الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَاب مَا جَاءَ فِي أَعْمَارِ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
حدیث نمبر: 9830
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالشَّمْسُ عَلَى قُعَيْقِعَانَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا مَضَى مِنْهُ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، جبکہ سورج عصر کے بعد قعیقعان پہاڑ پر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے گزر جانے والے لوگوں کی عمروں کی بہ نسبت تمہاری عمر اتنی ہے، جتنا دن کا حصہ باقی ہے، گزر جانے والے حصے کی بہ نسبت۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9830]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5966»
وضاحت: فوائد: … پہلی امتوں کے افراد طویل طویل عمریں پاتے تھے، نوح علیہ السلام کی تبلیغ کا عرصہ (۹۵۰) برس ہے۔ ان کی بہ نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لوگوں کی عمریں کم ہیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَعْمَارُ أُمَّتِيْ مَابَیْنَ السِّتِّیْنَ إِلَی السَّبْعِیْنَ، وَأَقَلُّھُمْ مَنْ یَّجُوْزُ ذٰلِکَ۔)) … فرمایا: میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہیں، کم ہی لوگ ایسے ہیں جو اس حد سے تجاوز کرتے ہیں۔
(ترمذی: ۲/۲۷۲، ابن ماجہ: ۴۲۳۶)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے زیادہ تر افراد کی عمریںیہی رہی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود (۶۳) برس کی عمر میں دنیائے فانی سے روانہ ہو گئے تھے، بہت کم شخصیات نے ان عمروں سے تجاوز کیا ہے،مثلا صحابۂ کرام میں سیدہ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے (۱۰۰) سال، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (۱۰۳) سال، سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے (۱۲۰) سال اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے (۲۵۰) سال عمر پائی۔
اب بھی اس طرح کی لمبی عمر پانے والے افراد بہت کم ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو کم عمری کا یہ صلہ دیا ہے کہ ان کو ایسی عبادات عطا کر دی ہیں، جن کے ذریعے مختصر مدت میں بلند درجات حاصل کیے جا سکتے ہیں، درج ذیل دو مثالوں پر غور کریں:
(۱)سیدنا اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَغَسَّلَ وَبَکَّرَ وَابْتَکَرَ وَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ کَانَ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍیَخْطُوہَا أَجْرُ سَنَۃٍ صِیَامِہَا وَقِیَامِہَا۔)) … جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور (سر کو) اچھی طرح دھویا اور مسجد میں جلدی گیا، امام کا ابتدائی خطبہ پایا اور امام کے نزدیک ہو کر خطبہ سنا اور اس دوران خاموش رہا تو اس کو ہر ہر قدم پر ایک ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ملے گا۔ (ترمذی: ۴۵۶)
(۲) اللہ تعالیٰ نے سورۂ قدر میں شب ِ قدر کے قیام کو ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قراردیا، حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس سورت کے نزول کے بارے میں درج ذیل روایات پیش کی ہیں، ان روایات کو تحقیق کے بغیر پیش کیا گیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے: امام مجاہد کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میںیعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا، مسلمانوں کو یہ سن کر بڑا تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتار دی کہ ایک شب ِ قدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے، ابن جریر میں ہے: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں شام تک دشمنانِ دین سے جہاد کرتا تھا،ایک ہزار مہینے تک یہی عمل کرتا رہا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزارمہینے کی اس عبادت سے افضل ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا، جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی، ایک نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی تھی: ایوب، زکریا، حزقیل بن عجوز اور یوشع بن نونh، اس سے صحابۂ کرام کو بڑا تعجب ہوا، اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد!آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور کہا کہ یہ چیزاس سے افضل ہے جس پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا، پس محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ بیحد خوش ہوئے، (یہ چیز شب ِ قدر تھی)، امام مجاہد کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزارمہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے، جن میں لیلۃ القدر نہ ہو اور مفسرین کا بھییہ قول ہے امام ابن جریر نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو، یہی ٹھیک ہے، اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں۔
(ترمذی: ۲/۲۷۲، ابن ماجہ: ۴۲۳۶)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے زیادہ تر افراد کی عمریںیہی رہی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود (۶۳) برس کی عمر میں دنیائے فانی سے روانہ ہو گئے تھے، بہت کم شخصیات نے ان عمروں سے تجاوز کیا ہے،مثلا صحابۂ کرام میں سیدہ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے (۱۰۰) سال، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (۱۰۳) سال، سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے (۱۲۰) سال اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے (۲۵۰) سال عمر پائی۔
اب بھی اس طرح کی لمبی عمر پانے والے افراد بہت کم ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو کم عمری کا یہ صلہ دیا ہے کہ ان کو ایسی عبادات عطا کر دی ہیں، جن کے ذریعے مختصر مدت میں بلند درجات حاصل کیے جا سکتے ہیں، درج ذیل دو مثالوں پر غور کریں:
(۱)سیدنا اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَغَسَّلَ وَبَکَّرَ وَابْتَکَرَ وَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ کَانَ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍیَخْطُوہَا أَجْرُ سَنَۃٍ صِیَامِہَا وَقِیَامِہَا۔)) … جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور (سر کو) اچھی طرح دھویا اور مسجد میں جلدی گیا، امام کا ابتدائی خطبہ پایا اور امام کے نزدیک ہو کر خطبہ سنا اور اس دوران خاموش رہا تو اس کو ہر ہر قدم پر ایک ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ملے گا۔ (ترمذی: ۴۵۶)
(۲) اللہ تعالیٰ نے سورۂ قدر میں شب ِ قدر کے قیام کو ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قراردیا، حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس سورت کے نزول کے بارے میں درج ذیل روایات پیش کی ہیں، ان روایات کو تحقیق کے بغیر پیش کیا گیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے: امام مجاہد کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میںیعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا، مسلمانوں کو یہ سن کر بڑا تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتار دی کہ ایک شب ِ قدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے، ابن جریر میں ہے: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں شام تک دشمنانِ دین سے جہاد کرتا تھا،ایک ہزار مہینے تک یہی عمل کرتا رہا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزارمہینے کی اس عبادت سے افضل ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا، جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی، ایک نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی تھی: ایوب، زکریا، حزقیل بن عجوز اور یوشع بن نونh، اس سے صحابۂ کرام کو بڑا تعجب ہوا، اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد!آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور کہا کہ یہ چیزاس سے افضل ہے جس پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا، پس محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ بیحد خوش ہوئے، (یہ چیز شب ِ قدر تھی)، امام مجاہد کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزارمہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے، جن میں لیلۃ القدر نہ ہو اور مفسرین کا بھییہ قول ہے امام ابن جریر نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو، یہی ٹھیک ہے، اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5966
حدیث نمبر: 9831
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى عَبْدٍ أَحْيَاهُ حَتَّى بَلَغَ سِتِّينَ أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا عذر ختم کر دیا، جس کو اتنی دیر تک زندہ رکھا کہ وہ ساٹھ یا ستر سال کی عمر کو پہنچ گیا، تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کا عذر ختم کر دیا ہے، بس اللہ تعالیٰ نے اس کا عذر ختم کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9831]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6419، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7699»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6419
حدیث نمبر: 9832
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ عَمَّرَ سِتِّينَ أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ یا ستر سال تک زندہ رکھا، پس اللہ تعالیٰ نے عمر کے سلسلے میں اس کا عذر ختم کر دیا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9832]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9240»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں ساٹھ ستر سال عمر پانے والے آدمی کو وعید سنائی گئی ہے کہ اسے اتنی لمبی عمر دی گئی کہ اس میں اخروی کامیابی کے اسباب جمع کیے جا سکتے تھے۔لیکن اس حدیث سے ساٹھ سال سے کم عمر والے اپنے حق میںکسی قسم کی گنجائش کا استدلال نہیں کر سکتے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9240
حدیث نمبر: 9833
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَا مِنْ مُعَمَّرٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِلَّا صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَاءِ الْجُنُونُ وَالْجُذَامُ وَالْبَرَصُ فَإِذَا بَلَغَ خَمْسِينَ سَنَةً لَيَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ فَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ فَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً أَحَبَّهُ اللَّهُ وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ فَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ قَبِلَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ وَتَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِ فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَسُمِّيَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ وَشُفِّعَ لِأَهْلِ بَيْتِهِ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اسلام کی چالیس سال عمر دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس سے تین قسم کی بیماریاں دور کر دیتا ہے، جنون، کوڑھ اور پھلبہری، جب آدمی پچاس سال تک پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر حساب کو آسان کر دیتا ہے، جب اس کی عمر ساٹھ برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی پسند کے مطابق اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق دیتا ہے، پھر جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور اہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، جب اس کی عمر اسی سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول کر لیتا ہے اور اس کی برائیوں سے تجاوز کر دیتا ہے، پھر جب اس کی عمر نوے برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کا یہ نام رکھ دیا ہے کہ فلاں آدمی زمین میں اللہ تعالیٰ کا قیدی ہے اور اس کے گھر والوں کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9833]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، فرج بن فضالة ضعيف، محمد بن عامر لم نعرف من ھو، محمد بن عبد الله ضعيف، أخرجه البزار: 3587، وابويعلي: 4246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5626»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الشُّحُ وَالْبُخْلِ
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9834
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لالچ سے بچو، بیشک اس لالچ نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کر دیا، اس نے ان کو قطع رحمی کا حکم دیا، پس انھوں نے قطع رحمی کی، اس نے ان کو بخیلی کا حکم دیا، پس انھوں نے بخیلی کی اور اس نے ان کو برائیوں پر اکسایا، پس انھوں نے برائیاں کیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9834]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 5176، والطيالسي: 2272، والبيھقي: 10/ 243، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6487»
وضاحت: فوائد: … کنجوسی، بخل اور حرص جیسے اوصاف انسان کے کمینہ ہونے کے لیے کافی ہیں، بخیل آدمی سنگ دل بن جاتا ہے، دوسروں کی خوشی و غمی سے مستغنی ہو جاتا ہے، اپنے روپے پیسے کو بچانے یا اس کو بڑھانے کے لیے وہ قتل و غارت گری جیسے اقدامات کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور شریعت میں گنجائشیں تلاش کر تے کرتے اللہ تعالیٰ کی حدود کو پھلانگنا شروع کر دیتا ہے۔ مال کی شدید محبت کو شُحّ کہتے ہیں۔ جب انسان کے دل میں دنیا اور دنیا کے مال و اسباب کی محبت حد سے تجاوز کر کے شدید ہو جائے تو ایسا انسان حرام اور حلال کے درمیان تمیز بھی نہیں کرتا اور دسرے انسانوں کا خون بہانے سے گریز بھی نہیں کرتا۔ جیسے آج کل ہمارے معاشرے کا حال ہے اور یہ حالت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس معاشرے کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ دیریا سویر ہلاکت سے دو چار ہو کر ہی رہے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9835
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لالچ اور ایمان، دونوں مسلمان آدمی کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9835]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه النسائي: 6/ 14، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7474»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ مومن کو ہر صورت میں بخل اور کنجوسی سے دور رہنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه وشواھده
حدیث نمبر: 9836
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ فَجَعَلَتْ تَقْضِي حَوَائِجَهُ قَالَ فَفَضَلَ مَعَهَا سَبْعَةٌ قَالَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِهَا فُلُوسًا قَالَ قُلْتُ لَهُ لَوِ ادَّخَرْتَهُ لِلْحَاجَةِ تَنُوبُكَ أَوْ لِلضَّيْفِ يَنْزِلُ بِكَ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوكِيَ عَلَيْهِ فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يُفْرِغَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ عبد اللہ بن صامت سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ان کا کوئی مال نکل آیا، ان کے ساتھ ان کی ایک لونڈی بھی تھی، اس نے ان کی ضروریات پوری کرنا شروع کیں، جب اس مال سے سات بچ گئے تو انھوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ وہ ان کے عوض قدیم سکے خرید لے، میں (عبد اللہ بن صامت) نے کہا: اگر تم ان کو پیش آنے والی ضرورت یا اپنے پاس آنے والے مہمان کے لیے ذخیرہ کر لو تو بہتر ہو گا۔ انھوں نے کہا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ جس سونے اور چاندی کو بند کر کے رکھ دیا جائے تو وہ اس مالک کے لیے انگارے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9836]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزارفي مسنده: 3926، والطبراني: 1634، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21712»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 9837
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ مِنْهَا إِلَّا اتَّسَعَتْ حَلْقَةٌ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا عَلَيْهِ وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَإِنَّهَا لَا تَزْدَادُ عَلَيْهِ إِلَّا اسْتِحْكَامًا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخل کرنے والے اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے کہ جن پر ان کے سینے والی جگہ سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک دو زرہیں ہوں، پس خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو اس کا حلقہ اپنی جگہ پر کھل جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ ساری کھلی ہو جاتی ہے اور رہا مسئلہ بخیل کا تو اس کی زرہ کی مضبوطی میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9837]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7477»
وضاحت: فوائد: … مفہوم یہ ہے کہ جب سخی آدمی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے سینے میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے ہاتھ اس کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں، لیکن جب بخیل کو خرچ کرنے کا خیال آتا ہے تو اس کا سینہ اور تنگ ہو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بند ہو جاتے ہیں اور وہ حیلے بہانے کر کے بزعم خود اپنا مال محفوظ کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9838
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا وَأَنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ( (بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ) ) قَالَ لَا قَالَ ( (فَهَبْهُ لِي) ) قَالَ لَا قَالَ ( (فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ) ) قَالَ لَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ) )
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرے باغ میں فلاں آدمی کا کھجور کا درخت ہے، پس تحقیق اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور اس کے درخت کی جگہ میرے لیے باعث ِ مشقت ثابت ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ فلاں آدمی کے باغ میں موجود اپنا کھجور کا درخت مجھے فروخت کر دے۔ لیکن اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے ہبہ کر دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جنت کے کھجور کے درخت کے عوض مجھے بیچ دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا، جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو، سوائے اس کے جو سلام کہنے میں بخل کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9838]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، دون قوله: ما رايت الذي بالسلام۔ فقد تفرد به عبد الله بن محمد بن عقيل وھو ضعيفيعتبر به، أخرجه الحاكم: 2/ 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14571»
وضاحت: فوائد: … رغبت کا تقاضا تو یہی تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ پیش کش قبول کر لی جاتی، بہرحال مزاج مختلف ہوتے ہیں اور مالک کو اختیار بھی ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 9839
عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ وَكَانَ مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ قَالَ أَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا فَأَخَذْتُ سُنْبُلًا فَفَرَكْتُهُ وَأَكَلْتُ مِنْهُ وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ( (مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ سَاغِبًا أَوْ جَائِعًا) ) فَرَدَّ عَلَيَّ الثَّوْبَ وَأَمَرَ لِي بِنِصْفِ وَسْقٍ أَوْ وَسْقٍ
۔ سیدنا عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ، جو بنو غبر میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، میں مدینہ میں آیا اور اس کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں داخل ہوا، ایک سٹّے کو ملا اور اس سے دانے نکالے۔ کچھ دانے کھا لیے اور کچھ کپڑے میں اٹھا لیے، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا۔ میں (شکایت لے کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا (اور ساری بات بتائی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (باغ کے اس مالک) سے فرمایا: وہ جاہل تھا تو نے اسے تعلیم نہیں دی اور وہ بھوکا تھا تو نے اسے کھلایا نہیں۔ تو اس نے میرا کپڑا مجھے لوٹا دیا اور مجھے ایک یا نصف وسق کھانے کا بھی دیا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9839]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2621، وابن ماجه: 2298، والنسائي: 8/ 240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17662»
وضاحت: فوائد: … شرعی قانون کے مطابق اس آدمی کا باغ سے دانے اٹھا کر لے جانا غلطی تھی، اس کے احکام مقرر ہیں، چونکہ یہ آدمی جاہل تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے معذور قرار دیا اور مالک کو معمولی سی سرزنش کر دی۔ صاع ایک پیمانے کا نام ہے، جو دو کلو سو گرام کے برابر ہوتا ہے اور ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح