🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّبَاعِيَّاتِ
رباعیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9608
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ بَدَا جَفَا وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ مَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جنگل میں اقامت اختیار کی، وہ سخت دل ہو گیا، جو شکار کے پیچھے چل پڑا وہ غافل ہو گیا، جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنے میں پڑ گیا اور جو آدمی بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا، وہ اللہ تعالیٰسے اتنا ہی دور ہوتا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9608]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني في الصحيحة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8823»
وضاحت: فوائد: … بدّو، دیہاتی اور جنگلی لوگوں میں اکھڑ پن اور اجڈ پن جیسی صفات پائی جاتی ہیں، حق قبول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، جبکہ شہری لوگوں میں شائشتگی اور نرمی زیادہ ہوتی ہیں اور ان کے دل و دماغ کی زمین زرخیز ہوتی ہے۔ جو آدمی شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے، اس کا دل نہیں بھرتا، حرص، لالچ اور شغل میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ دور دور تک نکل جاتا ہے، نماز اور دوسرے حقوق کی ادائیگی سے غافل ہو جاتا ہے۔
جو آدمی سلطانوں اور بادشاہوں کی بارگاہوں میں جا پھنسا، وہ حق سے دور اور باطل کے قریب ہو گیا، اب اسے اربابِ حکومت کی آنکھوں کے اشارے پر نقل و حرکت کرنا ہو گی، ان کی خوشامد اور چاپلوسی کرنا ہو گی، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر اپنے اوپر کیے گئے اللہ تعالیٰ کے احسانات کو حقیر سمجھے گا، بڑوں کے درباروں میں ہونے والی معصیات پر خاموش رہے گا، رفتہ رفتہ اسلامی غیرت ختم ہوتی جائے گی اور بالآخر ایسا شخص اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم کا مصداق بن کر دنیا و آخرت میں ذلیل ہو جاتا ہے۔ سلف صالحین نے بادشاہوں سے دور رہنے اور سادہ لوح عوام کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے میں عافیت سمجھی، اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بہترین نتائج سے سرفراز فرمایا اور آج بھی دنیا ان کے گیت گا رہی ہے۔
جو آدمی تبلیغ کے لیے حکمرانوں کے پاس جاتا ہے اور کسی معصیت کا ارتکاب کیے بغیر تبلیغ کے تقاضے پورے کر لیتا ہے، اس کا معاملہ اور ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9609
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ عَنْ بَعْضِ بَنِي رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (حُسْنُ الْخُلُقِ نَمَاءٌ وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ وَالْبِرُّ زِيَادَةٌ فِي الْعُمُرِ وَالصَّدَقَةُ تَمْنَعُ مِيتَةَ السَّوْءِ) )
۔ رافع بن مکیث کا ایک بیٹا، جو حدیبیہ میں بھی حاضر ہوا تھا، سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسن اخلاق اضافہ اور بڑھوتری ہے، بداخلاقی نحوست ہے، نیکی سے عمر بڑھتی ہے اور صدقہ بری موت سے بچاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9609]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لابھام راويه عن رافع بن مكيث، ولجھالة عثمان بن زفر الجھني، أخرجه ابوداود: 5162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16177»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9610
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ وَمَنْ أَتَى عَلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کا واسطہ دے کر پناہ مانگے، اس کو پناہ دے دو، جو اللہ کے نام پر تم سے سوال کرو، اس کو دے دو، جو تمہیں دعوت دے، اس کی دعوت قبول کرو اور جو تم سے کوئی نیکی کرے، اس کو اس کا بدلہ دو، اگر بدلہ دینے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ تمہیں اندازہ ہو جائے کہ تم نے گویا بدلہ دے دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9610]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5365»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کے مفہوم کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۹۲۴۵)۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ في الرُّبَاعِيَّاتِ الْمَبْدُوءَ وَ بِعَدَدِ
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9611
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ التَّعَطُّرُ وَالنِّكَاحُ وَالسِّوَاكُ وَالْحَيَاءُ) )
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار امور رسولوں کی سنتیں ہیں، خوشبولگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیا کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9611]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حجاج بن ارطاة ليس بذاك القوي، وھو مدلس وقد عنعن، ومكحول عن ابي ايوب مرسل، بينھما في ھذا الحديث ابو الشمال بن ضباب، وھو مجھول، أخرجه الترمذي: 1080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23978»
وضاحت: فوائد: … چاروں چیزیں ہماری شریعت میں مطلوب ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9612
عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صِيَامَ عَاشُورَاءَ وَالْعَشْرِ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ
۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار چیزوں کو نہیں چھوڑتے تھے، عاشوراء کا روزہ، دس دنوں کے روزے اور ہر ماہ سے تین دنوں کے روزے اور فجر سے پہلی والی دو سنتیں۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9612]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، دون قوله: والركعتين قبل الغداة فصحيح، ابو اسحق الاشجعي مجھول، أخرجه النسائي: 4/ 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26991»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فعلی اور قولی صحیح احادیث سے یہ چاروں اعمال ثابت ہیں۔
دس دنوں سے مراد ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے روزے ہیں، جن میں زیادہ عمل کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، لیکن اس عشرے میں وہ ایام شامل نہیں ہیں، جن کا روزہ رکھنا منع ہے، مثلا دس ذوالحجہ کا روزہ، کیونکہیہ عید کا دن ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9613
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنَ الدُّنْيَا حِفْظُ أَمَانَةٍ وَصِدْقُ حَدِيثٍ وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ وَعِفَّةٌ فِي طَعْمَةٍ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار نیکیاں ہیں، اگر تجھ میں پائی جائیں، تو دنیا کی کسی چیز کے فوت ہو جانے کا تجھے کوئی غم نہیں ہونا چاہیے، امانت کی حفاظت، سچی بات، حسن اخلاق اور کھانے میں پاکدامنی (یعنی گزارے کے لائق حلال روزی ملتی رہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9613]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحارث بن يزيد الحضرمي لايعرف له سماع من عبد الله بن عمرو، انما يروي عنه بواسطة، وقد روي ھذا الحديث عن عبد الرحمن بن حُجيرة عنه، لكن في الاسناد ابن لھيعة، وھو سييء الحفظ، وروي الحديث موقوفا وھو اصح، أخرجه الحاكم: 4/ 314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6652»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9614
عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ عَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَيَعْلَمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ حَقَّهُ قَالَ فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ) ) قَالَ ( (وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا) ) قَالَ فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ ( (فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ) ) قَالَ ( (وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْلَمُ فِيهِ لِلَّهِ حَقَّهُ فَهَذَا أَخْبَثُ الْمَنَازِلِ) ) قَالَ ( (وَعَبْدٌ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ هِيَ نِيَّتُهُ) )
۔ سیدنا ابو کبشہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس کوا للہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل مرتبے والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9614]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 2325، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18194»
وضاحت: فوائد: … ہر آدمی آسانی کے ساتھ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کا مقام کیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9615
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عِشْرِينَ حَسَنَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ عِشْرِينَ سَيِّئَةً وَمَنْ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فَمِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ كُتِبَ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے کلام میں سے یہ چار کلمات پسند کیے ہیں: سُبَحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ، پس جس نے سُبَحَانَ اللّٰہِ کہا، اللہ اس کے لیے بیس نیکیاں لکھ دیتا ہے یا بیس برائیاں مٹا دیتا ہے، جس نے کہ اَللّٰہُ اَکْبَرُاس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا، جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا، اس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا اور جس نے اپنی طرف سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہا، اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور تیس برائیاں مٹا دی جائیں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9615]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 428، والبيھقي في الشعب: 576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7999»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9616
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ ( (يَا أَبَا سَعِيدٍ ثَلَاثَةٌ مَنْ قَالَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ) ) قُلْتُ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا) ) ثُمَّ قَالَ ( (يَا أَبَا سَعِيدٍ وَالرَّابِعَةُ لَهَا مِنَ الْفَضْلِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَهِيَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے ابو سعید! تین کلمات ہیں، جس نے ان کو ادا کیا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہونے پر راضی ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو سعید! ایک چوتھی چیز بھی ہے، اس کی اتنی فضیلت ہے، جیسے آسمان سے زمین تک اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9616]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 1529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11118»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9617
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ وَلَسْنَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَأْمُرُ بِهِ أَوْ نَدْعُو مَنْ وَرَاءَنَا فَقَالَ ( (آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَهَذَا لَيْسَ مِنَ الْأَرْبَعِ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ) ) قَالُوا وَمَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ قَالَ ( (جِذْعٌ يُنْقَرُ ثُمَّ يُلْقَوْنَ فِيهِ الْقُطَيْعَاءَ أَوِ التَّمْرَ وَالْمَاءَ حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ) ) وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ مِنْ ذَلِكَ فَجَعَلْتُ أُخَبِّئُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ قَالَ ( (فِي الْأَسْقِيَةِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا) ) قَالَ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ كَثِيرَةُ الْجُرْذَانِ لَا تَبْقَى فِيهَا أَسْقِيَةُ الْأَدَمِ قَالَ ( (وَإِنْ أَكَلَتْهُ الْجُرْذَانُ) ) مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَقَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ ( (إِنَّ فِيكَ خُلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب عبدالقیس کا وفد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا توکہا: ربیعہ قبیلے سے ہمارا تعلق ہے، آپ کے اور ہمارے مابین مضر قبیلے کے کفار حائل ہیں، ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں آ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں کوئی (ایسا جامع) حکم دیں کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہو جائیں اور ہم اپنے پچھلے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمھیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، یہ چار امور میں سے نہیں ہے، اورنماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں کا پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمھیں کدو کے برتن، لکڑی سے بنائے ہوئے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور ہرے رنگ کے گھڑے سے منع کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا: نَقِیْر کے بارے آپ کیا جانتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تنے کو کھود کر یہ برتن بنایا جاتا ہے، پھر لوگ اس میں شہریز کھجوریں یا عام کھجوریں اور پانی ڈالتے ہیں، جب اس کے جوش میں ٹھیراؤ پیدا ہوتا ہے تو پھر تم پیتے ہو (اور نشہ چڑھتا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی اپنے چچا زاد بھائی کو تلوار کے ساتھ قتل کر دیتاہے۔ ان لوگوں میں ایک آدمی ایسا تھا، جو اسی وجہ سے زخمی ہوا تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرماتے ہوئے اس کو چھپانے لگ گیا۔ ان لوگوں نے کہا: تو پھر آپ ہمیں کن برتنوںمیں پینے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان مشکیزوں میں، جن کے منہوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: ہمارے علاقے میں چوہے بہت زیادہ ہیں، اس وجہ سے چمڑے کا تو کوئی مشکیزہ بچتا ہی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس کو چوہے کھا جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو تین بار ارشاد فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد القیس کے ایک فرد سیدنا اشج (منذر بن عائذ) رضی اللہ عنہ آدمی سے کہا: تجھ میں دو خصلتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے، ایک عقل اور بردباری اور دوسری وقار و تمکنت اور جلدی نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9617]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 18، 1996، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11193»
وضاحت: فوائد: … شہریز کھجورکی ایک قسم ہے، اس کے دانے کا سائز چھوٹا ہوتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے حصول کی خاطر آنے والے عبد القیس کے وفد کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اپنی رسالت کی گواہی دینے کی تعلیم دی۔
جب شراب حرام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عارضی طور پر ان چار قسم کے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا، بعد میں ان کے استعمال کی اجازت دے دی تھی۔ جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنِّی کُنْتُ نَھَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، فَزُوْرُوْھَا، فَإِنَّھَا تُذَکِّرُکُمُ الآخِرَۃَ، وَنَھَیْتُکُمْ عَنِ الْأَوْعِیَۃِ فَاشْرَبُوْا فِیْھَا، وَاجْتَنِبُوْا کُلَّ مُسْکِرٍ۔)) … یعنی: بلاشبہ میں نے تم لوگوں کوقبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، لیکن (اب حکم دیتا ہوں کہ) ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہیہآخرتیاد دلاتی ہیں اور میں نے تم کو (کچھ) برتنوں سے منع کیا تھا، لیکن (اب حکم دیتا ہوں کہ) ان کو مشروبات کے لئے استعمال کیا کرو اور نشہ دینے والی ہر چیز سے اجتناب کرو … (صحیحہ:۸۸۶)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں