🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ في بر الأولادِ وَالأقَارِبِ الْأَقْرَبِ فَالْاقْرَبِ اب مَا جَاءَ فِي نَمْرَةِ الأَوْلَادِ وَالتَّرْغِيْبِ فِي ادِيهِمْ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِمْ
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9015
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى عِيَالِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى ذَوِي قَرَابَتِهِ أَوْ قَالَ عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَا هُنَا وَهَا هُنَا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ سے ابتداء کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے بچوں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال زائد ہو تو اپنے دوسرے رشتہ داروں پر صرف کرے اور اگر پھر بھی مال بچ جائے تو اِدھر اُدھر یعنی دوسرے لوگوں پر خرچ کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9015]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14324»
وضاحت: فوائد: … صدقہ و خیرات باعث ِ اجرو ثواب عمل ہے، لیکن عام صدقہ سے پہلے اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ والدین، اولاد، بیوی اور دوسرے قرابتداروں کی ضروریات کو مقدم کرنا چاہیے، آج کل لوگ بیوی بچوں پر تو تکلف کی حد تک خرچ کرتے ہیں، لیکن دوسرے رشتہ داروں سے مکمل بے رخی اختیار کرتے ہیں اور ان کا نظریہیہ ہوتا ہے کہ اگر ایک بار کسی کو دے دیں تو وہ دوبارہ جان نہیں چھوڑتا۔ ایسے لوگوں کا یہ نظریہ غلط ہے، اگر کوئی رشتہ دار دوبارہ آ جائے اور گنجائش ہو تو بار بار اس کے آنے کو محسوس نہیں کرنا چاہیے اور اگر گنجائش نہ ہو تو اچھے طریقے سے معذرت کر لینی چاہیے۔
بہرحال عام خیراتی اداروں اور ہسپتالوں میں صدقہ دینے سے پہلے غریب رشتہ داروں کو ترجیح دی جائے، ان کی ضرورت پوری کرنے کے بعد مزید صدقہ و خیرات کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9016
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تو اپنے آپ کو کھلائے گا، وہ تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی اولاد کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی بیوی کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا اور جو تو اپنے خادم کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9016]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 2138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17311»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9017
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ دِينَارٍ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ مِنْ قِبَلِهِ بِرًّا بِالْعِيَالِ قَالَ وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالِهِ صِغَارًا يُعِفُّهُمُ اللَّهُ بِهِ
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا دینار وہ ہے، جو بندہ اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جو آدمی اللہ کے راستے میں اپنے چوپائے پر خرچ کرے۔ پھر ابو قلابہ نے اپنی طرف سے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا: اور کون سا آدمی اجر و ثواب میں اس شخص سے بڑا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ذریعے پاکدامن بنائے رکھتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9017]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22820»
وضاحت: فوائد: … جو آدمی کمانے کے قابل نہ ہو، اس کا سہارا بننا بڑی نیکی ہے، بالخصوص اگر وہ فرد چھوٹی عمر میں ہو اور وہ بھی اولاد ہو تو اس کی ضروریات پوری کرنا والدین کی سعادت ہوگی، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اجر و ثواب کی نیت سے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کیا کریں، لیکن تکلف سے بچیں اور دوسرے غریب بچوں کابھی خیال رکھیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9018
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو زیادہ قریبی رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کی ہے اور پھر ان سے جو ان کے بعد ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9018]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17316»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9019
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا فَهَلْ لِي تَوْبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ وَالِدَانِ قَالَ لَا قَالَ فَلَكَ خَالَةٌ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَرَّهَا إِذًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، کیا میرے لیے توبہ کا امکان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری کوئی خالہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسی سے نیکی کر۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9019]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 1904، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4624»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ} … بیشک نیکیاںبرائیوں کو ختم کر دیتی ہیں (سورۂ ہود: ۱۱۴) اس حدیث ِ مبارکہ میں بھییہی قانون بیان کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9020
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَعْتَقْتُ جَارِيَةً لِي فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِعِتْقِهَا فَقَالَ آجَرَكِ اللَّهُ أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ
۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں آپ کو اس کی آزادی کی بارے میں بتلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو اس میں تیرے لیے زیادہ اجر ہوتا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9020]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 1690، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27354»
وضاحت: فوائد: … محتاج رشتہ دار پر خرچ کرنا، غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ باعث ِ ثواب ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9021
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَسَمِعْتَ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ قَالَ نَعَمْ
۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ بن قرہ سے کہا: کیا تم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انھوں نے یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو فرمایا: لوگوں کا بھانجا ان میں سے ہی ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9021]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3528، 6761، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12211»
وضاحت: فوائد: … صلہ رحمی اور معاونت کا سلسلہ دوسرے رشتہ داروں کی طرح بھانجے کو بھی حاصل ہے

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9022
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَفَاطِمَةُ وَالْعَبَّاسُ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَبِرَ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَكَثُرَتْ مُؤْنَتِي فَإِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَأْمُرَ لِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا كَانَتْ مَعِيشَتِي مِنْهَا ثُمَّ قَبَضْتَهَا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي هَذَا الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا فِي كِتَابِهِ مِنْ هَذَا الْخُمُسِ فَأَقْسِمُهُ فِي حَيَاتِكَ كَيْ لَا يُنَازِعَنِيهِ أَحَدٌ بَعْدَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَلِكَ فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ عُمَرُ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى كَانَتْ آخِرُ سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ فَإِنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ كَثِيرٌ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى} [الأنفال: 41]
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدہ فاطمہ، سیدنا عباس اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم، رسول اللہ کے پاس جمع ہوئے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میری عمر بڑی ہو چکی ہے، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور مشقت بھی کافی کر لی ہے، اس لیے اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے اتنے وسق اناج کا حکم دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کر دیں گے۔ پھر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی، وہ میری گزران کا ذریعہ تھی، لیکن پھر آپ نے واپس لے لی ہے، اگر آپ مناسبت سمجھتے ہیں تو دوبارہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کریں گے۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں کہ آپ مجھے اس حق کا والی بنا دیں، جس کا اللہ تعالیٰ نے خُمُس کی صورت میں اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے، میں اس کو آپ کی زندگی میں تقسیم کروں گا، تاکہ آپ کے بعد کوئی آدمی مجھ سے جھگڑا نہ کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کا والی بنا دیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کوتقسیم کیا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا، میں نے ان کی زندگی میں بھی اس کو تقسیم کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا اور میں نے ان کی زندگی میں اس کو تقسیم کیا،یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری سال تھا اور ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9022]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3528، 6761، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 646»
وضاحت: فوائد: … یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قرابتداروں کا خیال رکھا تھا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9023
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَتْ عِيرٌ الْمَدِينَةَ فَاشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَبِحَ أَوَاقِيَ فَقَسَمَهَا فِي أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ لَا أَشْتَرِي شَيْئًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک قافلہ مدینہ منورہ میں آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کوئی چیز خریدی اور اس پر کچھ اوقیے نفع کمایا اور پھر ان کو بنو عبد المطلب کی بیواؤں میں تقسیم کر دیا اور فرمایا: آئندہ میں ایسی چیز نہیں خریدوں گا، جس کی میرے پاس قیمت نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9023]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله القاضي سييء الحفظ، وسماك في روايته عن عكرمة اضطراب، أخرجه ابوداود: 3344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2093»
وضاحت: فوائد: … ایسی چیز خریدنے سے اجتناب کا درس دیا جا رہا ہے، جس کی بندے کے پاس قیمت نہ ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ آدمی مقروض ہی فوت ہو جائے اور اس کی طرف سے ادائیگی بھی نہ کی جائے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9024
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92] قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92] وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَاضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ وَأَنَا أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء باغ تھا، یہ مسجد کے سامنے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں داخل ہوتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} … تم جب تک پسندیدہ چیزیں خرچ نہیں کرو گے، اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچو گے۔ تو سیدنا ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء ہے، لہٰذا میں اس کو اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ کرتا ہوں اور اس کے ہاں اس کی نیکی اور ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں، اے اللہ کے رسول! جیسے اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے، اس کے مطابق اس کو تقسیم کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واہ واہ! یہ تو نفع بخش مال ہے، یہ تو نفع بخش مال ہے، تحقیق میں نے تیری بات سن لی ہے، میرا خیال ہے کہ تو اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسی طرح ہی کروں گا، پھر انھوں نے وہ مال اپنے رشتے داروں اور چچا زادوں میں تقسیم کر دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9024]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله القاضي سييء الحفظ، وسماك في روايته عن عكرمة اضطراب، أخرجه ابوداود: 3344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12465»
وضاحت: فوائد: … اولاد، والدین اور بیوی کا تو آدمی پر حق ہے، سب سے پہلے ان کو ہی ترجیح دینی چاہیے، ان کی ضروریات کے بعد دوسرے رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہیے، لیکن اس قانون کا مطلب موجودہ زمانے کا پرتکلف نظام نہیں ہے، جائز اخراجات ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں