الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ زِوَاجِهِ بِالْسَيْدَةِ الْمَصُوْنَةِ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی کا بیان
حدیث نمبر: 10474
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ عَنْ أَنْ يُزَوِّجَهُ فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا فَدَعَتْ أَبَاهَا وَزُمْرَةً مِنْ قُرَيْشٍ فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا فَقَالَتْ خَدِيجَةُ لِأَبِيهَا إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُنِي فَزَوِّجْنِي إِيَّاهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَخَلَّقَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ سُكْرُهُ نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ فَقَالَ مَا شَأْنِي مَا هَذَا قَالَتْ زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ لَا لَعَمْرِي فَقَالَتْ خَدِيجَةُ أَمَا تَسْتَحْيِ تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا، ان کا باپ ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کرنے کی رغبت نہیں کرتا تھا، پس سیدہ نے کھانا پینا تیار کیا اور اپنے باپ اور قریشیوںکے ایک گروہ کو دعوت دی، پس انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا،یہاںتک کہ ان کو نشہ آ گیا، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے باپ سے کہا: بیشک محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منگنی کا پیغام بھیجا ہے، لہٰذا آپ ان سے میری شادی کر دیں، پس اس نے نشے کی حالت میں شادی کر دی، سیدہ نے اپنے باپ کو خلوق خوشبو لگائی اور اس کو ایک پوشاک بھی پہنا دی، وہ لوگ جاہلیت میں دلہن کے باپ کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے، جب اس کانشہ ختم ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس نے خلوق خوشبو لگائی ہوئی ہے اور ایک پوشاک زیب ِ تن کی ہوئی ہے، اس نے کہا: میری کیا صورتحال ہے، یہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: آپ نے محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شادی کر دی ہے، اس نے کہا: میں ابو طالب کے یتیم سے شادی کروں، نہیں، میری عمر کی قسم! نہیں، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟ اب قریشیوں کے ہاں اپنے آپ کو بیوقوف ثابت کرنا چاہتے ہو، تم لوگوں کو یہ بتلانا چاہتے ہو کہ تم نشے کی حالت میں تھے؟ پس وہ اس کے ساتھ چمٹی رہیں،یہاں تک کہ وہ راضی ہوگیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10474]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فقد شكّ حماد بن سلمة في وصله، ثم ان حماد بن سلمة قد دلسه، أخرجه الطبراني: 12838، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2850»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے پہلی بیوی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں،یہ نسب کے لحاظ سے قُصَی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل جاتی ہیں، ذیل میں مذکورہ دونوں ناموں پر غور کریں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نسبی رشتے کا اندازہ لگائیں۔
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب
خدیجۃ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی بن کلاب
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر (۲۵) برس اور سیدہ کی عمر (۴۰) برس تھی، شادی کی پیش کش سیدہ کی طرف سے کی گئی تھی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شرف ِ زوجیت سے نوازا اور ایسی سعادت عطا فرمائی کہ پہلوں اور پچھلوں سب کے لیے باعث رشک ٹھہریں۔
بَابٌ فِیْ ذِکْرِ تَجْدِیْدِ قُرَیْشٍ بِنَائَ الْکَعْبَۃِ قَبْلَ الْبَعْثِ بِخَمْسِ سِنِیْنَ وَاِخْتَلَافِھِمْ فِیْ رَفْعِ الْحَجَرِ وَتَحْکِیْمِہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ رَفْعِہِ وَتَسْمِیَتِہِ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ بِالْأَمِیْنِ
قریشیوں کا نبوت سے پانچ سال قبل کعبہ کی عمارت کی تجدید کرنا، حجرِ اسود کو اٹھانے میں ان کا اختلاف کرنا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس معاملے کاحاکم بنانا اور دورِ جاہلیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امین کا لقب ملنا
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب
خدیجۃ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی بن کلاب
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر (۲۵) برس اور سیدہ کی عمر (۴۰) برس تھی، شادی کی پیش کش سیدہ کی طرف سے کی گئی تھی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شرف ِ زوجیت سے نوازا اور ایسی سعادت عطا فرمائی کہ پہلوں اور پچھلوں سب کے لیے باعث رشک ٹھہریں۔
بَابٌ فِیْ ذِکْرِ تَجْدِیْدِ قُرَیْشٍ بِنَائَ الْکَعْبَۃِ قَبْلَ الْبَعْثِ بِخَمْسِ سِنِیْنَ وَاِخْتَلَافِھِمْ فِیْ رَفْعِ الْحَجَرِ وَتَحْکِیْمِہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ رَفْعِہِ وَتَسْمِیَتِہِ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ بِالْأَمِیْنِ
قریشیوں کا نبوت سے پانچ سال قبل کعبہ کی عمارت کی تجدید کرنا، حجرِ اسود کو اٹھانے میں ان کا اختلاف کرنا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس معاملے کاحاکم بنانا اور دورِ جاہلیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امین کا لقب ملنا
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10475
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَذَكَرَ بِنَاءَ الْكَعْبَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ وَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ حِجَارَةً مِنْ أَجْيَادٍ وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ فَذَهَبَ يَضَعُ النَّمِرَةَ عَلَى عَاتِقِهِ فَتُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ فَنُودِيَ يَا مُحَمَّدُ خَمِّرْ عَوْرَتَكَ) ) وَفِي رِوَايَةٍ ( (فَنُودِيَ لَا تَكْشِفْ عَوْرَتَكَ فَأَلْقَى الْحَجَرَ وَلَبِسَ ثَوْبَهُ) ) ( (فَلَمْ يُرَ عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ) )
۔ سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ جاہلیت میں کعبہ کی تعمیر کا ذکر کر رہے تھے، انھوں نے کہا: قریش نے کعبہ کو گرایا اور پھر اس کو وادی کے پتھروں سے بنانا شروع کیا، وہ اپنی گردنوں پر پتھر اٹھا کر لاتے، انھوں نے عمارت کو بیس ہاتھ بلند کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اجیاد سے پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر باندھی ہوئی تھی، وہ چادر تنگ تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے کندھے پر رکھنا چاہا تو اس کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پردے کے مقامات نظر آنے لگے، کسی نے آواز دی: اے محمد! اپنی شرمگاہ پر پردہ کرو، ایک روایت میں ہے: پس آپ کو آواز دی گئی: اپنی شرمگاہ کو ننگا نہ کرو، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پتھر پھینک دیا اور چادر باندھ لی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ننگی حالت میں نہیں دیکھا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10475]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه عبد الرزاق: 9106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24210»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10476
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقِلُ مَعَهُمْ حِجَارَةَ الْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ساتھ کعبہ کے پتھر اٹھا کر لا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تہبند باندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: بھتیجے! اگر تم اپنا ازار کھول کر اس کو اپنے کندھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو تو اچھا ہو گا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جونہی ازار کھول کراپنے کندھے پر رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10476]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 364، ومسلم: 340، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14332 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14384»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزاج میں نبوت سے پہلے پائی جانے والی شرّ کے خلاف فطرت تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10477
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مَوْلَاهُ يَعْنِي السَّائِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ يَبْنِي الْكَعْبَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ وَلِي حَجَرٌ أَنَا نَحَتُّهُ بِيَدَيَّ أَعْبُدُهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَآتِي بِاللَّبَنِ الْخَائِرِ الَّذِي أَنْفِسُهُ عَلَى نَفْسِي فَأَصُبُّهُ عَلَيْهِ فَيَجِيءُ الْكَلْبُ فَيَلْحَسُهُ ثُمَّ يَشْغَرُ فَيَبُولُ فَبَنَيْنَا حَتَّى بَلَغْنَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ وَمَا يَرَى الْحَجَرَ أَحَدٌ فَإِذَا هُوَ وَسَطَ حِجَارَتِنَا مِثْلَ رَأْسِ الرَّجُلِ يَكَادُ يَتَرَاءَى مِنْهُ وَجْهُ الرَّجُلِ فَقَالَ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ نَحْنُ نَضَعُهُ وَقَالَ آخَرُونَ نَحْنُ نَضَعُهُ فَقَالُوا اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ حَكَمًا فَقَالُوا أَوَّلُ رَجُلٍ يَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا أَتَاكُمُ الْأَمِينُ فَقَالُوا لَهُ فَوَضَعَهُ فِي ثَوْبٍ ثُمَّ دَعَا بُطُونَهُمْ فَأَخَذُوا بِنَوَاحِيهِ مَعَهُ فَوَضَعَهُ هُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا سائب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی دورِ جاہلیت میں کعبہ کو تعمیر کرنے والوں میں تھے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک پتھر تھا، میں اپنے ہاتھوں سے اس کو تراشتا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا تھا، میں اپنے نفس پر جس جمے ہوئے دودھ کا بخل کرتا تھا، وہ لا کر اس بت پر بہا دیتا تھا، پھر کتا آ کر اس کو چاٹتا اور پھر ایک ٹانگ اٹھا کر اس پر پیشاب کر دیتا۔ پس جب ہم بیت اللہ کی تعمیر کے دوران حجرِ اسود کے مقام تک پہنچے اور کوئی آدمی حجرِ اسود کو نہیں دیکھ رہا تھا، جبکہ وہ پتھروں کے درمیان میںآدمی کے سر کی طرح پڑا ہوا تھا اور (اتنا چمکدار تھا کہ) اس میں آدمی کا چہرہ نظر آ جاتا تھا، قریش کے ایک بطن (چھوٹے قبیلے) نے کہا: ہم اس پتھر کو اپنی جگہ پر نصب کریں گے، دوسرے لوگوں نے کہا: ہم رکھیں گے، پھر انھوں نے کہا: تم آپس میں ایک آدمی کو بطورِ فیصل منتخب کر لو، پھر انھوں نے کہا: جو پہلا اس کھلے راستے کی طرف سے آئے گا، وہ فیصلہ کرے گا، اتنے میں وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمودار ہوئے، سب نے کہا: امین آ گیا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تفصیل بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پتھر کو ایک کپڑے میں رکھا اور پھر ان کے قبیلوں کو بلایا، انھوں نے اس کپڑے کے کونے پکڑ کر اس کو اٹھایا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس کی جگہ پر نصب کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10477]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15589»
وضاحت: فوائد: … بعض روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر قبیلہ کے سردار کو طلب کیا اور پھر ہر سردار کو کپڑا تھمایا۔
ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر قبیلہ کپڑے کو ایک طرف سے پکڑ لے اور پھر سب مل کر اٹھا لو۔ پس انھوں نے ایسے ہی کیا، پھرجب انھوں نے پتھر کو اس کی جگہ کے قریب پہنچا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نصب کر دیا۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امانت و دیانت اور حکمت و دانائی تھی۔
ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر قبیلہ کپڑے کو ایک طرف سے پکڑ لے اور پھر سب مل کر اٹھا لو۔ پس انھوں نے ایسے ہی کیا، پھرجب انھوں نے پتھر کو اس کی جگہ کے قریب پہنچا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نصب کر دیا۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امانت و دیانت اور حکمت و دانائی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10478
عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا ( (لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ أَوْ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا مِنَ الْحَجَرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حِينَ بَنَتِ الْكَعْبَةَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا شرک یا جاہلیت کا زمانہ قریب قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیتا، دروازے کو زمین سے ملا دیتا اور دو دروازے بناتا، ایک مشرقی اور ایک مغربی اور حطیم کی طرف سے چھ ہاتھ اس میں اضافہ کر دیتا، کیونکہ قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے اس کو کم کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10478]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25977»
وضاحت: فوائد: … قریشیوں نے صرف مشرقی دروازہ نصب کیا تھا اور وہ بھی زمین کی سطح سے اونچا تھا، اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ ہر کوئی بیت اللہ میں داخل نہ ہو سکے، بلکہ وہ خود جس کو چاہتے داخل کرتے اور جس کو چاہتے روک لیتے۔ جب سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ پر کنٹرول حاصل کر لیا تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے حطیم کو عمارت میں شامل کر کے ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کی اور دو دروازے نصب کیے، ایک مشرقی اور دوسرا مغربی، ایک دروازے سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے سے نکل جاتے۔
پھر جب حجاج بن یوسف نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تو اس نے بنو امیہ کے موجودہ خلیفہ عبد الملک بن مروان کی طرف لکھا کہ ابن زبیر نے یہ تبدیلی اپنی رائے کی روشنی میں کی تھی، اس لیے عبد الملک نے حکم دیا کہ خانہ کعبہ کی عمارت کو سابق شکل میں تبدیل کر دیا جائے اور ایسے ہی ہوا۔
پھر خلیفہ مہدییا اس کے باپ خلیفہ منصور نے اپنی عہد ِ خلافت میں امام مالک رحمتہ اللہ علیہ سے مشورہ کیا کہ ہم کعبہ کی عمارت کو سیدناابن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیرِ نو کی شکل دینا چاہتے ہیں، لیکن امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے حکیمانہ جواب دیتے ہوئے کہا: میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوںکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بادشاہ اس عمارت کو کھلونا بنا لیں، پس انھوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور آج تک خانہ کعبہ کا وہی ڈیزائن موجود ہے۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۳۴۶)
پھر جب حجاج بن یوسف نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تو اس نے بنو امیہ کے موجودہ خلیفہ عبد الملک بن مروان کی طرف لکھا کہ ابن زبیر نے یہ تبدیلی اپنی رائے کی روشنی میں کی تھی، اس لیے عبد الملک نے حکم دیا کہ خانہ کعبہ کی عمارت کو سابق شکل میں تبدیل کر دیا جائے اور ایسے ہی ہوا۔
پھر خلیفہ مہدییا اس کے باپ خلیفہ منصور نے اپنی عہد ِ خلافت میں امام مالک رحمتہ اللہ علیہ سے مشورہ کیا کہ ہم کعبہ کی عمارت کو سیدناابن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیرِ نو کی شکل دینا چاہتے ہیں، لیکن امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے حکیمانہ جواب دیتے ہوئے کہا: میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوںکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بادشاہ اس عمارت کو کھلونا بنا لیں، پس انھوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور آج تک خانہ کعبہ کا وہی ڈیزائن موجود ہے۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۳۴۶)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10479
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ ثُمَّ جَعَلْتُهَا عَلَى أُسِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنَّ قُرَيْشًا يَوْمَ بَنَتْهَا اسْتَقْصَرَتْ وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا) ) وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ ( (خِلْفًا) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا کفر کا زمانہ قریب قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا کر اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا، قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے اس کو کم کر دیا تھا اور میں اس کا پیچھے سے بھی ایک دروازہ رکھ دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10479]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1585، ومسلم: 1333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24801»
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَلَامَاتِ الدَّالَّةِ عَلَى نُبُوَّتِهِ والتبشير بِمَبْعَثِهِ وَصِفَتِهِ فِي التَّوْرَاةِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ صفات¤(محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سابقہ کتب میں)
حدیث نمبر: 10480
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ) ) وَفِي رِوَايَةٍ ( (لَيَالِيَ بُعِثْتُ) ) ( (إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ) )
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں مکہ مکرمہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں، وہ بعثت سے پہلے یا بعثت والی راتوں کو مجھ کو سلام کہتا تھا، میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10480]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21113»
وضاحت: فوائد: … اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ کا بیان ہے، نیز معلوم ہوا کہ جمادات میں بھی تمیز اور شناخت کا شعور موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ} … اور بے شک ان سے کچھ پتھر یقینا وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں (سورۂ بقرہ: ۷۴)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10481
عَنْ أَبِي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ قَالَ جَلَبْتُ جَلُوبَةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَيْعَتِي قُلْتُ لَأَلْقَيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ قَالَ فَتَلَقَّانِي بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ فَتَبِعْتُهُمْ فِي أَفْقَائِهِمْ حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ نَاشِرًا التَّوْرَاةَ يَقْرَؤُهَا يُعَزِّي بِهَا نَفْسَهُ عَلَى ابْنٍ لَهُ فِي الْمَوْتِ كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ وَأَجْمَلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْشِدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ هَلْ تَجِدُ فِي كِتَابِكَ ذَا صِفَتِي وَمَخْرَجِي فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا أَيْ لَا فَقَالَ ابْنُهُ إِنِّي وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ إِنَا لَنَجِدُ فِي كِتَابِنَا صِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَقِيمُوا الْيَهُودَ عَنْ أَخِيكُمْ ثُمَّ وَلِيَ كَفْنَهُ وَحَنَّطَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ
۔ ایک بدّو سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات ِ مبارکہ میں کچھ سامانِ تجارت مدینہ منورہ میں لے کر آیا، جب میں اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: میں اس آدمی کو ضرور ملوں گا اور اس کی باتیں سنوں گا، پس جب وہ (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ملے تو وہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان چل رہے تھے، میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ وہ ایکیہودی آدمی کے پاس پہنچ گئے، وہ تورات کھول کر پڑھ رہا تھا اور اپنے نفس کو تسلی دے رہا تھا، کیونکہ اس کا انتہائی خوبصورت نوجوان بیٹا قریب المرگ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی سے فرمایا: میں تجھ کو تورات کو نازل کرنے والی ذات کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ کیا تو اپنی کتاب میں میری صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتا ہے؟ اس نے سر سے نہیں کا اشارہ کیا، لیکن اس کے نوجوان بیٹے نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے تورات کو نازل کیا، ہم اپنی کتاب میں آپ کی صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب ان یہودیوں کواپنے بھائی کے پاس سے کھڑا کر دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کفن کاانتظام و انصرام کیا اور اس کو خوشبو لگائی اور اس نماز جنازہ ادا کی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10481]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي صخر العقيلي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23888»
وضاحت: فوائد: … سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ غُلَامٌ یَہُودِیٌّیَخْدُمُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَمَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَعُودُہُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِہِ فَقَالَ لَہُ: ((أَسْلِمْ۔)) فَنَظَرَ إِلَی أَبِیہِ وَہُوَ عِنْدَہُ، فَقَالَ لَہُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُوَ یَقُولُ: ((اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَنْقَذَہُ مِنْ النَّارِ۔)) … ایکیہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتاہے، وہ بیمار ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے سر کے پاس بیٹھ گئے اور اس سے فرمایا: تو مسلمان ہو جا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، جو کہ اس کے پاس موجود تھا، اُس نے کہا: تو ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کر،پس وہ مسلمان ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے نکلے اورفرمایا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اس کو آگ سے نجات دلائی ہے۔ (صحیح بخاری: ۱۲۶۸)
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10482
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ فَقَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِصِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ وَأَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ لَسْتَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا صَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ قَالَ يُونُسُ وَلَا صَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَةَ بِالسَّيِّئَةِ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ وَلَنْ يَقْبِضَهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا قَالَ يُونُسُ غُلْفَى
۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں:میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو ملا اور ان سے کہا: تم مجھے تورات میں بیان شدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات بتلاؤ، انھوں نے کہا:جی ٹھیک ہے، اللہ کی قسم! جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں، ایسے ہیتورات میں بیان کی گئیں ہیں، جیسا کہ تورات میں ہے: اے نبی! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا اور اُمی لوگوں کے لیے ذریعۂ حفاظت بنا کر بھیجا، تو میرا بندہ اور رسول ہے، میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے، نہ تو بد خلق ہے، نہ سخت مزاج ہے، نہ بازاروں میں آواز بلند کرنے والا ہے اور نہ برائی کا بدلہ برائی کی صورت میں دیتا ہے، بلکہ معاف کر دیتا ہے اور بخش دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس نبی کو اس وقت تک فوت نہیں کرے گا، جب تلک اس کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا نہیں کر دے گا اور وہ اس طرح کہ لوگ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دیں، پس وہ اس کے ذریعے اندھی آنکھوں کو، بہرے کانوں کو اور بند دلوں کو کھول دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10482]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6622»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان تمام صفات سے بدرجۂ اتم و اکمل متصف تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10483
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْخٌ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَنَحْنُ فِي غَزْوَةِ رُودِسَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عَبْسٍ قَالَ كُنْتُ أَسُوقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَةً قَالَ فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِهَا يَا آلَ ذَرِيحٍ قَوْلٌ فَصِيحٌ رَجُلٌ يَصِيحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ
۔ مجاہد کہتے ہیں: جاہلیت کو پانے والے ایک شیخ نے ہم کو بیان کیا، جبکہ ہم غزوۂ رودِس میں تھے، اس شیخ کو ابن عبس کہتے تھے، اس نے کہا: میں اپنی آل کی ایک گائے کو ہانک رہا تھا کہ میں نے اس کے پیٹ سے یہ آواز سنی: اے آل ذریح! فصاحت والا کلام ہے، ایک آدمی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آواز لگا رہا ہے، پھر جب ہم مکہ میں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ مکہ میں نبوت کا اعلان کر چکے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10483]
تخریج الحدیث: «ھذا الاثر اسناده ضعيف، تفرد به عبيدالله بن ابي زياد وھو ممن لا يحتمل تفرده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16815»
الحكم على الحديث: ضعیف