رغبت ختم ہو چکی ہوتی ہے، اس کی کیاوجہ ہے؟ یہی کہ نرمی کے ساتھ رسوخ حاصل نہیں کیا جاتا، لوگ اچانک اعمالِ صالحہ کی بڑی مقدار پر حملہ تو کر دیتے ہیں، لیکن ان کی طبیعت اور فطرت اس قدر اہل نہیں ہوتی کہ وہ ان کا ساتھ دے، سو چار پانچ دنوں کے بعد وہی گندی فطرت غالب آجاتی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ جیسے لوگوں پر مایوسی چھا گئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو شامل حال نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8919
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَعْرَابِيٍّ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ) )
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ایک بدو سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسانی والا ہو، بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سہولت پر مشتمل ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8919]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16032»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8920
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ آخِذًا بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ ثُمَّ أَتَى حُجْرَةَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَنَفَضَ يَدَهُ مِنْ يَدِي قَالَ ( (إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ) )
۔ سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک بیوی کے حجرے کی طرف تشریف لے گئے اور میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور فرمایا: بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسانی والا ہو، بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سہولت پر مشتمل ہو، بیشک تمہارا خیر والا دین وہ ہے، جس میں زیادہ آسانی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8920]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطيالسي: 1295، والطبراني في الكبير: 20/ 704، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20617»
وضاحت: فوائد: … اگر دینِ اسلام کے تمام احکام پر نگاہ ڈالی جائے تو یہی نظر آئے گا کہ کسی معاملے میں کوئی مشقت نہیں ہے، یہ دین صرف آسانی والا نہیں ہے، بلکہ اس پر عمل کرنے سے جسم اور روح کو تسکین ملتی ہے، پہلے ادیان میں پائی جانے والی سختیاں اس دین میں نہیں ہیں۔
قارئین کرام! لیکنیہ آسانی وہ شخص تسلیم کرے گا، جو سلیم الفطرت ہو گا اور دین پر عمل کرنے کا متمنی ہو گا، آخر اسی دین میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز مضمر ہے، اس لیےیہ کوئی حلوے کا لقمہ تو نہیں ہو گا کہ ہر کھانے والا جس کو آسانی اور لذت کے ساتھ کھانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
ایک مثال کے ذریعے سمجھیں کہ اس دنیائے فانی میں جس آدمی نے آمدنی کا جو ذریعہ اختیار کر رکھا ہے، وہ اس کو آسان سمجھتا ہے، کاروبار کے لیے روزانہ دس بارہ بارہ گھنٹے مصروف رہنا، ساتھ ساتھ کھاتے بنانے، کسی کو سنانا، کسی کی سننا، پڑھانے والے لوگوں کا تین تین چار چار یا پانچ چھ چھ پیریڈ پڑھانا، زمینداروں کا سخت محنت کرنا، کارخانوں اور صنعتوں میںکام کرنے والے لوگ، رات کی ڈیوٹیاں، پورا دن رات گاڑیوں کے ساتھ مصروف رہنے والے ڈرائیور اور کنڈیکٹر …، غرضیکہ ہر کوئی بڑے شوق کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہے، اسی طرح نماز پڑھنے والوں کے لیے نماز آسان ہے، حج کرنے والوں کے لیے حج آسان ہے، روزہ رکھنے والوں کے روزے آسان ہیں، صدقہ و زکوۃ کے خواہشمندوں کے لیےیہ عمل آسان ہے، جہاد کرنے والوں کے لیے جہاد آسان ہے، خو ش مزاج لوگوں کے لیے خوش رہنا آسان ہے … علی ہذا القیاس۔ جو آدمی کسی شرعی رکن کو مشکل سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے، دراصل اس کے مزاج میں نحوست اور فساد آ چکا ہے اور شیطان اس پر اس قدر غالب آ چکا ہے کہ دین اسلام کے ارکان کی ادائیگی اس کے لیے مشکل ہو گئی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8921
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيَّ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا فَإِذَا نَحْنُ بَيْنَ أَيْدِينَا بِرَجُلٍ يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَتُرَاهُ يُرَائِي) ) فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَتَرَكَ يَدِي مِنْ يَدِهِ ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يُصَوِّبُهُمَا وَيَرْفَعُهُمَا وَيَقُولُ ( (عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ) ) وَفِي لَفْظٍ فَأَرْسَلَ يَدِي ثُمَّ طَبَقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ فَجَمَعَهُمَا وَجَعَلَ يَرْفَعُهُمَا بِحِيَالِ مَنْكَبَيْهِ يَضَعُهُمَا وَيَقُولُ ( (عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ الدِّينَ يَغْلِبْهُ) )
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک دن کسی ضرورت کے لیے نکلا، اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سامنے چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ہم دونوں اکٹھے چلنے لگے، اچانک ہم نے اپنے سامنے ایسا آدمی دیکھا جو بہت زیادہ رکوع و سجود کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بارے میں تیرایہ خیال ہے کہ وہ ریاکاری کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنے دونوں ہاتھ جمع کر کے اوپر نیچے کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ میانہ روی والا طریقہ لازم پکڑو، اعتدال والے انداز کا اہتمام کرو، میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ جو دین میں تکلف کرنے کی کوشش کرتا ہے، دین اس پر غالب آ جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں میں تطبیق دے کر ان کو اکٹھا کیا اور پھر ان کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے اور پھر نیچے کرنے لگے اور فرمانے لگا: میانہ روی والے طریقے کو لازمی پکڑو، تین دفعہ فرمایا، کیونکہ جو آدمی زور آمائی کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8921]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 1/ 312، وابن خزيمة: 1179، والحاكم: 1/312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23351»
وضاحت: فوائد: … جو دین میں تکلف کرنے کی کوشش کرتا ہے، دین اس پر غالب آ جاتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی اپنی طاقت سے بڑھ کر اور تکلف کر کے نیک عمل کرے گا، وہ بالآخر عمل کی کمی کرے گا اور فرائض تک کو چھوڑ بیٹھے گا۔
اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ چلنے کا طریقہیہ ہے کہ لوگوں کا تحقیق اور حکمت و بصیرت والے اہل علم سے رابطہ ہو، وہ اپنی اہلیت اور مصروفیت کو دیکھ کر ان سے شریعت کی روشنی حاصل کریں اور اپنے لیے اعمالِ صالحہ کا معتدل سا منہج اختیار کریں، نیز ان کو یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ جب رغبت زیادہ ہو تو کون سا عمل کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8922
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَيَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَوْلَاةً لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالُوا إِنَّهَا تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَكِنِّي أَنَا أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ فَمَنِ اقْتَدَى بِي فَهُوَ مِنِّي وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً ثُمَّ فَتْرَةً فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى بِدْعَةٍ فَقَدْ ضَلَّ وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ فَقَدِ اهْتَدَى) )
۔ مجاہد کہتے ہیں: میں اور یحییٰ بن جعدہ ایک انصاری صحابی کے پاس گئے، انھوں نے کہا: ایک دفعہ یوں ہوا کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بنی عبدالمطلب کی ایک لونڈی کا اس طرح ذکر کیا کہ وہ رات کو قیام کرتی ہے اور دن کو روزہ رکھتی ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں اورچھوڑ بھی دیتا ہوں، پس جس نے میری پیروی کی، وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری سنت سے منہ پھیر لیا، وہ مجھ سے نہیں ہے، ہر عمل کی حرص، شدت اور افراط تو ہوتی ہے، لیکن پھر سکون اور تھماؤ بھی ہوتا ہے، پس جس کا تھماؤ بدعت کی طرف لے جائے گا، وہ گمراہ ہو جائے گا اور جس کا ٹھہراؤ سنت کی طرف لے جائے گا، وہ ہدایت پا جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8922]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 1239، والطبراني في الكبير: 2186، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23870»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصہ کی وضاحت حدیث نمبر (۸۹۰۷) میں ہو چکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8923
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُنَاسًا كَانُوا يَتَعَبَّدُونَ عِبَادَةً شَدِيدَةً فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ( (وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَخْشَاكُمْ لَهُ) ) وَكَانَ يَقُولُ ( (عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: کچھ لوگ بڑی سخت عبادت کیا کرتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک میں تم میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، تم اتنے عمل کا اہتمام کرو، جتنے کی طاقت رکھتے ہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا، حتیٰ کہ تم اکتا جاؤ گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8923]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5861، ومسلم: 782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25425»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8924
عَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَيَسِّرُوا فَإِنَّهُ لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ) ) قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَحْمَةً وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راہِ صواب پر چلو، میانہ روی اختیار کرو اور آسانی پیدا کرو، پس کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کا عمل بھی نہیں کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور میں بھی ایسے ہی ہوں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ڈھانپ دے اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے، جس پر ہمیشگی کی جائے، اگرچہ وہ کم ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8924]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6464، ومسلم: 2818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25454»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۹۰۶)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں