🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ في بر الأولادِ وَالأقَارِبِ الْأَقْرَبِ فَالْاقْرَبِ اب مَا جَاءَ فِي نَمْرَةِ الأَوْلَادِ وَالتَّرْغِيْبِ فِي ادِيهِمْ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِمْ
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9025
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم مرتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے، ما سوائے تین اعمال کے، صدقہ جاریہ سے، یا علم سے جس سے نفع اٹھایا جاتا ہو یا نیک اولاد سے جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9025]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8844 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8831»
وضاحت: فوائد: … صدقہ جاریہ کی کسی قسم کا انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن جو خیر اپنے ورثے میں نیک اولاد کو چھوڑ کر جانے میں ہے، اس کی کوئی مثال نہیں، اس کا کوئی جواب نہیں۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانانِ عصرِ حاضر نے اپنی اولاد کی ترقی کے مختلف حقوق ادا کیے ہیں، ما سوائے نیک تربیت کے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9026
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ كِنْدَةَ فَقَالَ لِي هَلْ لَكَ مِنْ وَلَدٍ قُلْتُ غُلَامٌ وُلِدَ لِي فِي مَخْرَجِي إِلَيْكَ مِنِ ابْنَةِ جَمْدٍ وَلَوَدِدْتُ أَنْ مَكَانَهُ شَبِعَ الْقَوْمُ قَالَ لَا تَقُولَنَّ ذَلِكَ فَإِنَّ فِيهِمْ قُرَّةَ عَيْنٍ وَأَجْرًا إِذَا قُبِضُوا ثُمَّ وَلَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ
۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں کندہ کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تیری اولاد ہے؟ میں نے کہا: ابھی جب میں آپ کی طرف نکل رہا تھا، اس وقت میرا ایک بچہ بنت جمد کے بطن سے پیدا ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس بچے کی بجائے لوگ ہی سیر ہو کر کھانا کھا لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز اس طرح نہ کہو، کیونکہ بعض بچے آنکھ کی ٹھنڈک بنتے ہیں اور جب فوت ہو جاتے ہیں تو اجر ملتا ہے، پھر بھی اگر تو یہ بات کہتا ہے تو یہ بچے بزدلی اور غم کا سبب بنتے ہیں، بے شک یہ بزدلی اور غم کاسبب بنتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9026]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني: 646، والحاكم: 4/ 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22183»
وضاحت: فوائد: … بچوں کی فکر انسان کو بزدل اور بخیل بنا دیتی ہے، ہر کوئی زندگی کا حریص ہوتا ہی ہے، لیکن جب بچے ہو جائیں تو ان کی خدمت اور نگہداشت کی خاطر انسان اپنی زندگی کو زیادہ قیمتی سمجھنے لگ جاتا ہے اور جہاد جیسے عظیم عمل میںشرکت کرتے وقت بھی فکر مند ہو جاتاہے۔ بہرحال اولاد ایک نعمت ہے، ان کی خدمت میں شرف ہے، لیکن دوسرے شرعی احکام متأثر نہیں ہونے چاہئیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9027
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ زَعَمَتِ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُحْتَضِنًا أَحَدَ ابْنَيِ ابْنَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتُجَبِّنُونَ وَتُبَخِّلُونَ وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا اللَّهُ بِوَجٍّ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً إِنَّكُمْ لَتُبَخِّلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتُجَبِّنُونَ
۔ عمر بن عبد العزیز کہتے ہے: ایک عورت سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بیٹی کے دو بیٹوں میں سے ایک کو گود میں لے کر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ کی قسم! تم بزدل اور بخیل بناتے ہو، جبکہ تم اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوشبودار چیز بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے آخری قتال وَجّ یعنی طائف میں ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9027]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عمر بن عبد العزيز لا يعرف له سماع من خولة، ولجھالة ابن ابي سويد، أخرجه الترمذي: 1910، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27857»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ طائف، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری قتال تھا، اگرچہ غزوۂ تبوک اس کے بعد پیش آیا، لیکن اس میں جنگ نہیں ہوئی تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9028
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ عَنْ نَاصِحٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ أَوْ أَحَدُكُمْ وَلَدَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ كُلَّ يَوْمٍ بِنِصْفِ صَاعٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يُخْرِجْهُ أَبِي فِي مُسْنَدِهِ مِنْ أَجْلِ نَاصِحٍ لِأَنَّهُ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ وَأَمْلَاهُ عَلَيَّ فِي النَّوَادِرِ
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا اپنے بچے کو ادب و اخلاق کی تعلیم دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ روزانہ نصف صاع صدقہ کرے۔ امام احمد کے بیٹے عبد اللہ نے کہا: میرے باپ نے ناصح راوی کی وجہ سے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت نہیں کیا، کیونکہ یہ راوی حدیث میں ضعیف ہے، اورانھوں نے مجھے نوادر میں املاء کروائی تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9028]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عمر بن عبد العزيز لا يعرف له سماع من خولة، ولجھالة ابن ابي سويد، أخرجه الترمذي: 1910، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21206»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9029
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْمُزَنِيُّ ثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَمْرٍو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ أَوِ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَهُ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا بِهِ خَلْفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ وَالْقَوَارِيرِيُّ قَالَا ثَنَا عَامِرُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ بِإِسْنَادِهِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین نے اپنے بچے کو حسن ادب سے بہترین کوئی تحفہ نہیں دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9029]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عامر بن صالح، ولارسالة عمرو بن سعيد بن العاص، جد ايوب بن موسي ليس له صحبة، وموسي بن عمرو تفرد بالرواية عنه ابنه ايوب أخرجه الحاكم: 4/ 263، والبيھقي في الشعب: 1673، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15403/1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15478»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ والدین کا اپنی اولاد کو سب سے بڑا تحفہ حسن ادب اور اچھی تربیت ہے، اولاد کو اس قابل بنا دینا چاہیے کہ وہ دین کو بھی سمجھے اور دنیا سے بھی غافل نہ ہونے پائے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9030
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْصَاهُ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ (مِنْهَا) وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دس باتوں کی وصیت کی تھی، ان میں سے تین یہ تھیں: اور اپنی مالی وسعت کے مطابق اپنے اہل و عیال پر خرچ کر، ان کو ادب کی تعلیم دینے کے لیے ان سے لاٹھی کو دور نہ کر اور ان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں خوف دلا کے رکھ۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9030]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبد الرحمن بن جبير لم يدرك معاذا أخرجه بنحوه ابن ماجه: 3371، 4034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 222075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22425»
وضاحت: فوائد: … دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت بیوی بچوں کو سزا دی جا سکتی ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9031
۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ رضی اللہ عنہ، قَالَ اِنَّ اَبِیْ بَشِیْرًا وَھَبَ لِیْ ھِبَۃً، فَقَالَتْ اُمِّیْ: اَشْھِدْ عَلَیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَانْطَلَقَ بِیْ حَتّٰی اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اُمَّ ھٰذَا الْغُلَامِ سَاَلَتْنِیْ اَنْ اَھَبَ لَہُ ھِبَۃً فَوَھَبْتُھَا لَہُ، فَقَالَتْ: اَشْھِدْ عَلَیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فَاَتَیْتُکَ لِاُشْھِدُکَ، فَقَالَ: ( (رُوَیْدَکَ، اَلَکَ وَلَدٌ غَیْرُہُ؟) ) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ( (کُلُّھُمْ اَعْطَیْتَہُ کَمَا اَعْطَیْتَہُ؟) ) قَالَ: لا، قَالَ: ( (فَـلَا تُشْھِدْنِیْ اِذًا، اِنِّیْ لا اَشْھَدُ عَلٰی جَوْرٍ، اِنَّ لِبَنِیْکَ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ اَنْ تَعْدِلَ بَیْنَھُمْ۔) )
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک چیز ہبہ کی، میرے ماں نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس ہبہ پر گواہ بنائیں، چنانچہ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر چل پڑے، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کی ماں نے پہلے مجھ سے یہ مطالبہ کیا کہ میں اِس کو کوئی ہبہ دوں، اور اب اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کو اس پر گواہ بناؤں، اس لیے آپ کو گواہ بنانے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا ٹھیرو، کیا تمہاری اور بھی اولاد ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کیا تم نے ان میں سے ہر ایک کو یہ ہبہ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے گواہ بنانے کی ضرورت نہیں، میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا، تم پر تمہارے بیٹوں کا یہ حق ہے کہ تم ان کے ما بین انصاف کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9031]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2587، ومسلم: 1623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18369 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9032
۔ (وَفِیْ لَفْظٍ) فَقَالَ: النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ( (فَاَشْھِدْ غَیْرِیْ۔) ) ثُمَّ قَالَ: ( (اَلَیْسَیَسُرُّکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا فِی الْبِرِّ سَوَائً؟) ) قَالَ: بَلٰی، وَفِیْ لَفْظٍ: ( (اِنَّ لَھُمْ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ اَنْ تَعْدِلَ بَیْنَھُمْ کَمَا اَنَّ لَکَ عَلَیْھِمْ مِنَ الْحَقِّ اَنْ یَّبَرُّوْکَ۔) )
۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات خوش نہیں کرتی کہ تمہاری اولاد تم سے برابر برابر نیکی کرے؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ ایک روایت میں ہے: تم پر تمہاری اولاد کایہ حق ہے کہ تم ان کے مابین انصاف کرو، جیسا کہ اُن پر تمہارا حق ہے کہ وہ سب تم سے نیکی کریں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9032]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السا بق ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9033
۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ( (قَارِبُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ یَعْنِیْ سَوُّوْا بَیْنَھُمْ۔) ) وَفِیْ لَفْظٍ: ( (اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ، اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ، اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ۔) )
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹوں کے ما بین برابری کرو۔ ایک روایت میں ہے: اپنے بیٹوں کے مابین انصاف کرو، اپنی اولاد کے درمیان عدل سے کام لو، اپنی بچوں اور بچیوں کے ما بین برابری کا رویہ اختیار کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9033]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3544، والنسائي: 6/ 262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18451 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … والدین کسی ایک بچے کے ساتھ کسی اعتبار سے امتیازی سلوک نہیں کر سکتے، بعض آباء کو دیکھا گیا ہے کہ ان کے بعض بچے ہمیشہ ان کے غیظ و غضب اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنتے ہیں اور بعض لاڈ پیار کے مستحق ٹھہرتے ہیں، اسی طرح جب بچوں پر خرچ کرنے کی باری آتی ہے تو پھر اسی امتیاز کو مدّنظر رکھا جاتا ہے۔ ایسا کرنا ضلالت و گمراہی ہے، نبوی منہج سے بھٹک جانے کی علامت ہے اور بچوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کی علامت ہے۔ بچوں اور بچیوں کی شادیوں پر بھی مساوات کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کاَنَ رَجُلٌ جَالِسٌ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَجَائَ ہُ ابْنٌ لَہُ فَأَخَذَہُ فَقَبَّلَہُ ثُمَّ أَجْلَسَہُ فِی حِجْرِہِ، وَجَائَـتِ ابْنَۃٌ لَّہُ، فَأَخَذَھَا إِلٰی جَنْبِہٖ،فَقَالَالنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((أَلَا عَدَلْتَ بَیْنَھُمَا؟)) یَعْنِی: بَیْنَ ابْنِہٖوَبِنْتِہٖفِی تَقْبِیْلِھِمَا۔ … ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس کے پاس اس کا بیٹا آیا، اس نے اس کا بوسہ لیا اور اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اس کے بعد اس کی بیٹی آئی، اس نے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے ان کے درمیان انصاف کیوں نہیں کیا۔ یعنی بیٹے کا بوسہ لیا اور بیٹی کا نہیں لیا۔ (مسند بزار: ۲/۳۷۸/۱۸۹۳، شعب الایمان للبیھقی: ۶/ ۴۱۰/۸۷۰۰، صحیحہ: ۲۸۸۳، ۲۹۹۴) یہ اولاد کے مابین مساوات کا معیار ہے کہ محبت کے ظاہری تقاضوں میں بھی کمی بیشی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ ممکن ہے کہ والدین کے دل میں کسی ایک بیٹے کا لحاظ یا اس کی محبت دوسروں کی بہ نسبت زیادہ ہو، اور اس میں مضائقہ بھی نہیں ہے، کیونکہیہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سب سے زیادہ محبت تھی، لیکن مساوات کے ظاہری تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9034
۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ، اَبْصَرَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الْاَقْرَعُ یُقَبِّلُ حَسَنًا، فَقَالَ: لِیْ عَشَرَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ، مَا قَبَّلْتُ اَحَدًا مِنْھُمْ قَطُّ! قَالَ: ( (اِنَّہُ مَنْ لَایَرْحَمُ لَایُرْحَمُ۔) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا اقرع رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا اور کہا: میرے دس بچے ہیں، میں نے تو ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9034]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2318، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:7289 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں