الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْجِنِّ وَأَمُورٍ تَتَعَلَّقُ بِهِمْ
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
حدیث نمبر: 10285
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ فَدَعَتُّهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ قَالَ فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ {رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي} [ص: 35] قَالَ فَرَدَّهُ خَاسِئًا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک سرکش جن گزشتہ رات میری نماز کو کاٹنے کے لیے اچانک میرے سامنے آیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت عطا کی اور میں نے اس کودھکا دیا اور میں نے ارادہ کیا کہ اس کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ جب صبح ہو تو تم سارے افراد اس کو دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا یاد آگئی: اے میرے رب! مجھے ایسی بادشاہت عطا کر کہ میرے بعد وہ کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کولوٹا دیا، اس حال میں کہ وہ ناکام تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10285]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 461، 3423، ومسلم: 541، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7956»
وضاحت: فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۲۸۳)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 461
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِسْلَامِ طَائِفَةٍ مِنَ الْجِنِّ وَمُقَابَلَتِهِمْ لِلنَّبِيُّ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ وَاسْتِمَاعِهِمُ الْقُرْآنَ مِنْهُ
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن سننے کا بیان
حدیث نمبر: 10286
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا دَاوُدُ وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ الْمَعْنَى قَالَا ثَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ فَقَالَ مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ وَلَكِنْ قَدْ فَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُلْنَا اغْتِيلَ اسْتُطِيرَ مَا فَعَلَ قَالَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَوْ قَالَ فِي السَّحَرِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرُوا الَّذِي كَانُوا فِيهِ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ قَالَ فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ قَالَ وَقَالَ الشَّعْبِيُّ سَأَلُوهُ الزَّادَ قَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ عَامِرٌ فَسَأَلُوهُ لَيْلَتَئِذٍ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ فَقَالَ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا كَانَ عَلَيْهِ لَحْمًا وَكُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ
۔ علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا جنّوں والی رات کو تم میں سے کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا، ہوا یوں کہ ہم نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، ہم نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخفی انداز میں قتل کر دیا گیا ہے؟ کیاآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہیں لے جایا گیا ہے؟ آخر ہوا کیا ہے؟ ہم نے انتہائی بدترین رات گزاری، جب صبح سے پہلے کا یا سحری کا وقت تھا تو ہم نے اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارِ حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم نے ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنّوں کا داعی میرے پاس آیا، اس لیے میں ان کے پاس چلا گیا اور ان پرقرآن مجید کی تلاوت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں لے کر گئے اور ان کے اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ وہ جزیرۂ عرب کے جنّوں میں سے تھے اور انھوں نے اس رات کو اپنے زاد کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر خوب گوشت دار ہڈی، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ لگے (وہ تمہارا زاد ہے) اور ہر مینگنی اور لید تمہارے چوپائیوں کا چارہ ہے، پس تم لوگ ان دو چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو، کیونکہ یہ چیزیں تمہارے جن بھائیوں کا زاد ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10286]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4149»
وضاحت: فوائد: … ہر خوب گوشت دار ہڈی، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر اس ہڈی پر گوشت پیدا کر دیتا ہے، جو جنات کھاتے ہیں، باقی مینگنی اور لید کو مطلق طور پر جنوں کے چوپائیوں کی خوراک قرار دیا گیا۔
صحیح بخاری میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: ہڈی اور لید سے استنجا نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا مِنْ طَعَامِ الْجِنِّ وَاَنَّہٗقَدْاَتَانِیْ وَفْدُ جِنِّ نَصِیْبَیْن، وَنِعْمَ الْجِنُّ، فَسَاَلُوْنِیَ الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللّٰہَ لَھُمْ اَنْ لَّا یَمُرُّوْا بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَۃٍ اِلَّا وَجَدُوْا عَلَیْھَا طَعَامًا۔)) … یہ دو چیزیں جنوں کے کھانے سے ہیں، میرے پاس نصیبین کے جنوں کا وفد آیا تھا، یہ بہترین جن تھے، اور انھوں نے مجھ سے زاد کے بارے میں سوال کیا، پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ جس ہڈی اور لید کے پاس سے گزریں، اس پر کھانا پائیں۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ ہڈی، لید اور مینگنی،یہ چیزیں جنوں اور ان کے چوپائیوں کی خوراک نہیں ہیں، بلکہ ان کے اوپر ان کی خوراک پڑی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس خوراک کی کیا شکل ہوتی ہے اور وہ اِن چیزوں سے کیسے مستفید ہوتے ہیں، ایک عالم کہا کرتے تھے کہ جن لطیف مخلوق ہیں، وہ ان چیزوں کو سونگ کر ان سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
صحیح بخاری میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: ہڈی اور لید سے استنجا نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا مِنْ طَعَامِ الْجِنِّ وَاَنَّہٗقَدْاَتَانِیْ وَفْدُ جِنِّ نَصِیْبَیْن، وَنِعْمَ الْجِنُّ، فَسَاَلُوْنِیَ الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللّٰہَ لَھُمْ اَنْ لَّا یَمُرُّوْا بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَۃٍ اِلَّا وَجَدُوْا عَلَیْھَا طَعَامًا۔)) … یہ دو چیزیں جنوں کے کھانے سے ہیں، میرے پاس نصیبین کے جنوں کا وفد آیا تھا، یہ بہترین جن تھے، اور انھوں نے مجھ سے زاد کے بارے میں سوال کیا، پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ جس ہڈی اور لید کے پاس سے گزریں، اس پر کھانا پائیں۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ ہڈی، لید اور مینگنی،یہ چیزیں جنوں اور ان کے چوپائیوں کی خوراک نہیں ہیں، بلکہ ان کے اوپر ان کی خوراک پڑی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس خوراک کی کیا شکل ہوتی ہے اور وہ اِن چیزوں سے کیسے مستفید ہوتے ہیں، ایک عالم کہا کرتے تھے کہ جن لطیف مخلوق ہیں، وہ ان چیزوں کو سونگ کر ان سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 450
حدیث نمبر: 10287
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَفَّسَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں جنوں کے وفد والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا سانس لیا، میں نے کہا: آپ کوکیا ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن مسعود! میرے نفس کو موت کی اطلاع دی جا رہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10287]
تخریج الحدیث: «حديث شبه موضوع، ميناء الخراز متروك وكذبه ابو حاتم، أخرجه عبد الرزاق: 20646، والطبراني في الكبير: 9970، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4294»
الحكم على الحديث:
حديث شبه موضوع
حدیث نمبر: 10288
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ خَطَّ حَوْلَهُ يَعْنِي حَوْلَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَكَانَ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ مِثْلُ سَوَادِ النَّخْلِ وَقَالَ لِي لَا تَبْرَحْ مَكَانَكَ فَأَقْرَأَهُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمَّا رَأَى الزُّطَّ قَالَ كَأَنَّهُمْ هَؤُلَاءِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ لَا قَالَ أَمَعَكَ نَبِيذٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَوَضَّأَ بِهِ
۔ سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنوں والی رات اس کے ارد گرد خط لگایا، جن کھجور کے سائے کی طرح اس کے پاس آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سے فرمایا: تم نے اپنی جگہ پر رہنا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زُط نسل دیکھی تو فرمایا: گویا کہ یہ وہی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس نبیذ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبیذ سے وضو کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10288]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الدارقطني: 1/77، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4353»
وضاحت: فوائد: … سوڈان اور ہند کی ایک جنس کانام زُط ہے۔نبیذ سے وضو کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہیہ مائے مطلق نہیں ہے۔ یہ روایت ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 10289
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِتُّ اللَّيْلَةَ أَقْرَأُ عَلَى الْجِنِّ رُفَقَاءَ بِالْحَجُونِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس طرح رات گزاری کہ حجون میں جنوں کی جماعت پر قرآن مجید کی تلاوت کی۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10289]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبيد الله بن عبد الله لم يسمع من عم ابيه عبد الله بن مسعود، أخرجه ابويعلي: 5062، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3954»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 10290
حَدَّثَنَا عَارِمٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنِي أَبُو تَمِيمَةَ عَنْ عَمْرٍو لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ قَالَ الْبِكَالِيُّ يُحَدِّثُهُ عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَمْرٌو إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ اسْتَبْعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْتُ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَخَطَّ لِي خِطَّةً فَقَالَ لِي كُنْ بَيْنَ ظَهْرَيْ هَذِهِ لَا تَخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ إِنْ خَرَجْتَ هَلَكْتَ قَالَ فَكُنْتُ فِيهَا قَالَ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَذَفَةً أَوْ أَبْعَدَ شَيْئًا أَوْ كَمَا قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ ذَكَرَ هَنِينًا كَأَنَّهُمُ الزُّطُّ قَالَ عَفَّانُ أَوْ كَمَا قَالَ عَفَّانُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ وَلَا أَرَى سَوْآتِهِمْ طِوَالًا قَلِيلٌ لَحْمُهُمْ قَالَ فَأَتَوْا فَجَعَلُوا يَرْكَبُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ قَالَ وَجَعَلُوا يَأْتُونَنِي فَيُخَيِّلُونَ حَوْلِي وَيَعْتَرِضُونَ لِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَأُرْعِبْتُ مِنْهُمْ رُعْبًا شَدِيدًا قَالَ فَجَلَسْتُ أَوْ كَمَا قَالَ قَالَ فَلَمَّا انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ جَعَلُوا يَذْهَبُونَ أَوْ كَمَا قَالَ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ثَقِيلًا وَجِعًا أَوْ يَكَادُ أَنْ يَكُونَ وَجِعًا مِمَّا رَكِبُوهُ قَالَ إِنِّي لَأَجِدُنِي ثَقِيلًا أَوْ كَمَا قَالَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي أَوْ كَمَا قَالَ ثُمَّ إِنَّ هُنَيًّا أَتَوْا عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ طِوَالٌ أَوْ كَمَا قَالَ وَقَدْ أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَأُرْعِبْتُ أَشَدَّ مِمَّا أُرْعِبْتُ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا الْعَبْدُ خَيْرًا أَوْ كَمَا قَالُوا إِنَّ عَيْنَيْهِ نَائِمَتَانِ أَوْ قَالَ عَيْنُهُ أَوْ كَمَا قَالُوا وَقَلْبُهُ يَقْظَانُ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَارِمٌ وَعَفَّانُ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ هَلُمَّ فَلْنَضْرِبْ بِهِ مَثَلًا أَوْ كَمَا قَالُوا قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ اضْرِبُوا لَهُ مَثَلًا وَنُؤَوِّلُ نَحْنُ أَوْ نَضْرِبُ نَحْنُ وَتُؤَوِّلُونَ أَنْتُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ مَثَلُهُ كَمَثَلِ سَيِّدٍ ابْتَنَى بُنْيَانًا حَصِينًا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى النَّاسِ بِطَعَامٍ أَوْ كَمَا قَالَ فَمَنْ لَمْ يَأْتِ طَعَامَهُ أَوْ قَالَ لَمْ يَتْبَعْهُ عَذَّبَهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ كَمَا قَالُوا قَالَ الْآخَرُونَ أَمَّا السَّيِّدُ فَهُوَ رَبُّ الْعَالَمِينَ وَأَمَّا الْبُنْيَانُ فَهُوَ الْإِسْلَامُ وَالطَّعَامُ الْجَنَّةُ وَهُوَ الدَّاعِي فَمَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ أَوْ كَمَا قَالُوا وَمَنْ لَمْ يَتْبَعْهُ عُذِّبَ أَوْ كَمَا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ فَقَالَ مَا رَأَيْتَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَأَيْتُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا خَفِيَ عَلَيَّ مِمَّا قَالُوا شَيْءٌ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَوْ قَالَ هُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے بھی ساتھ چلنے کاتقاضا کیا، پس ہم چل پڑے، جب میں فلاں مقام پر پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے لکیر لگائی اور مجھے فرمایا: تو اس کے درمیان بیٹھ جا، تو نے اس سے باہر نہیں نکلنا، وگرنہ ہلاک ہو جائے گا۔پس میں اسی میں بیٹھا رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کنکری کی پھینک پر یا اس سے کچھ زیادہ آگے چلے گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان جنوں کا ذکر کیا تو ایسے لگ رہا تھا کہ وہ زُط ہیں، ایک راوی کہتا ہے: اگر اللہ نے چاہا تو (ان کے بارے میں میرایہ بیان درست ہو گا کہ) ان پر کپڑے نہیں تھے، لیکن ان کی شرمگاہیں بھی نظر نہ آئیں، وہ دراز قد اور کم گوشت تھے، پس وہ آپ پر سوار ہونا شروع ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے، وہ جن میرے پاس بھی آتے، دل میںمختلف خیال ڈالتے اور میرے سامنے پیش آتے، میں ان سے بڑا خوفزدہ ہو گیا، پس میں بیٹھ گیا، جب صبح کی روشنی پھوٹنے لگی تو وہ چلے جانے لگے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، آپ بہت تھکے ہوئے اور تکلیف میں تھے، یایوں کہیے کہ قریب تھا کہ آپ کوتکلیف شروع ہو جاتی،یہ سارا کچھ ان کے سوار ہونے کی وجہ سے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے آپ کو تھکا ہوا پاتا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک میری گودی میں رکھا، پھر کچھ افراد آ گئے، انھوں نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے اور دراز قد تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے تھے، میں پہلے کی بہ نسبت زیادہ گھبرا گیا تھا، ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: اس بندے یعنیآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیر عطا کی گئی ہے، اس کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل بیدار رہتا ہے، آؤ اس کی ایک مثال بیان کرتے ہیں اور پھر اس کی تاویل کرتے ہیں،یا ان میں سے بعض نے کہا: ہم مثال بیان کرتے ہیں اور تم اس کی تاویل کرو گے، پھر بعض نے بعض سے کہا: اس کی مثال اس سردار کی مثال کی طرح ہے،جس نے قلعہ تعمیر کیا اور پھر لوگوں کو کھانے کے لیے بلا بھیجا، جو کھانے کے لیے نہ آیا،یا اس کی بات نہ مانی، اس نے اس کو سخت سزا دی، دوسروں نے تاویل کرتے ہوئے کہا: سردار سے مراد ربّ العالمین، قلعہ سے مراد اسلام اور کھانے سے مراد جنت ہے اور داعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہیں، جس نے آپ کی پیروی کی، وہ جنت میں ہو گا اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت نہ کی،اس کو عذاب دیا جائے گا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو گئے اور پوچھا: اے ابن ام عبد تو نے کیا کچھ دیکھا ہے؟ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ کچھ دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ انھوں نے کہا، اس میں سے کوئی چیز مجھ پر مخفی نہیں ہے، یہ فرشتوں کا ایک گروہ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10290]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمرو البكالي لم يثبت سماعه لھذا الحديث من ابن مسعود، أخرجه بنحوه الترمذي: 2861، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3788 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3788»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 10291
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا كُنَّا بِالْعَرْجِ إِذَا نَحْنُ بِحَيَّةٍ تَضْطَرِبُ فَلَمْ تَلْبَثْ أَنْ مَاتَتْ فَأَخْرَجَ لَهَا رَجُلٌ خَرْقَةً مِنْ عَيْبَتِهِ فَلَفَّهَا فِيهَا وَدَفَنَهَا وَخَدَّ لَهَا فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا أَتَيْنَا مَكَّةَ فَإِنَّا لَبِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِذَا وَقَفَ عَلَيْنَا شَخْصٌ فَقَالَ أَيُّكُمْ صَاحِبُ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ قُلْنَا مَا نَعْرِفُهُ قَالَ أَيُّكُمْ صَاحِبُ الْجَانِّ قَالُوا هَذَا قَالَ إِمَّا أَنَّهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا إِمَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ آخِرِ التِّسْعَةِ مَوْتًا الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ
۔ صفوان بن معطل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ادائیگی ٔ حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم عرج مقام پر تھے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سانپ کپکپا رہا تھا اور پھر جلد ہی وہ مر گیا، ایک آدمی نے اپنے تھیلے سے ایک چیتھڑا نکالا، سانپ کواس میں لپیٹا اور زمین میں گڑا کھود کر اس کو دفن کر دیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے اور مسجد حرام میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی ہمارے پاس کھڑا ہوا اور اس نے کہا: تم میں عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟ ہم نے کہا: جی ہم تو اس کو نہیں جانتے، اس نے کہا: تم میں جنّوں والا کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ہے، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر دے، یہ جن ان نو جنوں میں سب سے آخر میں مرا ہے، جو قرآن مجید سننے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10291]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عمر بن نبھان العبدي ضعيف، وسلام ابو عيسي مجھول، أخرجه الطبراني في الكبير: 7345، والحاكم: 3/ 519، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22662 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23039»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
12. باب مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْأَرْوَاحِ وَآدَمَ وَذُرِّيَّتِهِ
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
حدیث نمبر: 10292
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَخَذَ مِنْ نُورِهِ مَا شَاءَ فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَصَابَ النُّورُ مَنْ شَاءَ أَنْ يُصِيبَهُ وَأَخْطَأَ مَنْ شَاءَ فَمَنْ أَصَابَهُ النُّورُ يَوْمَئِذٍ فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَ يَوْمَئِذٍ ضَلَّ فَلِذَلِكَ قُلْتُ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا، پھر ان کو اندھیرے میں رکھا اور اپنی مشیت کے مطابق اپنے نور میں سے کچھ حصہ لیا اور اس کو ان پر ڈال دیا، اللہ تعالیٰ کی چاہت کے مطابق وہ نور بعض افراد تک پہنچ گیا اور بعض تک نہ پہنچا، جس شخص کو اس دن وہ نور پہنچ گیا، وہ ہدایت پا گیا اور جو اس سے رہ گیا، وہ گمراہ ہوگیا۔ اسی لیے میں عبداللہ کہتا ہوں: جو کچھ ہونے والا ہے، اس پر قلم خشک ہوچکا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10292]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2642، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6854 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6854»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10293
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْهُمُ الْأَبْيَضُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَسْوَدُ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَبَيْنَ ذَلِكَ
۔ سیدناابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ساری زمین سے ایک مٹھی بھری اور اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا،یہی وجہ ہے کہ اولادِ آدم زمین کی مٹی کی نوعیت کے مطابق پیدا ہوئے ہیں،یعنی کوئی سفید ہے، کوئی سرخ ہے، کوئی سیاہ ہے اور کسی کی رنگتیں ان کے درمیان درمیان ہیں اور کوئی خبیث ہے، کوئی پاکیزہ مزاج ہے، کوئی نرم ہے، کوئی سخت ہے اور کوئی ان کے درمیان درمیان۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10293]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4693، والترمذي: 2955، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19582 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19811»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10294
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روحیں اکٹھاکیے گئے لشکر ہیں، جن جن کا وہاں تعارف ہوگیا، وہ مانوس ہوگئے اور جن کی آپس میں شناخت نہ ہو سکی، وہ مختلف ہو گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10294]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2638، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10836»
وضاحت: فوائد: … انسانی مزاجوں میں حیران کن فرق پایا جاتا ہے، ایک آدمی دوسرے پر جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، جبکہ دوسرا اس سے بول کر بھی راضی نہیں ہوتا، کسی کو اپنے بیوی بچے اس قدر پیارے لگتے ہیں کہ وہ سارا وقت ان کے اندر گزارنا چاہتا ہوتا ہے، جبکہ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کا سارا وقت گھر سے باہر دوستوں یاروں میں گزر جاتا ہے، غرضیکہ ہر آدمی کا میلان اور رجحان دوسرے سے مختلف ہے اور تقریباً ہر کوئی دوسرے کے مزاج پر نقد بھی کرتا ہے۔
دراصل عالَمِ اراوح میں اتفاق و اختلاف اور الفت و نفرت کی صورتیں اور شکلیں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں، دنیوی زندگی تو صرف ان کا مظہر ثابت ہوتی ہے۔
دراصل عالَمِ اراوح میں اتفاق و اختلاف اور الفت و نفرت کی صورتیں اور شکلیں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں، دنیوی زندگی تو صرف ان کا مظہر ثابت ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2638