🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ هلاك كُلُّ أُمَّةٍ لَمْ تَقُمْ بِهَذَا الْوَاجِبِ
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9544
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمِ الصَّغِيرَ وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پرشفقت نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9544]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1921، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2329»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9545
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى وَالْمُدْهِنِ فِيهَا وَفِي رِوَايَةٍ وَالْوَاقِعِ فِيهَا كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ فِي الْبَحْرِ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا يَصْعَدُونَ فَيَسْتَقُونَ الْمَاءَ فَيَصُبُّونَ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا لَا نَدَعُكُمْ تَصْعَدُونَ فَتُؤْذُونَنَا فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا فَإِنَّا نَنْقُبُهَا مِنْ أَسْفَلِهَا فَنَسْتَقِي قَالَ فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ فَمَنَعُوهُمْ نَجَوْا جَمِيعًا وَإِنْ تَرَكُوهُمْ غَرِقُوا جَمِيعًا) )
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرنے اور ان کو پھلانگنے والے کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے، جنھوںنے سمندری سفر کرنے کے لیے کشتی کے بارے میں قرعہ اندازی کی، بعض اس کے نچلے حصے میں آ گئے اور بعض اوپر والے حصے میں، نچلے حصے والے پانی لینے کے لیے اوپر والے حصے کی طرف چڑھتے تھے اور اوپر والوں پر پانی گر جاتا تھا، پس انھوں نے کہا: ہم تم کو اس طرح نہیں چھوڑیں گے کہ تم اوپر چڑھتے رہو اور ہمیں تکلیف دو، یہ سن کر نیچے والوں نے کہا: تو پھر ہم پانی حاصل کرنے کے لیے نیچے سے سوراخ کر لیتے ہیں، پس اگر اوپر والوں نے ان کے ہاتھوں کو پکڑ کر ان کو ایسا کرنے سے روک لیا تو وہ سارے کے سارے نجات پا جائیں گے اور اگر انھوں نے اُن کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا تو سارے غرق ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9545]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18551»
وضاحت: فوائد: … اہل علم کو ان کی ذمہ داری سمجھانے کے لیے بڑی واضح مثال بیان کی گئی ہے، جبکہ حدیث میں بیان کی گئی مثال کا انجام غرق تھا اور تبلیغ کی ذمہ داری ادا نہ کرنے والوں کا انجام ہمیشہ کی ناکامی ہے۔ نَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَنَتُوْبُ اِلَیْہِ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9546
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى نَدَعُ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ ( (إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا كَانَتِ الْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ وَالْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ وَالْعِلْمُ فِي رِذَالِكُمْ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کب نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کو ترک کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ امور دکھائی دینے لگیں، جو بنو اسرائیل میں نمودار ہوئے تھے اور وہ یہ ہیں کہ جب بے حیائی بڑوں میں، بادشاہت چھوٹوں میں اور علم گھٹیا لوگوں میں آ جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9546]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن ماجه: 4015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12973»
وضاحت: فوائد: … یہ تینوں نحوستیں امت ِ مسلمہ میں پائی جا رہی ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9547
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبَكُمْ وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيَكُمْ وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلَا أَنْصُرَكُمْ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے پہنچان گئی کہ کسی چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ کرنے پر آمادہ کیا ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور کسی سے کلام کیے بغیر باہر چلے گئے، میں حجروں کے قریب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے منع کیا کرو، قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو گے، لیکن میں تم کو جواب نہیں دوں گا، تم مجھ سے سوال کرو گے، لیکن میں تم کو عطا نہیں کروں گا اور تم مجھ سے مدد طلب کرو گے، لیکن میں تمہاری مدد نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9547]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25769»
وضاحت: فوائد: … اس دنیا میں خیر و بھلائی کو عام کرنے کے لیے اور شرو معصیت کو ختم کرنے کے لیے انبیاء و رسل کا مبارک سلسلہ شروع کیا گیا، جو بالآخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ تو بند ہو گیا، لیکن انبیائے کرام کی ذمہ داری علمائے اسلام کو سونپ دی گئی، جبکہ اس دنیا میں سعادت مند وہی ہیں، جن کو امورِ خیر کو عام کرنے اور شرّ کا وجود ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں