الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ في بر الأولادِ وَالأقَارِبِ الْأَقْرَبِ فَالْاقْرَبِ اب مَا جَاءَ فِي نَمْرَةِ الأَوْلَادِ وَالتَّرْغِيْبِ فِي ادِيهِمْ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِمْ
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
حدیث نمبر: 9035
۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: دَخَلَ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَرَآہُ یُقَبِّلُ حَسَنًا اَوْ حُسَیْنًا، فَقَالَ لَہُ: لا تُقَبِّلْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَقَدْ وُلِدَ لِیْ عَشَرَۃٌ مَا قَبَّلْتُ اَحَدًا مِنْھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ( (اِنَّ مَنْ لایَرْحَمُ لایُرْحَمُ۔) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا بوسہ لے رہے تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان کا بوسہ نہ لیں، میرے تو دس بچے ہیں اور میں نے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9035]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7121 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … بندے کا رحمدل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم کرے گا، اگر کوئی آدمی بہت ہی سخت طبیعت کا مالک ہو تو اس کو چاہیے کہ تکلف کرتے ہوئے اپنی اولاد کے معاملے میں نرمی کر لیا کرے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي اكْرَامِ الأَنَاتِ مِنَ الأَولادِ فَضْلِ تَرْبِيَتِهِنَّ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِنَّ
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9036
۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ( (لا تُکْرِھُوْا الْبَنَاتِ فَاِنَّھُنَّ الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِیَاتُ۔) )
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی بچیوں کو مجبور نہ کیا کرو، کیونکہ وہ دل بہلانے والی اور خاوندوں سے محبت کرنے والی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9036]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17373 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … بہرحال بچیوں کو نکاح پر مجبور نہیں کیا سکتا ہے، ان کی اپنی رضامندی ضروری ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9037
۔ عَنْ عِکْرَمَۃَ، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ بِالْمَدِیْنَۃِ، فَمَرَّ شَیْخٌیُقَالَ لَہُ شُرَحْبِیْلُ اَبُوْسَعْدٍ، فَقَالَ: یَااَبَا سَعْدٍ، مِنْ اَیْنَ جِئْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ عِنْدِ اَمِیْرِالْمُؤْمِنِیْنَ، حَدَّثْتُہُ بِحَدِیْثٍ، فَقَالَ: لِاَنْ یَّکُوْنَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ حَقًّا، اَحَبُّ اِلَّیٰ مِنْ اَنْ یَّکُوْنَ لِیْ حُمْرُ النَّعَمِ، قَالَ: حَدَّثَ بِہٖالْقَوْمَ،قَالَ: سَمِعْتُابْنَعَبَّاسٍیَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ( (مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُدْرِکُ لَہُ ابْنَتَانِ، فَیُحْسِنُ اِلَیْھِمَا مَا صَحِبَتَاہُ، اَوْ صَحِبَھُمَا، اِلَّا اَدْخَلَتَاہُ الْجَنَّۃَ۔) )
۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں زید بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ابو سعد شرحبیل نامی ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا، انھوں نے کہا: اے ابو سعد! کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین کے پاس سے، میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی اور انھوں نے کہا: اگر یہ حدیث واقعی ثابت ہے تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہو گی، پھر انھوں نے لوگوں کو وہ حدیث بیان کی اور کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی دو بیٹیاں بالغ ہو جائیں اور پھر وہ جب تک اس کے ساتھ رہیں،یا وہ ان کے ساتھ رہے تو وہ ان کے ساتھ احسان کرتا رہے تووہ اس کو جنت میں داخل کر دیں گی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9037]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 2457، والحاكم: 4/ 178، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3424 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9038
۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ( (لا یَکُوْنُ لِاَحَدٍ ثَلاثُ بَنَاتٍ، اَوْ ثَلاثُ اَخَوَاتٍ، اَوْ بِنْتَانِ، اَوْ اُخْتَانِ، فَیَتَّقِی اللّٰہَ فِیھِنَّ، وَیُحْسِنُ اِلَیْھِنَّ، اِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے حقوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور ان کے ساتھ احسان کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9038]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 2457، والحاكم: 4/ 178، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3424 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9039
۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رضی اللہ عنہ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَحْوُہُ، وَزَاد:َ ( (وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ اَلْبَتَّۃَ۔) ) قَالَ: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنْ کَانَتِ اثْنَتَیْنِ؟ قَالَ: ( (وَاِنْ کَانَتِ اثْنَتَیْنِ۔) ) قَالَ: فَرَاٰی بَعْضُ الْقَوْمِ اَنْ لَوْ قَالُوْا لَہُ: وَاحِدَۃً، لَقَالَ وَاحِدَۃً۔
۔ سیدنا جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درج بالا حدیث کی طرح ہے، البتہ یہ الفاظ اس میں زیادہ ہیں: تو اس آدمی کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ پھر لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور سوچنے لگے کہ اگر ایک کے بارے میں سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہہ دینا تھا کہ اگرچہ ایک ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9039]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 550، والبزار: 1908، وابويعلي: 2210، والطبراني في الاوسط: 5153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14247 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9040
۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ اَوْ غَیْرِہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ( (مَنْ عَالَ ابْنَتَیْنِ اَوْ ثَلاثَ بَنَاتٍ اَوْ اُخْتَیْنِ اَوْ ثَـلَاثَ اَخَوَاتٍ، حَتّٰییَمُتْنَ اَوْ یَمُوْتَ عَنْھُنَّ، کُنْتُ اَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ۔) ) وَاَشَارَ بِاِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو بیٹیوں،یا تین بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا تین بہنوں کی پرورش کی اور ان کے ضروری اخراجات کا ذمہ دار بنا، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئیں یا وہ خود فوت ہو گیا تو میں اور وہ شخص ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے۔ ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9040]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12498 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9041
۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یُحَدِّثُ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ( (مَنْ کانَ لَہُ ثَلاَثُ بَنَاتٍ، وَثَلَاثُ اَخَوَاتٍ اِتَّقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَاَقَامَ عَلَیْھِنَّ، کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ ھٰکَذا۔) ) وَاَشَارَ بِاَصَابِعِہِ الْاَرْبَعِ۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیوں اور تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ان کی نگہبانی کرے تو وہ جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہو گا۔ ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار انگلیوں سے اشارہ بھی کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9041]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9042
۔ عَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ لَہُ: ( (یَاسُرَاقَۃُ! اَلَا اَدُلُّکَ عَلٰی اَعْظَمِ الصَّدَقَۃِ، اَوْ مِنْ اَعْظَمِ الصَّدَقَۃِ؟) ) قَالَ: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ( (اِبْنَتُکَ مَرْدُوْدَۃٌ اِلَیْکَ لَیْسَ لَھَا کَاسِبٌ غَیْرُکَ۔) )
۔ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے سراقہ! کیا میں سب سے بڑے صدقے کی طرف تیری رہنمائی نہ کر دوں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری بیٹی جو تیری طرف لوٹا دی جائے اور تیرے علاوہ اس کے لیےکمانے والا کوئی نہ ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9042]
تخریج الحدیث: «ضعيف، علي بن رباح لم يسمعه من سراقة، أخرجه ابن ماجه: 3667، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17586 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … تیری بیٹی جو تیری طرف لوٹا دی جائے۔ اس سے مراد بیٹی کا طلاق ملنے یا بیوہ ہو جانے کی وجہ سے اپنے باپ کے پاس گھر واپس آ جانا ہے، عام طور پر ایسی بچیوں کی کفالت کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن خبردار! ایسی بے آسرا بچی اور بہن کا آسرا بننا بڑی سعادت کی بات ہو گی، ایک شفقت والا بھائی مجھے یاد آ رہا ہے، جس نے اپنی دکھی بہن سے کہا تھا: بہن! تیری اور تیرے بچے کی کفالت کی خاطر میں شادی نہیں کروں گا۔ کتنا محبت بھرا انداز ہے، بہن کو کتنی تسلی ہوئی ہو گی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9043
۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ( (مَنْ کُنَّ لَہُ ثَـلَاثُ بَنَاتٍ اَوْ ثَـلَاثُ اَخَوَاتٍ، اَوْ بِنْتَانِ، اَوْ اُخْتَانِِ اِتَّقَی اللّٰہَ فِیْھِنَّ، وَاَحْسَنَ اِلَیْھِنَّ حَتّٰییُبِنَّ اَوْ یَمُتْنَ کُنَّ لَہُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ۔) )
۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں،یا تین بہنیں،یا دو بیٹیاں،یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ان کے ساتھ احسان کرے، یہاں تک کہ وہ اس سے جدا ہو جائیں یا فوت ہو جائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ ہوں گی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9043]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني: 18/ 102، والبيھقي في الشعب: 8679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23991 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9044
۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ( (مَنْ وُلِدَتْ لَہ اِبْنَۃٌ فَلَمْ یَئِدْھَا، وَلَمْ یُھِنْھَا، وَلَمْ یُؤْثِرْ وَلَدَہُ عَلَیْھَا،یَعْنِی الذَّکَرَ، اَدْخَلَہُ اللّٰہُ بِھَا الْجَنَّۃَ۔) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی بچی پیدا ہو اور وہ نہ اسے زندہ درگور کرے، نہ اس کی توہین کرے اور نہ بیٹوں کو اس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9044]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن حدير لايعرف، أخرجه ابوداود: 5146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1957 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث: ضعیف