🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي شِعْرِ لَبِيْدِ وَأُمَيَّةَ بْنِ أَبِى الصَّلْتِ
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9948
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَشْعَرُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الْعَرَبُ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر فرمایا: عربوں کا کہا ہوا سب سے عظیم شعر یہ ہے: اَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے)۔ قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9948]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبدالرحمن بن رافع التنوخي، قال البخاري: في حديثه مناكير، أخرجه ابوداود: 3869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9072»
وضاحت: فوائد: … باطل سے مراد فنا ہونے والی چیز ہے، یہ شعر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے: {کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ۔} … ہر ایک جو اس(زمین)پر ہے، فنا ہونے والا ہے۔اور تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا، جو بڑی شان اور عزت والا ہے۔ (سورۂ رحمن:۲۶، ۲۷)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9949
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاعر کا کہا ہوا سب سے سچا شعر یہ ہے: اَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9949]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9907»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9907
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9950
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَ أُمَيَّةَ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِهِ فَقَالَ رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْتٌ مُرْصَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ وَقَالَ وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کی تصدیق کی تھی، اس نے ایک شعر یہ کہا تھا: (حاملین عرش میں کوئی) مرد کی صورت پر ہے، کوئی بیل کی صورت پر ہے، اللہ تعالیٰ کی دائیں ٹانگ کے نیچے، تو کوئی گدھ کی صورت ہے اور کوئی گھات بیٹھے ہوئے شیر کی صورت پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امیہ نے سچ کہا ہے۔ ایک دفعہ اس نے یہ اشعار کہے تھے: اور ہر رات کے آخر میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس وقت وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی نظر آ رہا ہوتا ہے، وہ انکار کردیتا ہے اور نرمی کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا، وگرنہ اس کو عذاب دیا جاتا ہے اور کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9950]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن أخرجه الدارمي: 2703، وابويعلي: 2482، وابن خزيمة: 1/ 202، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2314»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9951
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْشَدَهُ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ فَأَنْشَدَهُ مِائَةَ قَافِيَةٍ قَالَ فَلَمْ أُنْشِدْهُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ إِيهْ إِيهْ حَتَّى إِذَا اسْتَفْرَغْتُ مِنْ مِائَةِ قَافِيَةٍ قَالَ كَادَ أَنْ يُسْلِمَ
۔ سیدنا شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امیہ بن ابی صلت کے اشعار پڑھیں، پس انھوں نے سو قافیے سنائے، جب بھی وہ ایک شعر مکمل کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اور پڑھو، اور پڑھو۔ یہاں تک کہ جب میں سو قافیوں سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ یہ شخص مسلمان ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9951]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19693»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2255
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9952
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ الشَّرِيدُ كُنْتُ رَدِيفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَمَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ ابْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ أَنْشِدْنِي فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ لِي كُلَّمَا أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا إِيهْ حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ قَالَ ثُمَّ سَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَكَتُّ
۔ (دوسری سند) سیدنا شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ردیف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے امیہ بن ابی صلت کے کچھ اشعار یاد ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سناؤ۔ پس میں نے ایک شعر پڑھا، جب بھی میں ایک شعر سے فارغ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اور سناؤ۔ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سو اشعار سنا دیئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور میں بھی خاموش ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9952]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19696»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید پر مشتمل اشعار سنے ہیں، حالانکہ یہ غیر مسلموں کے مرتب تھے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19696
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي شِعْرِ عَبْدِ اللهِ بْن رَوَاحَةَ وَحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رضی اللہ عنہما
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہما کے اشعار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9953
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قُلْتُ لَهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي شَيْئًا مِنَ الشِّعْرِ قَالَتْ نَعَمْ شِعْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ كَانَ يَرْوِي هَذَا الْبَيْتَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ
۔ شریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی کسی کے شعر پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھتے تھے: وَیَاْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9953]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 2848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25585»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9954
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ جب خبر آنے میں دیر ہوتی تو آپ طرفہ (بن عبد بکری) شاعر کا یہ مصرعہ پڑھتے: وَیَاْتِیْکَ باِلْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9954]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 712، والنسائي في الكبري: 10834، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24524»
وضاحت: فوائد: … پورا شعر یوں ہے:
سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ جَاہِلًا
وَیَأْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدٖ
امام مبارکپوری نے اس شعر کا یہ مفہوم بیان کیا ہے: سَتُظْھِرُ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ غَافِلًا عَنْہُ وَیَنْقُلُ لَکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَمْ تُعْطِیْہِ الزَّادَ … (ایام ان چیزوں کو تیرے لیے ظاہر کر دیں گے، جن سے تو غافل ہے وہ لوگ تیرے پاس خبریں لائیں گے، جن کو تونے زادِ راہ نہیں دیا)۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9955
عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ حَسَّانَ قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُنْشِدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي أَيَّدَكَ اللَّهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ نَعَمْ
۔ ابن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں کہا،جبکہ اس میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، اے ابوہریرہ! میں تجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: حسان! تو میری طرف سے جواب دے، اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے تیری مدد کرے۔؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9955]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3212، ومسلم: 2485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7632»
وضاحت: فوائد: … جب کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی ہجو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دفاع کریں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3212
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9956
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يُنَافِحُ عَنْهُ بِالشِّعْرِ ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھوایا، وہ اس پر بیٹھ کر شعری کلام کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے حسان کی تائید کرتا ہے، جب تک وہ اس کے رسول کا دفاع کرتا رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9956]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره دون قوله: وضع لحسان منبرا في المسجد وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن ابي الزناد، أخرجه ابوداود: 5015، والترمذي عقب الرواية: 2846، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24941»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره دون قوله: وضع لحسان منبرا في المسجد وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن ابي الزناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُفْرَدَاتِ
مفردات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9957
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ أَلَا وَإِنِّي آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ أَوِ الذُّبَابِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو بھی حرام کیا، اس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ تم میں سے لوگ اس پر جھانکے گے، خبردار! میں تمہاری کمروں سے پکڑ کر تم کو روکتا ہوں تاکہ تم اس طرح آگ میں نہ گرو، جیسے پتنگے اور مکھیاں آگ میں گرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9957]
تخریج الحدیث: «أخرجه الطيالسي: 402، وابويعلي: 5288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4027»
وضاحت: فوائد: … ایسے لگتا ہے جیسے بزور آگ میں گھسنا چاہتے ہیں، لیکن رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو بچانا چاہتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه الطيالسي: 402
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں