🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي عِبَادَةِ الْمَرِيضِ مُطْلَقًا وَثَوَابِ ذلك
مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9474
عَنْ هَارُونَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (أَيُّمَا رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا فَإِنَّمَا يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ) ) قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلصَّحِيحِ الَّذِي يَعُودُ الْمَرِيضَ فَالْمَرِيضُ مَا لَهُ قَالَ ( (تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبُهُ) )
۔ ابو داود کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا: اے ابو حمزہ! گھر تو دور ہے، لیکن ہمیں یہ بات بڑی اچھی لگتی ہے کہ ہم تمہاری عیادت کریں، انھوں نے اپنا سر اٹھایا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی کسی مریض کی تیمار داری کرنے کے لیے جاتاہے، وہ رحمت میں داخل ہوتاہے، اور جب اس مریض کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ثواب تو عیادت کرنے والے صحت مند کے لیے ہے، مریض کے لیے کیا اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9474]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 8846، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12813»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9475
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ عَادَ مَرِيضًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ فِيهَا وَقَدِ اسْتَنْقَعْتُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي الرَّحْمَةِ) )
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی تیمار داری کی، وہ رحمت میں داخل ہوا اور جو اس کے پاس بیٹھ گیا، وہ رحمت میں گھس گیا اور تحقیق تم ان شاء اللہ رحمت میں ٹھہر گئے ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9475]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15890»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9476
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (عُودُوا الْمَرِيضَ وَامْشُوا فِي الْجَنَائِزِ تُذَكِّرْكُمْ الْآخِرَةَ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مریض کی تیماری داری کیا کرو اور جنازوں کے ساتھ چلا کرو، یہ آخرت کو یاد دلاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9476]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 821، والطيالسي: 2241، والبيھقي: 3/ 379، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11198»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9477
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (عَائِدُ الْمَرِيضِ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَرِكِهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا وَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ) )
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مریض کی عیادت کرنے والا رحمت میں گھس جاتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سرین پر رکھا اور فرمایا: آتے ہوئے بھی اور جاتے ہوئے بھی، پھر جب وہ اس کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9477]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبيد الله بن زحر الافريقي،وعلي بن يزيد الالھاني ضعيفان، أخرجه الطبراني في الكبير: 7854، والبيھقي في الشعب: 9205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22665»
وضاحت: فوائد: … ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ادنی اور اعلی کا فرق اور ذاتی معرفت کی پروا کیے بغیر مسلمان بھائی کا حق سمجھ کر اس کی عیادت کریں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي كَلِمَاتٍ يُدْعَى بِهِنَّ لِلْمَرِيضِ وَكَلِمَاتٍ يَقُولُ هُنَّ الْمَرِيضُ
مریض کے لیے دعائیہ کلمات کہنے کی اور وہ کلمات ادا کرنے کی ترغیب کا بیان،جو مریض خود کہے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9478
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلَّا عُوفِيَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بندہ ایسے مریض کی تیمارداری کرتا ہے، جس کی موت کا وقت نہیں آ چکا ہوتا، اور سات دفعہ یہ دعا پڑھتا ہے: اَسْاَلُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَشْفِیْکَ، تو اس کو شفا مل جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9478]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3106، والترمذي: 2083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2137»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ تیمارداری کرنے والے کو مریض کے پاس یہ دعا پڑھنی چاہیے: اَسْاَلُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَشْفِیْکَ۔ (میں اللہ سے سوال کرتا ہوں، جو خود بھی عظیم ہے اور عرش عظیم کا ربّ بھی ہے، کہ تجھے شفا دے دے۔)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9479
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا قَالَ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا وَيَمْشِي لَكَ إِلَى الصَّلَاةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے تو وہ یہ کلمات کہے: اَللّٰھُمَّ اشْفِ عَبْدَکَ، یَنْکَاُ لَکَ عَدُوًّا، وَیَمْشِیْ لَکَ اِلَی الصَّلَاۃِ (اے اللہ! اپنے بندے کو شفا عطا فرما، یہتیرے لیے دشمن کو زخمی کر کے مارے گا اور تیرے لیے نماز کی طرف چلے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9479]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حيي بن عبد الله ضعيف اذا انفرد، أخرجه ابوداود: 3107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6600»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9480
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ يَدِهِ فَيَسْأَلَ كَيْفَ هُوَ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمُ الْمُصَافَحَةُ) )
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مریض کی عیادت کا مکمل طریقہیہ ہے کہ بندہ اپنا ہاتھ اُس کی پیشانییا ہاتھ پر رکھے اور پھر پوچھے کہ اس کا کیاحال ہے اور مکمل سلام یہ ہے کہ مصافحہ بھی کیا جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9480]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدّا، عبيد الله بن زحر الافريقي و علي بن يزيد الالھاني ضعيفان، أخرجه الترمذي: 2731، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22591»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9481
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا قَالَ ( (أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي وَلَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مریض کی عیادت کرتے تو یہ دعا کرتے تھے: اَذْھَبِ الْبَاْسَ، رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ اِنَّکَ اَنْتَ الشَّافِیْ، وَلَا شِفَائَ اِلَّا شِفَاؤُکَ، شِفَائً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا (اے لوگوں کے ربّ! بیماری کو دور کر دے اور شفا دے دے، بیشک تو ہی شفا دینے والا ہے، اور نہیں ہے کوئی شفا، ما سوائے تیری شفا کے، ایسی شفا عطا فرما، جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے)۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9481]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5675، ومسلم: 2191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25285»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9482
عَنْ أُمِّ سَلْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ أَوِ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میت یا مریض کے پاس حاضر ہو تو خیر والی باتیں کیا کرو، کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو، اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9482]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 919، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27275»
وضاحت: فوائد: … یعنی میت کے پاس رحمت و مغفرت کی دعا کی جائے، لواحقین کو صبر کی اور جزع و فزع سے بچنے کی تلقین کی جائے اور مریض کے پاس شفا کی دعا کی جائے اور صحت و عافیت کی خوشخبری سنا کر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
اس حدیث کا باقی ماندہ حصہ یہ ہے: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَۃَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَا سَلَمَۃَ قَدْ مَاتَ، قَالَ: ((قُولِی اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبٰی حَسَنَۃً۔)) قَالَتْ فَقُلْتُ فَأَعْقَبَنِی اللّٰہُ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ لِی مِنْہُ مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میرے خاوند سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ابوسلمہ فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو یہ دعا کر: اے اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس کا اچھا بدلہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے عوض ایسا بدلہ دیا، جو میرے لیے اس کی بہ نسبت بہت اچھا تھا، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9483
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَهُوَ مَحْمُومٌ فَقَالَ ( (كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ) ) فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو کو بخارتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس گئے اور فرمایا: کفارہ بننے والا ہے اور پاک کرنے والا ہے۔ لیکن اس بدّو نے کہا: نہیں، بلکہ یہ بخار ہے، جو بوڑھے آدمی پر ابل رہا ہے اور اس کو قبریں دکھا رہا ہے، اس کی یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9483]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13651»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بدّو کی بے صبری اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی نہ ہونے کو ناپسند کیا اور چل دیئے۔ معلوم ہوا کہ مریض کے پاس یہ دعا پڑھنی چاہیے: کَفَّارَۃٌ وَطَھُوْرٌ (یہ بیماری گناہوں کا کفارہ بننے والی ہے اور پاک کرنے والی ہے)۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں