الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ ذِكْرِ بَعْضِ أَسْمَائِهِ الشَّرِيفَةِ وَأَنَّهُ أَوَّلُ النَّبِيِّينَ وَآخِرُهُمْ وَأَفْضَلُهُمْ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 10464
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ( (أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَالْحَاشِرُ وَالْمُقَفِّي وَنَبِيُّ الْمَلَاحِمِ) )
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ کے کسی راستے پر چل رہا تھا، اتفاق سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وہاں چل رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں نبی رحمت، نبی توبہ، حاشر، مُقَفّی اور نبی ملاحم ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10464]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي في الشمائل: 360، والبزار: 2887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23838»
وضاحت: فوائد: … مزید بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صفاتی نام ثابت ہیں، جیسے رحیم، رسول اللہ، نبی اللہ، مدثر، مزمل، خلیل۔
لیکن اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسمائے حسنی کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ننانوے اسمائے گرامی مرتّب کر دینا بے حقیقت بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں غلوّ کرتے ہوئے بعض نام ترتیب دیئے گئے، جیسے طٰہٰ، یٰسٓ، حٰمٓ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے ایسے الفاظ ہیں کہ ہم جن کے معانی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔
قرآن و حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جن اسمائے گرامی ٔ قدر کا ذکر ہے، ان ہی پر اکتفا کرنا چاہیے۔
لیکن اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسمائے حسنی کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ننانوے اسمائے گرامی مرتّب کر دینا بے حقیقت بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں غلوّ کرتے ہوئے بعض نام ترتیب دیئے گئے، جیسے طٰہٰ، یٰسٓ، حٰمٓ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے ایسے الفاظ ہیں کہ ہم جن کے معانی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔
قرآن و حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جن اسمائے گرامی ٔ قدر کا ذکر ہے، ان ہی پر اکتفا کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَوْلِدِهِ ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
حدیث نمبر: 10465
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَتُوُفِّيَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار کے دن پیدا ہوئے، سوموار کے دن نبوت ملی اور سوموار کو ہی وفات پائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے سوموار کو نکلے اور سوموار کو ہی مدینہ منورہ پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوموار کے دن ہیحجرِ اسود کو اٹھایا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10465]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه الطبراني12894، والبيھقي في دلائل النبوة: 7/ 233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2506»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت سوموار کو ہوئی،یہ متفق علیہ حقیقت ہے، البتہ قمری مہینے کی تاریخ کے بارے میں اختلاف ہے، کئی اقوال مذکور ہیں، ان میں دو اقوال درج ذیل ہیں:
۱ … ربیع الاول کی (۹) تاریخ
ابن عبد البر نے نقل کیا کہ مؤرخین نے اسی قول کو صحیح قرار دیا، محمد بن موسی خوارزمی کے نزدیکیہی قطعی اور یقینی قول ہے، ابن حزم نے اسی کو ترجیح دی اور ابو خطاب بن دحیہ نے اپنی کتاب التنویر فی مولد البشیر النذیر میں اسی رائے کو اختیار کیا۔
۲ … ربیع الاول کی (۱۲) تاریخ
یہ ابن اسحاق کی رائے ہے۔
پہلا قول ہی راجح ہے اور یہ وہی سال تھا، جس میں ابرہہ نے مکے پر حملہ کیا تھا، جس کو عام الفیل کہتے ہیں، اس روز اپریل (571ئ) کی (22) تاریخ تھی۔
۱ … ربیع الاول کی (۹) تاریخ
ابن عبد البر نے نقل کیا کہ مؤرخین نے اسی قول کو صحیح قرار دیا، محمد بن موسی خوارزمی کے نزدیکیہی قطعی اور یقینی قول ہے، ابن حزم نے اسی کو ترجیح دی اور ابو خطاب بن دحیہ نے اپنی کتاب التنویر فی مولد البشیر النذیر میں اسی رائے کو اختیار کیا۔
۲ … ربیع الاول کی (۱۲) تاریخ
یہ ابن اسحاق کی رائے ہے۔
پہلا قول ہی راجح ہے اور یہ وہی سال تھا، جس میں ابرہہ نے مکے پر حملہ کیا تھا، جس کو عام الفیل کہتے ہیں، اس روز اپریل (571ئ) کی (22) تاریخ تھی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10466
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا كَانَ أَوَّلُ بَدْءِ أَمْرِكَ قَالَ ( (دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَبُشْرَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَأَتْ أُمِّي نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهَا قُصُورُ الشَّامِ) )
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کے معاملے کی ابتدا کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں نے ایک نور دیکھا، جس نے شام کے محلات روشن کر دیئے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10466]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطيالسي: 1140، والطبراني في الكبير: 7729، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22616»
وضاحت: فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۴۵۷)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10467
عَنْ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُلِدْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ فَنَحْنُ لِدَانِ وُلِدْنَا مَوْلِدًا وَاحِدًا
۔ سیدنا قیس بن مخرمہ بن مطلب بن عبد ِ مناف سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الفیل کو پیدا ہوئے، ہماری ولادت کا زمانہ ایک ہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10467]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 18/872، والحاكم: 2/ 603، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18050»
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ رَضَاعِهِ وَمَرَاضِعِهِ وَحَوَاضِنِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
حدیث نمبر: 10468
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي قَالَ ( (فَأَصْنَعُ بِهَا مَاذَا) ) قَالَتْ تَزَوَّجْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ) ) فَقَالَتْ نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي) ) فَقَالَتْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَوْ كَانَتْ تَحِلُّ لِي لَمَا تَزَوَّجْتُهَا قَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثَوَيْبَةُ مَوْلَاةُ بَنِي هَاشِمٍ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلَا بَنَاتِكُنَّ) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری بہن کی رغبت رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟ انھوں نے کہا: آپ ان سے شادی کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ چاہتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پہلے میں کون سی اکیلی ہوں اور اس خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے درّہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں نے اس سے شادی نہیں کرنی تھی، کیونکہ مجھے اور اس کو بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، لہٰذا اپنی بہنیں اور بیٹیاں مجھ پر پیش نہ کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10468]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابوداود: 2056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27026»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ کے بعد سب سے پہلے ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ ذِكْرِ رَضَاعِهِ مِنْ حَلِيْمَةَ السَّعْدِيَّةِ وَمَا ظَهَرَ عَلَيْهِ مِنْ آيَاتِ النُّبُوَّةِ
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 10469
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَيْفَ كَانَ أَوَّلُ شَأْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (كَانَتْ حَاضِنَتِي مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ كَعْبٍ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنٌ لَهَا فِي بَهْمٍ لَنَا وَلَمْ نَأْخُذْ مَعَنَا زَادًا فَقُلْتُ يَا أَخِي اذْهَبْ فَأْتِنَا بِزَادٍ مِنْ عِنْدِ أُمِّنَا فَانْطَلَقَ أَخِي وَمَكَثْتُ عِنْدَ الْبَهْمِ فَأَقْبَلَ طَيْرَانِ أَبْيَضَانِ كَأَنَّهُمَا نَسْرَانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ أَهُوَ هُوَ قَالَ نَعَمْ فَأَقْبَلَا يَبْتَدِرَانِي فَأَخَذَانِي فَبَطَحَانِي إِلَى الْقَفَا فَشَقَّا بَطْنِي ثُمَّ اسْتَخْرَجَا قَلْبِي فَشَقَّاهُ فَأَخْرَجَا مِنْهُ عَلَقَتَيْنِ سَوْدَاوَيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ ائْتِنِي بِمَاءِ ثَلْجٍ فَغَسَلَا بِهِ جَوْفِي ثُمَّ قَالَ ائْتِنِي بِمَاءِ بَرَدٍ فَغَسَلَا بِهِ قَلْبِي ثُمَّ قَالَ ائْتِنِي بِالسَّكِينَةِ فَذَرَّاهَا فِي قَلْبِي ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ حُصَّهُ فَحَاصَهُ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ) ) وَقَالَ حَيْوَةُ فِي حَدِيثِهِ ( (حِصْهُ فَحَاصَهُ وَاخْتِمْ عَلَيْهِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ) ) ( (فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِهِ فِي كِفَّةٍ فَإِذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْأَلْفِ فَوْقِي أُشْفِقُ أَنْ يَخِرَّ عَلَيَّ بَعْضُهُمْ فَقَالَ لَوْ أَنَّ أُمَّتَهُ وُزِنَتْ بِهِ لَمَالَ بِهِمْ ثُمَّ انْطَلَقَا وَتَرَكَانِي وَفَرِقْتُ فَرْقًا شَدِيدًا ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّي أَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَقِيتُهُ فَاشْفَقَتْ عَلَيَّ أَنْ يَكُونَ أُلْبِسَ بِي قَالَتْ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ فَرَحَلَتْ بَعِيرًا لَهَا فَجَعَلَتْنِي) ) وَقَالَ يَزِيدُ ( (فَحَمَلَتْنِي) ) ( (عَلَى الرَّحْلِ وَرَكِبَتْ خَلْفِي حَتَّى بَلَغْنَا إِلَى أُمِّي فَقَالَتْ أَوَأَدَّيْتُ أَمَانَتِي وَذِمَّتِي وَحَدَّثَتْهَا بِالَّذِي لَقِيتُ فَلَمْ يَرُعْهَا ذَلِكَ فَقَالَتْ إِنِّي رَأَيْتُ خَرَجَ مِنِّي نُورٌ أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ) )
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے معاملے کی ابتدا کیسے ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری دائی کا تعلق بنو سعد بن کعب سے تھا، میں اور اس کا بیٹا بکریاں چرانے کے لیے باہر گئے اور اپنے ساتھ زاد لے کر نہیں گئے، میں نے کہا: اے میرے بھائی! تو جا اور ہماری ماں سے زاد لے آ، پس وہ چلا گیا اور میں بکریوں کے پاس ٹھہر گیا، میں نے دیکھا کہ گدھ کی طرح کے سفید رنگ کے دو پرندے آئے، (دراصل وہ دو فرشتے تھے)، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیایہ وہی ہے؟ پھر وہ میری طرف لپکے، مجھے پکڑا اور گدی کے بل مجھ کو لٹا دیا، پھر انھوں نے میرا پیٹ چاک کیا، اس میں سے میرا دل نکالا، پھر اس کو چیرا دیا اور اس میں سے کالے رنگ کے خون کے دو لوتھڑے نکال دیئے، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: برف کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا پیٹ دھویا، پھر ایک نے کہا: اولوں کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا دل دھویا، پھر ایک نے کہا: اب سکینت لے آیا، پس انھوں نے اس کو میرے دل میں چھڑک دیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اب اس کو سلائی کر دے، پس اس نے اس کو سلائی کر دیا اور اس پر نبوت کی مہر لگا دی، ایک روایت میں ہے: ایک فرشتے نے کہا: تو اس کو سلائی کر دے، پس اس نے سلائی کر دیا، پھر اس نے کہا: اب اس پر نبوت کی مہر لگا دے، اس کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو ایک پلڑے میں رکھ اور دوسرے پلڑے اس کی امت کے ایک ہزار آدمی رکھ، (میں اتنا بھاری ثابت ہوا کہ) میں نے ان ہزار افراد کو اپنے اوپر اس طرح دیکھا کہ مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کوئی مجھ پر گر نہ جائے، پھر ایک فرشتے نے کہا: اگر اس ہستی کا اس کی پوری امت کے ساتھ وزن کیا جائے تو یہ بھاری ثابت ہو گی، پھر وہ دونوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے، میں بہت زیادہ ڈرا اور گھبرا گیا، پھر میں اپنی ماں کی طرف گیا اور جو کچھ دیکھا، اس کو بتلایا، وہ بھی میرے بارے میں ڈرنے لگی کہ مجھ پر کوئی معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے، اس نے کہا: میں تجھے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتی ہوں، پھر اس نے اونٹ تیار کیا، مجھے پالان پر سوار کیا اور خود میرے پیچھے سوار ہو گئی،یہاں تک کہ ہم میری ماں کے پاس پہنچ گئے، اس دائی نے کہا: میں نے اپنی امانت اور ذمہ داری ادا کر دی ہے، پھر جب میری ماں کو سارا واقعہ بیان کیا تو ان کو کوئی گھبراہٹ نہیں ہوئی، بلکہ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ مجھ سے ایک نور نکلا، جس سے شام کے محل روشن ہو گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10469]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، بقية بن الوليديدلس تدليس التسوية، وقد عنعن، أخرجه الدارمي: 13، والحاكم: 2/ 616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17798»
وضاحت: فوائد: … حلیمہ خود بنت ِ ابی ذویب عبد اللہ بن حارث تھیں، ان کے شوہر کا نام حارث بن عبد العزی تھا، یہ دونوں قبیلہ سعد بن بکر بن ہوازن سے تعلق رکھتے تھے۔ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر موجود رہے، ان کا گھر برکتوں سے مالا مال رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تقریباً چار سال تک ان کے گھر رکھا گیا تھا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10470
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَأَتَاهُ آتٍ فَأَخَذَهُ فَشَقَّ بَطْنَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَرَمَى بِهَا وَقَالَ هَذِهِ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَشْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ فَأَقْبَلَ الصِّبْيَانُ إِلَى ظِئْرِهِ قُتِلَ مُحَمَّدٌ قُتِلَ مُحَمَّدٌ فَاسْتَقْبَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ فَقَدِ انْتَقَعَ لَوْنُهُ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ كُنَّا نَرَى أَثَرَ الْمَخِيطِ فِي صَدْرِهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوںکے ساتھ کھیل رہے تھے کہ ایک آنے والا آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیٹ مبارک چاک کیا اور اس سے خون کا لوتھڑا نکال کر پھینک دیا اور کہا: یہ آپ سے شیطان کا حصہ تھا،پھر اس نے اس کو سونے کے تھال میں موجود زمزم کے پانی سے دوھویا، بچے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دایہ کے پاس گئے اور کہا: محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کر دیا گیا ہے، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کر دیا گیا ہے، پس جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لینے آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بدلا ہوا تھا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینے میں سلائی کا نشان دیکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10470]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7517، ومسلم: 162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12246»
وضاحت: فوائد: … خون کا یہ لوتھڑا من جملہ ان اجزاء میں سے تھا، جن کے ذریعے انسانی تخلیق کی تکمیل ہوتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد ِ اطہر سے اس لوتھڑے کو نکال دینا،یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفعت کی دلیل ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کرامت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی بڑے منصب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لوتھڑے کے بغیر پیدا ہوتے اور پیدائشی طور پر اس سے سالم ہوتے تو اس سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت کا اندازہ نہ ہو سکتا، سو اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام کے ذریعہ اس کرامت کا اظہار کیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہر کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باطن کا کمال بھی ثابت ہو جائے۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لوتھڑے کے بغیر پیدا ہوتے اور پیدائشی طور پر اس سے سالم ہوتے تو اس سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت کا اندازہ نہ ہو سکتا، سو اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام کے ذریعہ اس کرامت کا اظہار کیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہر کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باطن کا کمال بھی ثابت ہو جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى الْغَنَمَ فِي صِغَرِهِ وَحِفْظِ اللَّهِ لَهُ وَحَيَاطَتِهِ وَصَيَانَتِهِ مِنْ أَقْدَارِ الْجَاهِلِيَّةِ
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
حدیث نمبر: 10471
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ ( (عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَطْيَبُهُ) ) قَالَ قُلْنَا وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا) )
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اراک پودے کا پھل چن رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کالے رنگ والا چنو، پس بیشک وہ بڑا اچھا ہوتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھی بکریاں چراتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، بلکہ ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10471]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3406، ومسلم: 2050، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14551»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10472
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (بُعِثَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اونٹوں اور بکریوں کے مالکوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دوسرے پر فخر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکوںمیں ہے اور سکینت اور وقار بکریوں کے مالکوں میں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب موسی علیہ السلام کو مبعوث کیاگیا تو وہ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا تو جیاد مقام پر اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10472]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه البزار: 2370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11940»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں انبیائے کرام کی سادگی و بے ریائی کا بیان ہے۔ حافظ ابن حجر ؒرقمطرازہیں: ائمۂ دین کا خیال ہے کہ انبیائے کرام کے بکریاں چرانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عاجزی و انکساری پیدا ہو جائے اور ان کے دل خلوت کے عادی بن جائیں اور ان کے لیے بکریوںکی تدبیر وانتظام سے لوگوں کی باگ ڈور سنبھالنا آسان ہو جائے، جبکہ امام کرمانی، امام خطابی سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام بخارییہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے لیے دنیا کے پجاریوں اور عیش و عشرت میں مست لوگوں کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ایسے لوگوں کو اس نعمت سے نوازا جو تواضع کرنے والے ہوں، جیسے بکریوں کے چرواہے اور پیشہ ور لوگ۔ (فتح الباری)
الحكم على الحديث: صحیح
8. بَابُ شَقٌ صَدْرِهِ الشَّرِيفِ لِلْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ وَهُوَ ابْنُ عَشَرَ سِنِينَ وَأَشْهُرٍ
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
حدیث نمبر: 10473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ جَرِيئًا عَلَى أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَسْأَلُهُ عَنْهَا غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَوَّلُ مَا رَأَيْتَ فِي أَمْرِ النُّبُوَّةِ فَاسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَقَالَ ( (لَقَدْ سَأَلْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي لَفِي صَحْرَاءَ ابْنُ عَشَرَ سِنِينَ وَأَشْهُرٍ وَإِذَا بِكَلَامٍ فَوْقَ رَأْسِي وَإِذَا رَجُلٌ يَقُولُ لِرَجُلٍ أَهُوَ هُوَ قَالَ نَعَمْ فَاسْتَقْبَلَانِي بِوُجُوهٍ لَمْ أَرَهَا لِخَلْقٍ قَطُّ وَأَرْوَاحٍ لَمْ أَجِدْهَا مِنْ خَلْقٍ قَطُّ وَثِيَابٍ لَمْ أَرَهَا عَلَى أَحَدٍ قَطُّ فَأَقْبَلَا إِلَيَّ يَمْشِيَانِ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِعَضُدِي لَا أَجِدُ لِأَحَدِهِمَا مَسًّا فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ أَضْجِعْهُ فَأَضْجَعَانِي بِلَا قَصْرٍ وَلَا هَصْرٍ وَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ افْلِقْ صَدْرَهُ فَهَوَى أَحَدُهُمَا إِلَى صَدْرِي فَفَلَقَهُ فِيمَا أَرَى بِلَا دَمٍ وَلَا وَجَعٍ فَقَالَ لَهُ اخْرِجِ الْغِلَّ وَالْحَسَدَ فَأَخْرَجَ شَيْئًا كَهَيْئَةِ الْعَلَقَةِ ثُمَّ نَبَذَهَا فَطَرَحَهَا فَقَالَ لَهُ أَدْخِلِ الرَّأْفَةَ وَالرَّحْمَةَ فَإِذَا مِثْلُ الَّذِي أَخْرَجَ يُشْبِهُ الْفِضَّةَ ثُمَّ هَزَّ إِبْهَامَ رِجْلِي الْيُمْنَى فَقَالَ اغْدُ وَاسْلَمْ فَرَجَعْتُ بِهِمَا أَغْدُو رِقَّةً عَلَى الصَّغِيرِ وَرَحْمَةً لِلْكَبِيرِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے امور کے بارے میں سوالا ت کرنے میں دلیر تھے، کہ کوئی اور اتنے سوالات نہیں کرتا تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نبوت کے معاملے میںسب سے پہلی کون سی چیز دیکھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برابر ہو کر بیٹھے اور پھر فرمایا: ابو ہریرہ! تو نے سوال کیا ہے، میں صحراء میں تھا، میری عمر دس برس اور کچھ ماہ تھی، میں نے اپنے سر کے اوپر سے کلام سنا، پس وہ ایک آدمی تھا، جو دوسرے آدمی سے یہ کہہ رہا تھا؟ کیایہ وہی ہے؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں، پھر وہ اپنے چہروں کے ساتھ میرے سامنے آئے، میں نے اس قسم کی مخلوق نہیں دیکھی تھی، وہ ایسی روحیں تھیں کہ میں نے کبھی بھی ایسی روحیں نہیں دیکھی تھیں، ان پر ایسے کپڑے تھے کہ میں نے ان کی طرح کے کپڑے نہیں دیکھے، وہ چل کر میری طرف متوجہ ہوئے، یہاں تک کہ ہر ایک نے میرا بازو پکڑ لیا، میں نے ان کا چھونا تک محسوس نہیںکیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو لٹا دے، پس انھوں نے کسی قسم کے قہر اور زبردستی کے بغیر مجھے لٹا دیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے سینے کو چاک کرو، پس ایک میرے سینے کی طرف جھکا اور میرے خیال کے مطابق اس کو چاک کر دیا، نہ خون نکلا اور نہ کوئی تکلیف ہوئی، پھر دوسرے فرشتے نے کہا: کینہ اور حسد نکال دے، پس اس نے خون کا لوتھڑا سا نکالا اور اس کو پھینک دیا، پھر اس نے کہا: دل میں رأفت و رحمت ڈال دے، جو چیز انھوں نے نکالی تھی، وہ چاندی کے مشابہ تھی، پھر اس نے میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلایا اور کہا: چلو اور سلامت رہو، پس میں ان دونوں کے ساتھ اس حال میں لوٹا کہ چھوٹے پر نرمی کر رہا تھا اور بڑے پررحمت۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10473]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن معاذ مجھول، وكذالك ابو معاذ، وأما ابنه معاذ بن محمد فقد روي عنه جمع، وذكره ابن حبان في الثقات، أخرجه ابن حبان:7155، والحاكم: 3/510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21581»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۴۷۰)
الحكم على الحديث: ضعیف