🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْجِنِّ وَأَمُورٍ تَتَعَلَّقُ بِهِمْ
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10275
عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ لَهُ أَتُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ قَالَ فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ أَتُهَاجِرُ وَتَذَرُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ قَالَ فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ قَالَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ فَقَالَ لَهُ هُوَ جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ فَتُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقَسَّمُ الْمَالُ قَالَ فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَمَاتَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا سبرہ بن ابی فاکہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان ابن آدم کے راستوں پر بیٹھ جاتا ہے، پس وہ اسلام کے راستے پر بیٹھتا ہے اور اس کو کہتا ہے: کیا تو مسلمان ہو جائے گا اور اپنا اور اپنے آباء و اجداد کا دین چھوڑ دے گا؟ لیکن وہ اس کی نافرمانی کرکے اسلام قبول کرلیتا ہے، پھر وہ ہجرت کی راہ پر بیٹھ جاتا ہے اور اس کو کہتا ہے: کیا تو ہجرت کر جائے گا اور اپنے آسمان و زمینیعنی اپنے علاقے کو چھوڑ دے گا؟ اور مہاجر کی مثال تو رسی کے ساتھ بندھے ہوئے گھوڑے کی سی ہے، لیکن وہ اس کی نافرمانی کرکے ہجرت کر جاتا ہے، پھر وہ اس کے لیے جہاد کے راستے میں بیٹھ کر اس سے کہتا ہے: اس راہ میںنفس کی مشقت بھی ہے اور مال بھی خرچ ہو جاتا ہے، کیا تو اب قتال کر نے لگا ہے، تجھے تو قتل کر دیا جائے گا اور تیری بیوی سے نکاح کر لیا جائے گا اور تیرے مال کو تقسیم کر دیا جائے گا؟ لیکن وہ اس کی رائے کو ٹھکرا کر جہاد کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس عمل کے لیے نکل پڑا اور پھر وہ فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے، یا وہ شہید ہو گیا تو پھر بھی اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے، یا وہ پانی میں ڈوب ہو گیا تو پھر اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے، یا جانور نے اس کی گردن توڑ دی تو پھر بھی اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10275]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه النسائي: 6/ 21، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16054»
وضاحت: فوائد: … جب بھی اطاعت کا کام کرتے ہوئے یا برائی کو ترک کرتے ہوئے مسلمان میں اس قسم کا وسوسہ پیدا ہو تو وہ اس کو شیطان کی کوشش کا نتیجہ سمجھے اور اللہ تعالیٰ کی منشا پوری کرے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10276
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمَا تَحْقِرُونَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان اس بات سے ناامید ہو چکا ہے کہ تمھاری (جزیزۂ عرب کی) سرزمین میں اس کی عبادت کی جائے، لیکن وہ تم سے ایسے (گناہ کروا کے) راضی ہو جائے گا، جنھیں تم حقیر سمجھتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10276]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البيھقي في الشعب: 7264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8796»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10277
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان اس بات سے نا امید ہو چکا ہے کہ جزیرۂ عرب میں نمازی(یعنی مسلمان) اس کی عبادت کریں، لیکن وہ انھیں (لڑائی، جھگڑے اور جنگ و جدل کے) فساد پر آمادہ کرتا رہے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10277]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14366 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14419»
وضاحت: فوائد: … بعض شارحین نے کہا: حدیث ِ مبارکہ کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ شیطان اس بات سے ناامید ہو چکا ہے کہ جزیرۂ عرب میں کوئی مؤمن مرتد ہو کر بتوں کی پوجا پاٹ کرنا شروع کر دے اور اپنے شرک کی طرف پلٹ جائے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسیلمہ کے اصحاب اور مانعینِزکوۃ وغیرہ مرتد ہو گئے تھے، تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ انھوں نے کسی بت کی عبادت نہیں کی تھی۔ لیکن ملا علی قاری نے کہا: اس حدیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ شیطان کی دعوت عام ہے، جو کفر کی تمام انواع پر مشتمل ہے اور صرف بتوں کی عبادت کے ساتھ خاص نہیں ہے، زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو اس مفہوم پر محمول کیا جائے کہ نمازی لوگ نماز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ شیطان کی عبادت نہیں کریں گے، جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا تھا۔ (دیکھیں: تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۲۷)
اس حدیث کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے شیطان جزیرۂ عرب میں غالب تھا اور شرک و بدعت عام تھے، دوبارہ وہ اس طرح کا غلبہ نہیں پا سکے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2812
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10278
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُبْعَثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سورج غروب ہو جائے تو اپنے مویشیوں اور بچوں کو باہر نہ بھیجا کرو، یہاں تک کہ رات کاابتدائی اندھیرا ختم ہو جائے، کیونکہ غروب آفتاب کے بعد شیطانوں کو بھیجا جاتا ہے، یہاں تک کہ رات کا ابتدائی اندھیرا ختم ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10278]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2013، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14394»
وضاحت: فوائد: … اس میں بچوں کی روحانی حفاظت کی تلقین کی گئی ہے، جو والدین کی سب سے اہم ذمہ داری ہے، لیکن آج کل ہر باپ کا ہدف عصری تعلیم کا حصول ہے، والدین اور خاندانوں کے سربراہان بچوں کی روحانی تربیت سے غافل ہیں۔ نماز، تلاوت ِ قرآن، ذکر اذکار، سونے اور بیدار ہونے کی دعائیں، کھانے پینے کے آداب اور حسن اخلاق کے سلسلے میں ان کی کوئی نگرانی نہیں کی جاتی۔ ایسے والدین تو عنقا بن چکے ہیں جو کہیں کہ بیٹا! پانی پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھو، بیٹھ کر پیو، دائیں ہاتھ سے پیو، تین سانس لو اور برتن کے اندر سانس نہ لو، کیونکہیہ ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاکیزہ تعلیمات ہیں۔ بس ہر ایک باپ کییہی تمنا ہے کہ اس کا بچہ تہذیب ِ نو اور جدّت پرستی میں ڈھلا ہوا ہو، جدید علوم و معارف سے آراستہ ہو، اعلی عہدے پر فائز ہو، کم سنی میں ہی انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھتا ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔
قارئین کرام! آپ کی تمناؤں میں کوئی قباحت نہیں، لیکن اگر یہی خواہشات بچوں کا مقصودِ زندگی بنا دی جائیں تو کسی پہلو میں خیر نہیں رہتی۔
نیزاس حدیث کا اہم تقاضا یہ ہے کہ غروب ِ آفتاب کے وقت بچوں کو گھر میں بحفاظت رکھا جائے، تاکہ وہ شیطانوں کے شرّ سے محفوظ رہ سکیں اور ان کی روح متأثر نہ ہو، لیکن آج کل دیکھایہ گیا ہے کہ اس وقت بچے گلیوں، سڑکوں اور میدانوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ اس دور کے بچوں میں خیر و بھلائی کے معدوم ہونے کییہی وجہ ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2013
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10279
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ قَالَتْ فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ قَالَتْ وَمَا لِي أَنْ لَا يَغَارَ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفَأَخَذَكِ شَيْطَانُكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَمَعِيَ شَيْطَانٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو اس کے پاس سے نکل گئے، مجھے بڑی غیرت آئی (کہ باری میری ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہیں)، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے آئے اور اس کودیکھا، جو کچھ میں نے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ!تجھے کیا ہو گیا ہے؟ کیا غیرت آ گئی ہے؟ میں نے کہا: بھلا مجھ جیسی خاتون آپ جیسی شخصیت پر غیرت کیوں نہ کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا شیطان تجھ پر مسلط ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری معاونت کی،یہاں تک کہ وہ مطیع ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10279]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25357»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2815
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10280
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الشَّيْطَانِ قَالُوا وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی کے ساتھ شیطان سے اس کاساتھی مقرر کیا گیا ہے۔لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی ہے اور وہ مطیعہو گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10280]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 2440، والطبراني: 12620، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2323»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10281
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَفِيهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِحَقٍّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر اسی طرح کی روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے: اور لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی، پس وہ مجھے صرف حق کا حکم دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10281]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3648»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2814
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10282
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ قُلْنَا وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان عورتوں کے پاس نہ جایا کرو، جن کے خاوند موجود نہ ہوں، کیونکہ شیطان تم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ شیطان آپ میں بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ میں بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے خلاف میری مدد کی ہے، پس وہ مطیع ہو گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10282]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وقد جمع مجالد في ھذا المتن ثلاثة احاديث، وھي صحيحة بالشواھد، أخرجه الترمذي: 1172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14375»
وضاحت: فوائد: … شیطان کا خون کی طرح گردش کرنا، اس کو حقیقت پر محمول کیا جائے گا کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے اتنی طاقت دی ہے کہ وہ انسان کے بدن کے اندر اس طرح گردش کر سکتا ہے، یا ا س سے مراد یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ وسوسے ڈالتا ہے اور گمراہ کرنے کے لیے کئی اسباب اور طریقے استعمال کرتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10283
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيَّ الشَّيْطَانُ فَأَخَذْتُهُ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى لَأَجِدُ بَرْدَ لِسَانِهِ فِي يَدَيَّ فَقَالَ أَوْجَعْتَنِي أَوْجَعْتَنِي
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان میرے پاس سے گزرا، میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا گلا دبایا،یہاں تک کہ مجھے اپنے ہاتھ پر اس کی زبان کی ٹھنڈک محسوس ہوئی، اس نے مجھے کہا: آپ نے مجھے تکلیف دی ہے، آپ نے مجھے تکلیف دی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10283]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه، أخرجه البيھقي: 2/ 219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3926»
وضاحت: فوائد: … لیکن اس مضمون کی درج ذیل روایت پر غور کریں:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَامَ فَصَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ وَھُوَ خَلْفَہُ، فَقَرَأ، فَالْتَبَسَتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: ((لَوْ رَأیْتُمُوْنِیْ وَإبْلِیْسَ فَأھْوَیْتُ بِیَدِیْ، فَمَازِلْتُ أَخْنُقُہُ حَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ لُعَابِہِ بَیْنَ إصْبَعَیَّ ھَاتَیْنِ: الإبْھَامَ وَالَّتِیْ تَلِیْھَا، وَلَوْلَا دَعْوَۃُ أخِی سُلَیْمَانَ، لأَصْبَحَ مَرْبُوْطًا بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ یَتَلَاعَبُ بِہِ صِبْیَانُ الْمَدِیْنَۃِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أنْ لَایَحُوْلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ أحَدٌ فَلْیَفْعَلْ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز فجر ادا کی اوروہ (ابو سعید) آپ کے پیچھے تھے، آپ نے قرأت فرمائی توآپ پرقرأت خلط ملط ہونے لگی۔جب آپ نمازسے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: کاش کہ تم مجھے اورابلیس کودیکھتے، میں نے اپناہاتھ بڑھایا اور اُس کا گلا گھونٹتا رہا، حتی کہ مجھے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی کے درمیان اس کے لعاب کی
ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ اس حال میں صبح کرتا کہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینے کے بچے اُس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔ تم میں سے جس میں یہ استطاعت ہو کہ (دورانِ نماز) اس کے اور اس کے قبلہ کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے۔ (أحمد: ۳/۸۲، ورواہ ابوداود: ۶۹۹ مختصرا، صحیحۃ:۳۲۵۱)
اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطانی حملوں سے مکمل محفوظ تھے، لیکن ابلیس اپنے خبث ِ باطن کا اظہار کرتا رہتا تھا اور نتیجتاً ناکام و نامراد ہو کر واپس لوٹتاتھا۔
سلیمان علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی: {وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لَایَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِیْ} (سورۂ ص: ۳۵) … اور (اے اللہ!) مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما، جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔
حافظ ابن حجرؒنےکہا: اسحدیث سے اشارہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلیمان علیہ السلام کی رعایت کرتے ہوئے ابلیس کو چھوڑ دیا تھا، لیکنیہ بھی احتمال ہے سلیمان علیہ السلام کی خصوصیتیہ ہو کہ وہ جو کام چاہتے جنوں سے کروا لیتے تھے۔ (فتح الباری)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10284
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا نَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي فَإِذَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذِهِ الشَّيَاطِينُ تَحُومُ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو دیکھا کہ میری نچلی طرف غبار، دھواں اور آوازیں تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ شیطان ہیں، جو بنو آدم کی آنکھوں کے سامنے منڈلا رہے ہیں، تاکہ وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہیوں میں غور و فکر نہ کر سکیں، اگر یہ نہ ہوتے تو وہ عجیب عجیب چیزیں دیکھتے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10284]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد، وجھالة ابي الصلت، أخرجه ابن ماجه: 2273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8625»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں