الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغَيْمِ وَالْمَطْرِ وَالْبَرَدِ وَ زَمَنِ الشَّتَاءِ
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
حدیث نمبر: 10255
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ
۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسم سرما، مؤمن کے لیے بہار ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10255]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ولضعف دراج في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه ابويعلي: 1386، والبيھقي: 4/ 297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11739»
وضاحت: فوائد: … عامر بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الصَّوْمُ فِی الشِّتَائِ الْغَنِیْمَۃُ الْبَارِدَۃُ۔)) … سردیوں کے روزے مفت کی غنیمت ہیں۔ (ابن ابی شیبہ: ۲/ ۱۸۱، بیہقی: ۴/ ۴۹۶، صحیحہ: ۱۹۲۲) حدیث کا مفہوم واضح ہے کہ دن چھوٹے ہوتے ہیں اور پیاس کا کوئی تصور نہیں ہوتا، ایسے میںمسلمان کو مالِ غنیمت اکٹھا کر لینا چاہیے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10256
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ السَّنَةَ لَيْسَ بِأَنْ لَا يَكُونَ فِيهَا مَطَرٌ وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطِرَنَا السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قحط سالییہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو، بلکہ قحط سالی تو یہ ہے کہ آسمان بارش برسائے، لیکن زمین کچھ نہ اگائے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10256]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2904، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8492»
وضاحت: فوائد: … اس کا سبب نافرمانیوں کی کثرت اور ان کی پروا نہ کرنا ہو گی۔
بارش کا نہ ہونا بھی قحط سالی ہے، جیسا کہ دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے، لیکنیہ قحط سالی کی خطرناک صورت ہے کہ بارش بھی ہو رہی ہو، لیکن زمین کچھ نہ اگا رہی ہو۔
بارش کا نہ ہونا بھی قحط سالی ہے، جیسا کہ دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے، لیکنیہ قحط سالی کی خطرناک صورت ہے کہ بارش بھی ہو رہی ہو، لیکن زمین کچھ نہ اگا رہی ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
9. بابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْمَلَائِكَةِ
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
حدیث نمبر: 10257
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَتِ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں کو نور سے اور جنوں کو آگ کے دہکتے ہوئے شعلے سے پیدا کیا اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا، جس کو تمہارے لیے واضح کیا جا چکا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10257]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2904، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25709»
وضاحت: فوائد: … یعنی آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث میں درج ذیل حدیث کے باطل ہونے کا اشارہ دیا گیا، جو لوگوں کے ہاں بڑی مشہور ہے: ((اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرُ نَبِیِّکَیَا جََابِرُ۔)) … اے جابر! اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیدا کیا۔
کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، نہ کہ آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو۔ آپ متنبہ رہیں اور غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔ (صحیحہ: ۴۵۸)
کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، نہ کہ آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو۔ آپ متنبہ رہیں اور غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔ (صحیحہ: ۴۵۸)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10258
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ قَالَ أَبُو ذَرٍّ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جو میں دیکھتا ہوں وہ تم نہیں دیکھ سکتے اور جو میں سنتا ہوں وہ تم نہیں سن سکتے۔ (سنو!) آسمان چرچراتا ہے اور اسے چرچرانا ہی زیب دیتا ہے، کیونکہ وہاں چار انگلیوں کے بقدر بھی جگہ خالی نہیں ہے، ہر جگہ فرشتے سجدہ ریز ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر تمھیں اس کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسنا کم کر دو، رونا زیادہ کر دو، بچھونوں پر اپنی بیویوں سے لذتیں اٹھانا ترک کر دو اور (اللہ کی طرف) گڑگڑاتے ہوئے گھاٹیوں کی طرف نکل جاؤ۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں درخت ہوتا، جسے کاٹ دیا جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10258]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21848»
وضاحت: فوائد: … اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت، نافرمانوں پر انتقامی کاروائیوں اور موت کے وقت کے اور قبر و قیامت کے ہولناک مناظر اور سخت مناقشوں کا جو علم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھا، کسی امتی کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر ان حالات و واقعات کو مدنظر رکھا جائے تو مسلمان پر لرزہ طاری ہو جائے اور وہ اپنے حسنِ خاتمہ کے بارے میں سسکیاں بھرنا شروع کر دے۔ شریعت ِ اسلامیہ میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی جائے، کثرت سے اس کی عبادت کی جائے۔ اور گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10259
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ فَرَأَيْتُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، میں نے عیسی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، وہ تمہارے اپنے ساتھی سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات مراد لے رہے تھے، اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، وہ دحیہ کے زیادہ مشابہ لگتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10259]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14643»
وضاحت: فوائد: … حضرت جبریل علیہ السلام کی اپنی خاص شکل تھی، جب وہ انسانی روپ میں آتے تھے تو دحیہ کے مشابہ لگتے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10260
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ كُلٌّ مِنْهَا قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ يَسْقُطُ مِنْ جَنَاحِهِ مِنَ التَّهَاوِيلِ وَالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی حالت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے، ان میں سے ہر پر نے افق کو پُر کر رکھا تھا، ان کے پروں سے مختلف رنگوں کی چیزیں، موتی اوریاقوت گر رہے تھے، جن کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10260]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك النخعي، وقوله له ست مائة جناح ثابت باسناد صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3748»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10261
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ (أَمَّا مَرَّةً) فَإِنَّهُ سَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ نَفْسَهُ فِي صُورَتِهِ فَأَرَاهُ صُورَتَهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ (وَأَمَّا الْأُخْرَى) فَإِنَّهُ صَعِدَ مَعَهُ حِينَ صَعِدَ بِهِ وَقَوْلُهُ {وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى} [سورة النجم: 7-10] قَالَ فَلَمَّا أَحَسَّ جِبْرِيلُ رَبَّهُ عَادَ فِي صُورَتِهِ وَسَجَدَ فَقَوْلُهُ {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [سورة النجم: 13-18] قَالَ خَلْقَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل میں دو بار دیکھا، ایک بار اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ آپ کو اپنی اصلی صورت دکھائے، پس انھوں نے اپنی اصلی شکل دکھائی اور افق کو بھر دیا، دوسری مرتبہ اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ چڑھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا، پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا، پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ رہ گیا، بلکہ اس سے بھی کم، پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی۔ پس جب حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنے ربّ کو محسوس کیا تو اپنی اصلی شکل میں آ کر سجدہ کیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا، سدرۃ المنتہی کے پاس، اسی کے پاس جنۃ الماوی ہے، جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی، وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی، نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی،یقینا اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں۔اس نے کہا: یہ جبریل علیہ السلام کی تخلیق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10261]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال اسحاق بن ابي الكھتلة، وللشك في وصله عن ابن مسعود، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:3864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3864»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10262
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُكَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالُوا جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا لَوْ قُلْتَ مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ} [سورة البقرة: 97] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہر نبی کا ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کے پاس خیر لاتا ہے، آپ ہمیں بتائیں کہ آپ کے پاس آنے والا فرشتہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام ہے۔ انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو لڑائی، قتال اور عذاب کے ساتھ نازل ہونے والا ہمارا دشمن فرشتہ ہے، اگر آپ نے میکائیل کا نام لیا ہوتا تو تب بات بنتی، وہ رحمت، انگوری اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ } … آپ کہہ دیجئے کہ جو جبریل کا دشمن ہے تو یقینا اس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ اتارا ہے، جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے والا اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷) [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10262]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 3117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2483»
وضاحت: فوائد: … امام طبری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہودیوں نے جبرائیل علیہ السلام کو اپنا دشمن اور میکائیل علیہ السلام کو اپنا دوست بتایا تھا تو اس وقت ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔
لیکنیہ نہیں ہو سکتا کہ میکائیل سے دوستی ہو اور جبریل سے دشمنی، اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات، فرشتوں اور رسولوں کی دوستییا دشمنی کو ایک قرار دیتے ہوئے اس سے اگلی آیت میں فرمایا: {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖوَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰیلَفَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ۔} … جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائل کا دشمن ہے تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۸)
لیکنیہ نہیں ہو سکتا کہ میکائیل سے دوستی ہو اور جبریل سے دشمنی، اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات، فرشتوں اور رسولوں کی دوستییا دشمنی کو ایک قرار دیتے ہوئے اس سے اگلی آیت میں فرمایا: {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖوَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰیلَفَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ۔} … جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائل کا دشمن ہے تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۸)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10263
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الصُّورِ فَقَالَ عَنْ يَمِينِهِ جِبْرِيلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِيلُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صور پھونکنے والے فرشتے کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی دائیں جانب جبریل علیہ السلام ہے اور بائیں جانب میکائیل علیہ السلام۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10263]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي، أخرجه ابوداود: 3999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11085»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10264
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا لِي لَمْ أَرَ مِيكَائِيلَ ضَاحِكًا قَطُّ قَالَ مَا ضَحِكَ مِيكَائِيلُ مُنْذُ خُلِقَتِ النَّارُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں نے میکائیل کو کبھی بھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟ انھوں نے کہا: اس وقت سے میکائیل نہیںہنسے، جب سے جہنم کی آگ کو پیدا کیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10264]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13376»
وضاحت: فوائد: … میکائیل جہنم کی آگ کی وجہ سے اتنی دہشت میں ہے کہ ان کے چہرے سے مسکرانے اور ہنسنے کے آثار مٹ گئے۔
الحكم على الحديث: صحیح