🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابٌ فِي بَدا الْوَحْيِ وَكَيْفَ كَانَ يَأْتِيهِ وَرُؤْيَتِهِ ﷺ لِجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ
وحی کی ابتدائ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10494
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ) فَأَخَذَتْنِي وَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} [سورة المدثر: 1-4]
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے غارِ حراء میں ایک ماہ تک مجاورت اختیار کی، جب میں نے یہ مدت پوری کی اوروہاں سے اتر کر وادی کی ہموار جگہ پر آیا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، اتنے میں پھر مجھے آواز دی گئی، میں نے پھر اسی طرح دیکھا، لیکن کسی کو نہ دیکھ سکا، پھر مجھے آواز دی گئی، پس اب کی بار جب میں نے سر اٹھایا تو وہ فرشتہ فضا میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا، ایک روایت میں ہے: وہ آسمان اور زمین کے مابین تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اس سے مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، پس انھوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10494]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4922، ومسلم: 161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14338»
وضاحت: فوائد: … جمہور اہل علم کے نزدیک پہلی وحی {اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ } والی آیات ہی ہیں، سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے مراد دوسری وحی ہے، جو فترۂ وحی کے بعد نازل ہوئی تھی، اس حدیث کے درج ذیل سیاق پر غور کریں:
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فترۂ وحی کے بارے میں بیان کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بَیْنَا أَنَا أَمْشِی إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَاء ِ فَرَفَعْتُ بَصَرِی فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِی جَاء َنِی بِحِرَاء ٍ جَالِسٌ عَلٰی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ فَرُعِبْتُ مِنْہُ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالَی {یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ … إِلٰی قَوْلِہِ … وَالرُّجْزَ فَاہْجُر} فَحَمِیَ الْوَحْیُ وَتَتَابَعَ۔ … ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی، میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حراء میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، میں گھبرا گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے لپیٹ دو،چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا أَیُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثَیَابَکَ فَطَھِّرْوَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ}اس کے بعد وحی پے در پے اور کثرت سے
نازل ہونے لگی۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) حافظ ابن کثیر نے کہا کہ یہی سیاق محفوظ ہے، اس سے صاف پتہ چلتاہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10495
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِرْذَوْنٍ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ طَرَفُهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَأَيْتِهِ ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر نبی کریم کے پاس آئے، انھوں نے پگڑی باندھی ہوئی تھی اور اس کا کنارہ ان کے کندھوں کے درمیان تھا، جب میں نے ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے دیکھ لیا ہے اس کو؟ یہ جبریل علیہ السلام تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10495]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عمر العمري، أخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25669»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10496
عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَزَعَمَ أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ تَجَنَّبَ أَنْ يَدْنُوَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَخَوُّفًا أَنْ يَسْمَعَ حَدِيثَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ إِذْ مَرَرْتَ بِي الْبَارِحَةَ قَالَ رَأَيْتُكَ تُنَاجِي رَجُلًا فَخَشِيتُ أَنْ تَكْرَهَ أَنْ أَدْنُوَ مِنْكُمَا قَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ قَالَ لَا قَالَ فَذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَيْرِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ
۔ سیدنا ابو سلمہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام سے سرگوشی کر رہے تھے، اس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہونے سے اجتناب کیا، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن لے، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا: جب تو گزشتہ رات ہمارے پاس سے گزرا تھا تو تجھے کس چیز نے سلام کرنے سے روک دیا تھا؟ اس نے کہا: جی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ایک آدمی سے سرگوشی کر رہے تھے، اس لیے میں اس چیز سے ڈر گیا کہ ممکن ہے کہ آپ میرے قریب آنے کو ناپسند کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ آدمی کون تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے، اگر تو ان کو سلام کہتا تو وہ تیرے سلام کا جواب دیتے۔ راوی کہتا ہے: میں نے غیر ابو سلمہ سے سنا کہ وہ سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10496]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16320»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10497
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْيِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ أَسْمَعُ صَلَاصِلَ ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إِلَيَّ إِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تَفِيضُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وحی کو محسوس کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب میں گونج دار آوازیں سنتا ہوں، تو اسی وقت خاموش ہو جاتا ہوں، جب بھی میری طرف وحی کی جاتی ہے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ میرا نفس نکلنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10497]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، وعمرو بن الوليد مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7071»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10498
عَنْ عَلِيٍّ أَوْ عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا فَيُذَكِّرُنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ حَتَّى نَعْرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَكَأَنَّهُ نَذِيرُ قَوْمٍ يُصَبِّحُهُمُ الْأَمْرُ غُدْوَةً وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ لَمْ يَتَبَسَّمْ ضَاحِكًا حَتَّى يَرْتَفِعَ عَنْهُ
۔ سیدنا علییا سیدنازبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے مخاطب ہوتے اور (سابقہ امتوں پر) اللہ تعالیٰ کے انعامات اور واقعات کے ساتھ نصیحت کرتے، تو ہم اس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (خوف سے بدلے ہوئے) چہرے سے پہنچان لیتے تھے، ایسے لگتا تھا کہ آپ اپنی قوم کو ڈرا رہے ہیں اور بس اگلے روز کی صبح کو عذاب آ جائے گا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات کرتے تھے تو اس وقت تک نہیں مسکراتے تھے، جب تک وہ چلے نہیں جاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10498]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 677، والطبراني في الاوسط: 2655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1437»
وضاحت: فوائد: … فرشتے کا ادب کرتے ہوئے اور وحی کی شدت محسوس کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت مسکراتے نہیں تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10499
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ يُسْمَعُ عِنْدَ وَجْهِهِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ
۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کے قریب شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی سی آواز سنائی دیتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10499]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالةيونس بن سليم، أخرجه الترمذي: 3173، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 223»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10500
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ثُمَّ تَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سردی والی صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10500]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24813»
وضاحت: فوائد: … نزول وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دباؤ پڑتا تھا، جیسا کہ اگلی حدیث سے بھی معلوم ہورہا ہے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۴۸۹)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10501
عَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ لَيُوحَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَتَضْرِبُ بِجِرَانِهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپ اپنی سواری پر ہوتے تو وہ اپنی گردن کوزمین پر پھیلا دیتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10501]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 2/ 505، والبيھقي في دلائل النبوة: 7/ 53، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24868 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25380»
وضاحت: فوائد: … جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹنی پر سوار ہوتے تو نزولِ وحی کی وجہ سے اس پر بھی بوجھ پڑتا، وہ اس بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے اپنی گردن کو زمین پر پھیلا دیتی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10502
عَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات ہوتی اور وہ آپ سے قرآن مجید کا دور کرتے تو آپ چھوڑی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ مال کی سخاوت کرنے والے ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10502]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف بھذه السياقة، النعمان بن راشد ضعيف سييء الحفظ، أخرجه النسائي: 4/ 125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25499»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10503
عَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ قَالَ أَحْيَانًا يَأْتِينِي مَلَكٌ مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّ عَلَيَّ ثُمَّ يُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي مَلَكٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ فَأَعِي مَا يَقُولُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کبھی کھبی تو فرشتہ اس طرح آتا ہے کہ گھنٹی کی گونج کی سی آواز آتی ہے، یہ کیفیت مجھ پر بڑی گراں گزرتی ہے، لیکن جب وہ مجھ سے جدا ہوتا ہے تو میں اس وحی کو یاد کر چکا ہوتا ہوں اور بسا اوقات فرشتہ مرد کی صورت میں آتا ہے، پھر جو کچھ وہ کہتا ہے، میں اس کو یاد کر لیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10503]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3215، ومسلم: 2333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25766»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں