🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى فَقَدِ الْعَيْنَيْنِ وَثَوَابِ ذَلِكَ
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9383
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ آدَمَ إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْكَ فَصَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم! جب میں تجھ سے تیری دونوں آنکھیں سلب کر لیتا ہوں اور تو صدمے کی ابتداء میں ہی ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے، تو میں تیرے لیے اس کے ثواب کے طور پر جنت سے کم پر راضی نہیں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9383]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22581»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9384
عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَزِيزٌ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْخُذَ كَرِيمَتَيْ مُسْلِمٍ ثُمَّ يُدْخِلَهُ النَّارَ قَالَ يُونُسُ يَعْنِي عَيْنَيْهِ
۔ سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان بندے کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے زیادہ ہے کہ وہ اس کی دو آنکھیں بھی سلب کر لے اور پھر آگ میں بھی داخل کر دے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9384]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 4/ 856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27063 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27603»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9385
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذْهَبْتُ عَيْنَيْهِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ لَمْ أَرْضَ لَهُ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں جس آدمی سے اس کی آنکھیں سلب کر لوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو اس کے ثواب میں جنت سے کم پر راضی نہیں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9385]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 2932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7587»
وضاحت: فوائد: … قوتِ بینائی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اگر آدمی کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ گہرا تعلق نہ ہو تو اس نعمت کے بغیر زندگی اندھیر ہے، ہاں اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہو اور اس نعمت پر شکر اور صبر کیا جائے تو پھر اس کا صلہ بھی بہت بڑا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَنْ حَبَسَهُ الْمَرْضُ عَنْ عَمَلِ الْخَيْرِ يُكْتَبُ لَهُ ثَوَابُ الْعَامِلِ
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے،¤اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9386
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُصَابُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ فَقَالَ اكْتُبُوا لِعَبْدِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنْ خَيْرٍ مَا كَانَ فِي وِثَاقِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نگرانی کرنے والے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ دن رات میں جو نیک عمل کرتا تھا، تم اس وقت تک وہی عمل لکھتے رہو، جب تک یہ میری قید میں ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9386]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الدارمي: 2/ 316، والحاكم: 1/ 348، وابن ابي شيبة: 3/ 230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6482»
وضاحت: فوائد: … آدمی باقاعدگی کے ساتھ جو اعمالِ صالحہ سرانجام دے رہا ہو، اگر بیماری کی وجہ سے اس کی روٹین متاثر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ثواب پورا ملتا رہتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9387
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ ثُمَّ مَرِضَ قِيلَ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ بِهِ اكْتُبْ لَهُ مِثْلَ عَمَلِهِ إِذَا كَانَ طَلِيقًا حَتَّى أُطْلِقَهُ أَوْ أَكْفِتَهُ إِلَيَّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب بندہ عبادت کے معاملے میں اچھے طریقے پر رواں ہوتا ہے اور پھر بیمار ہو جاتا ہے تو اس پر مقررہ فرشتے کو کہا جاتا ہے: تو اس کے وہی عمل لکھتا رہے جو یہ صحتمندی کی حالت میں کرتا تھا، یہاں تک کہ میں اس کو دوبارہ صحت عطا کر دوں یا پھر موت دے دوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9387]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6895»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9388
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ مِنْ عَمَلِ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْتَمُ عَلَيْهِ فَإِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا رَبَّنَا عَبْدُكَ فُلَانٌ قَدْ حَبَسْتَهُ فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ اخْتِمُوا لَهُ عَلَى مِثْلِ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر دن کے عمل کو اسی دن پر ہی ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن جب مؤمن بیمار ہو جاتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے ربّ! تو نے اپنے فلاں بندے کو پابند کر دیا ہے، (اب اس کے عمل کا کیا جائے)؟ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تم اس کے دن کو اس کے اسی عمل پر ختم کرتے رہو، جو یہ کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ شفایاب ہو یا جائے یا فوت ہو جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9388]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 782، والحاكم: 4/ 260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17449»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9389
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ابْتَلَى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ قَالَ اللَّهُ اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ فَإِنْ شَفَاهُ غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ وَإِنْ قَبَضَهُ غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی مسلمان بندے کو اس کی جسمانی تکلیف کے ساتھ آزماتا ہے تو وہ فرشتے سے کہتا ہے: یہ آدمی جو نیک عمل کرتا تھا، تو اس کو لکھتا جا، اگر اس کو شفا دے دی تو وہ اس کو دھودے گا اور پاک کردے گا اور اگر اس کو وفات دے دی تو بخش دے گا اور رحم کرے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9389]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 233، وابويعلي: 4233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12531»
وضاحت: فوائد: … بیمار ہونے سے جہاں مختلف قسم کی آزمائشوں اور بیماریوں سے بندوں کو صبر آزما ساعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہاں ان کو اجرو ثواب ملتا ہے، گناہوں کے اثرات زائل ہوتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ جب بندہ بیماری کی وجہ سے وہ نفلی عبادات برقرار نہیں رکھ سکتا، جو وہ صحت و تندرستی کے زمانے میں سرانجام دیتا تھا، یا فرضی عبادات کو ان کی اصل کیفیت میں ادا نہیں کر سکتا، مثلا بیٹھ کر نماز ادا کرنا، تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادات کے اجر و ثواب میں کمی نہیں آنے دیتا، بلکہ اس کی نیت اور ارادے کو دیکھ کر اس کے نامۂ اعمال میں اس کے عبادت والے سلسلے کا انداراج ہوتا رہتا ہے، حالانکہ وہ عملی طور پر عمل کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَاب عَدْمٍ قُبُولِ مَنْ لَمْ يُبْتَلَ فِي الدُّنْيَا
جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9390
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ أَعْجَبَهُ صِحَّتُهُ وَجَلَدُهُ قَالَ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَتَى أَحْسَسْتَ أُمَّ مِلْدَمٍ قَالَ وَأَيُّ شَيْءٍ أُمُّ مِلْدَمٍ قَالَ الْحُمَّى قَالَ وَأَيُّ شَيْءٍ الْحُمَّى قَالَ سَخَنَةٌ تَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَالْعِظَامِ قَالَ مَا بِذَلِكَ لِي عَهْدٌ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ) قَالَ فَمَتَى أَحْسَسْتَ بِالصُّدَاعِ قَالَ وَأَيُّ شَيْءٍ الصُّدَاعُ قَالَ ضَرَبَانٌ يَكُونُ فِي الصُّدْغَيْنِ وَالرَّأْسِ قَالَ مَا لِي بِذَلِكَ عَهْدٌ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ) قَالَ فَلَمَّا قَفَّى أَوْ وَلَّى الْأَعْرَابِيُّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِ (وَفِي لَفْظٍ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، اس کی صحت اور قوت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعجب میں ڈال دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تو نے اُمِّ مِلْدَم کو کب محسوس کیا ہے؟ اس نے کہا: اُم مِلْدَم کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار۔ اس نے کہا: جی بخار کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چمڑے اور ہڈیوں کے درمیان پیدا ہونے والی حرارت کو بخار کہتے ہیں۔ اس نے کہا: مجھے تو کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پھر پوچھا: اچھا تو نے کبھی صُدَاع محسوس کیا ہے؟ اس نے کہا: صُدَاع کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کن پٹیوں اور سر کے درمیان درد ہوتی ہے۔ اس نے کہا: مجھے تو یہ بھی کبھی محسوس نہیں ہوا، جب وہ بدّو چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو یہ بات خوش کرے کہ وہ کسی جہنمی شخص کو دیکھے تو وہ اس کو دیکھ لے۔ ایک روایت میں ہے: جو آدمی آگ والوں میں سے کسی شخص کو دیکھنا پسند کرتا ہو، وہ اس کو دیکھ لے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9390]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 6556، والبزار: 778، وابن حبان: 2916، والحاكم: 1/ 347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8780»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ صحت و عافیت کی دعا کرنے اور آزمائشوں اور بیماریوں کے ٹل جانے کا سوال کرنے کی تعلیم دی ہے، جبکہ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت بھی ہے، ہاں اگر آدمی کسی جسمانی تکلیف میں مبتلا ہو جائے تو اس کو صبر کرنا چاہیے اور یہ حسن ظن رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس بیماری کو اس کی خطاؤں کا کفارہ بنائے گا۔
اور جہاں بیمار ہونابندے کا فعل ہی نہیں ہے، وہاں بیماری کی دعا کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے، اس لیے مذکورہ بالا حدیث کییہ تاویل کی جائے گی کہ ممکن ہے کہ وہ بندہ گنہگار ہو اور اس نے نہ توبہ تائب ہو کر ان کی بخشش کروائی ہو اور نہ
وہ بیمار ہوا ہو کہ بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ بن گئی ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود بیماری کی فضیلت بیان کرنا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
اَلْدَمَیُلْدِمُ: کا معنی کسی کو ہمیشہ بخار رہنا ہے اور اُمِّ مِلْدَم بخار کی کنیت ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9391
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةٌ لِي كَذَا وَكَذَا وَذَكَرَتْ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا فَآثَرْتُكَ بِهَا فَقَالَ قَدْ قَبِلْتُهَا فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُهَا حَتَّى ذَكَرَتْ أَنَّهَا لَمْ تَصْدَعْ وَلَمْ تَشْتَكِ شَيْئًا قَطُّ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِي ابْنَتِكِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری اس طرح کی بیٹی ہے، اس نے اپنی بیٹی کے حسن و جمال کا ذکر کیا، میں آپ کو اس کے لیے ترجیح دیتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو بطورِ بیوی قبول کر لیا ہے۔ پھر وہ اس کی مدح سرائی کرتی رہی،یہاں تک کہ یہ بھی کہہ دیا کہ اس کو کبھی سر درد نہیں ہوا، بلکہ وہ کبھی کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئی،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے تیری بیٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9391]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سنان بن ربيعة ضعفه ابن معين، أخرجه ابويعلي: 4234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12608»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9392
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ إِلَّا الْجَنَّةُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میں اپنے بندے کی پسندیدہ چیز لے لیتا ہوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس کو بطورِ عوض دینے کے لیے میرے پاس صرف جنت ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9392]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6424، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9393 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9382»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں