الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَرْضِ الْحُمّى والصداع
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9373
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ وَهُوَ حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ لَوَجَعٌ مَا أَصَابَنِي قَطُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ تَحْمَرُّ مَرَّةً وَتَصْفَرُّ أُخْرَى) )
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے بخار ہوئے کتنا عرصہ ہو چکا ہے؟ یہ جلد اور گوشت کے درمیان حرارت کی زیادتی ہوتی ہے، اس نے کہا: یہ ایسی تکلیف ہے کہ میں کبھی بھی اس میں مبتلا نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس نرم و نازک، تروتازہ کھیتی کی مانند ہے جو کبھی سرخ ہوتی ہے اور کبھی زرد۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9373]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل الذي حدث عنه اسماعيل بن امية، ولابھام ام ولد ابي بن كعب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21606»
وضاحت: فوائد: … اَلْدَمَ یُلْدِمُ: کا معنی کسی کو ہمیشہ بخار رہنے کا ہے۔ اور اُمِّ مِلْدَم بخار کی کنیت ہے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۳۹۰)
بخار،جسم کی زیادتی ٔ حرارت کی ایک صورت ہوتی ہے۔
جو کبھی سرخ ہوتی ہے اور کبھی زرد۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان مختلف کیفیتوں سے گزرتا رہتا ہے، کبھی صحت کا زمانہ، کبھی ایک بیماری میں مبتلا، کبھی کسی پریشانی میں مبتلا۔
بخار،جسم کی زیادتی ٔ حرارت کی ایک صورت ہوتی ہے۔
جو کبھی سرخ ہوتی ہے اور کبھی زرد۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان مختلف کیفیتوں سے گزرتا رہتا ہے، کبھی صحت کا زمانہ، کبھی ایک بیماری میں مبتلا، کبھی کسی پریشانی میں مبتلا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9374
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَاهُ عَائِدًا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِأَبِيهِ بَعْدَ أَنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ بِالصِّحَّةِ لَا بِالْوَجْعِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَا يَزَالُ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ بِهِ الْمَلِيلَةُ وَالصُّدَاعُ وَإِنَّ عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا لَأَعْظَمَ مِنْ أُحُدٍ حَتَّى يَتْرُكَهُ وَمَا عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ) )
۔ معاذ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے اور جب انھوں نے ان کو سلام کہا تو انھوں نے کہا: صحت کے ساتھ رہو، نہ کہ بیماری کے ساتھ، تین بار یہ دعا کی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: مسلمان بخار اور سردردی جیسے بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے، جبکہ اس پر احد پہاڑ سے بڑے بڑے گناہ ہوتے ہیں، لیکن ان بیماریوں کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں کہ اس پر رائی کے دانے کے برابر بھی گناہ نہیں رہتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9374]
تخریج الحدیث: «اسناده مسلسل بالضعفائ، ابن لھيعة سييء الحفظ، وزبان بن فائد وسھل ضعيفان، أخرجه الطبراني في الاوسط: 3142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22079»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9375
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (الْحُمَّى مِنْ كَيْرِ جَهَنَّمَ فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ) )
۔ سیدنا ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی دھونکنی ہے،جو مؤمن بھی بیمار ہو گا، یہ اس کے حق میں جہنم والے حصے کے عوض میں ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9375]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 7468، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22518»
وضاحت: فوائد: … اگلی حدیث سے مزید وضاحت ہو رہی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9376
عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ أَيْ حُمَّى كَانَ بِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَبْشِرْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ) )
۔ سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مریض، جسے بخار تھا، کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (یہ بخار)میری آگ ہے، جسے میں اپنے بندۂ مؤمن پر دنیا میں مسلط کر دیتا ہوں تاکہ اس کی آخرت والی آگ کے عذاب کا بدل بن جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9376]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه الترمذي: 2088، وابن ماجه: 3470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9676 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9674»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9377
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اسْتَأْذَنَتِ الْحُمَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ( (مَنْ هَذِهِ) ) فَقَالَتْ أُمُّ مِلْدَمٍ قَالَ فَأَمَرَ بِهَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ فَلَقُوا مِنْهَا مَا يَعْلَمُ اللَّهُ فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ ( (مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَدْعُوَ اللَّهَ لَكُمْ فَيَكْشِفَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَكُونَ لَكُمْ طَهُورًا) ) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ تَفْعَلُ قَالَ ( (نَعَمْ) ) قَالُوا فَدَعْهَا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بخارنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: ام ملدم ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اہل قبا کی طرف منتقل ہو جائے، پس وہ اتنی کثرت سے اس میں مبتلا ہو ئے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس مقدار کو بہتر جانتا ہے، وہ لوگ تو اس کی شکایت لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تاکہ وہ اس کو تم سے ہٹا دے تو ٹھیک ہے اور اگر تم چاہتے ہو کہیہ تمہارے حق میں پاک کرنے والا ٹھہرے (تو پھر اس کو اپنے پاس برقرار رہنے دو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ گناہوں سے پاک کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر اس کو رہنے دو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9377]
تخریج الحدیث: «رجاله رجاله الصحيح، وفي متنه غرابة، لكن له شاھد، أخرجه ابويعلي: 1892، وابن حبان: 2935، والحاكم: 1/ 346، والبيھقي: 6/ 158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14393 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14446»
وضاحت: فوائد: … صحابہ کرام اخروی کامیابی کے اس قدر حریص تھے کہ دنیا کی تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
6. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَرْضِ الصَّرْعِ وَثَوَابِ ذَلِكَ
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9378
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَا لَمَمٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي قَالَ ( (إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَكِ وَإِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِي وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ) ) قَالَتْ بَلْ أَصْبِرُ وَلَا حِسَابَ عَلَيَّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، جو جنونی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے شفا عطا کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتی ہے کہ میرے تیری شفا کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تو ٹھیک ہے اور اگر تو چاہتی ہے کہ اس پر صبر کرے اور پھر اس کے عوض تجھ پر کوئی حساب ہی نہ ہو۔ اس نے کہا: جی ٹھیک ہے، میں صبر کروں گی اور اس کے عوض مجھ پر حساب نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9378]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 2909، والبزار: 772، والحاكم: 4/ 218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9687»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9379
عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ هَذِهِ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي أُصْرَعُ وَأَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ ( (إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ لَكِ أَنْ يُعَافِيَكِ) ) قَالَتْ بَلْ أَصْبِرُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ أَوْ لَا يَنْكَشِفَ عَنِّي قَالَ فَدَعَا لَهَا
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے کہا: کیا میں تجھے جنتی خاتون دکھاؤں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: یہ سیاہ فام عورت ہے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: مجھے مرگی کا دورہ پڑ جاتا ہے اور اس وجہ سے میں ننگی بھی ہو جاتی ہوں، اس لیے آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتی ہے تو صبر کر لے اور تجھے جنت مل جائے گی اور اگر تو چاہتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے تیری عافیت کے لیے دعا کر دیتا ہوں۔ اس نے کہا: جی میں صبر کروں گی، لیکن آپ اللہ تعالیٰ سےیہ دعا تو کر دیں کہ میں ننگا نہ ہو جایا کروں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں یہ دعا کر دی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9379]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5652، ومسلم: 2576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3240»
وضاحت: فوائد: … چونکہ بے ہوشی کے وقت ننگا ہو جانے کا آزمائش سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے صحابیہ نے اس کی دعا کروا لی اور شفا کی دعا نہ کروائی، تاکہ آخرت کا معاملہ آسان ہو جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى فَقَدِ الْعَيْنَيْنِ وَثَوَابِ ذَلِكَ
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9380
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَابَنِي رَمَدٌ فَعَادَنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا بَرَأْتُ خَرَجْتُ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ عَيْنَاكَ لِمَا بِهِمَا مَا كُنْتَ صَانِعًا) ) قَالَ قُلْتُ لَوْ كَانَتَا عَيْنَايَ لِمَا بِهِمَا صَبَرْتُ وَاحْتَسَبْتُ قَالَ ( (لَوْ كَانَتْ عَيْنَاكَ لِمَا بِهِمَا ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ لَلَقِيتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا ذَنْبَ لَكَ) ) قَالَ إِسْمَاعِيلُ ( (ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ إِلَّا أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ الْجَنَّةَ) )
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری آنکھ خراب ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری تیمار داری کے لیے تشریف لائے، جب میں شفایاب ہوا اور باہر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اگر تیری آنکھوں کی بیماری برقرار رہتی تو تو کیا کرتا؟ میں نے کہا: اگر میری آنکھوں کی بیماری برقرار رہتی تو میں صبر کرتا اور ثواب کی نیت رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بیماری کے برقرار رہنے کی صورت میں اگر تو صبر کرتا اور ثواب کی نیت رکھتا تو تو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملتا کہ تجھ پر کوئی گناہ نہ ہوتا۔ اسماعیل راوی کے الفاظ یہ ہیں: پھر تو صبر کرتا اور ثواب کا ارادہ رکھتا تو اللہ تعالیٰ تیرے لیے جنت کو واجب کر دیتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9380]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3102، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19563»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9381
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعُودُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَقَالَ لَهُ يَا زَيْدُ لَوْ كَانَ بَصَرُكَ لِمَا بِهِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی تیمار داری کے لیے گئے، ان کی آنکھ خراب تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے زید! اگر تیری آنکھوں کی بیماری برقرار رہتی؟ … پھر مذکورہ بالا روایت کی طرح کے الفاظ نقل کیے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9381]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12614»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9382
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذْهَبْتُ كَرِيمَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ كَانَ ثَوَابُهُ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ تعالیٰ نے فرمایا: جب میں کسی کی دو آنکھوں کی بینائی سلب کر لیتا ہوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس کا اجرو ثواب جنت ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9382]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابويعلي: 4285، والطبراني في الاوسط: 8442، وعلقه البخاري باثر الحديث: 5653، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14066»
الحكم على الحديث: صحیح