الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ ذِكْرِ نَسَبهِ الشَّرِيفِ وَطَيْب أَصْلِهِ الْمُنِيفِ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
حدیث نمبر: 10454
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ كِنَانَةَ وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اولادِ ابراہیم سے اسماعیل کو، بنو اسماعیل سے کنانہ کو، بنو کنانہ سے قریش کو، قریش سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10454]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: اصطفي من ولد ابراهيم اسماعيل، أخرجه مسلم: 2276 دون لفظة: اصطفي من ولد ابراهيم اسماعيل، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16987 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17112»
وضاحت: فوائد: … شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عرب بلحاظ جنس عجمیوں سے افضل ہیں، پھر عربوں میں قریشی، قریشیوں میں بنی ہاشم اور بنو ہاشم میں سب سے زیادہ فضیلت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری انسانیت میں سب سے زیادہ فضیلت پانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برتری اور فضیلت عطا کی، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب کی فضیلت کا بیان ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برتری اور فضیلت عطا کی، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب کی فضیلت کا بیان ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10455
عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّا لَنَسْمَعُ مِنْ قَوْمِكَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ مِنْهُمْ إِنَّمَا مِثْلُ مُحَمَّدٍ مِثْلُ نَخْلَةٍ نَبَتَتْ فِي كِبَاءٍ قَالَ حُسَيْنٌ الْكِبَاءُ الْكِنَاسَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَنَا قَالُوا أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ فَمَا سَمِعْنَاهُ قَطُّ يَنْتَمِي قَبْلَهَا أَلَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ خَلْقِهِ ثُمَّ فَرَّقَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ الْفِرْقَتَيْنِ ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ بَيْتًا وَأَنَا خَيْرُكُمْ بَيْتًا وَخَيْرُكُمْ نَفْسًا
۔ سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہم آپ کی قوم کی باتیں سنتے ہیں، وہ تو آپ کے بارے میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے، جو جھاڑو سے اکٹھا ہونے والے کوڑے سے پیداہوتی ہے، حسین راوی نے کہا: کِبَائ سے مراد جھاڑو سے اکٹھا ہونے والا کوڑا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میں کون ہوں؟ انھوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ اس سے پہلے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا نسب بیان کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق (جن و انس) کو پیدا کیا اور مجھے بہترین مخلوق (یعنی انسانوں) میں سے بنایا، پھر انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین حصے میں رکھا، پھر اس کو قبیلوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر اس کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین گھر والا قرار دیا، پس میں تم میں گھر کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور نفس کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10455]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 657، وابن ابي شيبة: 11/ 430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17658»
وضاحت: فوائد: … جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسب و نسب پر طعن کرتے ہوئے کہ کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے …۔ تو جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فخریہ انداز میں اپنا نسب بیان کیا کہ بنی آدم میں سب سے زیادہ شرف و عظمت والا نسب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نصیبے میں آیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن احادیث میں آباء و اجداد کی وجہ سے فخر کرنے سے منع فرمایا، اس سے مراد وہ انداز ہے، جو ضرورت کے بغیر ہو اور جس کا نتیجہ تکبر اور دوسرے مسلمان کی تحقیر ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن احادیث میں آباء و اجداد کی وجہ سے فخر کرنے سے منع فرمایا، اس سے مراد وہ انداز ہے، جو ضرورت کے بغیر ہو اور جس کا نتیجہ تکبر اور دوسرے مسلمان کی تحقیر ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10456
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ هَيْضَمٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدٍ لَا يَرَوْنَ أَنِّي أَفْضَلُهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّنَا نَزْعَمُ أَنَّكُمْ مِنَّا قَالَ نَحْنُ بَنُو النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ لَا نَقْفُو أُمَّنَا وَلَا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا قَالَ فَكَانَ الْأَشْعَثُ يَقُولُ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ نَفَى قُرَيْشًا مِنَ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ إِلَّا جَلَدْتُهُ الْحَدَّ
۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس وفد کے لوگوں کا خیال نہ تھا کہ میں ان میں افضل ہوں، اس لیے میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا یہ خیال ہے کہ آپ لوگ ہم میں سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بنو نضر بن کنانہ ہیں،ہم نہ اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں اور نہ اپنے باپ کی نفی کرتے ہے۔ اشعث کہتے تھے: اگر میرے پاس کوئی ایسا بندہ لایا گیا جس نے قریش کی نضر بن کنانہ سے نفی کی تو میں اس کو حد لگانے کے لیے کوڑے لگاؤں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10456]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 2612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22182»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی پہلی حدیث کو سامنے رکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب پر غور کریں:
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قُصَی بن کِلاب بن مُرّہ بن کعب بن لُؤیّ بن غالب بن فِہر بن مالک بن نضر بن کِنانہ بن خزیمہ بن مُدرِکہ بن الیاس بن مضر بن نِزار بن معَد بن عدنان۔ عدنان بالاتفاق حضرت اسماعل علیہ السلام کی نسل سے ہیں، لیکن اِن دونوں کے درمیان کتنی پشتیں ہیں اور ان کے نام کیا کیا ہیں، اس بارے بڑا اختلاف ہے۔
آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے، جو پورے عرب میں سب سے معزز قبیلہ تھا، قریش دراصل فہر بن مالک یا نضر بن کنانہ کا لقب تھا، بعد میں اس کی اولاد اسی نسبت سے مشہور ہوئی۔
اس حدیث ِمبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قبیلے کی ایک صفت بیان کی ہے۔
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قُصَی بن کِلاب بن مُرّہ بن کعب بن لُؤیّ بن غالب بن فِہر بن مالک بن نضر بن کِنانہ بن خزیمہ بن مُدرِکہ بن الیاس بن مضر بن نِزار بن معَد بن عدنان۔ عدنان بالاتفاق حضرت اسماعل علیہ السلام کی نسل سے ہیں، لیکن اِن دونوں کے درمیان کتنی پشتیں ہیں اور ان کے نام کیا کیا ہیں، اس بارے بڑا اختلاف ہے۔
آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے، جو پورے عرب میں سب سے معزز قبیلہ تھا، قریش دراصل فہر بن مالک یا نضر بن کنانہ کا لقب تھا، بعد میں اس کی اولاد اسی نسبت سے مشہور ہوئی۔
اس حدیث ِمبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قبیلے کی ایک صفت بیان کی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَعْضِ فَضَائِلِهِ وَأَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لا نَبِي بَعْدَهُ
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
حدیث نمبر: 10457
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ وَسَأُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِ ذَلِكَ دَعْوَةِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبَشَارَةِ عِيسَى قَوْمَهُ وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ وَكَذَلِكَ تَرَى أُمَّهَاتُ النَّبِيِّينَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ ہوں، جس کو ام الکتاب میں اس وقت خاتم النبین لکھ دیا گیا تھا، جب آدم علیہ السلام ابھی تک اپنی مٹی میں پڑے ہوئے تھے، اور میں عنقریب تم کو اس کی تأویل کے بارے میں بتلاؤں گا، میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں، میری ماں نے خواب دیکھا تھا کہ اس سے ایک ایسا نور نکلا، جس نے اس کے لیے شام کے محلات روشن کر دیئے اور نبیوں کی مائیں اسی طرح کے خواب دیکھتی رہی ہیں، اللہ تعالیٰ کی ان پررحمتیں ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10457]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: وكذالك تري امهات النبيين صلوات الله عليھم، وھذا اسناد ضعيف، بين سعيد بن سويد و العرباض بن سارية عبدُ الاعلي بن ھلال السلمي ضعيف، أخرجه الحاكم: 2/600، والبزار: 2365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17295»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے شروع والے حصے میں تقدیر کا مسئلہ بیان کیا گیا کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان صفات کا فیصلہ ہو چکا تھا۔
ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں ان الفاظ میں دعا کی: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ} … اے ہمارے رب! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انھیں کتاب و حکمت سکھائے اور انھیں پاک کرے، بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۲۹)
عیسی علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں جو بشارت دی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: {وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ ٰیبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰئۃِ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗٓاَحْمَدُ } … اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تورات کی صورت میں ہے اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں،جو میرے بعد آئے گا،اس کا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کرآیا تو انھوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے۔ (سورۂ صف: ۶)
ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں ان الفاظ میں دعا کی: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ} … اے ہمارے رب! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انھیں کتاب و حکمت سکھائے اور انھیں پاک کرے، بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۲۹)
عیسی علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں جو بشارت دی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: {وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ ٰیبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰئۃِ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗٓاَحْمَدُ } … اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تورات کی صورت میں ہے اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں،جو میرے بعد آئے گا،اس کا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کرآیا تو انھوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے۔ (سورۂ صف: ۶)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10458
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَتَى كُنْتَ وَفِي لَفْظٍ جُعِلْتَ نَبِيًّا قَالَ وَآدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ
۔ سیدنا میسرہ فجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کب نبی بنایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت نبی بنا دیا گیا تھا کہ ابھی تک آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10458]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 834، والحاكم: 2/ 608، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20872»
وضاحت: فوائد: … یہ تقدیر کا مسئلہ بیان کیا جا رہا ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا فیصلہ لکھا جا چکا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10459
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ وَدَجَّالُونَ سَبْعَةٌ وَعِشْرُونَ مِنْهُمْ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ستائیس کذاب اور جھوٹے ہوں گے، ان میں سے چار خواتین ہوں گی، جبکہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10459]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 3026، والبزار: 2888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23750»
وضاحت: فوائد: … بعض روایات میں تیس جھوٹے مدعیان نبوت کا ذکر ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آیا ہے نہ آئے گا اور ایسا دعوی کرنے والا جھوٹا، کذاب اور دجال قرار پائے گا۔
ذہن نشین رہے کہ اس حدیث سے وہ مدعیانِ نبوت مراد نہیں جنھوں نے مطلق طور پر نبوت کا دعوی کیا، کیونکہ ایسے لوگ تو بہت زیادہ ہیں۔ احادیث میں جن ستائیسیا تیس کذابوں کا ذکر ہے، ان سے مراد وہ کم بخت ہیں، جن کو اس دعوی کی وجہ سے شان و شوکت ملی اور ان کو اپنی نبوت پر واقعی شبہ ہونے لگا، پھر لوگوں کی معقول تعداد بھی ان کے ساتھ ہو گئی۔ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کا مسئلہ ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: جن دجّالوں نے نبوت کا دعوت کیا، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہندی ہے، جس نے ہند پر برطانوی استعمار کے عہد میں یہ دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، پھر اس نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام باور کرایا اور بالآخر نبوت کا دعوی کر دیا، قرآن و سنت کا علم نہ رکھنے والے کئی جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ ہند اور شام کے ایسے باشندوں سے میری ملاقات ہوئی، جو اس کی نبوت کے قائل تھے۔ میرے اور ان کے مابین کئی مناظرے اور بحث مباحثے ہوئے، ان میں سے ایک تحریری مناظرہ بھی تھا۔ ان مناظروںمیں ان کا دعوی تھا کہ ان کا عقیدہیہ ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کئی انبیاء آئیں گے، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ شروع شروع میں انھوں نے ورغلانا اور پھسلانا چاہا اور مناظرہ کے اصل موضوع سے صرف نظر کرنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کے حیلوں بہانوں کا انکار کیا اور اصل موضوع پر ڈٹا رہا۔ پس وہ بری ہزیمت سے دوچار ہوئے اور حاضرین مجلس کو پتہ چل گیا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔
ان کے کچھ دوسرے عقائد بھی باطل اور اجماعِ امت کے مخالف ہیں، بطورِ مثال: جسمانی بعث کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ جنت و جہنم کا تعلق روح سے ہے، نہ کہ جسم سے۔ کافروں کو دیا جائے والا عذاب بالآخر منقطع ہو جائے گا۔ جنوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور جن جنوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے، وہ حقیقت میں انسانوں کی ایک جماعت ہے۔
جبیہ لوگ قرآن کی کوئی آیت اپنے عقائد کے مخالف پاتے ہیں تو باطنیہ اور قرامطہ جیسے باطل فرقوں کی طرح اس کی غیر مقبول اور قابل انکار تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے انگریز مسلمانوں کے خلاف ان کی تائید و نصرت کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مسلمانوں پر انگریزوںسے جنگ کرنا حرام ہے۔ میں نے ان پر ردّ کرنے کے لیے کئی کتابیں تالیف کیں اور ان میں یہ وضاحت کی کہ یہ فرقہ جماعۃ المسلمین سے خارج ہے۔ ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۸۳)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آیا ہے نہ آئے گا اور ایسا دعوی کرنے والا جھوٹا، کذاب اور دجال قرار پائے گا۔
ذہن نشین رہے کہ اس حدیث سے وہ مدعیانِ نبوت مراد نہیں جنھوں نے مطلق طور پر نبوت کا دعوی کیا، کیونکہ ایسے لوگ تو بہت زیادہ ہیں۔ احادیث میں جن ستائیسیا تیس کذابوں کا ذکر ہے، ان سے مراد وہ کم بخت ہیں، جن کو اس دعوی کی وجہ سے شان و شوکت ملی اور ان کو اپنی نبوت پر واقعی شبہ ہونے لگا، پھر لوگوں کی معقول تعداد بھی ان کے ساتھ ہو گئی۔ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کا مسئلہ ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: جن دجّالوں نے نبوت کا دعوت کیا، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہندی ہے، جس نے ہند پر برطانوی استعمار کے عہد میں یہ دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، پھر اس نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام باور کرایا اور بالآخر نبوت کا دعوی کر دیا، قرآن و سنت کا علم نہ رکھنے والے کئی جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ ہند اور شام کے ایسے باشندوں سے میری ملاقات ہوئی، جو اس کی نبوت کے قائل تھے۔ میرے اور ان کے مابین کئی مناظرے اور بحث مباحثے ہوئے، ان میں سے ایک تحریری مناظرہ بھی تھا۔ ان مناظروںمیں ان کا دعوی تھا کہ ان کا عقیدہیہ ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کئی انبیاء آئیں گے، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ شروع شروع میں انھوں نے ورغلانا اور پھسلانا چاہا اور مناظرہ کے اصل موضوع سے صرف نظر کرنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کے حیلوں بہانوں کا انکار کیا اور اصل موضوع پر ڈٹا رہا۔ پس وہ بری ہزیمت سے دوچار ہوئے اور حاضرین مجلس کو پتہ چل گیا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔
ان کے کچھ دوسرے عقائد بھی باطل اور اجماعِ امت کے مخالف ہیں، بطورِ مثال: جسمانی بعث کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ جنت و جہنم کا تعلق روح سے ہے، نہ کہ جسم سے۔ کافروں کو دیا جائے والا عذاب بالآخر منقطع ہو جائے گا۔ جنوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور جن جنوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے، وہ حقیقت میں انسانوں کی ایک جماعت ہے۔
جبیہ لوگ قرآن کی کوئی آیت اپنے عقائد کے مخالف پاتے ہیں تو باطنیہ اور قرامطہ جیسے باطل فرقوں کی طرح اس کی غیر مقبول اور قابل انکار تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے انگریز مسلمانوں کے خلاف ان کی تائید و نصرت کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مسلمانوں پر انگریزوںسے جنگ کرنا حرام ہے۔ میں نے ان پر ردّ کرنے کے لیے کئی کتابیں تالیف کیں اور ان میں یہ وضاحت کی کہ یہ فرقہ جماعۃ المسلمین سے خارج ہے۔ ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۸۳)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10460
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا سَيِّدُ وَلْدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے، میں وہ پہلا شخص ہوں گا کہ جس سے قیامت کے روزے زمین پھٹے گی اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے اور میں بروز قیامت سب سے پہلا سفارشی ہوں گا اور مجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10460]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10987 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11000»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اور اپنی امت کو بتلاتے ہوئے اپنے خصائلِ حمیدہ کا ذکر کیا، تواضع کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ میں بھی فخر کی نفی کر دی۔
شفاعتِ عظمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے، یہ وہ سفارش ہے کہ جس کی بنا پر اللہ کی مخلوق میں حساب کتاب شروع ہو گا۔
شفاعتِ عظمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے، یہ وہ سفارش ہے کہ جس کی بنا پر اللہ کی مخلوق میں حساب کتاب شروع ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10461
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ وَلَا فَخْرَ) )
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں انبیاء کا امام اور خطیب ہوں گا اور میں سفارش کرنے والا ہوں گا، جبکہ مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10461]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي باثر الحديث: 2613، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21256 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21576»
وضاحت: فوائد: … جب انبیائے کرام اللہ تعالیٰ کے پاس آئیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف سے بات کریں گے، حدیث نمبر (۱۰۳۲۲) سے اس حدیث کی وضاحت ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ ذِكْرِ بَعْضِ أَسْمَائِهِ الشَّرِيفَةِ وَأَنَّهُ أَوَّلُ النَّبِيِّينَ وَآخِرُهُمْ وَأَفْضَلُهُمْ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 10462
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَيَّ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ) )
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، لوگوں کا میرے قدم پر حشر ہو گا، میں ماحی ہوں، یعنی میرے ذریعے کفر کو مٹایا جائے گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے، جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10462]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4896، ومسلم: 2354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16854»
وضاحت: فوائد: … مُحَمَّد: وہ شخصیت جس کی تعریف کی گئی ہو۔
اَحْمَد: اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ حمد و ثنا بیان کرنے والا۔
اَلْحَاشِر: جس کے قدم پر لوگوں کا حشر ہو گا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد لوگ حشر میں جائیں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد قیامت آئے گی، پہلے نہیں آ سکتی۔
اَلْمَاحِی: اس کا لفظی معنی مٹانے والا اور اثر زائل کرنے والا ہے، مراد وہ ہستی جس کے ذریعے زمین کے ان خطّوں سے کفر کو مٹا دیا جائے گا، جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین پہنچے گا اور بالآخر عیسی علیہ السلام کے نزول کے وقت سارا کفر مٹ جائے گا۔
اَلْعَاقِب: لفظی معنی سب کے اخیر میں آنے والا ہے، مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاتم النبیین ہوناہے۔
اَحْمَد: اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ حمد و ثنا بیان کرنے والا۔
اَلْحَاشِر: جس کے قدم پر لوگوں کا حشر ہو گا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد لوگ حشر میں جائیں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد قیامت آئے گی، پہلے نہیں آ سکتی۔
اَلْمَاحِی: اس کا لفظی معنی مٹانے والا اور اثر زائل کرنے والا ہے، مراد وہ ہستی جس کے ذریعے زمین کے ان خطّوں سے کفر کو مٹا دیا جائے گا، جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین پہنچے گا اور بالآخر عیسی علیہ السلام کے نزول کے وقت سارا کفر مٹ جائے گا۔
اَلْعَاقِب: لفظی معنی سب کے اخیر میں آنے والا ہے، مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاتم النبیین ہوناہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10463
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً مِنْهَا مَا حَفِظْنَا فَقَالَ ( (أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ) ) وَقَالَ يَزِيدُ ( (وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ) )
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے اپنے کچھ نام بیان کیے، ان میں سے بعض ہم نے یاد کر لیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد، احمد، مقَفّی، حاشر اور نبی رحمت ہوں، یزید راوی نے کہا: اور میں نبی توبہ اور نبی ملحمہ ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10463]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19850»
وضاحت: فوائد: … َاَلْمُقَفَّی: لفظی معنییہ ہے: جس کو کسی کے پیچھے چلایا گیا ہو، مراد وہ ہستی جس کو انبیاء و رسل کے آخر میں لا کر آئندہ کے لیے نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ یہ نامِ مبارک اَلْعَاقِب کے ہم معنی ہے۔
نَبِیُّ الرَّحْمَۃ: وہ نبی جو رحمت سے متصف ہو کر اور رحمت کو پھیلانے کے لیے تشریف لایا۔
نَبِیُّ التَّوْبَۃِ:وہ نبی جو اس پیغام کے ساتھ آیا کہ ہر نادم کی توبہ قبول ہو گی۔
نَبِیُّ الْمَلْحَمَۃ:وہ نبی جس کو قتال کے ساتھ مبعوث کیا گیا۔
نَبِیُّ الرَّحْمَۃ: وہ نبی جو رحمت سے متصف ہو کر اور رحمت کو پھیلانے کے لیے تشریف لایا۔
نَبِیُّ التَّوْبَۃِ:وہ نبی جو اس پیغام کے ساتھ آیا کہ ہر نادم کی توبہ قبول ہو گی۔
نَبِیُّ الْمَلْحَمَۃ:وہ نبی جس کو قتال کے ساتھ مبعوث کیا گیا۔
الحكم على الحديث: صحیح