🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُفْرَدَاتِ
مفردات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9958
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ فِي الدُّنْيَا
۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے برا کام کیا، اس کو دنیا میں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9958]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه الترمذي: 3039، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل حدیث سے اس حدیث کا مفہوم واضح ہو گا:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: لَمَّا نَزَلَ {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی
الْمُسْلِمِینَ، فَشَکَوْا ذٰلِکَ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَفِی کُلِّ مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ کَفَّارَۃٌ حَتَّی الشَّوْکَۃَیُشَاکُہَا أَوِ النَّکْبَۃَیُنْکَبُہَا۔)) … جب یہ آیت نازل ہوئی {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا کام کرے گا، اس کی سزا دیجائے گی۔) تو مسلمانوں پر شاق گزرا اورانہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام امور میں میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر ڈٹے رہو، مومن کی ہر آزمائش میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا چبھ جائے یا کوئی مشکل پیش آجائے۔
(جامع ترمذی: ۲۹۶۴)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9959
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اس طرح نہ کہے کہ خَبُثَتْ نَفْسِیْ، بلکہ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے لَقِسَتْ نَفْسِیْ کہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9959]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6179، ومسلم: 2250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24748»
وضاحت: فوائد: … خَبُثَتْْ اور لَقِسَتْ دونوں کے لغوی معانی ایک ہی ہیں، بظاہر انسان کے لیے اچھی بات نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خَبُثَتْْ کا لفظ استعمال کرے اور یہ آداب کا ایک طریقہ ہے کہ اچھے الفاظ استعمال کیے جائیں۔
ان دونوں الفاظ کے معانییہ ہیں: جی متلانا، جی بھاری ہونا، طبیعت سست ہونا،ردی اور خراب ہونا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندے کو مہذب الفاظ بیان کرنے چاہئیں، تاکہ مقصد بھی پورا ہو جائے اور تہذیب بھی برقرار رہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6179
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9960
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشُّؤْمُ سُوءُ الْخُلُقِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نحوست، بری عادات ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9960]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه انقطاع وضعف، حبيب بن عبيد الرحبي لم يسمع من عائشة، وابوبكر بن عبد الله ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25054»
وضاحت: فوائد: … یعنی بداخلاقی اور بری عادات کے اندر نحوست پائی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9961
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمُ إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی انگور کو کَرْم نہ کہے، کیونکہ کَرْم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9961]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8175»
وضاحت: فوائد: … عرب لوگ انگور کو اس وجہ سے کَرْم کہتے تھے، کیونکہ اس سے بنایا جانے والا شراب کَرَم یعنی سخاوت اور فیاضی پر ابھارتا تھا، جب شریعت نے شراب کو حرام کیا تو مدح والے اس نام سے بھی منع کر دیا، تاکہ نفسوں کا میلان اُدھر نہ ہو سکے اور اس خوبصورت نام کو مسلمان کے ساتھ خاص کر دیا۔
اس حدیث ِ مبارکہ کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو اپنی جگہ پر برقرار رکھا جائے {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} … بیشک تم میں سب سے زیادہ کرم اور عزت والا وہ ہے، جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمان کی جو صفت بیان کی ہے، وہ اس لائق ہے کہ اس میں کسی اور چیز کی مشارکت نہ ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2247
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بابُ مَا جَاءَ فِي الثَّنَانِيَّاتِ
دو دو امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9962
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سخت کنجوسی اور سخت بزدلی کسی آدمی میں پائی جانے والی بدترین صفات ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9962]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2511، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7997»
وضاحت: فوائد: … کنجوسی اور بزدلی، انسان کی کمینگی پر دلالت کرنے والی گھٹیا صفات ہیں، ایسی صفات دنیا چاہنے والوں کو دنیا میں بھی ذلیل کر دیتی ہیںاور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے محروم رہیں گے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9963
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى (وَفِي رِوَايَةٍ) مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں سرکشی کی جن شہوتوں کا سب سے زیادہ ڈر ہے، ان کا تعلق تمہارے پیٹوں، شرمگاہوں، گمراہ کرنے والی خواہشوں اور فتنوں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9963]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20011»
وضاحت: فوائد: … نفس کی خواہش کے مطابق دنیا کی لذتوں کے پیچھے پڑ جانا، نوع بنوع ماکولات اور قسما قسم کے مشروبات کو ہی زندگی کا مقصد سمجھ لینا، وہ حلال ہوں یا حرام اور شہوت کو پورا کرنے کے لیے زنا کرنا۔
اگر پوری دنیا کے مسلمانوں کا جائزہ لیا جائے توتقریبا تمام سرمایہ دار کھانے پینے کی لذتوں کے غلام ہو کر رہ گئے ہیں، ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے مہنگے ہوٹلوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، رات ایک دو دو بجے تک ہوٹلنگ ہوتی رہتی
ہے، کوئی شام کا کھانا کھانے کے لیے شہر سے بیس کلو میٹر دور جا رہا ہے، کوئی آئس کریم کا لطف اٹھانے کے لیے شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے کی طرف جا رہا ہے، بلکہ لوگوں کو دوسرے ممالک سے کھانے کی چیزیں منگواتے ہوئے پایا گیا ہے، ایک ایک دعوت کے موقع پر پانچ چھ چھ ڈشیں دکھائی دیتی ہیں، جس ہوٹل پر جائیںسینکڑوں کھانوں پر مشتمل مینیو سامنے رکھ دیا جاتا ہے، بیس پچیس منٹ تو یہ فیصلہ کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ کس کھانے کا انتخاب کیا جائے۔ غرضیکہ جس چیزکا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈر تھا، وہ اپنی انتہاء تک پہنچ گئی ہے۔
رہا مسئلہ زنا جیسی لعنت کا تو اسلام کا دعوی کرنے والوں کی خاصی تعداد اس کمینگی میں مبتلا ہو چکی ہے، بعض ممالک کا تو نام لے کر ذکر کیا جاتا ہے کہ اس کے اکثر وبیشتر باشندے بے حیا ہو چکے ہیں۔

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. فَصْلٌ مِنْهُ فِي الثَّنَانِيَّاتِ الْمَبْدُوءَ ةِ بِعَدَدٍ
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9964
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَانِ هُمَا بِالنَّاسِ كُفْرٌ نِيَاحَةٌ عَلَى الْمَيِّتِ وَطَعْنٌ فِي النَّسَبِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو چیزیں لوگوں میں پائی جاتی ہیں، جبکہ وہ کفر ہیں، میت پر نوحہ کرنا اور نسب میں طعن کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9964]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 67، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9688»
وضاحت: فوائد: … کفر سے مراد یہ ہے کہ ان افعال کا تعلق کافروں اور جاہلیت کے طور طریقوں سے ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 67
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9965
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَنْبَانِ مُعَجَّلَانِ لَا يُؤَخَّرَانِ الْبَغْيُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو گناہ ہیں، ان کی سزا جلدی دی جاتی ہے اور ان کے معاملے میں تاخیر نہیں کی جاتی، ایک سرکشی اور دوسرا قطع رحمی۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9965]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20651»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي الثَّلَاثِيَّاتِ
تین تین امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9966
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْتَقْبِلُوا وَلَا تُحَفِّلُوا وَلَا يَنْعِقْ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ نہ ہوا کرو، (دھوکہ دینے کے لیے جانوروں کا) دودھ نہ روکا کرو اور بکریوں کے چرواہوں کی طرح ایک دوسرے کو آواز نہ دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9966]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2313»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ سنجیدگی اور وقار کے ساتھ بولنا چاہیے، چیخنے اور اونچی اونچی آوازیں دینے سے بچنا چاہیے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۔} … اور اپنی چال میں میانہ روی رکھ اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ، بے شک سب آوازوں سے برییقینا گدھوں کی آواز ہے۔ (سورۂ لقمان: ۱۹)

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9967
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ قِيلَ لَهُ مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَيْهِ رَاغِبٌ عَنْهُمَا وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلَدِهِ وَرَجُلٌ أَنْعَمَ عَلَيْهِ قَوْمٌ فَكَفَرَ نِعْمَتَهُمْ وَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ
۔ سہل اپنے باپ سیدنا معاذبن انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے والدین سے براء ت اور بے رغبتی کا اظہار کرنے والا، اپنی اولاد سے بری ہونے والا اور وہ آدمی کہ بعض لوگوں نے اس پر انعام کیا، لیکن اس نے ان کی نعمت کی ناشکری کی اور ان سے براء ت کا اظہار کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9967]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف زبان بن فائد وسھل في رواية زبان عنه، ورشدين ايضا ضعيف، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15721»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں