🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ التَّرْغِيبِ فِيهِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ وَتَوَابٍ فَاعِلِهِ
اس چیز کی ترغیب دینے اور اس کی فضیلت اور ایسا کرنے والے کے ثواب کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9524
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ حَتَّى إِذَا رَمَى الثَّانِيَةَ عَرَضَ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اعْتَرَضَ فِي الْجَمْرَةِ الثَّالِثَةِ عَرَضَ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ كَلِمَةُ حَقٍّ تُقَالُ لِإِمَامٍ جَائِرٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ فِي حَدِيثِهِ وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ لِإِمَامٍ ظَالِمٍ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرے کو کنکریاں مار رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے جمرے کو کنکریاں ماریں تو پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درپے ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بار بھی خاموش رہے اور جب آگے چلے اور تیسرے جمرے کے پاس پہنچے تو وہی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظالم حکمران کے سامنے حق کلمہ کہنا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9524]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4012، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22511»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9525
عَنْ طَارِقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ إِمَامٍ (وَفِي رِوَايَةٍ سُلْطَانٍ) جَائِرٍ
۔ سیدنا طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کون سا جہاد سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظالم بادشاہ کے سامنے حق کلمہ کہنا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9525]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 7/ 161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19034»
وضاحت: فوائد: … کلمۂ حق سے مراد امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کی کوئی بات کہنا ہے۔ اس کو افضل جہاد قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ جو مجاہد، دشمن سے لڑتا ہے اسے فتح اور غلبے کی امید بھی ہوتی ہے اور شکست اور مغلوب ہو جانے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص، جابر بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق پیش کرتا ہے، وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں دھکیل رہا ہوتا ہے، اسے جلد ہی بادشاہ کے سامنے مقہور و مجبور کی حیثیت سے حاضر ہونا پڑتا ہے، الا ما شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب و محب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: {وَلَایَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ } (سورۂ مائدہ: ۵۴) … وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، جسے چاہے دے دیتا ہے۔
جب تک اہل ایمان اس صفت سے متصف ہو کر اللہ تعالیٰ کیلیے بے لوث جذبات کا اظہار نہیں کرتے، اس وقت تک انہیں ایمان کی مٹھاس اور شیریں نصیب نہیں ہو سکتی، معاشرے میں جن برائیوں اور بیہودگیوں کا چلن عام ہو جاتا ہے، جنہیں معاشرہ سرے سے برائی تسلیم کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا، ان کے خلاف نیکی پر استقامت اختیار کرنااور ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر کاربند رہنا اس صفتِ حمیدہ کے بغیر ممکن نہیں۔ وگرنہ بیسیوں لوگ ایسے ہیں جو برائی اور معاشرتی خرابیوں سے اپنا دامن تو بچانا چاہتے ہیں، لیکن ان میں ملامت گروں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہوتی، نتیجتًا وہ ان برائیوں کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں اور حق و باطل کے مکسچر کو اسلام سمجھ کر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی محبت سے محروم رہتے ہیں۔
فرعون و نمرود جیسے باطل پرستوں، جو لمحہ بھر کیلیے نہ مخالفین کو برداشت کرسکتے ہیں اور نہ انہیں کسی قسم کی ایذا پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت کر سکتے ہیں، کے سامنے حق و انصاف کا اعلان نہ صرف دل گردے کا کام ہے بلکہ لقمۂ اجل بننے کے مترادف ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لحاظ کرنا اِن ظالموں کی ایذا رسانی کی بہ نسبت برتر ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے افضل جہاد قرار دے کر ہمیں ہر وقت اس قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9526
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ
۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جن کو پہلے والے لوگوں کے اجر کی طرح ثواب دیا جائے گا، وہ برائی کا انکار کرتے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9526]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23568»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ برائی کا انکار نہ کرنے میں سستی اور اسلامی حمیت کے کم پڑ جانے کا بھی دخل ہوتا ہے، لیکن اس معاملے میں اصل رکاوٹ لوگوں کا ظاہری مقام و مرتبہ ہے، ہم اس سستی کو شرمانے سے تعبیر کرتے ہیں، جو دراصل ایسی بزدلی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسلام کا پاس و لحاظ نہیں رکھا جاتا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ وجوبهِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ وَالتَّشْدِيدِ فِيهِ
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے¤اور اس معاملے میں سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9527
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ (قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ أَحَدُ الرُّوَاةِ مِنْ أَدَمٍ) فِي نَحْوٍ مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا (وَفِي رِوَايَةٍ جَمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكُنْتُ مِنْ آخِرِ مَنْ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّكُمْ مَفْتُوحٌ عَلَيْكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَمَثَلُ الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ كَمَثَلِ بَعِيرٍ رُدِّيَ فِي بِئْرٍ فَهُوَ يُنْزَعُ مِنْهَا بِذَنَبِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ (چمڑے کے) سرخ خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تقریبًا چالیس آدمی بیٹھے تھے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جمع کیا، جبکہ ہم چالیس افراد تھے، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سب سے آخر میں آنے والا میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمھیں فتوحات نصیب ہوں گی، تمھاری مدد کی جائے گی اور تم غنیمتیں حاصل کرو گے۔ جو آدمی ایسا زمانہ پا لے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے، نیکی کا حکم دے، برائی سے رک جائے اور صلہ رحمی کرے۔ جس نے مجھ پرجان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کرے۔ وہ آدمی جو کسی قوم کی غیر حق بات پر مدد کرتا ہے، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنویں میں گرا دیا گیا اور پھر دم سے پکڑ کا کھینچا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9527]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح عند من يصحح سماع عبد الرحمن من ابيه مطلقا، أخرجه ابويعلي: 5304، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3801»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ فاتحین کسی علاقہ کو فتح کرنے کے بعد اپنے آپ کو حدود و قیود سے آزاد سمجھ کر من مانیاں کرنے لگتے ہیں، لیکن اسلام نے مسلم فاتحین کو خیر و بھلائی کے امور کا پابند بنا دیا۔ قوم کی غیر حق بات پر مدد کرنے والے کی جو مثال بیان کی گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص گناہ میں پڑا اور اس قدر ہلاک ہو گیا کہ اب اپنے آپ کو چھٹکارا بھی نہیں دلا سکتا۔ موجودہ دور میںاکثر لوگ انانیت و قومیت میں پڑ کر اس مثال کے مصداق بنتے رہتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9528
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُورُ بِهَا فِي النَّارِ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحَى قَالَ فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ يَا فُلَانُ أَمَا كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ فَيَقُولُ بَلَى قَدْ كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ فَلَا آتِيهِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کو روزِ قیامت لایا جائے گا، اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا، اس کے پیٹ کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ چکی کے گرد گھومنے والے گدھے کی طرح ان کے ارد گرد چکر لگانا شروع کر دے گا۔ جہنم والے جمع ہو کر کہیں گے: اے فلاں! کیا تو ہمیں نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، میں نیکی کا حکم تو دیتا تھا، لیکن خود نہیں کرتا تھا اور برائی سے منع تو کرتا تھا، لیکن خود باز نہیں آتا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9528]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2989، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22143»
وضاحت: فوائد: … اس فرمانِ نبوی میں علمائے اسلام کے لیے بہت بڑی وعید بیان کی گئی ہے، ہر عالم اور مبلّغ کو چاہیے کہ وہ جو کچھ بیان کرتا ہے، اس پر خود بھی عمل کرے، وگرنہ نہ اس کی زبان میں کوئی تأثیر ہو گی اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9529
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ قَالَ تُرِكَ مَا هُنَاكَ يَا أَبَا فُلَانٍ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
۔ سیدنا طارق بن شہاب کہتے ہیں: پہلا شخص، جس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا، وہ مروان ہے، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے، اس نے کہا: اے ابو فلاں! وہ والے امور چھوڑ دیئے گئے ہیں، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں جو آدمی برائی کو دیکھے، اس کو اپنے ہاتھ سے تبدیل کرے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر اتنی طاقت بھی نہ ہو تو دل سے برا سمجھے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9529]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11480»
وضاحت: فوائد: … برائی کو دل سے برا سمجھنا ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے، گویا برائی کو پسند کرنا یا اس میں پڑ جانا ایمان کے منافی چیز ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9530
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ ثُمَّ لَتَدْعُنَّهُ فَلَا يَسْتَجِيبَ لَكُمْ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور ضرور نیکی کا حکم دو گے اور ضرور ضرور برائی سے منع کرو گے، وگرنہ قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی عذاب تم پر مسلط کر دے اور پھر تم اس کو پکارو گے، لیکن وہ تمہیں جواب نہیں دے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9530]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 2169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23690»
وضاحت: فوائد: … اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، اس وقت امت ِ مسلمہ کی بھاری اکثریت اس وعید کی مستحق بن چکی ہے۔ عوام تو عوام، خواص نے بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو ترک کر دیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9531
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبَكُمْ وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيَكُمْ وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلَا أَنْصُرَكُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے پہنچان گئی کہ کسی چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ کرنے پر آمادہ کیا ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور کسی سے کلام کیے بغیر باہر چلے گئے، میں حجروں کے قریب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے منع کیا کرو، قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو گے، لیکن میں تم کو جواب نہیں دوں گا، تم مجھ سے سوال کرو گے، لیکن میں تم کو عطا نہیں کروں گا اور تم مجھ سے مدد طلب کرو گے، لیکن میں تمہاری مدد نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9531]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25769»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9532
عَنْ أَبِي الرُّقَادِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ مَوْلَايَ وَأَنَا غُلَامٌ فَدُفِعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ وَهُوَ يَقُولُ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ مُنَافِقًا وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ فِي الْمَقْعَدِ الْوَاحِدِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَحَاضُّنَّ عَلَى الْخَيْرِ أَوْ لَيُسْحِتَنَّكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا بِعَذَابٍ أَوْ لَيُؤَمِّرَنَّ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ ثُمَّ يَدْعُو خِيَارُكُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ
۔ ابو رقاد کہتے ہیں: میں اپنے آقا کے ساتھ نکلا، جبکہ میں لڑکا تھا، پھر جب مجھے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تک پہنچا دیا گیا تو وہ کہہ رہے تھے: بیشک ایک آدمی عہد ِ نبوی میں ایسی بات کرتا تھا کہ وہ اس کی وجہ سے منافق ہو جاتا تھا، لیکن اب میں نے تمہاری مجلس میں وہی بات چار دفعہ سنی ہے، (سنو کہ) تم ضرور ضرور نیکی کا حکم کرو گے، برائی سے منع کرو گے اور خیر پر لوگوں کو ابھارو گے، وگرنہ اللہ تعالیٰ تم سب کو عذاب سے برباد کر دے گا یا تمہارے بدترین لوگوں کو تمہارا حکمران بنا دے گے، پھر تمہارے نیکوکار لوگ اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے، لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9532]
تخریج الحدیث: «اثر حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 44، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23701»
وضاحت: فوائد: … نیکی کا حکم نہ کرنا اور برائی سے منع نہ کرنا، یہ اتنا بڑا شرّ ہے کہ جس عہد میں یہ پایا جائے گا، اس وقت زمانے کے نیک لوگوں کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔
دراصل جس معاشرے میں نیکی کا حکم نہ دیا جاتا ہو اور برائی سے نہ روکا جاتا ہے، اس معاشرے کے افراد اتنے بے حیا، باغی اور ڈھیٹ ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم ہی نہیں آتا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9533
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں سے جہاد کرو، وہ قریب ہوں یا دور، اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو اور حضر و سفر میں اللہ تعالیٰ کی حدود قائم کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9533]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23157»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کی ذات بہت عظیم ہے، اس سے سچا تعلق قائم ہو جائے تو ان امور پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے، بہرحال اسلامی اور بڑے راسخ مزاج کی ضرورت ہے، جو اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں