🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَالْحَادِمِ وَسَيِّدِهِ
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9850
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ وَمَنْ خَبَّبَ عَلَى امْرِئٍ زَوْجَتَهُ أَوْ مَمْلُوكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا) )
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے امانت کی قسم اٹھائی، وہ ہم میں سے نہیں ہے، اسی طرح جس نے کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف اور کسی غلام کواس کے آقا کے خلاف بھڑکایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9850]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23368»
وضاحت: فوائد: … امانت کے مختلف معانی ہیں، جیسے اطاعت، عبادت، امان، اعتماد وغیرہ۔ بندے کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی قسم اٹھائے، امانت تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ مَوَاقِعِ الشُّبُهِ وَمَوَاطِنِ الرِّيْبَةِ
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9851
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ إِذَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْغَيْتُ وَتَقَرَّبْتُ وَخَشِيتُ أَنْ لَا أَسْمَعَ أَحَدًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حَلَالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ مَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكَ وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي الْأَرْضِ مَعَاصِيهِ أَوْ قَالَ مَحَارِمُهُ
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، امام شعبی کہتے ہیں: جب میں ان کو یہ کہتے ہوئے سنتا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تو میں اپنا کان لگاتا اور قریب ہو جاتااور ڈرتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کسی اور سے یہ الفاظ نہ سن سکوں کہ وہ کہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، البتہ ان کے بیچ میں مشتبہ امور ضرور ہیں، جس نے گناہ سے بچنے کے لیے مشتبہ چیز کو چھوڑ دیا، تو وہ واضح ہونے والے گناہ کو زیادہ چھوڑنے والا ہو گا اور جس نے مشکوک چیز پر جرأت کر دی تو قریب ہے کہ وہ حرام میں پڑ جائے، بیشک ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ جگہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ جگہ اس کی نافرمانیاں یا حرام کردہ امور ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9851]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2051، ومسلم: 1599، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18574»
وضاحت: فوائد: … قرآن و حدیث کی روشنی میں حلال اور حرام امور بالکل واضح ہیں، البتہ بیچ میں کچھ ایسے امور ہیں کہ واضح طور پر جن کی حلت یا حرمت کا فیصلہ نہیں کیا سکتاہے، ان ہی کو مشتبہ امور کہتے ہیں، اس حدیث مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان امور سے بھی اجتناب کیا جائے، تاکہ آدمی حرام کاموں سے مکمل طور پر محفوظ رہے، جو آدمی ان شبہات سے بچے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر پائے گا اور جو ان کو جائز سمجھ لے گا، وہ نادم ہو گا اور فضائل سے محروم رہے گا۔
دیکھیں حدیث نمبر (۶۲۰۴)، درج ذیل حدیث میں ایک مشتبہ چیز کا بیان ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں پڑی ہوئی کھجور کے بارے میں فرمایا: اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو سکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔ (صحیح بخاری: ۲۰۵۵)
حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے سے (جو صحیح بخاری وغیرہ میں موجود ہے۔ البتہ اس جگہ وہ حصہ درج نہیں ہوا) معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی اصلاح کا دارومدار دل پر ہے، لہٰذا دل کو پر خلوص رکھا جائے اور اصلاح کی کوشش کی جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2051
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9852
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ فَقَالَ يَا فُلَانَةُ يُعْلِمُهُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَظُنُّ بِي فَقَالَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكَ الشَّيْطَانُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی آپ کے پاس کھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو آواز دی: اے فلاں، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ یہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہے، اس نے آگے سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میرے بارے میں کوئی بدگمانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مجھے یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تیرے اندر گھس جائے (اور کوئی وسوسہ پیدا کر دے)۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9852]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مسلم: 2174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12287»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9853
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ يَا فُلَانُ هَذِهِ امْرَأَتِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! یہ میری بیوی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی کے بارے میں تو گمان ہو سکتا ہے، لیکن آپ کے بارے میں تو میں کسی بد گمانی میں مبتلا نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9853]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12620»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اتنی طاقت دی ہے کہ وہ انسان کے اندر خون کے چلنے کے مقامات میں گردش کر سکتا ہے، یا اس سے مراد یہ ہے کہ شیطان بہت تیزی سے انسان کو وسوسہ میں ڈالنے میںکامیاب ہو جاتا ہے، بہرحال شیطان انسان کے اندر گھس کر اس کووسوسوں میں مبتلا کرتا ہے اور نافرمانی پر آمادہ کرتا ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12620
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9854
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي يَقْلِبُنِي وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ فَقَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا أَوْ قَالَ شَيْئًا
۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کی حالت میں تھے، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آئی، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باتیں کیں اور جب اٹھ کر جانے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مجھے واپس چھوڑ کر آنے کے لیے کھڑے ہو گئے، میرا گھر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس تھا، ہمارے پاس سے دو انصاریوں کا گزر ہوا، جب انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو انھوں نے جلدی سے آگے سے گزرنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو کہ میری اپنی بیوی ہے)۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ وہ تمہارے دل میں کوئی شرّ والی بات ڈال دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9854]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3281، ومسلم: 2175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27400»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں بہت بڑا سبق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اپنی ذات کے بارے میں سوئے ظن کرنے سے محفوظ رکھا ہے، یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے ساتھ شفقت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مصلحتوں اور ان کے قلوب و جوارح کی سلامتی کا لحاظ رکھا ہے، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گزرنے والے یہ دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کوئی نازیبا بات کر دیں اور پھر ہلاکت ان کا مقدر بن جائے۔
اہل علم کا اجماع ہے کہ انبیائے کرام کے بارے میں سوئے ظن رکھنا کفر ہے۔
ان احادیث سے سبق یہ ملتا ہے کہ مسلمان کو تہمت گاہ اور شک و شبہ والے مقام سے دور رہنا چاہیے، تاکہ کسی کو اس کے بارے میں سوئے ظن رکھنے کا موقع نہ ملے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3281
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ تَرِكِ الْعَمَلِ إِنَّكَالًا عَلَى النَّسَبِ
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9855
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ يَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فاطمہ! اے بنت ِ محمد! اے صفیہ بنت عبد المطلب! اے بنو عبد المطلب! میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ہاں میرے مال سے جو چاہتے ہو سوال کر لو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9855]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25558»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 205
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9856
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي هَاشِمٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا أُمَّ الزُّبَيْرِ عَمَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا سَلَانِي مِنْ مَالِي
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد المطلب! اے بنی ہاشم! اپنے نفسوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں گا، اے نبی کی پھوپھی ام زبیر! اے فاطمہ بنت محمد! اپنے نفسوں کو خرید لو، میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں بن سکتا، البتہ میرے مال سے سوال کر سکتی ہو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9856]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3527، ومسلم: 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9177 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9166»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ آخرت میں نجات پانے کے معاملے میں کسی کو اس کے نسب سے فائدہ نہیں ہو گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3527
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9857
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُونَ إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ قَوْمَهُ بَلَى وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَإِذَا جِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فُلَانٌ وَقَالَ أَخُوهُ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَالَ لَهُمْ أَمَّا النَّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُهُ وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي وَارْتَدَدْتُمُ الْقَهْقَرَى
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رشتہ داری آپ کی قوم کو کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ کیوں نہیں، اللہ کی قسم ہے، میری رشتہ داری دنیا و آخرت میں ملی ہوئی ہو گی، لوگو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، پس جب تم وہاں آؤ گے۔ اتنے میں ایک آدمی کہے گا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں ہوں، اور اس کا بھائی کہے گا: میں فلاں بن فلاں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں: نسب کو تو میں نے پہچان لیا ہے، لیکن تم نے میرے بعد نئے امور ایجاد کر لیے اور پچھلے پاؤں پلٹ گئے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9857]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 1238، والطيالسي: 2221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11138 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11155»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُّ سَبَبٍ مُنْقَطِعٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، إِلَّا سَبَبِیْ وَنَسَبِیْ۔)) قیامت کے روز ہر رشتہ (اور تعلق و قرابت) منقطع ہو جائے گا، سوائے میرے ازدواجی اور نسبی رشتے کے۔ یہ حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر سے مروی ہے۔ (معجم کبیر للطبرانی: ۳/ ۱۲۹/ ۱ من حدیث ابن عباس، تفصیل کے لیے دیکھئے: صحیحہ:۲۰۳۶)
شرح: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جو حدیث مروی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: ((کُلُّ نَسَبٍ وَ صِھْرٍ مُنْقَطع یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا نسَبی و صِھْری۔)) (ابن عساکر: ۱۹/ ۶۰/ ۲، وھذا اسناد ضعیف جدا) … ہر نسبی اور ازدواجی رشتہ منقطع ہو جائے گا، سوائے میرے نسبی اور ازدواجی رشتے کے۔
درج ذیل تفصیل سے اس حدیث کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے:
عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف ان کی بیٹی سے، جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھی، سے شادی کرنے کا بار بار پیغام بھیجا۔ ایک دن انھوں نے خود کہا: اے ابو الحسن! آپ کی طرف کثرت سے پیغام بھیجنے کی وجہ وہ حدیث ہے، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کلُّ سَبَبٍ وَ نَسَبٍ مُنْقَطِعٌ یَوْمَ الْقِیامَۃِ، اِلَّا سَبَبِیْ وَنَسَبِیْ۔)) … قیامت کے روز ہر رشتہ (اور تعلق و قرابت) منقطع ہو جائے گا، سوائے میرے ازدواجی اور نسبی رشتے کے۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ اہل بیت لوگوں کے ساتھ میری ازدواجی قرابت ہونی چاہیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ چلے گئے اور اپنی اس بیٹی کو میک اپ کرنے کا حکم دیا اور پھر اس کو امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا۔ جب انھوں نے اس کو دیکھا تو اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کی پنڈلی کو پکڑا اور کہا: اپنے باپ سے کہہ دینا کہ میں راضی ہوں، میں راضی ہوں، میں راضی ہوں۔ جب وہ بچی اپنے باپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تو انھوں نے پوچھا: امیر المومنین نے تجھے کیا کہا؟ اس نے کہا: انھوں نے مجھے بلایا اور قبول کیا، جب میں کھڑی ہوئی تو انھوں نے میری پنڈلی کو پکڑا اور کہا: اپنے ابو سے کہہ دینا کہ میں راضی ہوں۔ پھر انھوں نے ان سے اس کا نکاح کر دیا، اس کے بطن سے زید بن عمر پیدا ہوا، وہ نوجوانی تک زندہ رہے، پھر فوت ہو گئے۔ (اخرجہ ابوبکر الشافعی فی الفوائد: ۷۳/ ۲۵۷/ ۱، وابن عدی: ۶/ ۲، والخطیب فی التاریخ: ۶/ ۱۸۲)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں آل رسول کییہ عزت تھی، آگے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی تمنا پوری کرتے ہوئے ان کا احترام بجا لانے کی حد کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہستیوں کے لیے {رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ} کے لقب کا کیا خوب انتخاب کیا۔
اس بحث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب کا اعزاز روزِ قیامت بھی باقی رہے گا، باقی کسی کی قومیت اور برادری کو کوئی شرف حاصل نہیں ہو گا، بہرحال نجات کا انحصار اعمالِ صالحہ پر ہو گا۔
اس فرق کو ایک مثال کے ذریعے سمجھنا آسان ہو جائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اپنے عہد میں بعض قبیلوں کو دوسری بعض برادریوں پر فضیلت والا قرار دیتے تھے اور اس بنا پر ان کے ساتھ معاملات طے کرنے میں فرق بھی کرتے تھے، یہ دراصل ان بعض قبیلوں کا اعزاز تھا، لیکن کسی قبیلےوالے کے جرم اور نیکی کے سلسلے میں اس قانون کی رعایت نہیں کی گئی،یہاں تک کہ بنو مخزوم کی خاتون کا چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹ دیا گیا۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں