🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ ذِكْرِ نَبِيِّ اللَّهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10357
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ فَقَالَ أَلَمْ أُغْنِكَ يَا أَيُّوبُ قَالَ يَا رَبِّ وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ أَوْ قَالَ مِنْ فَضْلِكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں گرائی گئیں، انھوں نے ان کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا، اللہ تعالیٰ نے کہا: اے ایوب کیا میں نے تجھے کو غنی نہیں کر دیا؟ انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! بھلا کون تیری رحمت یا تیرے فضل سے سیر ہو سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10357]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 279، 3391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8038 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8025»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10358
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أُغْنِيكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لَا غِنًى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایوب ننگے ہو کر غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گر پڑیں، انھوں نے ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنا شروع کر دیا، ربّ تعالیٰ نے آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کر دیا، جو تو دیکھ رہا ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے ربّ! لیکن تیری برکتوں سے مجھے کوئی غِنٰی نہیں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10358]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8144»
وضاحت: فوائد: … ایوب علیہ السلام نے اس سونے کو اللہ تعالیٰ کی برکت سمجھ کر اکٹھا کرنا شروع کر دیا، نہ کہ مال سمجھ کر۔
معلوم ہوا کہ جب آدمی اکیلا ہو، اس وقت ننگا ہو کر نہا سکتا ہے، کیونکہ نہ اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو ڈانٹا اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد مزید کوئی وضاحت کی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ ذِكْرِ نَبِيُّ اللَّهِ يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
اللہ کے نبی یونس علیہ السلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10359
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ
۔ ابو عالیہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کے چچازاد نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کہا: کسی بندے کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10359]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3413، 7539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3179»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10360
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى نَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ أَصَابَ ذَنْبًا ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا، انھوں نے گناہ کیا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو منتخب کر لیا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10360]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3252»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10361
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى) ) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ مِثْلَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10361]
تخریج الحدیث: «أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1757»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۳) اس آیت کا مطلب ہوا کہ بعض انبیاء ورسل کو بعض پر زیادہ فضیلت عطا کی گئی۔
ان احادیث ِ مبارکہ کا مقصود یہ ہے کہ کوئی نبی اور کوئی شخص از راہِ افتخار یا تنقیصیہ نہ کہے کہ وہ یونس علیہ السلام سے بہتر اور افضل ہے، اگر یونس علیہ السلام سے اعلی نبی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے یا کسی اور دینی فائدے کے لیے اپنی فضیلت کی بات بیان کرے تو ایسا کرنے میںکوئی حرج نہیں ہو گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((انا سید ولد آدم ولا فخر۔)) … میں اولادِ آدم کا سردارہوں، لیکن اس پر فخر نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10362
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (لِعَبْدٍ) ) بَدَلَ ( (نَبِيٍّ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: … …، اس حدیث میں نبی کے الفاظ کے بجائے بندے کا لفظ ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10362]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3416، 4631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9244»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ ذِي النُّوْن يَعْنِى يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَحَجه
مچھلی والے یعنی یونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10363
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي وَالِدِي مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ قَالَ مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ فَأَتَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ شَيْءٌ مَرَّتَيْنِ قَالَ لَا وَمَا ذَاكَ قُلْتُ لَا إِلَّا أَنِّي مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ آنِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ قَالَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عُثْمَانَ فَدَعَاهُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ لَا تَكُونَ رَدَدْتَ عَلَى أَخِيكَ السَّلَامَ قَالَ عُثْمَانُ مَا فَعَلْتُ قَالَ سَعْدٌ قُلْتُ بَلَى قَالَ حَتَّى حَلَفَ وَحَلَفْتُ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ ذَكَرَ فَقَالَ بَلَى وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ إِنَّكَ مَرَرْتَ بِي آنِفًا وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا وَاللَّهِ مَا ذَكَرْتُهَا قَطُّ إِلَّا تَغَشَّى بَصَرِي وَقَلْبِي غِشَاوَةٌ قَالَ سَعْدٌ فَأَنَا أُنَبِّئُكَ بِهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَشَغَلَهُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتْبَعْتُهُ فَلَمَّا أَشْفَقْتُ أَنْ يَسْبِقَنِي إِلَى مَنْزِلِهِ ضَرَبْتُ بِقَدَمِي الْأَرْضَ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ( (مَنْ هَذَا أَبُو إِسْحَاقَ) ) قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (فَمَهْ) ) قُلْتُ لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّكَ ذَكَرْتَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ثُمَّ جَاءَ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ فَشَغَلَكَ قَالَ ( (نَعَمْ دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ {لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ} فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ) )
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اور میں نے ان کو سلام کہا، لیکن انھوں نے آنکھ بھر کر مجھے دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پس میں امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! کیا اسلام میں کوئی چیز نئی ظاہر ہو گئی ہے؟ دو ددفعہ کہا، انھوں نے کہا: جی نہیں، بھلا بات کون سی ہے؟ میں نے کہا: جی کوئی بات نہیں، بس اتنا ضرور ہوا ہے کہ میں ابھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، ان کو سلام کہا، انھوں نے آنکھ بھر کر مجھے دیکھا، لیکن میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے کہا: کس چیز نے تم کو اپنے بھائی کے سلام کا جواب دینے سے روک دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں نے تو ایسا کوئی کام نہیں کیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، ایسے ہوا ہے، یہاں تک کہ انھوں نے بھی قسم اٹھا دی اور میں نے بھی قسم کھا لی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ابھی تم میرے پاس سے گزرے تھے اور میں اپنے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ایکحدیثیاد کر رہا تھا، نہیں، اللہ کی قسم، میں جب بھی اس حدیث کو یاد کرتا ہوں تو میری آنکھوں اور دل پر ایک پردہ چڑھ جاتا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی تم کو ایک بات بتلاتا ہوں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتلانا چاہی کہ پہلی دعا، پھر ایک بدّو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مصروف کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہو لیا، جب مجھے یہ شبہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف مجھ سے آگے نکل جائیں گے، تو میں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف توجہ کی اور فرمایا: یہ کون ہے؟ ابو اسحاق ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! کوئی بات نہیں، بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکر کیا تھا کہ پہلی دعا، پھر یہ بدّو آ گیا اور اس نے آپ کو مصروف کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ مچھلی والے کیدعا ہے، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انھوں نے یہ دعا کی تھی: {لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ} (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر تو ہی، تو پاک ہے، بیشک میں ظالموں میں سے ہوں)۔ جو مسلمان جس چیز کے لیے ان الفاظ کے ساتھ اپنے ربّ کو پکارے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پکار قبول کرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10363]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مختصرا الترمذي: 3505، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1462»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10364
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِثَنِيَّةِ هَرْشَاءَ حِينَ حَجَّ قَالَ ( (أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ) ) قَالُوا ثَنِيَّةُ هَرْشَاءَ قَالَ ( (كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ) ) قَالَ يَعْنِي لِيفًا ( (وَهُوَ يُلَبِّي) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفرِ حج کے دوران ہرشاء گھاٹی کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی گھاٹی ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ ہرشاء کی گھاٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گویا میںیونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں، وہ سرخ اور پر گوشت اونٹنی پر سوار ہیں، انھوں نے اون کا جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے پتوں کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10364]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1854 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1854»
وضاحت: فوائد: … یونس علیہ السلام کو مذکورہ ہیئت میں کیسے بیان کیا گیا؟ دو صورتیں ممکن ہیں: (۱)جس طرح وہ دنیوی زندگی میں عبادت کرتے، حج کرتے اور تلبیہ کہتے تھے، تمثیلی طور پر ان کو اسی شکل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیایا (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے خواب میں اسی طرح دیکھا تھا۔ واللہ اعلم

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْل نَبِيِّ اللَّهِ مُوسَى وَ شَيْءٍ مِنْ فَضْلٍ نَبِيِّنَا عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسّلامُ
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10365
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ وَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى الْعَالَمِينَ فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ فَلَطَمَ عَيْنَ الْيَهُودِيِّ فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَفِيقُ فَأَجِدُ مُوسَى مُمْسِكًا بِجَانِبِ الْعَرْشِ فَمَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایکیہودی نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جہانوں پر منتخب کیا،یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو جہانوں پرمنتخب کیا،یہ بات سن کر مسلمان کو غصہ آیا اور اس نے یہودی کی آنکھ پر تھپڑ دے مارا، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس جھگڑے کی تفصیل بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسلمان سے پوچھا، اس نے اعتراف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے موسی پر ترجیح نہ دو، پس بیشک لوگ قیامت کے دن بیہوش ہوں گے، سب سے پہلے مجھے افاقہ ہو گا، پس میں موسی علیہ السلام کو اس حال میں پاؤں گا کہ وہ عرش کے پہلو کے ساتھ کھڑے ہوں گے، پس میں نہیں جانتا کہ کیا وہ بھی بیہوش ہوئے تھے اور مجھ سے پہلے ان کو افاقہ ہو گیایا اللہ تعالیٰ نے ان کو مستثنی رکھا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10365]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2411، 6517، ومسلم: 2373، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7576»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَـلَا اَدْرِیْ اَحُوْسِبَ بِصَعْقَۃِیَوْمِ الطُّوْرِ اَوْ أَفَاقَ قَبْلِیْ)) … پس میں یہ نہیں جانتا کہ کیا موسی علیہ السلام کی طور والے دن بیہوشی کو کافی سمجھ لیا گیایا وہ بیہوش تو ہوئے، لیکن ان کو مجھ سے پہلے افاقہ ہو گیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10366
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم انبیائے کرام کے ما بین ترجیح نہ دیا کرو۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10366]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6916، ومسلم: 2374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11957»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ تمام انبیاء و رسل کا ادب کیا جائے اور اس انداز میں بعض کی برتری بیان نہ کی جائے کہ جس سے دوسرے کی تنقیص اور سوئے ادب والا معاملہ لازم آ رہا ہو، لیکن اس حدیث مبارکہ کا یہ مطلب نہیں کہ بعض انبیائ، بعض سے افضل نہیں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۳)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں