الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ وجوبهِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ وَالتَّشْدِيدِ فِيهِ
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے¤اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9534
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ أَنْ يَرَى أَمْرًا لِلَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالٌ ثُمَّ لَا يَقُولَهُ فَيَقُولُ اللَّهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِيهِ فَيَقُولُ رَبِّ خَشِيتُ النَّاسَ فَيَقُولُ وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ يُخْشَى
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھ لے کہ جب وہ ایسا معاملہ دیکھے، جس میں اللہ تعالیٰ کے لیے بات کرنا اس کی ذمہ داری بنتی ہو، لیکن وہ خاموش ہو جائے، پھر جب اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کس چیز نے تجھے اُس موقع پر بات کرنے سے روک دیا تھا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں لوگوں سے ڈر گیا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اس چیز کا زیادہ حقدار تھا کہ مجھ سے ڈرا جاتا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9534]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو البختري، لم يسمع من ابي سعيد، بينھما راو، وھو رجل مبھم، أخرجه ابن ماجه: 4008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11275»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9535
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَقُولَ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ تُنْكِرُهُ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ قَالَ يَا رَبِّ وَثِقْتُ بِكَ وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن بندے سے مختلف امور کے بارے میں پوچھے گا، یہاں تک کہ وہ یہ سوال بھی کرے گا کہ جب تو نے برائی دیکھی تھی تو کس چیز نے تجھے اس کا انکار کرنے سے روک دیا تھا؟ پس جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ذہن میں اس کی دلیل بٹھائے گا تو وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں نے تجھ پر اعتماد کیا اور لوگوں سے ڈر گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9535]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 1344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11265»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ بعض حالات و ظروف کے پیشِ نظر بندے کا عذر قبول ہو جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9536
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مِنْكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ وَعَلِمَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ) إِذَا رَآهُ أَوْ عَلِمَهُ أَوْ رَآهُ أَوْ سَمِعَهُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَإِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا يُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ أَوْ يُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی حق کو دیکھ لے، اس کو جان لے اور اس کو سن لے تو پھر لوگوں کا ڈر اس کو یہ حق بیان کرنے سے روکنے نہ پائے، پس بیشک حق بیان کرنے یا عظیم چیز کی نصیحت کرنے سے نہ اس کی موت قریب ہو گی اور نہ اس کا رزق دور ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9536]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: فَاِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ اَجَلٍ وَلَا يُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ اَنْ يَقُوْلَ بِحَقٍّ اَوْ يُذَكِّرُ بِعَظِيْمٍ، أخرجه ابويعلي: 1411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11494»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9537
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا وَأَوْثَقَنِي سَبْعًا وَأَشْهَدَ عَلَيَّ تِسْعًا أَنِّي لَا أَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ (الْحَدِيثَ)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ دفعہ مجھ سے بیعت کی، سات دفعہ عہدو پیمان کیااور نو چیزوں کو مجھ پر گواہ بنایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9537]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو اليمان عامر بن عبد الله الھوزني في عداد المجھولين، أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21841»
وضاحت: فوائد: … مضبوط اور راسخ عقیدے کا تقاضا تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کر کے کسی ملامت والے کی ملامت کا پاس و لحاظ نہ رکھے۔
یہاںیہ تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فریضے کو سر انجام دینے کے لیے حکمت اور مصلحت انتہائی ضروری ہے، نیکی کا حکم دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی پر بے جا سختی کی جائے، کسی کی توہین کی جائے، کسی کو برسرِ عام ڈانٹ دیا جائے، اپنی بے عزتی کے مترادف انداز اپنایا جائیے،ایسا انداز اپنایا جائے کہ اگلا آدمی انتقامی کاروائی پر اتر آئے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔} … اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ (سورۂ فصلت: ۳۴)
یہاںیہ تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فریضے کو سر انجام دینے کے لیے حکمت اور مصلحت انتہائی ضروری ہے، نیکی کا حکم دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی پر بے جا سختی کی جائے، کسی کی توہین کی جائے، کسی کو برسرِ عام ڈانٹ دیا جائے، اپنی بے عزتی کے مترادف انداز اپنایا جائیے،ایسا انداز اپنایا جائے کہ اگلا آدمی انتقامی کاروائی پر اتر آئے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔} … اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ (سورۂ فصلت: ۳۴)
الحكم على الحديث: ضعیف
3. بَابُ هلاك كُلُّ أُمَّةٍ لَمْ تَقُمْ بِهَذَا الْوَاجِبِ
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
حدیث نمبر: 9538
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُغَيِّرُوهُ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ
۔ قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: لوگو! بیشک تم یہ آیت پڑھتے ہو: اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ (سورۂ مائدہ: ۱۰۵)، لیکن ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک جب لوگ برائی کو دیکھ کر اس کو تبدیل نہیں کریں گے تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کردے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9538]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 4338، وابن ماجه: 4005، والترمذي: 2168، 3057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 30 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 30»
وضاحت: فوائد: … بعض لوگوں کے ذہن میں ظاہری الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ اگر اپنی اصلاح کر لی جائے تو کافی ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضروری نہیں ہے، لیکنیہ مطلب صحیح نہیں ہے، کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بھی نہایت اہم ہے، اگر ایک مسلمان یہ فریضہ ہی ترک کر دے تو وہ ہدایت پر قائم کیسے رہے گا۔
اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمہارے سمجھانے کے باوجود اگر لوگ نیکی کا راستہ اختیار نہ کریںیا برائی سے باز نہ آئیں تو تمہارے لیےیہ نقصان دہ نہیں ہے کہ تم خود نیکی پر قائم اور برائی سے مجتنب ہو۔
اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمہارے سمجھانے کے باوجود اگر لوگ نیکی کا راستہ اختیار نہ کریںیا برائی سے باز نہ آئیں تو تمہارے لیےیہ نقصان دہ نہیں ہے کہ تم خود نیکی پر قائم اور برائی سے مجتنب ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9539
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ فِي الْمَعَاصِي نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَجَالَسُوهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ قَالَ يَزِيدُ أَحْسِبُهُ قَالَ وَأَسْوَاقِهِمْ وَوَاكَلُوهُمْ وَشَارَبُوهُمْ فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَلَعَنَهُمْ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى تَأْطِرُوهُمْ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بنو اسرائیل میں نافرمانیاں شروع ہوئیں تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا، لیکن جب وہ باز نہ آئے تو ان کے علماء نے ان کے ساتھ ان کی مجلسوں اور بازاروں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ کھانا پینا شروع کر دیا، پس اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور داود علیہ السلام اور عیسی بن مریم علیہ السلام کی زبانوں کے ذریعے ان پر لعنت کی،یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نافرمانی اور زیادتی کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (اس وقت کام بنے گا) جب تم ان کو حق کی طرف موڑو گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9539]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبدا لله بن مسعود، وشريك بن عبد الله سييء الحفظ، أخرجه الترمذي: 3047، وأخرجه بنحوه ابوداود: 4336، وابن ماجه: 4006، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3713»
وضاحت: فوائد: … بہرحال اہل علم کو چوکنا اور متنبہ رہنا چاہیے، عوام اور معاشرے میں کسی برائی کے عام ہو جانے کا یہ مطلب نہیں کہ اہل علم بھی اس کے بارے میں غیر محتاط ہو جائیں۔
((فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ)) اس ترکیب کے دو معانی ہو سکتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور نتیجتاً وہ سب برے دلوں والے ہو گئے۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کے دلوں کے وجہ سے فرمانبرداروں کے دل بھی کالے کر دیئے، اس طرح سب کے دل حق، خیر اور رحمت کو قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہو گئے۔
((فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ)) اس ترکیب کے دو معانی ہو سکتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور نتیجتاً وہ سب برے دلوں والے ہو گئے۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کے دلوں کے وجہ سے فرمانبرداروں کے دل بھی کالے کر دیئے، اس طرح سب کے دل حق، خیر اور رحمت کو قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہو گئے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9540
عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ قَوْمٍ يَعْمَلُونَ بِالْمَعَاصِي وَفِيهِمْ رَجُلٌ أَعَزُّ مِنْهُمْ وَأَمْنَعُ لَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا عَمَّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍ أَوْ قَالَ أَصَابَهُمُ الْعِقَابُ
۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ نافرمانیاں کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ ان میں سے ایک ایسا آدمی بھی موجود ہوتا ہے جو سب سے زیادہ عزت والا ہوتا ہے اور اس کے لیےیہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ ان کو اس برائی سے روک سکے، لیکن وہ روکتا نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر عام سزا نازل کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9540]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 2379، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19429»
وضاحت: فوائد: … خاندانوں کے سربراہوں کی سب سے بڑی ذمہ دارییہ ہے کہ وہ اپنے ماتحت افراد کو خیر کے قریب کریں اور ان کو شرّ سے دور رکھیں، جبکہ یہ ذمہ داری ادا کرنے والے مسئولین عنقا بن چکے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9541
عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ هِيَ حَيَّةٌ الْيَوْمَ إِنْ شِئْتَ أَدْخَلْتُكَ عَلَيْهَا قُلْتُ لَا حَدِّثْنِي قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ بِكُمِّ دِرْعِي فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقَالَتْ نَعَمْ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ قَالَتْ وَمَا قَالَ قَالَتْ قَالَ ( (إِنَّ الشَّرَّ إِذَا فَشَا فِي الْأَرْضِ فَلَمْ يُتَنَهَّ عَنْهُ أَرْسَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَأْسَهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ) ) قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِيهِمُ الصَّالِحُونَ قَالَ ( (نَعَمْ وَفِيهِمُ الصَّالِحُونَ يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ثُمَّ يَقْبِضُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرِضْوَانِهِ) ) أَوْ إِلَى رِضْوَانِهِ وَمَغْفِرَتِهِ
۔ حسن بن محمد کہتے ہیں: مجھے ایک انصاری خاتون نے بیان کیا، وہ ابھی تک زندہ ہے، اگر تو چاہتا ہو تو میں تجھے اس کے پاس لے جاتا ہوں، اس نے کہا: نہیں، بس تم مجھے بیان کرو، اس خاتون نے کہا: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، لیکن یوں لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں ہیں، میں نے اپنی قمیص کی آستین کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پردہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ کلام کیا، لیکن میں نہ سمجھ پائی، میں نے کہا: اے ام المؤمنین! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں تشریف لائے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، کیا تو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنی نہیں ہے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب زمین میں شرّ پھیل جائے گا اور پھر اس سے باز نہیں رہا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اہل زمین پر اپنا عذاب نازل کر دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسی حالت میں کہ ان میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان میں نیکوکار بھی ہوں گے، لیکن لوگوں پر نازل ہونے والا عذاب ان کو بھی اپنی گرفت میں لے لے گا، پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی بخشش اور رضامندی کی طرف لے جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9541]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي ولاضطراب فيه، أخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 747، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27062»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ ممکن ہے کہ بعض نیک لوگ معذور ہوں، جو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں آ جانے کے باوجود اس کی بخشش کے مستحق ٹھہریں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9542
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِذَا رَأَيْتَ أُمَّتِي لَا يَقُولُونَ لِلظَّالِمِ مِنْهُمْ أَنْتَ ظَالِمٌ فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو میری امت کو اس طرح دیکھے گا کہ وہ ظالم کو یوں نہیں کہے گی کہ تو ظالم ہے تو (سمجھ لینا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت) ان سے اٹھا لی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9542]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو الزبير محمد بن مسلم لم يسمع من عبد الله بن عمرو، أخرجه الحاكم: 4/ 96، والبيھقي في الشعب: 7546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6776»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9543
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَأْخُذَ اللَّهُ شَرِيطَتَهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَيَبْقَى فِيهَا عَجَاجَةٌ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اہل زمین سے خیر اور دین والے لوگوں کو لے جائے اور ایسے گھٹیا لوگ رہ جائیں، جو نہ نیکی کو پہچانتے ہوں گے اور نہ برائی سے روکتے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9543]
تخریج الحدیث: «فيه عنعنة الحسن البصري، وقد روي مرفوعا وموقوفا، الأشبه وقفه، أخرجه الحاكم: 4/ 435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6964»
وضاحت: فوائد: … دنیا میں آخر میں گھٹیا اور برے لوگ ہی رہ جائیں گی اور ان ہی پر قیامت قائم ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح