الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9413
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ وَإِيَّاهُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ الْجَنَّةَ وَقَالَ يُقَالُ لَهُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ قَالَ فَيَقُولُونَ حَتَّى يَجِيءَ أَبَوَانَا قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَقُولُونَ مِثْلَ ذَلِكَ فَيُقَالُ لَهُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَبَوَاكُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی بڑی رحمت سے ان کو ان کے بچوں سمیت جنت میں داخل کر دے گا، جب ان بچوں سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ کہیں گے: ہمارے والدین آ لیں، (پھر داخل ہوں گے)، تین مرتبہ ان سے یہ بات کہی جائے گی، وہ یہی جواب دیں گے، بالآخر ان سے کہا جائے گا: تم بھی اور تمہارے والدین بھی، سب جنت میں داخل ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9413]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 4/ 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10630»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9414
عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ تُوُفِّيَ ابْنَانِ لِي فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا تُحَدِّثُنَاهُ يُطَيِّبُ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا قَالَ نَعَمْ صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ قَالَ أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ أَوْ يَدِهِ كَمَا آخُذُ بِصَنَفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ
۔ ابو حسان کہتے ہیں: میرے دو بیٹے فوت ہو گئے، پس میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو ہمارے نفسوں کو ہمارے مردوں کے بارے میں خوش کر دے، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مومنوں کے) چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے (یعنی بے روک ٹوک جنت میں آتے جاتے رہیں گے)۔ ایسا بچہ اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملاقات کرے گا، اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، جس طرح میں نے تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑ لیا ہے، اور اسے نہیں چھوڑے گا، حتی کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9414]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2635، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10336»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9415
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ أَمَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَوْ لِكُلِّنَا قَالَ بَلْ لِكُلِّكُمْ
۔ سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تھا، جبکہ اس کا بچہ اس کے ساتھ ہوتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ سے اس طرح محبت کرے، جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو گم پایا اور پوچھا: فلاں کے بیٹے کا کیا بنا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے باپ سے کہا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے جس دروازے پر آئے، اسی پر اپنے بچے کو انتظار کرتے ہوئے پائے؟ ایک ا ٓدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس شخص کے لیے خاص ہے، یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں،یہ تو تم سب کے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9415]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 4/ 22، 23، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20636»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے سوال کے جواب میں اس آدمی نے جو کچھ کہا، اس سے اس کا مقصود محبت کی شدت کو بیان کرنا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9416
عَنْ حَسَّانَ بْنِ كُرَيْبٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْهُمْ تُوُفِّيَ فَوَجَدَهُ عَلَيْهِ أَبَوَاهُ أَشَدَّ الْوَجْدِ فَقَالَ حَوْشَبُ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ ابْنِكَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ كَانَ لَهُ ابْنٌ قَدْ أَدَّبَهُ وَدَبَّ وَكَانَ يَأْتِي مَعَ أَبِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَهُ عَلَيْهِ أَبُوهُ قَرِيبًا مِنْ سِتَّةِ أَيَّامٍ لَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا أَرَى فُلَانًا) ) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (يَا فُلَانُ أَتُحِبُّ لَوْ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ الْآنَ كَانَ شَطِيَ الصِّبْيَانِ نَشَاطًا أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ أَجْرَى الْغِلْمَانِ جَرَاءَةً أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ كَهْلًا كَأَفْضَلِ الْكُهُولِ أَوْ يُقَالَ لَكَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ثَوَابَ مَا أُخِذَ مِنْكَ) )
۔ حسان بن کریب کہتے ہیں: ہم میں سے ایک بچہ فوت ہو گیا، اس کے والدین کو بہت زیادہ صدمہ ہوا، صحابی ٔ رسول سیدنا حوشب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیرے اس بیٹے کی طرح کے بیٹے کے حق میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک صحابی کا بیٹا تھا، اس نے اس کو ادب سکھایا تھا، یا ابھی تک وہ زمین پر ہاتھ پیر مار کر گھسٹتا تھا، وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھی آتا تھا، پھر ہوا یوں کہ وہ بچہ فوت ہو گیا اور اس کے باپ نے اس کی وجہ سے اتنا غم محسوس کیا کہ وہ چھ دن تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھی نہیں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن پوچھا: کیا وجہ ہے کہ فلاں آدمی نظر نہیں آتا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے اور وہ اس کی وجہ سے پریشان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں آدمی! اچھا بتا کہ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ اب تیرا بچہ تیرے پاس ہوتا اور بچوں میں سب سے زیادہ پھرتیلا ہوتا؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ تیر ا بچہ سب بچوں سے زیادہ جرأت والا ہوتا؟ یا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیرا بچہ تیس سے پچاس برس کا بھرپور نوجوان ہو؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ کل قیامت والے دن تجھے کہا جائے: جو بچہ تجھ سے لے لیا گیا تھا، اس کے ثواب میں جنت میں داخل ہو جا؟ [الفتح الربانی/حدیث: 9416]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15937»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9417
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ حَارِثَةُ بْنُ عَمَّتِي يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا نَظَّارًا مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ قَالَ فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ قَالَ فَجَاءَتْ أُمُّهُ عَمَّتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنِي حَارِثَةُ إِنْ يَكُ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ وَإِلَّا فَسَيَرَى اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ ( (يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میری پھوپھی کا بیٹا سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ بدر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا، یہ لڑکا لڑائی دیکھنے کے لیے گیا تھا، لڑنے کے لیے نہیں گیا تھا، لیکن اچانک اس کو تیر لگا اور اس کو قتل کر دیا، پس میری پھوپھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا حارثہ رضی اللہ عنہ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہوں، وگرنہ اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں تو بہت زیادہ ہیں اور بیشک حارثہ تو فردوسِ اعلی میں ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9417]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13283»
وضاحت: فوائد: … اس خاتون کا مقصد رونا اور نوحہ کرنا تھا، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: اِجْتَھَدْتُّ عَلَیْہِ فِیْ الْبُکَائِ۔ … میں اس پر رونے میں کوشش کروں گی۔ امام خطابی نے کہا: چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو اس کے دعوے پر برقرار رکھا، اس لیے اس حدیث سے اس طرح کے رونے کا جواز ملتا ہے، لیکن حافظ ابن حجر نے ان کا تعاقب کیا اور کہا کہ یہ واقعہ نوحہ کی حرمت سے پہلے کا ہے، کیونکہ غزوۂ احد کے بعد نوحہ کو حرام قرار دیا گیا تھا، جبکہ یہ واقعہ تو غزوۂ بدر کے بعد کا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
11. بَابُ قِصَّةُ أمْ سُلَيْمٍ مَعَ زَوْجِهَا أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِي عَنْدَمَا تُوُفِّيَ وَلَدُهُمَا
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان،¤جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
حدیث نمبر: 9418
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ قَالَ فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً فَأَكَلَ وَشَرِبَ قَالَ ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصْنَعُ قَبْلَ ذَلِكَ فَوَقَعَ بِهَا فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ وَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ قَالَ لَا قَالَتْ فَاحْتَسِبِ ابْنَكَ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا) ) قَالَ فَحَمَلَتْ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ وَاحْتَبَسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَبِّ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ وَقَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى قَالَ تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ فَانْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا قَالَ وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمُوا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ لِي أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعَنَّهُ أَحَدٌ حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيسَمٌ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ ( (لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ) ) قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَوَضَعَ الْمِيسَمَ قَالَ فَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلَاكَهَا فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ) ) قَالَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہما کا بیٹا فوت ہو گیا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے اہل والوں سے کہا: تم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو اس کے بیٹے کے بارے میں نہیں بتلانا، میں خود اس کو بتاؤں گی، پس جب وہ آئے تو اس نے ان کو شام کا کھانا پیش کیا، انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کے لیے اچھی طرح تیاری کی، جیسا کہ وہ پہلے کرتی تھیں، پس انھوں نے ان سے جماع کیا، جب ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ اس کاخاوند خوب سیر ہو گیا اور حق زوجیت بھی ادا کر لیا تو اس نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ لوگ ایک گھر والوں کو کوئی چیز عاریۃً دیتے ہیں، پھر جب وہ ان سے واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا وہ روک سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، نہیں روک سکتے، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر اپنے بیٹے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کر، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ چل پڑے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے ماجرے کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری گزشتہ رات میں برکت فرمائے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو حمل ہو گیا، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے اور ام سلیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپسی پر مدینہ آتے تھے تو رات کو شہر میں داخل نہیں ہو تے تھے، پس جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دردِ زہ شروع ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو آگے چل دیئے، لیکن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے پاس رک گئے اور انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند لگتی ہے کہ تیرے رسول کے ساتھ سفر میں نکلوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی مدینہ میں داخل ہوں، لیکن اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں رک گیا ہوں، اتنے میں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: جو چیز میں پہلے پاتی تھی، ابھی وہ نہیں پا رہی، پس ہم چل پڑے اور جب مدینہ پہنچے تو دوبارہ دردِ زہ شروع ہوا اور انھوں بچہ جنم دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری ماں نے مجھے کہا: اے انس! کوئی بھی اس کو دودھ نہ پلائے،یہاں تک کہ تو صبح کو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جائے، وہ کہتے ہیں: میں بچہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانوروں کو داغنے والا ایک آلہ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: شاید ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ جنم دیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ آلہ رکھ دیا، میں بچے کو لے کر آگے بڑھا اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گودی میں رکھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی عجوہ کھجورمنگوائی، اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈال کر چبایا،یہاں تک کہ وہ نرم ہو گئی، پھر اس کو بچے کے منہ میں ڈالا اور بچہ زبان پھیر کر اس کو نگلنے لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو کہ انصاریوں کو کھجور سے کتنی محبت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9418]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: ص 1909، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13057»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9419
عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ وَالْبَرَاءِ قَالَ فَوَلَدَتْ لَهُ بُنَيًّا قَالَ فَكَانَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا قَالَ فَمَرِضَ الْغُلَامُ مَرَضًا شَدِيدًا فَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَقُومُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ يَتَوَضَّأُ وَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي مَعَهُ وَيَكُونُ مَعَهُ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ وَيَجِيءُ يَقِيلُ وَيَأْكُلُ فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ تَهَيَّأَ وَذَهَبَ فَلَمْ يَجِئْ إِلَى صَلَاةِ الْعَتَمَةِ قَالَ فَرَاحَ عَشِيَّةً وَمَاتَ الصَّبِيُّ قَالَ وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ نَسَجَتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا وَتَرَكَتْهُ قَالَ فَقَالَ لَهَا أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ كَيْفَ بَاتَ بُنَيَّ اللَّيْلَةَ قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا كَانَ ابْنُكَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ قَالَ ثُمَّ جَاءَتْهُ بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَطَابَتْ نَفْسُهُ قَالَ فَقَامَ إِلَى فِرَاشِهِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ قَالَتْ وَقُمْتُ أَنَا فَمَسَسْتُ شَيْئًا مِنْ طِيبٍ ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى دَخَلْتُ مَعَهُ الْفِرَاشَ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ رِيحَ الطِّيبِ كَانَ مِنْهُ مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ ثُمَّ أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَهَيَّأُ كَمَا كَانَ يَتَهَيَّأُ كُلَّ يَوْمٍ قَالَ فَقَالَتْ لَهُ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا اسْتَوْدَعَكَ وَدِيعَةً فَاسْتَمْتَعْتَ بِهَا ثُمَّ طَلَبَهَا فَأَخَذَهَا مِنْكَ تَجْزَعُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ لَا قَالَتْ فَإِنَّ ابْنَكَ قَدْ مَاتَ قَالَ أَنَسٌ فَجَزِعَ عَلَيْهِ جَزْعًا شَدِيدًا وَحَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهَا فِي الطَّعَامِ وَالطِّيبِ وَمَا كَانَ مِنْهُ إِلَيْهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (فَبِتُّمَا عَرُوسَيْنِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِكُمَا) ) قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا) ) قَالَ فَحَمَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ فَوَلَدَتْ غُلَامًا قَالَ فَحِينَ أَصْبَحْنَا قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ احْمِلْهُ فِي خِرْقَةٍ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاحْمِلْ مَعَكَ تَمْرَ عَجْوَةٍ قَالَ فَحَمَلْتُهُ فِي خِرْقَةٍ قَالَ وَلَمْ يُحَنَّكْ وَلَمْ يَذُقْ طَعَامًا وَلَا شَيْئًا قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَ ( (اللَّهُ أَكْبَرُ مَا وَلَدَتْ) ) قُلْتُ غُلَامًا قَالَ ( (الْحَمْدُ لِلَّهِ) ) فَقَالَ ( (هَاتِهِ إِلَيَّ) ) فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَحَنَّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِي ( (مَعَكَ تَمْرُ عَجْوَةٍ) ) قُلْتُ نَعَمْ فَأَخْرَجْتُ تَمَرَاتٍ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً وَأَلْقَاهَا فِي فِيهِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُهَا حَتَّى اخْتَلَطَتْ بِرِيقِهِ ثُمَّ دَفَعَ الصَّبِيَّ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ الصَّبِيُّ حَلَاوَةَ التَّمْرِ جَعَلَ يَمُصُّ بَعْضَ حَلَاوَةِ التَّمْرِ وَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَسٌ فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ فَتَحَ أَمْعَاءَ ذَلِكَ الصَّبِيِّ عَلَى رِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ) ) فَسَمَّى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ فَخَرَجَ مِنْهُ رَجُلٌ كَثِيرٌ قَالَ وَاسْتُشْهِدَ عَبْدُ اللَّهِ بِفَارِسَ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے شادی کی،یہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا براء رضی اللہ عنہما کی ماں تھیں، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے ایک پیارا سا بیٹا جنم دیا، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس سے بہت محبت کرتے تھے، لیکن ہوا یوں کہ بچہ بہت سخت بیمار ہو گیا، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی روٹین یہ تھی کہ وہ نماز فجر کے لیے اٹھتے، وضو کرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے اور نصف النہار کے قریب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی ٹھہرتے، پھر واپس آ کر قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے، پھر نمازِ ظہر کی تیاری کر کے چلے جاتے اور نمازِ عشا تک واپس نہیں آتے تھے، ایک دن جب وہ رات کو واپس آئے تو بچہ فوت ہو چکا تھا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (شروع میں اس کی موت کو چھپانے کے لیے) اسے کپڑے سے ڈھانپ دیا اور اس کو چھوڑ دیا، جب سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو کہا: اے ام سلیم! میرے پیارے بیٹے نے رات کیسے گزاری ہے؟ انھوں نے کہا: اے ابو طلحہ! تیرا بیٹا جس دن سے بیمار ہوا، آج رات کو سب سے زیادہ سکون میں تھا، پھر وہ کھانا لے کر آئیں، انھوں نے کھانا کھایا اور ان کا نفس خوشگوار ہو گیا، پھر وہ اپنے بستر کی طرف گئے اور سونے کے لیے اپنا سر رکھا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے خوشبو لگائی اور ان کے پاس آ کر بستر میں ان کے ساتھ داخل ہو گئی، جب انھوں نے خوشبو محسوس کی تو وہی معاملہ چلا جو میاں بیوی کا ہوتا ہے، پھر جب صبح ہوئی تو انھوں نے روٹین کے مطابق تیاری کرنا شروع کر دی، جیسا کہ ہر روز کرتے تھے، اب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی نے آپ کو امانت دی، آپ نے اس سے استفادہ کیا، پھر اس نے تجھ سے طلب کی اور پھر لے لی، کیا تو اس معاملے میں بے صبری کرے گا؟ انھوں نے کہا: نہیں، سیدہ نے کہا: تو پھر آپ کا بیٹا فوت ہو چکا ہے، وہ بہت زیادہ گھبرائے اور پریشان ہوئے اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے معاملے کی خبردی کہ اس کی بیوی نے اس طرح کھانا کھلایا، خوشبو لگائی اور پھر جو کچھ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے حق زوجیت ادا کیا ہے اور وہ بچہ تمہارے پہلوؤں میں تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اس رات میں برکت فرمائے۔ پس سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو اسی رات حمل ہو گیا، بعد میں جب انھوں نے بچہ جنم دیا تو صبح کو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے میں (انس رضی اللہ عنہ) سے کہا: اس کو کسی کپڑے میں اٹھا لے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جا اور عجوہ کھجور بھی لیتا جا، پس میں نے اس کو کپڑے میں لپیٹ کر اٹھایا، نہ اس کو گڑتی دی گئی تھی، نہ اس نے کھانا کھایا، بلکہ کوئی چیز نہیں چکھی، جب میں پہنچا تو کہا: اے اللہ کے رسول! سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا بچہ پیدا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (خوشی سے) فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، کیا جنم دیا ہے اس نے؟ میں نے کہا: جی لڑکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لے آ اس کو میرے پاس۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو گڑتی دینا چاہی، اس لیے مجھ سے پوچھا: کیا تیرے پاس عجوہ کھجور ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ہے، پھر میں نے کھجوریں نکالیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈالا اور اتنی دیر تک چبایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعاب کے ساتھ مکس ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کو دی اور فوراً یوں لگا کہ بچہ کھجور کی مٹھاس محسوس کر رہا ہے، وہ کھجور کی حلاوت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تھوک کو چوسنے لگا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پہلی چیز جس نے اس بچے کی انتڑیاں کھولیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھوک تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصاریوں کی محبوب چیز کھجور ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا، اس عبد اللہ کی کافی ساری اولاد پیدا ہوئی تھی،یہ عبد اللہ فارس میں شہید ہو گئے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9419]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12896»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ایک انصاری آدمی نے کہا: رَاَیْتُ تِسْعَۃَ اَوْلَادٍ کُلُّھُمْ قَدْ قَرَؤُوْا الْقُرْآنَ یَعْنِیْ مِنْ اَوْلَادِ عَبْدِ اللّٰہِ۔ … میں نے اس عبد اللہ کے نو بیٹے دیکھے، سب نے قرآن مجید پڑھا ہوا تھا۔
ایک اور روایت کے مطابق ان میں سے اکثر نے علم حدیث بھی حاصل کیا تھا۔
ایک اور روایت کے مطابق ان میں سے اکثر نے علم حدیث بھی حاصل کیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
12. بَابُ قَوْلِ رَسُوْلِ اللهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأولى
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
حدیث نمبر: 9420
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ أَتَعْرِفِينَ فُلَانَةً فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْكِي عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ لَهَا ( (اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي) ) فَقَالَتْ لَهُ إِيَّاكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي قَالَ وَلَمْ تَكُنْ عَرَفَتْهُ فَقِيلَ لَهَا إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِهَا مِثْلُ الْمَوْتِ فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَعْرِفْكَ فَقَالَ ( (إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ) )
۔ ثابت بنانی سے مروی ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال کی ایک خاتون سے کہتے کہ کیا تو فلاں عورت کو جانتی ہے؟ اس کا قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ سے ڈر اور صبر کر۔ اس نے آگے سے کہا: پرے ہٹ جائیں آپ مجھ سے، آپ کو میرے مصیبت کی کیا پرواہ ہے۔ دراصل وہ خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانتی نہیں تھی، جب اس کو بتلایا گیا کہ یہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو یوں لگا کہ اس پر موت کی سی کیفیت طاری ہو گئی ہے، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے تک پہنچی اور اس پر کوئی پہرہ دار نہیں پایا، اس نے آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک صبر وہ ہوتا ہے، جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9420]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري7154،ومسلم: 926، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12485»
وضاحت: فوائد: … جب مسلمان کو صدمے کی خبر موصول ہو تو اسی وقت سے صبر کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں،یہ صبر نہیں ہے کہ فوراً واویلا شروع کر دیا جائے، اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی نہ ہونے کا انداز پیش کیا جائے، اپنے لیے ہلاکت کی بد دعائیں کی جائیں، خوب رویا پیٹا جائے، چیخ و پکار کی جائے اور جب طبیعت تھک جائے تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
13. بَابُ مَا يَقُولُ الْمُصَابُ عَنِ الْمُصِيبَةِ
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 9421
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِذَا أَصَابَتْ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا) ) فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو سَلَمَةَ خَلَفَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَهْلِي خَيْرًا مِنْهُ
۔ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو وہ کہے: {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ عِنْدَکَ اَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِیْ فَأْجُرْنِیْ فِیْھَا، وَاَبْدِلْنِیْ بِھَا خَیْرًا مِنْھَا۔ (بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! میں اپنی مصیبت پر تجھ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں، پس مجھے اس میں اجر عطا فرما اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پس جب سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے عوض میں مجھے بہترین خاوند عطا کیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9421]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3511، وابن ماجه: 1598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16454»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنے خاوند سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ام المؤمنین بن گئی تھیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9422
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} اللَّهُمَّ أَجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا) ) قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِي فَقُلْتُهَا اللَّهُمَّ أَجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے: {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا۔ (بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر اور بہترین متبادل عطا فرما)تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور اس کو بہترین متبادل عطا کرتا ہے۔ پس جب میرے خاوند سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور میں نے کہا: صحابی ٔ رسول ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے طاقت اور برداشت عطا کی اور میں نے یہ دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس کا بہترین متبادل عطا فرما، پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کر لی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9422]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 918، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27170»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ مبتلائے مصیبت کو یہ دعا پڑھنی چاہیے: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا۔ جو احادیث ِ مبارکہ پہلے گزر چکی ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس دعا کے شروع میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کا اضافہ کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح