الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9393
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ مِنَ الْوَلَدِ) لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ يَعْنِي الْوُرُودَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اس کو آگ نہیں چھوئے گی، سوائے قسم کے پورا کرنے کے۔ قسم کے پورا کرنے سے مراد وہاں سے گزرنا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9393]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2632، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7707»
وضاحت: فوائد: … قسم کے پورا ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {وَ إِنْ مِنْکُمْ إِلاَّ وَارِدُھَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔} … تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شدہ امر ہے۔ (سورۂ مریم: ۷۱)
اس کی تفسیر صحیح احادیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر ایک پل بنایا جائے گا، جس سے ہر مومن اور کافر کو گزرنا ہو گا، بعض مومن جلد یا بہ دیر گزر جائیں گے، بعض جہنم میں گر جائیں گے، پھر ان کو شفاعت کے ذریعےیا جرم کی سزا بھگتنے کے بعد نکال لیا جائے گا اور کافر اور مشرک اس پل سے نہیں گزر پائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں گر جائیں گے۔
اس کی تفسیر صحیح احادیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر ایک پل بنایا جائے گا، جس سے ہر مومن اور کافر کو گزرنا ہو گا، بعض مومن جلد یا بہ دیر گزر جائیں گے، بعض جہنم میں گر جائیں گے، پھر ان کو شفاعت کے ذریعےیا جرم کی سزا بھگتنے کے بعد نکال لیا جائے گا اور کافر اور مشرک اس پل سے نہیں گزر پائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں گر جائیں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9394
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ جَاءَ نِسْوَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ فِي مَجْلِسِكَ مِنَ الرِّجَالِ فَوَاعِدْنَا مِنْكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ قَالَ مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلَانٍ وَأَتَاهُنَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلِذَلِكَ الْمَوْعِدِ قَالَ فَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُنَّ يَعْنِي مَا مِنْ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ ثَلَاثًا مِنَ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُهُنَّ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ أَوِ اثْنَانِ قَالَ أَوِ اثْنَانِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ کچھ خواتین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ مردوں کی مجلس میں تشریف رکھتے ہیں تو ہم آپ کے پاس نہیں آ سکتے، اس لیے آپ ہمارے لیے ایک دن کا تعین کر دیں، ہم اس میں آپ کے پاس آ جائیں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا وعدہ فلاں کا گھر ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وعدے کے مطابق اس گھر میں تشریف لے آئے اور خواتین کو جو باتیں ارشاد فرمائیں، ان میں یہ فرمان بھی تھا: جو عورت تین بچوں کو آگے بھیج دیتی ہے اور پھر ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔ ایک خاتون نے کہا: اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ د وہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9394]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2632، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7351»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9395
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ الخ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم میں سے جس خاتون کے تین بچے فوت ہو جاتے ہیں تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔ پس ایک عورت نے کہا: …۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9395]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 102، ومسلم: 2633، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11316»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9396
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاثْنَانِ قَالَ اثْنَانِ قَالَ مَحْمُودٌ فَقُلْتُ لِجَابِرٍ أَرَاكُمْ لَوْ قُلْتُمْ وَوَاحِدًا لَقَالَ وَوَاحِدًا قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ أَظُنُّ ذَلِكَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ محمود راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرا خیال ہے کہ اگر تم ایک بچے کے بارے میں سوال کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما دینا تھا کہ اگرچہ ایک بھی ہو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان بھی یہی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9396]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن حبان: 2946، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14336»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9397
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ قَالَ وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا اثْنَيْنِ قَالَ وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ قَالَ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا وَاحِدًا قَالَ فَقِيلَ لَهُ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَقَالَ إِنَّمَا ذَاكَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو وہ ان کے لیے جہنم سے مضبوط قلعہ ہوں گے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو صرف دو ہی بھیجے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سید القراء ابو المنذر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا تو صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ ان کوجواباً کہا گیا: اگرچہ ایک بچہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اجر صرف اس وقت ملتا ہے، جب صدمہ کے شروع میں صبر کیا جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9397]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، فيه ضعف وانقطاع، محمد بن ابي محمد لايعرف، وابوعبيدة بن عبد الله لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، أخرجه الترمذي: 1061، وابن ماجه: 1606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3554»
وضاحت: فوائد: … جونہی آدمی غم والی خبر سنتا ہے، اسی وقت سے یہ حکم جاری ہوتا ہے کہ وہ صبر کرے، نوحہ نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی کوئی بات نہ کہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9398
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثِ بْنِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً فَقَالَ لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ قَالَ حَفْصٌ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ سِتِّينَ سَنَةً وَلَمْ أَبْلُغْ عَشَرَ سِنِينَ وَسَمِعْتُ حَفْصًا يَذْكُرُ هَذَا الْكَلَامَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنا بچہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دو، پہلے تین بچوں کو دفن کر چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو پھر آگ سے بڑی زبردست رکاوٹ بنا چکی ہے۔ حفص راوی کہتے ہیں: ساٹھ سال ہو گئے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ِ مبارکہ سنی تھی، جبکہ اس وقت میری عمر دس برس بھی نہیں تھی۔ علی بن عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میں نے ۲۸۷ھـمیں حفص کو یہ بات کرتے ہوئے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9398]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2636، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9427»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9399
عَنْ مُحَمَّدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَتْنَا امْرَأَةٌ كَانَتْ تَأْتِينَا يُقَالُ لَهَا مَاوِيَّةُ كَانَتْ تُرْزَأُ فِي وَلَدِهَا فَأَتَتْ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْمَرٍ الْقُرَشِيَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُبْقِيَهُ لِي فَقَدْ مَاتَ لِي قَبْلَهُ ثَلَاثَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمُنْذُ أَسْلَمْتِ فَقَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُنَّةٌ حَصِينَةٌ قَالَتْ مَاوِيَّةُ قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْمَرٍ اسْمَعِي يَا مَاوِيَّةُ قَالَ مُحَمَّدٌ (يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ) فَخَرَجَتْ مَاوِيَّةُ مِنْ عِنْدِ ابْنِ مَعْمَرٍ فَأَتَتْنَا فَحَدَّثَتْنَا هَذَا الْحَدِيثَ
۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: ہمارے پاس ماویہ نامی ایک خاتون آتی تھی، اس کے بچے فوت ہو جاتے تھے، وہ عبید اللہ بن معمر قریشی کے پاس گئی، جبکہ ان کے پاس ایک صحابی ٔ رسول بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس صحابی نے بیان کیا کہ ایک خاتون اپنا ایک بیٹا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس کو زندہ سلامت رکھے، اس سے پہلے میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سے اسلام قبول کیا، اس وقت سے تین بچے فوت ہوئے ہیں؟ “اس نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ تو (آگ سے بچنے کا) بڑا مستحکم ذریعہ حفاظت ہے۔ “ ماویہ کہتی ہیں: مجھے عبیداللہ بن معمر نے کہا: اے ماویہ بات اچھی طرح سن (اوراس پر عمل کرتے ہوئے صبر سے کام لے اور اللہ سے ڈرتی رہ) محمد بن سیرین کہتے ہیں: یہ عورت (ماویہ) ابن معمر کےپاس سے نکلی اور ہمارے پاس آئی اور ہمیں یہ حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9399]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20783 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21064»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9400
عَنِ ابْنِ سِيرِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا رَجَاءُ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ لِي فِيهِ بِالْبَرَكَةِ فَإِنَّهُ قَدْ تُوُفِّيَ لِي ثَلَاثَةٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمُنْذُ أَسْلَمْتِ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُنَّةٌ حَصِينَةٌ فَقَالَ لِي رَجُلٌ اسْمَعِي يَا رَجَاءُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابن سیرین، رجاءنامی ایک خاتون سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھی، ایک عورت اپنا ایک بیٹا لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے لیے اس بچے میں برکت کی دعا کریں، کیونکہ میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا قبولیت اسلام کے بعد یہ بچے فوت ہوئے ہیں؟ “ اس نے کہا: جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو (جہنم سے بچنے کے لئے) بڑی مضبوط ڈھال ہے۔ “ پس ایک آدمی نے مجھے کہا: اے رجاء سن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9400]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/708، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21063»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9401
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ السُّلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا تَلَقَّوْهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان آدمی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے ملیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9401]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1604، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: غير موجود في المخطوطة الأصلية»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9402
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ قَدَّمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ صُلْبِهِ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ أَوِ امْرَأَةٍ فَهُمْ لَهُ سِتْرَةٌ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان مرد یا عورت نے اپنی نسل سے تین نابالغ بچے اللہ تعالیٰ کے لیے آگے بھیج دیئے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9402]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19666»
الحكم على الحديث: صحیح