الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَلَامَاتِ الدَّالَّةِ عَلَى نُبُوَّتِهِ والتبشير بِمَبْعَثِهِ وَصِفَتِهِ فِي التَّوْرَاةِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ صفات¤(محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سابقہ کتب میں)
حدیث نمبر: 10484
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ فَأَخَذَهَا فَطَلَبَهُ الرَّاعِي فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ فَأَقْعَى الذِّئْبُ عَلَى ذَنَبِهِ قَالَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ تَنْزِعُ عَنِّي رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ فَقَالَ يَا عَجَبِي ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلَى ذَنَبِهِ يُكَلِّمُنِي كَلَامَ الْإِنْسِ فَقَالَ الذِّئْبُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَثْرِبَ يُخْبِرُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ قَالَ فَأَقْبَلَ الرَّاعِي يَسُوقُ غَنَمَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَزَوَاهَا إِلَى زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِي أَخْبِرْهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ وَيُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ لیا، لیکن چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری چھین لی، وہ بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، تو مجھ سے وہ رزق چھینتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے؟ اس نے کہا: بڑا تعجب ہے، اپنی دم پر بیٹھا ہوا یہ بھیڑیا انسان کی طرح مجھ سے کلام کرتا ہے، اتنے میں بھیڑیئے نے پھر کہا: کیا میں تجھے اس سے زیادہ تعجب والی بات نہ بتاؤں؟ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یثرب میں ظاہر ہو چکے ہیں اور لوگوں کو ماضی کی خبریں بتلاتے ہیں، چرواہے نے اپنی بکریوں کو ہانکنا شروع کیا،یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوا اور مدینہ کے ایک کونے میں ان کو جمع کیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سارے ماجرے کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌکی آواز لگائی گئی، جب لوگ جمع ہو گئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور چرواہے سے فرمایا: اِن لوگوں کو وہ بات بتلاؤ۔ پس اس نے ان کو یہ بات بتلائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ درندے لوگوں سے باتیں کریں گے، آدمی کے کوڑے کا کنارہ اور جوتے کا تسمہ اس سے کلام کرے گا اور بندے کی ران اس کو وہ کچھ بتلائے گی، جو اس کے اہل نے اس کے بعد کیا ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10484]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح، أخرجه الترمذي: 2181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11814»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10485
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَعْرَابِيٌّ فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ فِي غَنَمٍ لَهُ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ (فَذَكَرَ نَحْوَ الطَّرِيقِ الْأُولَى وَفِيهِ أَنَّ الذِّئْبَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ) رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي النَّخْلَتَيْنِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُحَدِّثُ النَّاسَ عَنْ أَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَمَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ فَنَعَقَ الْأَعْرَابِيُّ بِغَنَمِهِ حَتَّى أَلْجَأَهَا إِلَى بَعْضِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ضَرَبَ عَلَيْهِ بَابَهُ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ الْأَعْرَابِيُّ صَاحِبُ الْغَنَمِ فَقَامَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِّثِ النَّاسَ بِمَا سَمِعْتَ وَمَا رَأَيْتَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) ایک بدّو مدینہ منورہ کے کسی کونے میں اپنی بکریاں چرارہا تھا کہ ایک بھیڑیئے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا، … …، اس بھیڑیئے نے اس بدّو سے کہا: کھجوروں کے مابین اور دو حرّوں کے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، وہ لوگوں کو گزر جانے والیاور اگلے زمانے کی باتیں بتلاتا ہے، پس بدّو نے اپنی بکریوں کو آواز دی اور مدینہ میں کسی مقام پر ان کو چھوڑا اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر دستک دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: وہ بکریوں والا بدّو کہاں ہے؟ وہ بدّو کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: جو کچھ تو نے سنا ہے اور دیکھا ہے، وہ لوگوں کو بیان کر، … …۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10485]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11863»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10486
(عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يَهُشُّ عَلَيْهَا فِي بَيْدَاءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ إِذْ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَانْتَزَعَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ فَجَهْجَأَهُ الرَّجُلُ فَرَمَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى اسْتَنْقَذَ مِنْهُ شَاتَهُ ثُمَّ إِنَّ الذِّئْبَ أَقْبَلَ حَتَّى أَقْعَى مُسْتَذْفِرًا بِذَنَبِهِ مُقَابِلَ الرَّجُلِ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ
۔ (تیسری سند) بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی ذو الحلیفہ میں بیداء مقام پر اپنی بکریوں کو ہانک رہا تھا، اچانک ایک بھیرئیے نے حملہ کیا اور ایک بکری لے گیا، لیکن اس بندے نے اس کو ڈانٹا، چلّایا اور اس کو پتھر مارا اور اس سے اپنی بکری بچا لی، پھر وہ بھیڑیا اپنی دم کو ٹانگوں کے درمیان کر کے اس آدمی کے سامنے بیٹھ گیا، … …۔ آگے وہی روایت ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10486]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11866»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے سابقہ مذہبی ادب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واضح تذکرہ ملتاہے۔ اس ضمن میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بڑا خوبصورت تذکرہ موجود ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۱۷۴۳)، نیز درج ذیل مضمون کا توجہ کے ساتھ مطالعہ کریں:
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سابقہ کتب میں:
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! انبیا کی تعداد کتنی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (مسند احمد: ۵/ ۲۶۵)
ان (۳۱۵) رسولوں میں درج ذیل پانچ اولوا العزم پیغمبر تھے:
نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور محمدh۔
پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سید الاولین والآخرین قرار دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے پہلے اور آخری رسول ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے پیغام رساؤں اور قاصدوں کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا، وہ نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گیا۔
یہودیوں کی تورات، عیسائیوں کی انجیل اور ہندؤوں کی ویدوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں پیشین گوئیاں کی گئی ہیں، ان کا تذکرہ کیا گیا ہے، یہ پیشین گوئیاں واضح، دو ٹوک اور اظہر من الشمس ہیں۔ بہرحال دنیا نے ضد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج دریافت نہیں کیا۔
قرآن مجید کی شہادت:
اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مذہبی معاملات میں ہمارا سارا عتماد قرآن و حدیث پر ہے، ہماری شریعت میں جن اسرائیلی روایات کے صدق یا کذب پر مشتمل ہونے کا پتہ نہ چل رہا ہو، سرے سے ان کی تصدیقیا تکذیب کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرما دیا ہے کہ تورات و انجیل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی پیشینگوئیاں اور آپ اور آپ کے صحابہ کی صفات کا تذکرہ موجود ہے، اس لیےیہ تسلیم کرنا ضروری ہو گا کہ ان دو کتب میں یہ تذکرے موجود تھے، لیکن تورات یا انجیل کے کسینسخے کو دیکھ کر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ وہی جملے یا الفاظ ہیں جو موسی علیہ السلام یا عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئے تھے۔ اس بحث سے ہمارے دو مقاصد ہیں:
۱۔ اہل کتاب پر ان کی الہامی کتب کے ذریعے ان پر حق واضح کیا جائے۔
۲۔ اگرچہ اہل اسلام کے لیے قرآن و حدیث ہی کافی ہیں، لیکن طبعی طور پر اس امر سے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ اغیار کا مذہبی ادب بھی ہمارے نبی اور دین کو برحق تسلیم کر رہا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { اَلَّذِیْنَیَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْأُمِّیَّ الَّذِیْیَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِیْ التَّوْرٰۃِ وَالأنْجِیْلِ }(سورۂ اعراف: ۱۵۶) یعنی: جو لوگ ایسے رسول نبی امی کی اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تو رات و انجیل میں لکھا ہو اپاتے ہیں۔
قرآن مجید کی اس شہادت سے معلوم ہوا کہ تورات و انجیل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ موجود تھا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{ وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَیٰبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہٗاَحْمَدُفَلَمَّاجَآئَھُمْبِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ .} (سورۂ صف: ۵)
یعنی: اور جب مریم کے بیٹے عیسی نے کہا اے (میری قوم)، نبی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں او ر اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں جنکا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ انکے پاس کھلی دلیلیں لائے تو یہ کہنے لگے، یہ تو کھلا جادو ہے۔
اس آیت ِ مبارکہ میں عیسی علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشخبری سنائی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ َیتْلُوْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ} (سورۂ بقرہ: ۱۲۸)
یعنی: اے ہمارے رب! ان میں انہیں میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو غلبے والا اور حکمت والا ہے۔
ابراہیم اور اسماعیلm نے کعبہ کی تعمیر کرتے وقت یہ دعا کی تھی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکل میں چھبیس صدیوں کے بعد پوری کی۔
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ ہوں، جس کو ام الکتاب میں اس وقت خاتم النبین لکھ دیا گیا تھا، جب آدم علیہ السلام ابھی تک اپنی مٹی میں پڑے ہوئے تھے، اور میں عنقریب تم کو اس کی تأویل کے بارے میں بتلاؤں گا، میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت۔ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۴۵۷)۔
سابقہ مذہبی کتب میں تذکرۂ محمدی
سابقہ کتب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور ان کے معانی:
نراشنس: محمد مامح: محمد مترپیا: رحم والا، ہمدردی والا، استوت اریتا:م ددگار، تمام قوموں کو یکجا کرنے والا فارقلیط: احمد یا محمد۔
حیران کن بات یہ ہے کہ عیسائی،یہودی اور ہندو نبی آخرا لزمان، اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں، انھوں نے جان بوجھ کر اپنی اپنی کتابوں میں تحریفیں کیں، لیکن اس کے باوجود ان کی کتب میں ایسی عبارات موجود ہیں، جن کا واضح طور پر مصداق محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیزندگی میں ورقہ بن نوفل، نجاشی اور ہرقل جیسے عظیم لوگوںنے ان حقائق کا اعتراف کر لیا تھا۔
صحف آدم میں:
آدم علیہ السلام کو صحیفے عطا کیے گئے، ان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مخاطب ہو کر کہا: اے آدم! جو شخص میرے اس گو (خانہ کعبہ) کی زیارت سے مشرف ہو گا، اسے میری زیارت ہو گی … … حتی کہ سلسلہ تیرے فرزند ارجمند تک پہنچے گا، جو تیری اولاد میں افضل ہو گا، اس کا نام نامی محمد ہو گا، حسن و جمال میں بدر کامل ہو گا۔ (نقوش: رسول نمبر، محمد طفیل، ج 9،ش130، ص: 33، ایڈیشن: 1984ئ، ادارہ فروغ اردو لاہور)
تورات میں
تورات تاریخیہودیت کے پہلے تین ادوار میں ہی ضیاع اور آتش زنی کا شکار ہو چکی تھی، … … بہرحال یہ ایک الہامی کتاب ہے، ہم اپنے موضوع سے متعلقہ چند ایک اقتباسات نقل کریں گے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں اضافہ ہو جائے۔
تورات سِفر التثنیہ میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے کہا: آپ بنی اسرائیل سے کہہ دیجئے کہ میں ان کے لیے آخری زمانہ میں آپ کی ہی طرح کا ایک نبی بھیجوں گا، جو ان کے بھائیوں کی اولاد میں سے ہو گا اور میں اپنے کلام کو اس کی زبان پر جاری کروں گا۔
ڈاکٹر محمد لقمان سلفی نے کہا: اور یہ بات معلوم ہے کہ موسی علیہ السلام کے بعد ہر نبی بنی اسرائیل میں سے ہوا اور ان میں آخری نبی عیسی علیہ السلام ہوئے اور ان کے بھائیوں کی اولاد میں سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی ہوئے، اس لیے کہ وہ اسماعیل کی اولاد میں سے تھے اور اسماعیل، اسحاق کے بھائی تھے۔ اگریہ بشارت بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے کسی نبی کے بارے میں ہوتی تو ان کے بھائیوں کا ذکر بے معنی ہوتا۔ (الصادق الامین: صـ ۹۲)
سِفر التثنیہ میں ہے: اور رب سینا سے آیا، اور ان کے لیے ساعیر سے چمکا اور جبل فاران سے آتا ہوا جلوہ افروز ہوا اور اس کے ساتھ دس ہزار پاکباز لوگ آئے اور اس کے دائیں ہاتھ سے ان کے لیے شریعت کی آگ ظاہر ہوئی۔ (سفر التثنیہ: باب ۳۲، عربی ترجمہ، مطبوعہ: ۱۸۴۴)
ہندو کتابوں میں
ہندو دھرم، جس کی بنیاد۱۵۰۰ ق م رکھی گئی، ہمارے برصغیر ہندو ستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کا مشہور اور قدیم مذہب ہے۔ ہندوستان میں اسی دھرم کو ماننے والوں کی اکثریت ہے۔
ہندو دھرم کی سب سے مشہور اور اولین کتاب وید ہے، وید چار ہیں، جو بالترتیبیہ ہیں: رگ وید،یجر وید، سام وید، اتہر وید۔
نراشنس کا ذکر چاروں ویدوں میں ہے، لیکن سب سے تفصیلی ذکر اتہر وید میں ہے، لہٰذا سب سے پہلے اسی کا اقتباس پیش کرتے ہیں۔
اس کتاب میں اس موضوع پر کل چودہ منتر ہیں، جو اتہر وید، کانڈ (۲۰)، سوکت (۱۲۷)، منتر (۱) تا (۱۴) پر مشتمل ہیں۔
(ہم بعض منتروں کا ذکر کریں گے)
منتر (۱): لوگو! احترام سے سنو، نراشنس کی تعریف کی جائے گی، ہم اس مہاجر یا امن کے علمبردار کو ساٹھ ہزار نوے دشمنوں کے درمیان محفوظ رکھیں گے۔
ابن اکبر اعظمی نے کہا: نراشنس سنسکرت زبان کا لفظ ہے، یہ دو الفاظ سے مرکب ہے، ایک لفظ نر ہے، جس کے معانی انسان کے ہیں اور دوسرا لفظ اشنس ہے، جس کے معانی ہیں: وہ شخص جس کی کثرت سے تعریف کی جائے۔ اس طرح نراشنس کا بعینہ وہی معنی ہوا جو عربی میں لفظ محمد کا ہے۔
ساٹھ ہزار نوے دشمن، اس تعداد کا تعین نہایت باریکی کے ساتھ کیا گیا،یہ نہایت عظیم اور حیرتناک پیشین گوئی ہے، شارحین اس کا مصدا ق ڈھونڈنے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس کو چسپاں کرنے کے سلسلے میں حیران و پریشان ہیں۔ … … ان دشمنوں سے مراد مردان جنگی ہیں، جو تلوار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابل آئے، یا جنہوں نے خفیہ طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ تفصیلیہ ہے: قریشی اور ان کے حلفا بنو غطفان اور ان کے شرکاء کی کل تعداد دس ہزار تھی، جو جنگ خندق میں اکٹھے تھے اور دوسری جنگوں میں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی شکل میں،یہود کے مختلف قبائل کے مردان جنگی کی تعداد دس ہزار تھی، جو خیبر میں تقریباًیکجائی طور سے لڑے اور باقی جنگو ں میں متفرق طور پر۔ رومی جنہوں نے مدینہ پر دھاوا بول کراس کی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہی اور جن سے مقابلہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک تشریف لے گئے، ان کی کل تعداد چالیس ہزار تھی۔ منافقین، جنہوں نے تبوک میں ساتھ دینے سے معذرت کر لی، (۸۰) تھے، اور تبوک میں جانے والے (۱۲) یا (۱۳) تھے، انھوں نے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کا اقدام کیا، لیکن ناکام رہے اور ان میں سے دو تین متذبذب تھے اور انھوں نے توبہ کر لی تھی۔ اس طرح سے یہ کل ساٹھ ہزار نوے دشمن تھے۔
منتر (۲) اس کی سواری اونٹ ہو گا اور اس کی بارہ بیویاں ہوں گی، اس کا درجہ اتنا بلند اور اس کی سواری اتنی تیز ہو گی کہ وہ آسمان کو چھوئے گی اور پھر اتر آئے گی۔
منتر (۴) تبلیغ کر اے احمد، تبلیغ کر جیسے چڑیاں پکے ہوئے پھل والے درخت پر چہچہاتی ہیں۔ تیری زبان اور تیرے دونوں ہونٹ قینچی کے دونوں پھلوں کی طرح چلتے ہیں۔
اس منتر میں ریبھ نام کا انسان مخاطب ہے، یہ سنسکرت زبان کا لفظ ہے، جس کا بعینہ وہی معنی ہے جو عربی میں احمد ہے، یعنی کثرت سے یا سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے والا۔
منتر (۵) حمد کرنے والے اپنی حمدوں کے ساتھ یا نمازی اپنی نمازوں کے ساتھ طاقتور سانڈ کی طرح جنگ میں جاتے ہیں اور ان کی اولاد اپنے گھروں میںیوںمامون رہتی ہے، جیسے گائے اپنے ٹھکانوں میں۔
منتر (۶) اے احمد! اس کلام کو مضبوطی سے پکڑ کہ یہ گایوں اور مالوں کی اساس ہے اور اسے متقیوں تک پہنچا، جیسے بہادر نشانے پر تیر مارتا ہے۔ (ملاحظ ہو: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہندو کتابوں میں، اعداد و ترتیب: امیر حمزہ)
انجیل میں:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں انجیل میں یہ لکھا ہوا تھا:
اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ مَکْتُوْبٌ فِی اْلإِنْجِیْلِ: لا فَظٌّ وَلاَ غَلِیْظٌ وَلاَ سَخَّابٌ بِالْاَسْوَاقِ وَلا یَجْزِیْ بِالسَّیِّئَۃِ مِثْلَھَا، بَلْ یَعْفُوْ وَیَصْفَحُ۔
یعنی: آپ بدخلق تھے نہ سخت دل‘آپ بازاروں میں شور کرنے والے تھے نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے‘ بلکہ آپ معاف کرتے اور درگزرفرماتے تھے۔
انجیل میں درج ذیل مقامات میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے متعلق صاف اشارات موجود ہیں۔
متی:باب ۲۱،آیت۳۳تا ۴۶۔ یوحنا: باب،۱، آیت۱۹تا ۲۱۔ یوحنا: باب ۱۴،آیت۱۵تا ۱۷،و آیت۲۵تا ۳۰۔ یوحنا: باب ۱۵، آیت۲۵، ۲۶۔ یوحنا: باب ۱۶،آیت۷تا ۱۵۔
اب تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
وہ پیشن گوئیا ں درج ذیل ہیں جو انجیلیوحنا میں مسلسل باب ۱۴سے ۱۶ تک منقول ہوئی ہیں:
اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے، یعنی روح حق جسے دنیا حاصل نہیں کو سکتی کیونکہ نہ اسے دیکھتی ہے نہ جانتی ہے تم اسے جانتے ہو کیونکہ وہ تمہار ے ساتھ رہتاہے اور تمہارے اندر ہے۔ (۱۴:۱۶،۱۷)
میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں لیکن مدد گار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا، وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ تم سب تمہیںیاد دلائے گا۔ (۱۴: ۲۵، ۲۶)
اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ (۱۴: ۳۰)
لیکن جب وہ مدد گار آئے جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے، تو وہ میری گواہی دے گا۔ (۱۵: ۲۶)
لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مدد گار تمہارے پاس نہ آئے گا، لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیجوں گا۔ (۱۷: ۷)
ابو الاعلی مودودی انجیل کے تغیرات اور تحریفات کی چند وجوہات بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں: انجیلیوحنا کی مذکورہ بالا عبارات میں عیسی علیہ السلام اپنے بعد ایک آنے والے کی خبر دے رہے ہیں، جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ وہ دنیا کا سردار (سرورِ عالم) ہو گا۔ ابد تک رہے گا، سچائی کی تمام راہیں دکھائے گا اور خود ان کییعنی عیسی علیہ السلام کی گواہی دے گا۔ یوحنا کی ان عبارتوں میں روح القدس اور سچائی کی روح وغیرہ کے الفاظ شامل کر کے مدّعا کو خبط کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے، مگر اس کے باوجود ان سب عبارتوں کو اگر غور سے پڑھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس آنے والے کی خبر دی گئی ہے، وہ کوئی روح نہیں، بلکہ کوئی انسان اور خاص شخص ہے، جس کی تعلیم عالمگیر، ہمہ گیر اور قیامت تک باقی رہنے والی ہو گی۔ اس شخص خاص کے لیے اردو ترجمے میں مدد گار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
(تفہیم القرآن: ۵/ ۴۶۲ تا ۴۶۴)
سیدہ آمنہ بی بی کو (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احمد) نام رکھنے کی بشارت فرشتے کی معرفت ایسے ہی ملی تھی، جیسے کہ فرشتے کی بشارت سے ہاجرہ بی بی نے اسماعیل کانام (پیدائش: ۱۱/ ۱۶) اور مریم نے یسوع کا نام (لوقا: 1باب، ۳۰ درس) رکھا تھا۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سابقہ کتب میں:
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! انبیا کی تعداد کتنی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (مسند احمد: ۵/ ۲۶۵)
ان (۳۱۵) رسولوں میں درج ذیل پانچ اولوا العزم پیغمبر تھے:
نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور محمدh۔
پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سید الاولین والآخرین قرار دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے پہلے اور آخری رسول ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے پیغام رساؤں اور قاصدوں کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا، وہ نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گیا۔
یہودیوں کی تورات، عیسائیوں کی انجیل اور ہندؤوں کی ویدوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں پیشین گوئیاں کی گئی ہیں، ان کا تذکرہ کیا گیا ہے، یہ پیشین گوئیاں واضح، دو ٹوک اور اظہر من الشمس ہیں۔ بہرحال دنیا نے ضد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج دریافت نہیں کیا۔
قرآن مجید کی شہادت:
اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مذہبی معاملات میں ہمارا سارا عتماد قرآن و حدیث پر ہے، ہماری شریعت میں جن اسرائیلی روایات کے صدق یا کذب پر مشتمل ہونے کا پتہ نہ چل رہا ہو، سرے سے ان کی تصدیقیا تکذیب کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرما دیا ہے کہ تورات و انجیل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی پیشینگوئیاں اور آپ اور آپ کے صحابہ کی صفات کا تذکرہ موجود ہے، اس لیےیہ تسلیم کرنا ضروری ہو گا کہ ان دو کتب میں یہ تذکرے موجود تھے، لیکن تورات یا انجیل کے کسینسخے کو دیکھ کر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ وہی جملے یا الفاظ ہیں جو موسی علیہ السلام یا عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئے تھے۔ اس بحث سے ہمارے دو مقاصد ہیں:
۱۔ اہل کتاب پر ان کی الہامی کتب کے ذریعے ان پر حق واضح کیا جائے۔
۲۔ اگرچہ اہل اسلام کے لیے قرآن و حدیث ہی کافی ہیں، لیکن طبعی طور پر اس امر سے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ اغیار کا مذہبی ادب بھی ہمارے نبی اور دین کو برحق تسلیم کر رہا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { اَلَّذِیْنَیَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْأُمِّیَّ الَّذِیْیَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِیْ التَّوْرٰۃِ وَالأنْجِیْلِ }(سورۂ اعراف: ۱۵۶) یعنی: جو لوگ ایسے رسول نبی امی کی اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تو رات و انجیل میں لکھا ہو اپاتے ہیں۔
قرآن مجید کی اس شہادت سے معلوم ہوا کہ تورات و انجیل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ موجود تھا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{ وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَیٰبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہٗاَحْمَدُفَلَمَّاجَآئَھُمْبِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ .} (سورۂ صف: ۵)
یعنی: اور جب مریم کے بیٹے عیسی نے کہا اے (میری قوم)، نبی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں او ر اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں جنکا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ انکے پاس کھلی دلیلیں لائے تو یہ کہنے لگے، یہ تو کھلا جادو ہے۔
اس آیت ِ مبارکہ میں عیسی علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشخبری سنائی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ َیتْلُوْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ} (سورۂ بقرہ: ۱۲۸)
یعنی: اے ہمارے رب! ان میں انہیں میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو غلبے والا اور حکمت والا ہے۔
ابراہیم اور اسماعیلm نے کعبہ کی تعمیر کرتے وقت یہ دعا کی تھی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکل میں چھبیس صدیوں کے بعد پوری کی۔
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ ہوں، جس کو ام الکتاب میں اس وقت خاتم النبین لکھ دیا گیا تھا، جب آدم علیہ السلام ابھی تک اپنی مٹی میں پڑے ہوئے تھے، اور میں عنقریب تم کو اس کی تأویل کے بارے میں بتلاؤں گا، میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت۔ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۴۵۷)۔
سابقہ مذہبی کتب میں تذکرۂ محمدی
سابقہ کتب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور ان کے معانی:
نراشنس: محمد مامح: محمد مترپیا: رحم والا، ہمدردی والا، استوت اریتا:م ددگار، تمام قوموں کو یکجا کرنے والا فارقلیط: احمد یا محمد۔
حیران کن بات یہ ہے کہ عیسائی،یہودی اور ہندو نبی آخرا لزمان، اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں، انھوں نے جان بوجھ کر اپنی اپنی کتابوں میں تحریفیں کیں، لیکن اس کے باوجود ان کی کتب میں ایسی عبارات موجود ہیں، جن کا واضح طور پر مصداق محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیزندگی میں ورقہ بن نوفل، نجاشی اور ہرقل جیسے عظیم لوگوںنے ان حقائق کا اعتراف کر لیا تھا۔
صحف آدم میں:
آدم علیہ السلام کو صحیفے عطا کیے گئے، ان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مخاطب ہو کر کہا: اے آدم! جو شخص میرے اس گو (خانہ کعبہ) کی زیارت سے مشرف ہو گا، اسے میری زیارت ہو گی … … حتی کہ سلسلہ تیرے فرزند ارجمند تک پہنچے گا، جو تیری اولاد میں افضل ہو گا، اس کا نام نامی محمد ہو گا، حسن و جمال میں بدر کامل ہو گا۔ (نقوش: رسول نمبر، محمد طفیل، ج 9،ش130، ص: 33، ایڈیشن: 1984ئ، ادارہ فروغ اردو لاہور)
تورات میں
تورات تاریخیہودیت کے پہلے تین ادوار میں ہی ضیاع اور آتش زنی کا شکار ہو چکی تھی، … … بہرحال یہ ایک الہامی کتاب ہے، ہم اپنے موضوع سے متعلقہ چند ایک اقتباسات نقل کریں گے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں اضافہ ہو جائے۔
تورات سِفر التثنیہ میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے کہا: آپ بنی اسرائیل سے کہہ دیجئے کہ میں ان کے لیے آخری زمانہ میں آپ کی ہی طرح کا ایک نبی بھیجوں گا، جو ان کے بھائیوں کی اولاد میں سے ہو گا اور میں اپنے کلام کو اس کی زبان پر جاری کروں گا۔
ڈاکٹر محمد لقمان سلفی نے کہا: اور یہ بات معلوم ہے کہ موسی علیہ السلام کے بعد ہر نبی بنی اسرائیل میں سے ہوا اور ان میں آخری نبی عیسی علیہ السلام ہوئے اور ان کے بھائیوں کی اولاد میں سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی ہوئے، اس لیے کہ وہ اسماعیل کی اولاد میں سے تھے اور اسماعیل، اسحاق کے بھائی تھے۔ اگریہ بشارت بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے کسی نبی کے بارے میں ہوتی تو ان کے بھائیوں کا ذکر بے معنی ہوتا۔ (الصادق الامین: صـ ۹۲)
سِفر التثنیہ میں ہے: اور رب سینا سے آیا، اور ان کے لیے ساعیر سے چمکا اور جبل فاران سے آتا ہوا جلوہ افروز ہوا اور اس کے ساتھ دس ہزار پاکباز لوگ آئے اور اس کے دائیں ہاتھ سے ان کے لیے شریعت کی آگ ظاہر ہوئی۔ (سفر التثنیہ: باب ۳۲، عربی ترجمہ، مطبوعہ: ۱۸۴۴)
ہندو کتابوں میں
ہندو دھرم، جس کی بنیاد۱۵۰۰ ق م رکھی گئی، ہمارے برصغیر ہندو ستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کا مشہور اور قدیم مذہب ہے۔ ہندوستان میں اسی دھرم کو ماننے والوں کی اکثریت ہے۔
ہندو دھرم کی سب سے مشہور اور اولین کتاب وید ہے، وید چار ہیں، جو بالترتیبیہ ہیں: رگ وید،یجر وید، سام وید، اتہر وید۔
نراشنس کا ذکر چاروں ویدوں میں ہے، لیکن سب سے تفصیلی ذکر اتہر وید میں ہے، لہٰذا سب سے پہلے اسی کا اقتباس پیش کرتے ہیں۔
اس کتاب میں اس موضوع پر کل چودہ منتر ہیں، جو اتہر وید، کانڈ (۲۰)، سوکت (۱۲۷)، منتر (۱) تا (۱۴) پر مشتمل ہیں۔
(ہم بعض منتروں کا ذکر کریں گے)
منتر (۱): لوگو! احترام سے سنو، نراشنس کی تعریف کی جائے گی، ہم اس مہاجر یا امن کے علمبردار کو ساٹھ ہزار نوے دشمنوں کے درمیان محفوظ رکھیں گے۔
ابن اکبر اعظمی نے کہا: نراشنس سنسکرت زبان کا لفظ ہے، یہ دو الفاظ سے مرکب ہے، ایک لفظ نر ہے، جس کے معانی انسان کے ہیں اور دوسرا لفظ اشنس ہے، جس کے معانی ہیں: وہ شخص جس کی کثرت سے تعریف کی جائے۔ اس طرح نراشنس کا بعینہ وہی معنی ہوا جو عربی میں لفظ محمد کا ہے۔
ساٹھ ہزار نوے دشمن، اس تعداد کا تعین نہایت باریکی کے ساتھ کیا گیا،یہ نہایت عظیم اور حیرتناک پیشین گوئی ہے، شارحین اس کا مصدا ق ڈھونڈنے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس کو چسپاں کرنے کے سلسلے میں حیران و پریشان ہیں۔ … … ان دشمنوں سے مراد مردان جنگی ہیں، جو تلوار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابل آئے، یا جنہوں نے خفیہ طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ تفصیلیہ ہے: قریشی اور ان کے حلفا بنو غطفان اور ان کے شرکاء کی کل تعداد دس ہزار تھی، جو جنگ خندق میں اکٹھے تھے اور دوسری جنگوں میں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی شکل میں،یہود کے مختلف قبائل کے مردان جنگی کی تعداد دس ہزار تھی، جو خیبر میں تقریباًیکجائی طور سے لڑے اور باقی جنگو ں میں متفرق طور پر۔ رومی جنہوں نے مدینہ پر دھاوا بول کراس کی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہی اور جن سے مقابلہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک تشریف لے گئے، ان کی کل تعداد چالیس ہزار تھی۔ منافقین، جنہوں نے تبوک میں ساتھ دینے سے معذرت کر لی، (۸۰) تھے، اور تبوک میں جانے والے (۱۲) یا (۱۳) تھے، انھوں نے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کا اقدام کیا، لیکن ناکام رہے اور ان میں سے دو تین متذبذب تھے اور انھوں نے توبہ کر لی تھی۔ اس طرح سے یہ کل ساٹھ ہزار نوے دشمن تھے۔
منتر (۲) اس کی سواری اونٹ ہو گا اور اس کی بارہ بیویاں ہوں گی، اس کا درجہ اتنا بلند اور اس کی سواری اتنی تیز ہو گی کہ وہ آسمان کو چھوئے گی اور پھر اتر آئے گی۔
منتر (۴) تبلیغ کر اے احمد، تبلیغ کر جیسے چڑیاں پکے ہوئے پھل والے درخت پر چہچہاتی ہیں۔ تیری زبان اور تیرے دونوں ہونٹ قینچی کے دونوں پھلوں کی طرح چلتے ہیں۔
اس منتر میں ریبھ نام کا انسان مخاطب ہے، یہ سنسکرت زبان کا لفظ ہے، جس کا بعینہ وہی معنی ہے جو عربی میں احمد ہے، یعنی کثرت سے یا سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے والا۔
منتر (۵) حمد کرنے والے اپنی حمدوں کے ساتھ یا نمازی اپنی نمازوں کے ساتھ طاقتور سانڈ کی طرح جنگ میں جاتے ہیں اور ان کی اولاد اپنے گھروں میںیوںمامون رہتی ہے، جیسے گائے اپنے ٹھکانوں میں۔
منتر (۶) اے احمد! اس کلام کو مضبوطی سے پکڑ کہ یہ گایوں اور مالوں کی اساس ہے اور اسے متقیوں تک پہنچا، جیسے بہادر نشانے پر تیر مارتا ہے۔ (ملاحظ ہو: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہندو کتابوں میں، اعداد و ترتیب: امیر حمزہ)
انجیل میں:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں انجیل میں یہ لکھا ہوا تھا:
اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ مَکْتُوْبٌ فِی اْلإِنْجِیْلِ: لا فَظٌّ وَلاَ غَلِیْظٌ وَلاَ سَخَّابٌ بِالْاَسْوَاقِ وَلا یَجْزِیْ بِالسَّیِّئَۃِ مِثْلَھَا، بَلْ یَعْفُوْ وَیَصْفَحُ۔
یعنی: آپ بدخلق تھے نہ سخت دل‘آپ بازاروں میں شور کرنے والے تھے نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے‘ بلکہ آپ معاف کرتے اور درگزرفرماتے تھے۔
انجیل میں درج ذیل مقامات میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے متعلق صاف اشارات موجود ہیں۔
متی:باب ۲۱،آیت۳۳تا ۴۶۔ یوحنا: باب،۱، آیت۱۹تا ۲۱۔ یوحنا: باب ۱۴،آیت۱۵تا ۱۷،و آیت۲۵تا ۳۰۔ یوحنا: باب ۱۵، آیت۲۵، ۲۶۔ یوحنا: باب ۱۶،آیت۷تا ۱۵۔
اب تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
وہ پیشن گوئیا ں درج ذیل ہیں جو انجیلیوحنا میں مسلسل باب ۱۴سے ۱۶ تک منقول ہوئی ہیں:
اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے، یعنی روح حق جسے دنیا حاصل نہیں کو سکتی کیونکہ نہ اسے دیکھتی ہے نہ جانتی ہے تم اسے جانتے ہو کیونکہ وہ تمہار ے ساتھ رہتاہے اور تمہارے اندر ہے۔ (۱۴:۱۶،۱۷)
میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں لیکن مدد گار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا، وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ تم سب تمہیںیاد دلائے گا۔ (۱۴: ۲۵، ۲۶)
اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ (۱۴: ۳۰)
لیکن جب وہ مدد گار آئے جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے، تو وہ میری گواہی دے گا۔ (۱۵: ۲۶)
لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مدد گار تمہارے پاس نہ آئے گا، لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیجوں گا۔ (۱۷: ۷)
ابو الاعلی مودودی انجیل کے تغیرات اور تحریفات کی چند وجوہات بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں: انجیلیوحنا کی مذکورہ بالا عبارات میں عیسی علیہ السلام اپنے بعد ایک آنے والے کی خبر دے رہے ہیں، جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ وہ دنیا کا سردار (سرورِ عالم) ہو گا۔ ابد تک رہے گا، سچائی کی تمام راہیں دکھائے گا اور خود ان کییعنی عیسی علیہ السلام کی گواہی دے گا۔ یوحنا کی ان عبارتوں میں روح القدس اور سچائی کی روح وغیرہ کے الفاظ شامل کر کے مدّعا کو خبط کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے، مگر اس کے باوجود ان سب عبارتوں کو اگر غور سے پڑھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس آنے والے کی خبر دی گئی ہے، وہ کوئی روح نہیں، بلکہ کوئی انسان اور خاص شخص ہے، جس کی تعلیم عالمگیر، ہمہ گیر اور قیامت تک باقی رہنے والی ہو گی۔ اس شخص خاص کے لیے اردو ترجمے میں مدد گار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
(تفہیم القرآن: ۵/ ۴۶۲ تا ۴۶۴)
سیدہ آمنہ بی بی کو (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احمد) نام رکھنے کی بشارت فرشتے کی معرفت ایسے ہی ملی تھی، جیسے کہ فرشتے کی بشارت سے ہاجرہ بی بی نے اسماعیل کانام (پیدائش: ۱۱/ ۱۶) اور مریم نے یسوع کا نام (لوقا: 1باب، ۳۰ درس) رکھا تھا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِخْبَارِ الْكُهَّانِ بِظُهُورِ بِعْثَتِهِ ﷺ
کاہنوں کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
حدیث نمبر: 10487
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّ أَوَّلَ خَبَرٍ قَدِمَ عَلَيْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَ لَهَا تَابِعٌ قَالَ فَأَتَاهَا فِي صُورَةِ طَيْرٍ فَوَقَعَ عَلَى جِذْعٍ لَهُمْ قَالَ فَقَالَتْ أَلَا تَنْزِلُ فَنُخْبِرُكَ وَتُخْبِرُنَا قَالَ إِنَّهُ قَدْ خَرَجَ رَجُلٌ بِمَكَّةَ حَرَّمَ عَلَيْنَا الزِّنَا وَمَنَعَ مِنَ الْفِرَارِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک پہلی خبر جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں موصول ہوئی، وہ یہ تھی کہ ایک عورت کا پیروکار جن تھا، ایک دن وہ پرندے کی صورت میں آیا اور ان کے تنے پر بیٹھ گیا، اس خاتون نے کہا: کیا تونیچے نہیں آتا، تاکہ ہم تجھے باتیں بتلائیں اور تو ہمیں بتلائے؟ لیکن اس نے کہا: مکہ مکرمہ میں ایک آدمی ظاہر ہو چکا ہے، اس نے ہم پر زنا کو حرام قرار دیا ہے اور جہادمیں لڑائی کے وقت بھاگ جانے سے بھی روک دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10487]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، تفرد به عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر، وھو يعتبر به في المتابعات والشواھد، أخرجه الطبراني في الاوسط: 769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14896»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ بات درست ہے کہ جن، بندوں کے تابع ہو جاتے ہیں اور پھر ان کو مختلف واقعات سے باخبر رکھتے ہیں۔ نجومیوں اور کاہنوں کا بھی اس قسم کاسلسلہ ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
12. بَابٌ فِي بَدا الْوَحْيِ وَكَيْفَ كَانَ يَأْتِيهِ وَرُؤْيَتِهِ ﷺ لِجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ
وحی کی ابتدائ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
حدیث نمبر: 10488
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِخَدِيجَةَ إِنِّي أَرَى ضَوْءًا وَأَسْمَعُ صَوْتًا وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي جُنُونٌ قَالَتْ لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ يَكُ صَادِقًا فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلُ نَامُوسِ مُوسَى فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَيٌّ فَسَأُعَزِّزُهُ وَأَنْصُرُهُ وَآمِنُ بِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: بیشک میں روشنی دیکھتا ہوں، آواز سنتا ہوں اور میں ڈرتا ہوں کہ مجھے کوئی جنون لاحق ہو گیا ہے۔ آگے سے سیدہ نے کہا: اے عبد اللہ کے بیٹے! اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ اس طرح نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور اس کو ساری بات بتلائی، اس نے کہا: اگر آپ سچے ہیں تو یہ موسی علیہ السلام کے ناموس کی طرح کا ناموس ہے، اگر آپ کو میری زندگی میں مبعوث کیا گیا تو میں آپ کو تقویت پہنچاؤں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تائید کروں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاؤں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10488]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط مسلم الا انه اختلف في وصله وارساله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2846 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2846»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10489
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ فَكَانَ يَأْتِي غَارَ حِرَاءَ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ فَقَالَ اقْرَأْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [سورة العلق: 1] حَتَّى بَلَغَ {مَا لَمْ يَعْلَمْ} [سورة العلق: 5] قَالَ فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ زَمِّلُونِي فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ يَا خَدِيجَةُ مَا لِي فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ وَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي فَقَالَتْ لَهُ كَلَّا أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ فَكَتَبَ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ خَدِيجَةُ يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ فَقَالَ وَرَقَةُ يَا ابْنَ أَخِي مَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا رَأَى فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ فَقَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا فَيُسْكِنُ ذَلِكَ جَأْشَهُ وَتَقَرُّ نَفْسُهُ فَيَرْجِعُ فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ وَفَتَرَ الْوَحْيُ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کی ابتداء نیند میں سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے، وہ صبح کے پھٹنے کی طرح پورا ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلوت کو پسند کرنے لگے اور غارِ حرا میں جا کر چند راتیں عبادت کرتے اور ان دنوں کا توشہ لے جاتے، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف لوٹتے اور اتنے دنوں کے لیے پھر زاد لے جاتے، یہاں تک کہ ایک دن اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حق آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غارِ حرا میں ہی تھے، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، چنانچہ اس نے مجھے پکڑ کر اس قدر دبایا کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور کہا: پڑھو، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہے، اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دبایا، حتی کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور پھر کہا: پڑھیں، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑ کر تیسری دفعہ دبایا اور مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ … … مَا لَمْ یَعْلَمْ} پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کو لوٹے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔ پس انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا،یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گھبراہٹ ختم ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کو سارا واقعہ سنا دیا اور فرمایا: میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ لیکن سیدہ نے کہا: ہر گز نہیں، آپ خوش رہیں، پس اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور امورِ حق میں مدد کرتے ہیں، پھر سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی، وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچے کا بیٹا تھا، جاہلیت میں عیسائیت کو اختیار کر چکا تھا، چونکہ یہ عربی زبان لکھ سکتا تھا، اس لیے انجیل کو عربی زبان میں لکھتا تھا، یہ بزرگ آدمی تھا اور اب نابینا ہو چکا تھا، سیدہ نے اس سے کہا: اے میرے چچے کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنو، ورقہ نے کہا: بھتیجے! تو کیا دیکھ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری تفصیل بیان کی، ورقہ نے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے، جو موسی علیہ السلام پر نازل کیا گیا، کاش میں اس وقت مضبوط ہوتا، جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: جی ہاں، جو چیز آپ لائے ہیں، جو آدمی بھی ایسی لے کر آیا ہے، اس سے دشمنی کی گئی ہے اور اگر آپ کے اُس وقت نے مجھے پا لیا تو میں آپ کی خوب مدد کروں گا، لیکن جلد ہی ورقہ وفات پاگیا اور وحی رک گئی، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین تھے، بلکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غم اس قدر بڑھ گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی بار چاہا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے گر پڑیں، جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑ کی چوٹی پر چڑتے تاکہ اپنے آپ کو وہاں سے گرا دیں تو جبریل علیہ السلام سامنے آتے اور کہتے: اے محمد! بیشک آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کا اضطراب کم ہو جاتا اور نفس مطمئن ہو جاتا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوٹ آتے، جب پھر مدت طول پکڑتی اور وحی رکی رہتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر اسی طرح کرتے اور جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاتے تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ظاہر ہوتا اور پہلے والی بات دوہراتا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10489]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4956، 6982، ومسلم: 160،وقوله: حتي حزن رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم فيما بلغنا حزنا، الخ۔ انما ھو من بلاغات الزھري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26486»
وضاحت: فوائد: … صبح کے پھٹنے سے مراد یہ ہے وہ خواب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیداری میں واضح طور پر پورا ہوتا ہوا نظر آتا، خوابوں کا سلسلہ فرشتے اور وحی کے لیے تمہید ہوتا ہے، اس سلسلے کی وجہ سے بشری قوتیں وحی کا بار برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکارم اور خصائل کا ذکر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دینا، اس سے معلوم ہوا کہ مکارمِ اخلاق اور خصائل خیریہ برے انجام سے سلامتی کا سبب ہوتے ہیں۔
وحی کا نزول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انسانیت میں سب سے بڑا منصب عطا کرنے کے لیے تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے گوشت کا کانپنا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطالبے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑا اوڑھا دینا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ پھر جب کچھ عرصہ تک وحی رکی رہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حدیث کے آخری حصے میں بیان کی گئی کیفیت میں مبتلا ہو جانا۔
ان امور میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے، جس کی وجہ سے احادیث ِ مبارکہ یا ان کے ثقہ راویوں پر اعتراض کیا جا سکے، اسی قسم کی کیفیتوں کو ہلکا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارِ حراء میں جانے کی توفیق بخشی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خوابوں کاسلسلہ شروع کیا گیا۔ دراصل ابتداء میں بارِ نبوت کو برداشت کرنا بشری قوتوں کے لیے خاصا مشکل مرحلہ ہوتا ہے، بعد میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام کی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، جبکہ یہ ہمارا اندازہ ہے، حقیقت میں انبیاء و رسل ہی بہتر جانتے ہیں کہ وصولِ نبوت کا بوجھ کیسا ہوتا ہے، سخت سردی میں نزول وحیکے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینہ ٹپکنے لگتا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا کہ جب وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑی سختی اور شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ صحابۂ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شدت کی کیفیت کا سوال نہیں کیا، دیکھیں جب موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تجلی کی وجہ سے پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے، جبکہ چند لمحے پہلے وہی اللہ تعالیٰ کے دیدار کا اصرار کر رہے تھے۔
آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو اضطراب بیان کیا گیا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ جب کچھ عرصہ وحی کا سلسلہ رکا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خدشہ ہونے لگا کہ کہیں ایسے تو نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسا فعل یا سبب سرزد ہوگیا ہو، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سزا مل رہی ہو، یایہ کیفیت اس غم کی وجہ سے تھی، جو وحی کی تاخیر کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طاری ہو گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع تو نہیں دی گئی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کو بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔
غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں ورقہ بن نوفل کی حیثیت کیا تھی، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دلا رہا ہے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ انبیاء کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔
بہتریہ ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو احساسات بیان کیے گئے ہیں، ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طبعی تقاضا سمجھا جائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارِ نبوت اٹھا لیا اور اپنے منصب تک پوری رسائی حاصل کر لی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قابل ہو گئے کہ وحی کی مختلف مجلسوں میں پورا قرآن مجیدوصول کر سکیں، قرآن مجید کے علاوہ وحی کی دوسری اقسام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے پیغامات موصول کر سکیں، جنت و جہنم کے مناظر دیکھ سکیں، اسراء و معراج کی صورت میں آسمانوں کی سیر کر سکیں، جہنم میں پتھر گرنے اور آسمان کے دروازے کھلنے کی آواز سن سکیں، قبروں میںعذاب میں مبتلا لوگوں کے عذاب کی کیفیت دیکھ سکیں، کثرت ِ عبادت میں اپنی جسمانی غذاکو محسوس کر سکیں، علی ہذا القیاس۔واللہ اعلم بالصواب۔
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکارم اور خصائل کا ذکر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دینا، اس سے معلوم ہوا کہ مکارمِ اخلاق اور خصائل خیریہ برے انجام سے سلامتی کا سبب ہوتے ہیں۔
وحی کا نزول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انسانیت میں سب سے بڑا منصب عطا کرنے کے لیے تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے گوشت کا کانپنا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطالبے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑا اوڑھا دینا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ پھر جب کچھ عرصہ تک وحی رکی رہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حدیث کے آخری حصے میں بیان کی گئی کیفیت میں مبتلا ہو جانا۔
ان امور میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے، جس کی وجہ سے احادیث ِ مبارکہ یا ان کے ثقہ راویوں پر اعتراض کیا جا سکے، اسی قسم کی کیفیتوں کو ہلکا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارِ حراء میں جانے کی توفیق بخشی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خوابوں کاسلسلہ شروع کیا گیا۔ دراصل ابتداء میں بارِ نبوت کو برداشت کرنا بشری قوتوں کے لیے خاصا مشکل مرحلہ ہوتا ہے، بعد میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام کی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، جبکہ یہ ہمارا اندازہ ہے، حقیقت میں انبیاء و رسل ہی بہتر جانتے ہیں کہ وصولِ نبوت کا بوجھ کیسا ہوتا ہے، سخت سردی میں نزول وحیکے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینہ ٹپکنے لگتا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا کہ جب وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑی سختی اور شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ صحابۂ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شدت کی کیفیت کا سوال نہیں کیا، دیکھیں جب موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تجلی کی وجہ سے پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے، جبکہ چند لمحے پہلے وہی اللہ تعالیٰ کے دیدار کا اصرار کر رہے تھے۔
آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو اضطراب بیان کیا گیا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ جب کچھ عرصہ وحی کا سلسلہ رکا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خدشہ ہونے لگا کہ کہیں ایسے تو نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسا فعل یا سبب سرزد ہوگیا ہو، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سزا مل رہی ہو، یایہ کیفیت اس غم کی وجہ سے تھی، جو وحی کی تاخیر کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طاری ہو گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع تو نہیں دی گئی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کو بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔
غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں ورقہ بن نوفل کی حیثیت کیا تھی، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دلا رہا ہے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ انبیاء کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔
بہتریہ ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو احساسات بیان کیے گئے ہیں، ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طبعی تقاضا سمجھا جائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارِ نبوت اٹھا لیا اور اپنے منصب تک پوری رسائی حاصل کر لی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قابل ہو گئے کہ وحی کی مختلف مجلسوں میں پورا قرآن مجیدوصول کر سکیں، قرآن مجید کے علاوہ وحی کی دوسری اقسام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے پیغامات موصول کر سکیں، جنت و جہنم کے مناظر دیکھ سکیں، اسراء و معراج کی صورت میں آسمانوں کی سیر کر سکیں، جہنم میں پتھر گرنے اور آسمان کے دروازے کھلنے کی آواز سن سکیں، قبروں میںعذاب میں مبتلا لوگوں کے عذاب کی کیفیت دیکھ سکیں، کثرت ِ عبادت میں اپنی جسمانی غذاکو محسوس کر سکیں، علی ہذا القیاس۔واللہ اعلم بالصواب۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10490
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ وَكَانَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، پھر مکہ مکرمہ میں تیرہ برس اور مدینہ منورہ میں دس برس ٹھہرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10490]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه الترمذي: 3622، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2242»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10491
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً سَبْعَ سِنِينَ يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ وَثَمَانِيَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں پندرہ برس ٹھہرے، ان میں سات سال تک تو روشنی دیکھتے اور آواز سنتے تھے اور آٹھ سالوں میں وحی نازل ہوتی رہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں دس سال تک مقیم رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10491]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2523»
وضاحت: فوائد: … مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ برس گزارے، لیکن اس روایت میں پندرہ سالوں کا ذکر ہے، دراصل اس میں نبوت کے مقدّمات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روشنی کو دیکھنااور آواز کو سننے کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10492
عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ قَالَ مَا كُنْتُ أَرَى مِثْلَكَ فِي قَوْمِهِ يَخْفَى عَلَيْكَ ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي سَأَلْتُ فَاخْتُلِفَ عَلَيَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ قَالَ أَتَحْسِبُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمْسِكْ أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا وَخَمْسَ عَشْرَةَ أَقَامَ بِمَكَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ وَعَشْرًا مُهَاجِرًا بِالْمَدِينَةِ
۔ مولائے بنی ہاشم عمار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت کتنی عمر تھی؟ انھوں نے کہا: میرا خیال نہیں تھا کہ تیرے جیسا آدمی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم میں رہا اور تجھ پر یہ چیز مخفی ہے، میں نے کہا: میں نے پوچھا تو ہے، لیکن مجھ پر اختلاف کیا گیا ہے، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بارے میں تیرے قول کا علم ہو جائے، انھوں نے کہا: کیا تو شمار کر سکتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: جمع کر، چالیس برس کی عمر میںآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، پھر آپ مکہ مکرمہ میں پندرہ سال رہے، اس دور میں امن بھی تھا اور خوف بھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گئے تو وہاں دس سال قیام کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10492]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2640»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10493
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا حَمْزَةَ سِنَّ أَيِّ الرِّجَالِ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ بُعِثَ قَالَ ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ ثُمَّ كَانَ مَاذَا قَالَ كَانَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ فَتَمَّتْ لَهُ سِتُّونَ سَنَةً ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ قَالَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ هُوَ يَوْمَئِذٍ قَالَ كَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَحْسَنِهِ وَأَجْمَلِهِ وَأَلْحَمِهِ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ غَزَوْتُ مَعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ
۔ علاء بن زیاد عدوی سے مروی ہے کہ اس نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟ انھوں نے کہا: چالیس برس، اس نے کہا: پھر کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں بھی دس برس ٹھہرے اور مدینہ میں بھی دس سال، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساٹھ برس عمر پوری ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی، اس نے کہا: ان دنوںمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسی عمر کے آدمی لگتے تھے؟ انھوں نے کہا: جیسے سب سے بھرپور نوجوان ہوں، سب سے زیادہ حسین و جمیل اور پرگوشت۔ اس نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں غزوۂ حنین کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10493]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12557»
وضاحت: فوائد: … مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کی مدت میں اختلاف ہے، اس مدت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر میں بھی اختلاف پڑ جاتا ہے۔
امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: امام مسلم نے اس باب میں کل تین روایات ذکر کی ہیں:
۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساٹھ برس کی عمر میں فوت ہوئے (اور مکہ میں دس برس قیام کیا)۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر پینسٹھ برس تھی (اور مکہ میں پندرہ سال قیام کیا)۔
۳۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی (اور مکہ میں تیرہ سال قیام کیا)۔
آخری روایت زیادہ صحیح اور مشہور ہے، امام مسلم نے اس روایت کو سیدہ عائشہ، سیدنا انس اور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے بیان کیا۔ علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ صحیح ترین روایت تریسٹھ برس عمر والی ہے، انھوں نے باقی روایات کی توجیہ کی ہے، ساٹھ برس والی روایت کے بارے میں کہا کہ اس میں دہائیوں کا اعتبار کیا اور اکائیوں کو چھوڑ دیا (اور عرب ایسا کرتے رہتے ہیں)، اسی طرح پینسٹھ برس والی روایت کی بھی توجیہ کی جائے گی۔
یہ بات بھی اتفاقی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اختلاف صرف مکہ میں قیام کی مدت میں ہے، راجح اور صحیحیہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ برس قیام کیا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک (۶۳) برس بنتی ہے۔
امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: امام مسلم نے اس باب میں کل تین روایات ذکر کی ہیں:
۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساٹھ برس کی عمر میں فوت ہوئے (اور مکہ میں دس برس قیام کیا)۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر پینسٹھ برس تھی (اور مکہ میں پندرہ سال قیام کیا)۔
۳۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی (اور مکہ میں تیرہ سال قیام کیا)۔
آخری روایت زیادہ صحیح اور مشہور ہے، امام مسلم نے اس روایت کو سیدہ عائشہ، سیدنا انس اور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے بیان کیا۔ علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ صحیح ترین روایت تریسٹھ برس عمر والی ہے، انھوں نے باقی روایات کی توجیہ کی ہے، ساٹھ برس والی روایت کے بارے میں کہا کہ اس میں دہائیوں کا اعتبار کیا اور اکائیوں کو چھوڑ دیا (اور عرب ایسا کرتے رہتے ہیں)، اسی طرح پینسٹھ برس والی روایت کی بھی توجیہ کی جائے گی۔
یہ بات بھی اتفاقی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اختلاف صرف مکہ میں قیام کی مدت میں ہے، راجح اور صحیحیہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ برس قیام کیا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک (۶۳) برس بنتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح