الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي االتَّرْهِيْبِ مِنَ الشَّعْرِ إِنْ كَانَ فِيهِ فحش أَوْ كَذِبُ أَوِ انْشِغَالُ عَنِ اللَّهِ
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9938
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لیے شعروں سے بھر جانے سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9938]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4975»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6154
حدیث نمبر: 9939
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم عرج مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک ایک شاعر سامنے آ گیا، جو شعر گا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پکڑ لو اس شیطان کو، یا فرمایا: روک دو اس شیطان کو، اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھر جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9939]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11072»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ یہ آدمی کافر ہو یا اس کے اشعار قابل مذمت ہوں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2259
حدیث نمبر: 9940
عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ فَقَالَتْ قَدْ كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ
۔ ابو نوفل سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شعر سنے جاتے تھے، سیدہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ کلام شعر تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9940]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 722، والطيالسي: 1490، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25534»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9941
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ مَخْلَدٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ أَبِي ثَنَا الْأَشْيَبُ فَقَالَ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَضَ بَيْتَ شِعْرٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةُ تِلْكَ اللَّيْلَةِ
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ عشا کے بعد دو مصرعوں کا شعر مرتب دیا، اس کی اس رات کی نماز قبول نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9941]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، قزعة بن سويد شبه المتروك، عاصم بن مخلد شيخ مجھول، أخرجه البزار: 2094، والطبراني في الكبير: 7133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17264»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں ان اشعار کی مذمت کی گئی ہے، جو بیہودہ، بے مقصد اور لایعنی ہوں، کیونکہ اچھے اشعار کو شریعت میں سراہا گیا ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں اچھے اشعار پڑھے جاتے رہے ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی اشعار پڑھے ہیں۔
امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث ِ مبارکہ کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا جس نے اپنی توجہ اشعار پر مرکوز کر رکھی ہو اور قرآن و حدیث سے غافل ہو گیا ہے۔
امام قرطبی نے کہا: جس شخص پر شعری کلام غالب آ جائے تو اسے عام قوانین و ضوابط کے مطابق موردِ طعن و مذمت ٹھہرنا پڑتا ہے۔ … …
امام ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشعار کی معمولی مقدار کی رخصت دی ہے، کیونکہ اس حدیث کییہ توجیہ بیان کرنا مناسب ہے کہ اس کا تعلق اس شخص سے ہے جو شعروں کا ہی ہو کر رہ جائے اور قرآن مجید اور اللہ تعالیٰ کے ذکرو اذکار سے غافل ہو جائے۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم اور دوسرے شرعی علوم سے متصف ہو اور اس کے پاس کچھ اشعار بھی ہوں تو وہ اس حدیث کا مصداق نہیں بن سکتا۔ (صحیحہ: ۳۳۶)
دراصل کوئی کلام نثر یا شعر ہونے کی وجہ سے قابل تعریفیا قابل مذمت نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اچھا یا برا ہونے کا دارومدار اس میں بیان کئے گئے مفہوم پر ہے، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الشِّعْرُ بِمَنْزِلَۃِ الْکَلَامِ، حَسَنُہُ کَحَسَنِ الْکَلَامِ، وَقَبِیْحُہُ کَقَبِیْحِ الْکَلَامِ۔)) … اشعار، عام (نثر) کلام کی طرح ہیں،یعنی اچھے اشعار، اچھے کلام کی طرح ہیں اور برے اشعار، برے کلام کی طرح۔
(دارقطنی: ۴۹۰، صحیحہ: ۴۴۷)
جس کلام میں دوسروں کی توہین کی گئی ہو، فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی گئی ہو، شرک و بدعت کو فروغ دیا گیا ہو یا اس میں کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی مخالفت کی گئی ہو، تو وہ کلام قابل مذمت ہو گا، وہ شعر ہو یا نثر ہو۔
اس کے برعکس جو کلام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر مشتمل ہو، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصافِ حمیدہ کا بیان ہو،اس میں نیکی کی ترغیب اور برائی سے نفرت دلائی گئی ہو یا وہ کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی موافقت کر رہا ہو، تو وہ کلام قابل تعریف ہو گا، وہ شعروں کی صورت میں ہو یا نثر کی صورت میں، بہرحال اشعار کی کثرت سے اجتناب کرنا چاہیے، ضرورت پڑے تو اچھے اشعار پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث ِ مبارکہ کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا جس نے اپنی توجہ اشعار پر مرکوز کر رکھی ہو اور قرآن و حدیث سے غافل ہو گیا ہے۔
امام قرطبی نے کہا: جس شخص پر شعری کلام غالب آ جائے تو اسے عام قوانین و ضوابط کے مطابق موردِ طعن و مذمت ٹھہرنا پڑتا ہے۔ … …
امام ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشعار کی معمولی مقدار کی رخصت دی ہے، کیونکہ اس حدیث کییہ توجیہ بیان کرنا مناسب ہے کہ اس کا تعلق اس شخص سے ہے جو شعروں کا ہی ہو کر رہ جائے اور قرآن مجید اور اللہ تعالیٰ کے ذکرو اذکار سے غافل ہو جائے۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم اور دوسرے شرعی علوم سے متصف ہو اور اس کے پاس کچھ اشعار بھی ہوں تو وہ اس حدیث کا مصداق نہیں بن سکتا۔ (صحیحہ: ۳۳۶)
دراصل کوئی کلام نثر یا شعر ہونے کی وجہ سے قابل تعریفیا قابل مذمت نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اچھا یا برا ہونے کا دارومدار اس میں بیان کئے گئے مفہوم پر ہے، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الشِّعْرُ بِمَنْزِلَۃِ الْکَلَامِ، حَسَنُہُ کَحَسَنِ الْکَلَامِ، وَقَبِیْحُہُ کَقَبِیْحِ الْکَلَامِ۔)) … اشعار، عام (نثر) کلام کی طرح ہیں،یعنی اچھے اشعار، اچھے کلام کی طرح ہیں اور برے اشعار، برے کلام کی طرح۔
(دارقطنی: ۴۹۰، صحیحہ: ۴۴۷)
جس کلام میں دوسروں کی توہین کی گئی ہو، فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی گئی ہو، شرک و بدعت کو فروغ دیا گیا ہو یا اس میں کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی مخالفت کی گئی ہو، تو وہ کلام قابل مذمت ہو گا، وہ شعر ہو یا نثر ہو۔
اس کے برعکس جو کلام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر مشتمل ہو، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصافِ حمیدہ کا بیان ہو،اس میں نیکی کی ترغیب اور برائی سے نفرت دلائی گئی ہو یا وہ کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی موافقت کر رہا ہو، تو وہ کلام قابل تعریف ہو گا، وہ شعروں کی صورت میں ہو یا نثر کی صورت میں، بہرحال اشعار کی کثرت سے اجتناب کرنا چاہیے، ضرورت پڑے تو اچھے اشعار پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
13. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشَّعْرِ لِمَصْلَحَةِ شَرْعِيَّةٍ
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 9942
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اهْجُوا الْمُشْرِكِينَ بِالشِّعْرِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ كَأَنَّمَا يَنْضَحُوهُمْ بِالنَّبْلِ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شعروں کے ذریعے مشرکوں کی ہجو کرو، بیشک مؤمن اپنے نفس اور مال سے جہا د کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! گویا کہ یہ شاعر ان پر تیر پھینک رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9942]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البيھقي: 10/ 239، وابن حبان: 5786، والطبراني في الكبير: 19/ 151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15889»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 9943
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحَ النَّبْلِ
۔ (دوسری سند) انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ شعروں کے بارے میں جوکچھ نازل کرنا تھا، وہ تو کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! گویا کہ تم ان پر تیر برسا رہے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9943]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27716»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27716
حدیث نمبر: 9944
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ حَيْنَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَكَيْفَ تَرَى فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ
۔ (تیسری سند) سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں (مذمت والی آیات) نازل کیں تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں جو کچھ نازل کیا ہے، آپ اس کو جانتے ہیں، اب آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان، دونوں کے ذریعے جہاد کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9944]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15877»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15877
حدیث نمبر: 9945
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض شعر دانائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9945]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 5010، وابن ماجه: 3755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21472»
وضاحت: فوائد: … یعنی بعض اشعار سچے ہوتے ہیں اور حق کے مطابق اور واقعہ کے موافق ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
حدیث نمبر: 9946
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا وَمِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا (وَفِي لَفْظٍ) وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ سِحْرًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض شعر حکمت و دانائی والے ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9946]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2859»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9947
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ وَمَا رَكِبْتُ إِذَا أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا وَتَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں تریاق پی لوں گا اور تمیمہ لٹکا لوں گا یا اپنی طرف سے شعر کہہ لوں گا تو پھر میں اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں کدھر جا رہا ہوں اور کس چیز پر سوار ہو رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9947]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبدالرحمن بن رافع التنوخي، قال البخاري: في حديثه مناكير، أخرجه ابوداود: 3869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7081»
وضاحت: فوائد: … تریاق وہ معجون اور دوا ہوتی ہے، جو زہر کے اثر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس کی مختلف قسمیں ہوتی ہے، بعض قسموں میں سانپ کا گوشت اور شراب وغیرہ بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور بعض قسموں میں صرف جائز چیزیں مستعمل ہوتی ہیں۔
اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ جنگ کے موقع پر اور حکمت و دانائی والے اشعار پڑھنا جائز ہیں۔
اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ جنگ کے موقع پر اور حکمت و دانائی والے اشعار پڑھنا جائز ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف