🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9403
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نَحْوَهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی ماں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث سنی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9403]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 353، والطبراني في الكبير: 25/ 306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27654»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9404
عَنْ أَبِي سِنَانٍ قَالَ دَفَنْتُ ابْنًا لِي وَإِنِّي لَفِي الْقَبْرِ إِذْ أَخَذَ بِيَدِي أَبُو طَلْحَةَ فَأَخْرَجَنِي فَقَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ قُلْتُ بَلَى قَالَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَا مَلَكَ الْمَوْتِ قَبَضْتَ وَلَدَ عَبْدِي قَبَضْتَ قُرَّةَ عَيْنِهِ وَثَمَرَةَ فُؤَادِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا قَالَ قَالَ حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ قَالَ ابْنُوا لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ
۔ ابو سنان کہتے ہیں: میں نے اپنا بیٹا دفن کیا اور ابھی تک میں قبر میں تھا کہ ابو طلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے قبر سے نکالا اور کہا: کیا میں تجھے خوشخبری دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: ضحاک بن عبد الرحمن نے سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ملک الموت! کیا تو نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی ہے؟ کیا تو نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کے دل کی محبت قبض کر لی ہے؟ وہ کہتا ہے: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تو پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ اس نے کہا: تیری تعریف بیان کی اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا، اللہ تعالیٰ نے کہا: تو پھر اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بَیْتُ الْحَمْد رکھو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9404]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 1021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19963»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ آزمائش والی خبر سنتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9405
عَنِ ابْنِ حَصْبَةَ أَوْ أَبِي حَصْبَةَ عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ تَدْرُونَ مَا الرَّقُوبُ قَالُوا الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ فَقَالَ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ قَالُوا الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ الَّذِي لَهُ مَالٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا الصُّرَعَةُ قَالُوا الصَّرِيعُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الرَّجُلُ يَغْضَبُ فَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ يَحْمَرُّ وَجْهُهُ وَيَقْشَعِرُّ شَعْرُهُ فَيَصْرَعُ غَضَبَهُ
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے کا سارا پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9405]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، دون قصة الصعلوك، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابي حصبة او ابن حصبة، أخرجه البيھقي في الشعب: 3341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23503»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9406
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا تَعُدُّونَ فِيكُمُ الرَّقُوبَ قَالَ قُلْنَا الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ قَالَ لَا وَلَكِنَّ الرَّقُوبَ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اندر کس کو رَقُوْب (بے اولاد) شمار کرتے ہو؟ ہم نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، رَقُوْب تو وہ ہوتا ہے، جس نے کوئی نابالغ بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9406]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه مسلم: 2608، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3626»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9407
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَبِي فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ فَقَالَ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ قَالَتْ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَمْ يُصَابُوا بِمِثْلِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس شخص کے دو پیش رو ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے باپ کی قسم! جس کا ایک پیش رو ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ جس کا ایک پیش رو ہو گا، اے توفیق دی ہوئی خاتون! پھر سیدہ نے کہا: آپ کی امت میں سے جس کا کوئی پیش رو نہیں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں اپنی امت کے لیے پیش رو ہوں گا، میری امت کو میری جیسی تکلیف نہیں پہنچی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9407]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 1062، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3098 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3098»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9408
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوِ اثْنَانِ قَالَ أَوِ اثْنَانِ قَالُوا أَوْ وَاحِدٌ قَالَ أَوْ وَاحِدٌ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان پر بہت زیادہ رحمت کرنے کی وجہ سے ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ لوگوں نے پھر کہا: اگر ایک ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ایک ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک ناتمام بچہ ناف کے کٹے ہوئے حصے سے اپنے ماں کو کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا، بشرطیکہ وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9408]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قصة السقط في آخره، وھذا اسناد ضعيف لضعف يحييٰ التيمي، أخرجه ابن ماجه: 1609، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22440»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9409
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أُقَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةُ أَوْلَادٍ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَثَلَاثَةٌ قَالَ وَثَلَاثَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ أَحَدَ زَوَايَاهَا وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَدْخُلُ بِشَفَاعَتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ مِنْ مُضَرَ
۔ سیدنا حارث بن اُقیش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے چار بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر تین ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ تین ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دوہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں، اور بیشک میرے امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ ان کو آگ کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ اس کا ایک کونہ بن جائیں گے اور میری امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ جن کی سفارش سے مضر قبیلے کے افراد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9409]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن قيس، أخرجه مختصرا ابن ماجه: 4323، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23041»
وضاحت: فوائد: … یہ بات درست ہے کہ بعض جہنمیوں کے جسم بڑے بنا دیئے جائیں گے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ضِرْسُ الْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِثْلُ أُحُدٍ وَعَرْضُ جِلْدِہِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَفَخِذُہُ مِثْلُ وَرِقَانَ وَمَقْعَدُہُ مِنْ النَّارِ مِثْلُ مَا بَیْنِی وَبَیْنَ الرَّبَذَۃِ۔)) … قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ جتنی ہو جائے گی، اس کی جلد ستر ہاتھ موٹی ہو جائے گی، اس کی ران ورقان پہاڑ جتنی ہو جائے گی اور آگ میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی، جتنا میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ربذہ گاؤں کے درمیان فاصلہ ہے۔ (مسند احمد: ۲/ ۳۲۸، رقم: ۸۳۴۵) جسم کوبڑا کرنے کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ عذاب کو زیادہ محسوس کریں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنَ النَّارِ۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9410
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ قُلْتُ مَاتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَنْتَ الَّذِي قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْوَلَدَيْنِ مَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ لَأَنْ يَكُونَ قَالَهُ لَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَيْهِ حِمْصُ وَفِلَسْطِينُ
۔ سیدنا ابو ثعلبہ اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دو بچے اسلام میں فوت ہو چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دو بچے اسلام میں فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو بھی جنت میں داخل کر دے گا۔ بعد میں جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو انھوں نے مجھ سے کہا: تم وہ آدمی ہو، جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کے بارے میں خوشخبری سنائی تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات میرے لیے فرماتے تو یہ بات مجھے ان چیزوں سے زیادہ پسند ہوتی، جن پر حمص اور فلسطین کو بند کیا گیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9410]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عمر بن نبھان، أخرجه الطبراني: 22/ 601، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27762»
وضاحت: فوائد: … حمص اور فلسطین اور ان کے خزانوں کامالک بننا مراد ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9411
عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ مَا بَالُكَ قَالَ لِي عَمَلِي قُلْتُ حَدِّثْنِي قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ أَوْلَادِهِمَا لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُمَا
۔ صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: تمہارا کیا حال ہے؟ انھوں نے کہا: میرے لیے میرا کام ہے، میں نے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کرو، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9411]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 4/ 24، 6/ 48، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21667»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9412
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهِ حَجَبُوهُ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین بچے آگے بھیج دیئے، وہ اس کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9412]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11122»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں