الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرُ الْوَالِدَيْنِ وَحُقُوقِهَا وَالتَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 8995
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَجَرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَذِنَا لَكَ قَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ إِلَى أَبَوَيْكَ فَاسْتَأْذِنْهُمَا فَإِنْ فَعَلَا وَإِلَّا فَبَرَّهُمَا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے شرک کو تو چھوڑ دیا ہے، لیکن ابھی تک جہاد باقی ہے، اچھا یہ بتاؤ کہ کیایمن میں تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انھوں نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور ان سے اجازت طلب کر، اگر وہ اجازت دے دیں تو ٹھیک، وگرنہ ان کے ساتھ ہی نیکی کرتے رہنا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8995]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 2530، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11744»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8996
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ الْغَزْوَ وَجِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ الْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فِي مَقَاعِدَ شَتَّى كَمِثْلِ هَذَا الْقَوْلِ
۔ سیدنا معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں اور اب آپ کے ساتھ مشورہ کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اسی کے ساتھ رہ، کیونکہ جنت اس کے پاؤں کے پاس ہے۔ پھر راوی نے دوسری اور تیسری دفعہ مختلف مجلسوں میں یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8996]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 6/ 11، وابن ماجه: 2781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15623»
وضاحت: فوائد: … اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کی خدمت کرنے میں اس کے پاؤں کے نیچے روندی جانے والی مٹی بن جا، یعنی ماں کی جائز خواہش کو دوسری مخلوقات کی خواہشات سے مقدم سمجھ کر پہلے اس کو پورا کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8997
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ امور بیان کیے اور اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کا مطالبہ کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھے زیادہ بتلانا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8997]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 527، 5970، ومسلم: 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3890»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8998
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَغِمَ أَنْفُ رَغِمَ أَنْفُ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا عِنْدَهُ الْكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلْهُ الْجَنَّةَ (وَفِي لَفْظٍ) فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو جائے، ناک خاک آلود ہو جائے، اس کا ناک خاک آلود ہو جائے جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت پایا، لیکن انھوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8998]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 527، 5970، ومسلم: 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8538»
وضاحت: فوائد: … یہ بڑی محرومی ہے کہ آدمی اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو سکے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8999
عَنْ أُبَيِّ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَسْحَقَهُ
۔ سیدناابی بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا، لیکن پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے اور ہلاک کر دے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8999]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 1321، والطبراني في الكبير: 544، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19236»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9000
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں وصیت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں نصیحت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بعد دیگر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9000]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 3661، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17319»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9001
عَنْ خِدَاشِ بْنِ سَلَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أُوصِي امْرَأً بِأُمِّهِ أُوصِي امْرَأً بِأُمِّهِ أُوصِي امْرَأً بِأُمِّهِ أُوصِي امْرَأً بِأَبِيهِ أُوصِي امْرَأً بِأَبِيهِ أُوصِي امْرَأً بِمَوْلَاهُ الَّذِي يَلِيهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَيْهِ فِيهِ أَذَاةٌ تُؤْذِيهِ
۔ سیدنا خداش بن سلامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے غلام کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، جو اس کی خدمت کر رہا ہے، اگرچہ اس کی وجہ سے اس پر کوئی ایسی تکلیف آ پڑے، جو واقعی اسے تکلیف دے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9001]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال عبيد بن علي، أخرجه ابن ماجه: 3657، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18997»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9002
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّكَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے نیکی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اس کے بعد کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اپنے باپ سے اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں سے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9002]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 5139، والترمذي: 1897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20281»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ باپ پورے کنبے کا کفیل ہوتا ہے، محنت مزدوری کر کے اپنے بیوی بچوں کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے، لیکن بچے کے سلسلے میں جو شفقت بھری خدمات ماں کو سر انجام دینا پڑتی ہیں، وہ کسی کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہیں۔ نوماہ تک حمل کی صعوبتیں،ولادت کے کٹھن مراحل، بچے کو اپنی چھاتی سے خوراک مہیا کرنا، دن رات اس نگہداشت اور صفائی ستھرائی کے حقوق ادا کرنا، اس کی تکلیف پر بے چین ہو جانا اور بچے کی ہر قسم کی تکلیف کو رفع کرنے میں اپنا سکون سمجھنا، جبکہ ہر مرحلے میں ماں شفقت کرتی ہے، بوجھ نہیں سمجھتی، اللہ اکبر۔ اگر رات کی گہری نیند والی گھڑیوں میں بچہ کسی چیز کا مطالبہ کر دے تو جو ہستی بچے کے مطالبے کو پورا کرنے میں اپنا سکون سمجھے گی، اسی کو ماں کہتے ہیں۔
اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماں کے حقوق کو مقدم رکھا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باپ کی خدمت کا لحاظ نہ رکھا جائے۔
اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماں کے حقوق کو مقدم رکھا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باپ کی خدمت کا لحاظ نہ رکھا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9003
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ إِلَّا قَوْلَهُ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں درج ذیل الفاظ نہیں ہیں: پھر زیادہ قریبی رشتہ دار اور ان کے بعد مزید قریبی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9003]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5971، ومسلم: 2548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8326»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9004
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ بَدْرِيًّا وَكَانَ مَوْلَاهُمْ قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ بَعْدَ مَوْتِهِمَا أَبَرُّهُمَا بِهِ قَالَ نَعَمْ خِصَالٌ أَرْبَعَةٌ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا رَحِمَ لَكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِهِمَا فَهُوَ الَّذِي بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ بِرِّهِمَا بَعْدَ مَوْتِهِمَا
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ، جو کہ بدری تھے اور ان کے مولی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی چیز بچی ہے کہ اس کے ذریعے میں ان کے ساتھ نیکی کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، چار چیزیں ہیں، ان کے لیے دعائے رحمت کرنا، ان کے لیے بخشش طلب کرنا، ان کے وعدوں کو نبھانا، ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان لوگوں سے صلہ رحمی کرنا، جو صرف اُن کی طرف سے رشتہ دار بنتے ہوں، یہ امور ہیں کہ جو ان کی وفات کے بھی تجھ پر باقی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9004]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال علي بن عبيد، أخرجه ابوداود: 5142، وابن ماجه: 3664، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16156»
وضاحت: فوائد: … وعدوں کو نبھانے سے مراد یہ ہے کہ اگر والدین نے کسی سے مدد کرنے یا کوئی اور نیکی کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے تو اس کونبھانا چاہیے۔
الحكم على الحديث: ضعیف