🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْأَرْوَاحِ وَآدَمَ وَذُرِّيَّتِهِ
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10295
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ لَهُ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ وَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ قَالَ فَذَهَبَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَزَادُوا رَحْمَةَ اللَّهِ قَالَ فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلْ يَنْقُصُ الْخَلْقُ بَعْدُ حَتَّى الْآنَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا، ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق کی تو فرمایا: جاؤ اور فرشتوں کی بیٹھی ہوئی اُس جماعت کو سلام کہو اور غور سے سنو کہ وہ آپ کو جوابًا کیا کہتے ہیں، کیونکہ یہی (جملے) آپ اور آپ کی اولاد کا سلام ہوں گے۔ (وہ گئے اور) کہا: السلام علیکم۔ انھوں نے جواب میں کہا: السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ یعنی ورحمۃ اللہ کے الفاظ زائد کہے۔ جب کوئی بھی آدمی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی صورت (وجسامت) پر داخل ہو گا۔ لیکن (دنیا میں ولادتِ آدم سے) آج تک قد و قامت میں کمی آتی رہی۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10295]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3326، 6227، ومسلم: 2841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8171 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8156»
وضاحت: فوائد: … انسان کا اصل قد ساٹھ ہاتھ ہے اور ہر جنتی کا یہی قد ہو گا، آہستہ آہستہ قد و قامت میں کمی آتی رہی، یہاں تک کہ اب لوگوں نے چھ سات فٹ قد کو بہت خوبصورت سمجھ لیا اور بہت طویل قد والے معیوب سمجھے جانے لگ گئے، دراصل انسان کی فطرت ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہوتی ہے۔ اسلام میں سلام کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے، اس کی ابتدا آدم علیہ السلام سے ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کو عام کرنے کا حکم دیا ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: یہ روایت ان لوگوں کے قول کی تائید کرتی ہے، جو لفظِ آدم کو ہ ضمیر کا مرجع بناتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جس ہیئت پر پیدا کیا تھا، اسی پر ان کو وجود بخشا، یعنی ان کو اپنی اولاد کی طرح نہ اپنی تخلیق کے دوران مختلف احوال سے گزرنا پڑا اور نہ رحموں میں پہلے نفطہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور خلق تامّ جیسے مراحل طے کرنا پڑے، بلکہ جونہی اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی تو ان کو کامل و مکمل، معتدل و مناست اور ٹھیک و درست بنا دیا۔امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر مفصّل اور مفید گفتگو کی ہے، آپ اس کا مراجعہ کر لیں۔ (صحیحہ: ۴۴۹)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3326
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10296
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ طُولُ آدَمَ سِتِّينَ ذِرَاعًا فِي سَبْعَةِ أَذْرُعٍ عَرْضًا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی سات ہاتھ تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10296]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: في سبع اذرع عرضا فقد تفرد بھا علي بن زيد بن جدعان، وھو ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10913 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10926»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: في سبع اذرع عرضا فقد تفرد بھا علي بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10297
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ فَإِنَّهُ مِنْهُ خُلِقَ وَمِنْهُ يُرَكَّبُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے وجود کی ہر چیز کو زمین کھا جاتی ہے، ما سوائے عجب الذنب کے، اسی سے انسان کو پیدا کیا گیا اور اسی سے اس کو دوبارہ ترکیب دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10297]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2955، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8266»
وضاحت: فوائد: … بعض افراد کے مکمل جسم بھی قبر میں سالم رہتے ہیں، بہرحال ہر شخص کی عجب الذنب باقی رہتی ہے، باقی جسم فنا ہو جائے یا باقی رہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2955
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10298
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو جب تک چاہا(ان کے ڈھانچے کو) پڑا رہنے دیا، ابلیس گھوم کر اس کو دیکھنے لگا، جب اس نے دیکھا کہ یہ توپیٹ والا ہے یایہ اندر سے خالی ہے تو اس نے کہا: یہ ایسی مخلوق ہے،جو اپنے آپ پر کنٹرول نہیں کر سکے گی۔ یعنی یہ وجود اپنے آپ کو شہوات سے نہیں روک سکے گا، وسوسوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گا، نیز غصے پر بھی قابو نہیں پا سکے گا، الا من عصمہ اللہ۔ ابلیس کو کیسے اندازہ ہوا؟ اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں، معلوم نہیں کہ اُس دور کی صفات اور اس وقت کی مخلوقات کی اہلیتیں اور تجربات کیا کیا تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10298]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2611، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12567»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2611
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10299
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَعْدَ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ آخِرَ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جمعہ کے روز عصر کے بعد پیدا کیا،یہ آخری مخلوق تھی، جس کو جمعہ کی گھڑیوں میں سے آخری گھڑی میں پیدا کیا گیا اور آخری گھڑی عصر سے رات تک ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10299]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2789، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8323»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2789
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ حَوَّاءَ
سیدہ حوأ رحمتہ اللہ علیہ کی تخلیق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10300
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ وَإِنَّكَ إِنْ تُرِدْ إِقَامَةَ الضِّلْعِ تُكْسِرْهَا فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، اور اگر تو پسلی کوسیدھا کرنا چاہے گا تو اس کو توڑ دے گا، پس تو اس کے ساتھ مداہنت اختیار کر، تب وہ تیرے ساتھ زندگی گزارتی رہے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10300]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 275، والبزار: 1476، وابن حبان: 4178، والبزار: 1476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20353»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سیدہ حواء علیہا السلام، آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئی تھیں۔
یہ آدمی کا پورا نہ ہونے والا خواب ہو گا کہ اس کی بیوی سو فیصد اس کی خواہشات کی تکمیل کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خواتین میں اتنی اہلیت ہی نہیں رکھی، الا ما شاء اللہ، کسی علاقے میں ایک دو مثالیں ہو بھی سکتی ہیں۔ لہٰذا خاوند کو اس فطرت کو سامنے رکھ کر کچھ صبر کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔ بعض احادیث میں عورت کو پسلی سے تشبیہ دی گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اخلاق میں بھی پسلی کی طرح ایسا ٹیڑھ پن رہتا ہے، جو کوشش کے باوجود سیدھا نہیں ہوتا، اس لیے اگر خواتین
میں مثبت پہلو غالب ہو تو ان کے منفی پہلو کو نظر انداز کر دینا چاہیے، البتہ اچھے انداز میں سمجھانا ضروری ہے

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ قَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10301
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا هُوَ ذَارِئٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَجَعَلَ يَعْرِضُ ذُرِّيَّتَهُ عَلَيْهِ فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ فَقَالَ أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ قَالَ أَيْ رَبِّ كَمْ عُمْرُهُ قَالَ سِتُّونَ عَامًا قَالَ رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ قَالَ لَا إِلَّا أَزِيدَهُ مِنْ عُمْرِكَ وَكَانَ عُمْرُ آدَمَ أَلْفَ عَامٍ فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ عَامًا فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ بِذَلِكَ كِتَابًا وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ فَلَمَّا احْتَضَرَ آدَمُ وَأَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ لِتَقْبِضَهُ قَالَ إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ عَامًا فَقِيلَ إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ قَالَ مَا فَعَلْتُ فَأَبْرَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابَ وَشَهِدَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ) ) زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَأَتَّمَهَا لِدَاوُدَ مِائَةَ سَنَةٍ وَأَتَّمَهَا لِآدَمَ عُمْرَهُ أَلْفَ سَنَةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب قرضے والی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سب سے پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ کو چھو کر اس سے ان کی قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کو نکالا اور اس اولاد کو ان پر پیش کیا، انھوں نے اس میں ایک خوش نما اور تابناک آدمی دیکھا اور کہا: اے میرے ربّ! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ تیرا بیٹا داود ہے، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! اس کی عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: ساٹھ سال، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! اس کی عمر میں اضافہ کر دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: نہیں، الا یہ کہ تیری عمر سے اضافہ کیا جائے۔ آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، انھوں نے اپنی عمر میں سے داود کی عمر میں چالیس سال اضافہ کر دیا، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو لکھ لیا اور فرشتوں کوگواہ بنا لیا، جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا اور ان کی روح قبض کرنے کے لیے فرشتے ان کے پاس آئے تو انھوں نے کہا: ابھی تک میری عمر کے تو چالیس سال باقی ہیں، ان سے کہا گیا کہ آپ نے وہ چالیس سال تو اپنے بیٹے داود کو ہبہ کر دیئے تھے، آدم علیہ السلام نے کہا: میں نے تو ایسے نہیں کیا تھا، اُدھر اللہ تعالیٰ نے کتاب کو ظاہر کر دیا اور فرشتوں نے گواہی دے دی، لیکن پھر داود علیہ السلام کی عمر بھی سو سال پوری کر دی اور آدم علیہ السلام کی ایک ہزار پوری کر دی۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10301]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطيالسي: 2692، وابن ابي شيبة: 13/ 60، وابويعلي: 2710، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2270»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّیَّتُہُ، وَنَسِیَ َآدَمُ فَأَکَلَ مِنَ الشَّجَرَۃِ فَنَسِیَتْ ذُرِّیَّتُہُ، وَخَطِأَ آدَمُ وَخَطِأَتْ ذُرِّیَّتُہُ)) … پس آدم علیہ السلام نے انکار کیا اور اس وجہ سے ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگی، آدم علیہ السلام نے بھول کر درخت کا پھل کھالیا، پس ان کی اولاد بھی بھولنے لگی اور آدم علیہ السلام سے غلطی ہو گئی، اس وجہ سے ان کی اولادبھی غلطی کرنے لگ گئی۔
چونکہیہ معاہدہ عالم ارواح میں ہوا تھا، اس لیے ممکن ہے کہ آدم علیہ السلام کو یاد نہ ہو، یا وہ بھول گئے ہوں، بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بھولنا، انکار کرنا اور خطا کرنا انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے، مگر وہ جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ»
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10302
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} فَقَالَ عُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ وَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ) ) فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفِيمَ الْعَمَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُدْخِلَهُ بِهِ الْجَنَّةَ وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيُدْخِلَهُ بِهِ النَّارَ) )
۔ مسلم بن یسار جہنی سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا: {وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}، انھوں نے کہا: میں نے خود سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، اس کی کمر کو دائیں ہاتھ سے چھوا اورا س سے اس کی اولاد نکالی اور کہا: میں نے ان کو جنت کے لیے اور اہل جنت کے عمل کے ساتھ پیدا کیا ہے، پھر اس کی کمر کو چھوا اور اس نے مزید اولاد نکال کر کہا: میں نے ان کو آگ کے لیے اور اہل جہنم کے عمل کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کا کیا تک ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس کواہل جنت کے ہی اعمال کے لیے استعمال کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنتی لوگوں کے عمل پر مرتا ہے اور اس طرح وہ اس کوجنت میں داخل کر دیتا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو آگ کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس کو جہنمی لوگوں کے عمل کے لیے استعمال کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اہل جہنم کے اعمال پر مرتا ہے اور وہ اس کو جہنم میں داخل کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10302]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4703، والترمذي: 3075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 311»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10303
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ يَعْنِي عَرَفَةَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قُبُلًا قَالَ {أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ}) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نعمان یعنی عرفہ مقام میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ (یعنی اولاد) سے پختہ عہد لیا، ان کی کمر سے اس ساری اولاد کو نکالا، جو اس نے پیدا کرنی تھی، پھر اس کو چیونٹیوں کی طرح ان کے سامنے پھیلا دیا اور پھر ان سے آمنے سامنے کلام کیا اور کہا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم نے گواہی دی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے روز یہ کہہ دو کہ ہم اس سے غافل تھے، یایہ کہہ دو کہ ہمارے آباء و اجداد ہم سے پہلے شرک کر چکے تھے اور ان کے بعد ان کی اولاد تھے، پس کیا تو ہم کو اس کرتوت کی وجہ سے ہلاک کرے گا، جو باطل پرست لوگوں نے کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10303]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، أخرجه النسائي في الكبري: 11191، والحاكم: 2/ 544، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2455»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10304
عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ} قَالَ جَمَعَهُمْ فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا ثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ فَتَكَلَّمُوا ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي وَلَا رَبَّ غَيْرِي فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا إِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي قَالُوا شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ فَأَقَرُّوا بِذَلِكَ وَرَفَعَ إِلَيْهِمْ آدَمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ فَرَأَى الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ وَحُسْنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ فَقَالَ رَبِّ لَوْ لَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ قَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ وَرَأَى الْأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلَ السُّرُجِ عَلَيْهِمُ النُّورُ خُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى {وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ} إِلَى قَوْلِهِ {عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ} كَانَ فِي تِلْكَ الْأَرْوَاحِ فَأَرْسَلَهُ إِلَى مَرْيَمَ فَحَدَّثَ عَنْ أُبَيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ مِنْ فِيهَا
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں: اور جب تیرے پروردگار نے بنوآدم کی پشتوں یعنی ان کی اولاد سے پختہ عہد لیا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بنایا اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جمع کیا، ان کو روحیں بنایا، پھر ان کی تصویریں بنائیں اور ان کو بولنے کی طاقت دی، پس انھوں نے کلام کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے پختہ عہد لیا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بناتے ہوئے کہا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ میں ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور تمہارے باپ کو تم پر گواہ بناتا ہوں، تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہمیں اس چیز کا کوئی علم نہ تھا، تم اچھی طرح جان لو کہ میرے علاوہ نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی ربّ، پس میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، میں عنقریب تمہاری طرف اپنے رسول بھیجوں گا، وہ تم کو میرا عہد یاد کرائیں گے، نیز میں تم پر اپنی کتابیں بھی نازل کروں گا، انھوں نے کہا: ہم یہ شہادت دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا ربّ اور معبود ہے، تیرے علاوہ ہمارا کوئی ربّ نہیں ہے، پس ان سب نے اقرار کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان پر بلند کیا، انھوں نے ان میں غنی، فقیر، حسین اور کم خوبصورت افراد دیکھے اور کہا: اے میرے ربّ! تو نے ان کے درمیان برابری کیوں نہیں کی؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے، نیز انھوں نے ان میں انبیاء دیکھے، وہ چراغوں کی طرح نظر آ رہے تھے اور ان پر نور تھا، ان کو رسالت اور نبوت کے عہد و میثاق کے ساتھ خاص کیا گیا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اسی چیز کا ذکر ہے: اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا … … عیسی بن مریم۔ عیسی علیہ السلام بھی ان ہی ارواح میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس روح کو سیدہ مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا اور وہ ان کے منہ سے ان میں داخل ہو گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10304]
تخریج الحدیث: «اثر ضعيف، محمد بن يعقوب الربالي مستور، أخرجه الحاكم: 2/ 323، والبيھقي في الاسماء والصفات: ص 368، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21552»
وضاحت: فوائد: … درج بالا اور اس موضوع کی دیگر احادیث میں عَھْدِ اَلَسْتُ کا ذکر ہے، یہ ترکیب آیت کے ان الفاظ {اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ} سے بنائی گئی ہے، یہ عہد آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا، پوری آیاتیوں ہیں:
{وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلٰی شَہِدْنَآ أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غَافِلِیْنَ۔ أَوْ تَقُوْلُوآ اِنَّمَا أَشْرَکَ آبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ۔} … اور جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ یایوں کہو کہ پہلے پہل یہ شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔ (سورۂ اعراف: ۱۷۲، ۱۷۳)
یہ عہد ہم اس لیے تسلیم کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کی اطلاع دے دی ہے، بہرحال اس کا اثر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کییہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کر دی گئی ہے اور اگر یہ فطرت مختلف آلائشوں کی وجہ سے اپنی حیثیت کھو نہ بیٹھی ہو تو ایسا انسان خارجی آوازاور باطنی فکر مل جانے کی وجہ سے فوراً حق کی آواز کو قبول کرتا ہے، لیکن اگر شرک و بدعت یا گندے معاشرے کی وجہ سے وہ فطرت متأثر ہو چکی ہو تو اس کو حق تسلیم کرنے میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے اور اس کے لیےیہ مرحلہ مشکل ہو جاتا ہے، جلد اور بدیر اسلام قبول کرنے والے صحابۂ کرام کی وجہ یہی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا: ((کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ کَمَثَلِ الْبَہِیمَۃِ تُنْتَجُ الْبَہِیمَۃَ ہَلْ تَرَی فِیہَا جَدْعَاء َ۔)) … ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے ماں باپ اس کو یہودییا نصرانییا مجوسی بنا دیتے ہیں، جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، اس کا ناک، کان کٹا نہیں ہوتا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

الحكم على الحديث:
اثر ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں