🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الْمَالِ
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9820
عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكَ دِينَارًا أَوْ دِرْهَمًا فَقَالَ كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی کہ اے اللہ کے رسول! وہ تو ایک دیناریا ایک درہم چھوڑ کر فوت ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9820]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1155»
وضاحت: فوائد: … جہاں میراث کے قوانین مقرر ہیں، وہاں قریب الموت آدمی کے لیےیہ حد بندی بھی کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے مال کے ایک تہائی حصہ سے زیادہ وصیت نہیں کر سکتا ہے، اگر وہ اس مقدار سے زیادہ وصیت کرتا ہے تو اسے ردّ کر دیا جائے گا اور مال اس کے ورثا ء میں تقسیم کیا جائے گا، نیز شریعت کی روشنی میں کسی کو یہ حق بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی وارث کے حق میں وصیت کرے۔
تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہوا؟ جواباً شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کے بارے میں
دو تین دیناروں کی وجہ سے اتنی سخت وعید بیان فرمائی ہے، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس وعید کا بیچ میںکوئی اور سبب ہو گا، اس کا اظہار صرف دیناروں کی بنا پر نہیں کیا گیا، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ میت مال کی اتنی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے آگ کا حقدار نہیں ٹھہرتا ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترکہ چھوڑ جانے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا: اگر تو (اپنے ترکہ کے ذریعے) اپنے وارثوں کو غنی کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس حال میں چھوڑ جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلاتے پھریں۔ (بخاری، مسلم)
اسی طرح جب نجدی نے زکوۃ کا مسئلہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: کیا زکوۃ کے علاوہ بھی میرے مال میںکوئی حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ہاں اگر تم نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہو (تو کر سکتے ہو)۔ (بخاری، مسلم) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مالدار زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اسی حالت میں اس کو موت بھی آسکتی ہے۔
اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں جو زندگی میں مال و دولت جمع کرنے اور صاحب ِ مال کے فوت ہونے کے بعد اس کو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینے پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے: بَابُ مَنْ اَدَّیٰ زَکَاتَہٗفَلَیْسَ بِکَنْزٍ؛ لِقَوْلِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ …)) … زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال وہ خزانہ نہیں رہتا (جس کی مذمت کی گئی ہے) کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلہ پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی …
اس بحث کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ اِس آدمی نے مال سے متعلقہ حقوق کی ادائیگی صحیح طور پر نہ کی ہو، مثلا اہل و عیال پر خرچ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو لباس پہنانا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی مال کے باوجود فقر و فاقے کا اظہار کرتا ہو، جیسا کہ علقمہ مزنی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ، مسجد میں رات گزارتے تھے، ان میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا ازار کھولا گیا تواس میں سے دو دینار نکلے، جن کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو داغ ہیں۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/ ۴۲۱/ ۱۶۴۹)
اور اس احتمال کا بھی امکان ہے کہ یہ شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ (صحیحہ: ۳۴۸۳)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال سے متعلقہ تمام حقوق ادا کرے اور حلال ذرائع سے مال جمع کرے، وگرنہ وہ اس وعید کا مستحق قرار پائے گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دینار میں ساڑھے چار ماشے سونا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9821
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ وَاعْدُدْ نَفْسَكَ فِي الْمَوْتَى
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے جسم کے ایک حصے کو پکڑا اور فرمایا: اے عبدا للہ! دنیا میں ایسے ہو جا، جیسے تو اجنبی یا مسافر ہے اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9821]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 2333، وابن ماجه: 4114، وقوله كن في الدنيا كأنك غيريب او عابر سبيل أخرجه البخاري: 4616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4764»
وضاحت: فوائد: … ذہن نشین رہے کہ یہ مثال اس دور میں پیش کی گئی جب سفر کرنے کا سب سے بڑا سبب اونٹ، گھوڑے، خچر اور گدھے تھے، یہ سواریاں دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مہینوں کی مسافتیں پیدل طے کرنا پڑتی تھیں۔ بحری سفر کرنے والے کشتیاںیا پانی میں نہ ڈوبنے والی کوئی چیز استعمال کیا کرتے تھے۔ دور دور کے سفروں میں سرائے اور ہوٹلوں کی سہولتیں دستیاب نہ تھیںیا بہت کم تھیں۔ مسافروں کو بعض سفروں میںپینے کا پانی بھی اپنے ہمراہ اٹھانا پڑتا تھا۔ پڑاؤ کے دوران چٹانوں، ریت اور مٹی پر سونا پڑتا تھا۔ پگڈنڈیوں، صحراؤں اور کچی سڑکوں پر مشتمل راستے ہوتے تھے، بلکہ بسا اوقات مسافروں کو راستہ بھی خود ایجاد کرنا پڑتاتھا۔ یہ انداز سفر اور طرزِ حیات عہدِ قدیم سے اس سائنسی دور، جس کی ابتدا تقریباً دو صدیاں پہلے ہوئی، تک جاری رہا۔ احادیث ِ مبارکہ کی روشنی میں مستقبل میں جس دور کی پیشین گوئی کیگئی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ بالآخر یہ جدید دور ختم ہو جائے اور از سرِ نو پرانے والا دیسی زمانہ شروع ہو جائے گا۔
ممکن ہے کہ موجودہ ترقییافتہ دور میں ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں اور عمدہ لائنوں اور شاہراہوں پر ریل گاڑیوں، بسوں اور موٹر کاروں کے ذریعے سفر کرنے والے اور دورانِ سفر جگہ جگہ پر عمدہ ریسٹورینٹ، سرائے اور ہوٹلیں پانے والے اس مثال کی دقت اور مقصود کو نہ سمجھ پائیں۔ اگرچہ آج بھی مسافر تھوڑا سا سازو سامان اور معمولی نقدی کے ہمراہ سفر کرنے کا قائل ہے، ہر کوئی اپنے شہر تک پہنچنے کے لیے جلدی کرتا ہے، ایک سیٹ پر بیٹھنے والے مسافر ایک دوسرے سے مانوس نہیں ہوتے، ہر مسافر دوسرے ہر فرد سے خوف اور وحشت محسوس کرتا ہے، ہر کسی کو ڈاکوؤں، چوروں اور حادثات کا خطرہ ستائے رکھتا ہے اور انہی وجوہات کی بنا پر دورانِ سفر اچھے اور صاف ستھرے لباس، وضع قطع اور میک اپ وغیرہ کرنے پر وہ توجہ نہیں دی جاتی، جس کا اہتمام حضر میں کیا جاتا ہے، بلکہ بعض خواتین و حضرات کو دیکھا گیا ہے کہ وہ سفر کے دوران حال و بے حال اور اپنے آپ سے تنگ ہوتے ہیں، لیکن جونہی ان کی منزل قریب آ رہی ہوتی ہے، وہ اپنے لباس اور جسم کو سنوارنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں یہی نقطہ سمجھایا گیا کہ کسی مسافر کا دل سفر میں، وہ جیسا بھی ہو، نہیں لگتا، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی پوری زندگی کو ایک دنیا کا ایک سفر سمجھیں اور اس سفر میں دل نہ لگائیں اور اس کو قرآن و حدیث کی ہدایات کے مطابق عبور کر کے اپنے اصلی وطن جنت تک پہنچنے کی کوشش کریں۔
حافظ ابن حجرl نے کہا: اَوْ بمعنی بَلْ ہے، یعنی: دنیا میں اس طرح ہو جاؤ کہ گویا کہ تم اجنبی ہو، بلکہ مسافر ہو۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عابد و زاہد کو پہلے اس اجنبی اور پردیسی سے تشبیہ دی، جس کی کوئی جائے پناہ اور گھر نہیں ہوتا، پھر بات کو آگے بڑھایا اور مسافر سے تشبیہ دی، کیونکہ بسا اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ اجنبی آدمی کو پر دیس میں رہائش کے لیے کوئی نہ کوئی گھر مل ہی جاتا ہے، لیکن جس مسافر نے دور دراز علاقوں کا سفر طے کرنا ہو، جبکہ اس کے راستے میں ہلاکت گاہ وادیاں، بے آب و گیاہ مہلِک صحرا اور ڈاکو اور چور بھی ہوں، تو اس کی صورتحال یہ ہو گی کہ وہ دورانِ سفر کہیں بھی لمحہ بھر کے لیے قیام نہیں کرے گا، اسی لیے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہا کرتے تھے: اگر شام ہو جائے تو صبح کی انتظار نہ کیا کر اور اگر صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کیا کر اور بیماری کے لیے اپنی صحت میں سے اور موت کے لیے اپنی زندگی میں سے کچھ لے لے۔ نیز وہ یہ بھی کہا کرتے تھے: اپنے آپ کو قبرستان والے مردوں میں شمار کر۔
معنییہ ہوا: اے مسافر! چلتا رہ اور سست نہ پڑ، اگر تو نے سستی کی توراستے میں ہی رہ جائے گا، مہلک وادیوں میں ہلاک ہو جائے گا (اور اپنی منزل مقصود تک نہ پہنچ پائے گا)۔
ابن بطال نے کہا: اجنبی اور پردیسی آدمی دوسرے لوگوں سے بے تکلفی اختیار نہیں کرتا، بلکہ وہ ان سے وحشت زدہ ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو کم تر اور خوفزدہ محسوس کرتا ہے۔ مشکل ہی ہے کہ دورانِ سفر اسے کوئی ایسا آدمی مل جائے، جس سے وہ مانوس ہو جائے۔ یہی معاملہ مسافر کا ہے کہ وہ اپنی قوت و طاقت کے مطابق سفر پر روانہ ہوتا ہے، اپنے ساتھ کم سے کم وزن والا سامان لے کر جاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس اتنا زادِ راہ اور سواری ہونی چاہیے کہ وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ (یہی معاملہ مومن کا ہے کہ وہ دنیا میں زیادہ بے تکلفی اختیار نہ کرے، اس سے زیادہ مانوس نہ ہو، اس کے پاس اتنا زادِ راہ اور سامانِ دنیا ہونا چاہیے کہ کسی کے سامنے دست ِ سوال پھیلائے بغیر دنیا کے ایام بیت جائیں)۔
اس مثال سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنی چاہیے اور گزر بھر، ضرورت بھر اور بقدر کفاف چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جس طرح مسافر کوصرف اتنے ساز و سامان اور زادِ راہ کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس سے اس کا سفر طے ہو جائے اور وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے، اسی طرح مومن کو اتنے دنیوی سازو سامان کا اہتمام کرنا چاہیے کہ اس کی دنیا کا سفر طے ہو جائے۔
دوسرے شارحین نے کہا: یہ حدیث دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے، اس کو حقیر سمجھنے اور اس میں ضرورت بھر اسبابِ زندگی پر قناعت کرنے کی بنیاد ہے۔ امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ دنیا کی طرف جھکاؤ اختیار نہ کرو، اس کو اپنا (مستقل) وطن نہ سمجھو، اس میںاپنی بقا کے بارے میں مت سوچو اور اس سے اتنا تعلق رکھو، جتنا کہ کسی دوسرے وطن میں پردیسی آدمی کا ہوتا ہے۔
بعض نے کہا: مسافر اپنے وطن تک پہنچنے کے لیے راستے پر چل رہا ہوتا ہے۔ دنیا میں بندہ بھی اس آدمی کی طرح ہے، جس کو اس کے آقا نے کسی حاجت کے لیے دوسرے وطن میں بھیجا ہو، اس کی صورتحال یہ ہوتی ہے کہ وہ حاجت پوری کر کے اپنے وطن کی طرف لوٹنے میں جلدی کرتا ہے اور کسی دوسری غیر متعلقہ چیز میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا، (یہی معاملہ مومن کا ہے کہ اس کے آقا یعنی ربّ تعالیٰ نے اسے دنیا میں توشۂ آخرت کی تیاری کے لیے بھیجا، اسے چاہیے کہ اپنی زندگی کے دورانیے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال ذخیرہ کرے اور پھر یہاں سے روانہ ہو کر اپنے آقا کے پاس پہنچ جائے)۔
کسی نے کہا: اس حدیث کا مرادی معنییہ ہے کہ جس طرح پردیسی آدمی غیر وطن میں عارضی سکونت اختیار کرتا ہے،اپنے مقصد کی تکمیل کی کوشش میں رہتا ہے اور اس کا دل اپنے وطن کے ساتھ معلّق رہتا ہے اور واپس جانے کی سوچتا رہتا ہے۔ یہی معاملہ مومن کا ہے کہ وہ دنیا میں آخرت کی ضروریات پوری کرنے اور اپنے اصل وطن (جنت) کی طرف لوٹ جانے کی سوچ میں رہے۔ یا جس طرح مسافر کسی سرائے میں مستقل سکونت اختیار نہیں کرتا، بلکہ اپنے شہر پہنچنے کے لیے سفر جاری رکھتا ہے، اسی طرح مومن دنیا میں اپنے وطن جنت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اعمال صالحہ کا سفر جاری رکھتا ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۲۸۱) اللہ تعالیٰ شارحین احادیث ِ نبویہ کی مساعی ٔ جمیلہ قبول فرمائے اور ان پر رحمت نازل فرمائے۔ (آمین)

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9822
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَأَصَابَهُ مِنْ سَهْمِهِ دِينَارَانِ فَأَخَذَهُمَا الْأَعْرَابِيُّ فَجَعَلَهُمَا فِي عَبَاءَتِهِ وَخَيَّطَ عَلَيْهِمَا وَلَفَّ عَلَيْهِمَا فَمَاتَ الْأَعْرَابِيُّ فَوَجَدُوا الدِّينَارَيْنِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَيَّتَانِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو نے غزوۂ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں جہاد کیا، جب اس کو اپنے حصے کے دو دینار ملے تو اس نے ان کو اپنی چادر میں رکھا اور سلائی کر کے لپیٹ دیا اور پھر وہ بدّو فوت ہو گیا، جب لوگوں کو اس کے دینار ملے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9822]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، والاحاديث في ھذا المعني ثابتة،منھا الحديث الآتي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8663»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9823
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَسْوَدُ فَمَاتَ فَأُوذِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْظُرُوا هَلْ تَرَكَ شَيْئًا فَقَالُوا تَرَكَ دِينَارَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيَّتَانِ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام غلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا اور پھر فوت ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں بتلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، کیا وہ کوئی چیز چھوڑ کر فوت ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی اس نے دو دینار چھوڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9823]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 372، وابويعلي: 4997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3843»
وضاحت: فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۹۸۲۰)

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بابُ مَا جَاءَ فِي الْأَجَلِ وَالْأَمَلِ
موت اور امید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9824
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَطَّ خَطًّا مُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ وَخُطُوطًا إِلَى جَنْبِ الْخَطِّ الَّذِي وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ وَخَطٌّ خَارِجٌ مِنَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا الْإِنْسَانُ الْخَطُّ الْأَوْسَطُ وَهَذِهِ الْخُطُوطُ الَّتِي جَنْبَهُ الْأَعْرَاضُ تَنْهَشُهُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ إِنْ أَخْطَأَ هَذَا أَصَابَهُ هَذَا وَالْخَطُّ الْمُرَبَّعُ الْأَجَلُ الْمُحِيطُ بِهِ وَالْخَطُّ الْخَارِجُ الْأَمَلُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکیریں لگا کر ایک مربع شکل بنائی، اس شکل کے درمیان میں ایک خط لگایا اور پھر اس کے ساتھ اور شکل کے اندر ہی کئی لکیریں لگائی اور ایک لکیر اس مربع کے باہر لگائی اور پھر فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درمیان میں لگی ہوئی یہ لکیر انسان ہے، اس کے ساتھ لگی ہوئییہ لکیریںبیماریاں ہیں، جو اس کو ہر مقام پر نوچنے کی کوشش کرتی ہیں، اگر ایک اپنے نشانے سے گھس جاتی ہے تو دوسری لگ جاتی ہے،یہ مربع شکل میں لگے ہوئے خطوط انسان کی موت ہے، جو اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس شکل سے باہر لگی ہوئی لکیر انسان کی امید ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9824]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3652»
وضاحت: فوائد: … آدمی کو قناعت پسند ہونا چاہیے، محنت مزدوری کے بعد جو مل جائے اس پر صابر اور شاکر رہے اور بیشک مزید کی کوشش کرے، دنیوی تعلیم حاصل کرے، اچھی نوکری کے لیے تگ و دو کرے، لیکن دینی تعلیمات اور اسلامی حدود کا پابند بن کر۔ ایسی حرص اور لالچ غالب نہ آجائے کہ بس دنیا کی بہتری ہی کی فکرکا ہو کر رہ جائے۔
دو تین مثالوں پر غور کریں: آج کل بچوں کی دنیوی تعلیم پر انتہائی توجہ دی جا رہی ہے اور اس سے متعلقہ تمام تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں، لیکن دین کے معاملے میں انتہائی غفلت برتی جا رہی ہے اور اس کا ایک تقاضا بھی پورا نہیں کیا جا رہا، مسلمان بچے کا والدین پر عائد ہونے والا سب سے بڑا فرض نماز کی تعلیم دینا ہے، لیکن افسوس کہ تمام والدین نہ صرف اس فرض کی ادائیگی سے غافل ہیں، بلکہ سرے سے ان کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ کاروبار میں عملی طور پر اضافہ کرتے ہیں، کوٹھیاں بنا رہے ہیں، گاڑیاں خرید رہے ہیں، لیکن جب ان سے حج اور عمرے جیسی ذمہ داری کی بات کی جاتی ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں جی ہم پر بڑی ذمہ داریاں ہیں، بچوں کی شادیاں کرنی ہیں، فلاں بھتیجا، فلاں بھانجی کا خرچ بھی ہمارے ذمے ہے۔ ایسے والدین اور کاروباری،یہ سب شریعت کے چور ہیں۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ دین اور دنیا دونوںکے بارے میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرے، وہ کمائی کرے، لیکن
آمدنی کے تقاضوں کو بھی ذہن نشین رکھے، اپنی اولاد کے لیے دنیوی تعلیم کی کوشش کرے، لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اولاد کے بارے میں دین کی فکر نہ کی جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6417
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9825
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ غَرْزًا ثُمَّ غَرَزَ إِلَى جَنْبِهِ آخَرَ ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ فَأَبْعَدَهُ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا الْإِنْسَانُ وَهَذَا أَجَلُهُ وَهَذَا أَمَلُهُ يَتَعَاطَى الْأَمَلَ يَخْتَلِجُهُ الْأَجَلُ دُونَ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سامنے ایک چیز گاڑی، پھر اس کے پہلو میں ایک دوسری چیز گاڑ دی اور اس سے ذرا دو ر کر کے تیسری چیز گاڑ دی اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ انسان ہے، اس کے ساتھ گڑی ہوئی یہ چیز اس کی موت ہے اور وہ دور گڑی ہوئی اس کی امید ہے، ابھی تک وہ اپنی امید کے درپے ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہی موت اس کو اچک لیتی ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9825]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11149»

الحكم على الحديث:
اسناده جيّد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9826
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَصَابَعَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى الْأَرْضِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ ثُمَّ رَفَعَهَا خَلْفَ ذَلِكَ قَلِيلًا وَقَالَ هَذَا أَجَلُهُ ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ أَمَامَهُ قَالَ وَثَمَّ أَمَلُهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں جمع کیں اور ان کو زمین پر رکھا اور فرمایا: یہ ابن آدم ہے۔ پھر اپنی انگلیوں کو تھوڑا سا اٹھایا اور فرمایا: یہ اس کی موت ہے۔ اور پھر اپنے ہاتھ کو اپنے سامنے پھینک کر فرمایا: اور یہاں اس کی امیدیں ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9826]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12263»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6418
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9827
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَامِلَهُ فَنَكَتَهُنَّ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَقَالَ بِيَدِهِ خَلْفَ ذَلِكَ وَقَالَ هَذَا أَجَلُهُ قَالَ وَأَوْمَأَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ وَثَمَّ أَمَلُهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پوروں کو جمع کیا اور ان سے زمین میں کریدا اور فرمایا: یہ ابن آدم ہے۔ پھر اس سے ذرا پیچھے ہاتھ رکھا اور فرمایا: یہ اس کی موت ہے۔ پھر اپنے سامنے اشارہ کیا اور فرمایا: اور وہاں تک اس کی امیدیں ہیں۔ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9827]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12414»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12414
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9828
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ ثَلَاثَ حَصَيَاتٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً ثُمَّ وَضَعَ أُخْرَى بَيْنَ يَدَيْهِ وَرَمَى بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ وَذَلِكَ أَمَلُهُ الَّتِي رَمَى بِهَا
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین کنکریاں لیں، ان میں ایک کو نیچے رکھا، دوسری کو اپنے سامنے رکھا اور تیسری کو پھینک دیا اور پھر فرمایا: یہ ابن آدم ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ اس کی موت پڑی ہوئی ہے اور جس کنکری کو پھینک دیا گیا ہے، وہ اس کی امیدیں ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9828]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13831»
وضاحت: فوائد: … خلاصۂ کلام یہ ہے کہ آدمی جس وقت سے گزر رہا ہے، اس کے جائز تقاضوں کے مطابق کوشش کرے اور محنت جاری رکھے اور اسلامی تعلیمات کے تقاضے متاثر نہ ہونے دے، وگرنہ برکت اٹھ جائے گی۔
ذہن نشین کر لیں کہ مسلمان کا اصل سرمایہ دین ہے، مال و دولت اور حکومت و مملکت تو کافروں کو بھی مل جاتے ہیں، ہاں ہاں مسلم مملکت بلکہ خلافت کا قیام ضروری ہے، فوج، پولیس، سائنسدان، انجینیئر، ڈاکٹر، فیکٹریاں، صنعتیں، تعلیمی ادارے، وغیرہ وغیرہ … عصر حاضر کے مطابق ان سب چیزوں کا اہتمام ضروری ہے، لیکنیہ سب امور وقت کی ضرورت کے مطابق ہیں، اصل سرمایہ دین ہے، باقی سب فروعات ہیں، مجبوری میں فروعات کے بغیر گزارہ ممکن ہے، اصل کے بغیرگزارہ نہیں ہو سکتا ہے، وگرنہ دائمی زندگی کا خسارہ لازم آئے گا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13831
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَاب مَا جَاءَ فِي أَعْمَارِ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9829
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم سے پہلے والے لوگوں کی عمروں کو دیکھا جائے تو تمہاری عمر نمازِ عصر سے غروب آفتاب تک ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9829]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري مطولا: 5021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5911»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري مطولا: 5021
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں