الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ رَجُوْعِهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الْإِسْرَاءِ وَالْمِعْرَاجِ إِلَى مَكَّةَ وَاخبَارِ قُرَيْشٍ بِمَا رَأَى وَتَكْذِيبِهِمْ إِيَّاهُ
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا¤اور ان کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھٹلا دینا
حدیث نمبر: 10594
عَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدَسِ ثُمَّ جَاءَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَحَدَّثَهُمْ بِمَسِيرِهِ وَبِعَلَامَةِ بَيْتِ الْمَقْدَسِ وَبِعِيرِهِمْ فَقَالَ نَاسٌ نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا يَقُولُ فَارْتَدُّوا كُفَّارًا فَضَرَبَ اللَّهُ أَعْنَاقَهُمْ مَعَ أَبِي جَهْلٍ وَقَالَ أَبُو جَهْلٍ يُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ هَاتُوا تَمْرًا وَزُبْدًا فَتَزَقَّمُوا وَرَأَى الدَّجَّالَ فِي صُورَتِهِ رُؤْيَا عَيْنٍ لَيْسَ رُؤْيَا مَنَامٍ وَعِيسَى وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ فَقَالَ أَقْمَرُ هِجَانًا قَالَ حَسَنٌ قَالَ رَأَيْتُهُ فَيْلَمَانِيًّا أَقْمَرَ هِجَانًا إِحْدَى عَيْنَيْهِ قَائِمَةٌ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ كَأَنَّ شَعْرَ رَأْسِهِ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ وَرَأَيْتُ عِيسَى شَابًّا أَبْيَضَ جَعْدَ الرَّأْسِ حَدِيدَ الْبَصَرِ مُبَطَّنَ الْخَلْقِ وَرَأَيْتُ مُوسَى أَسْحَمَ آدَمَ كَثِيرَ الشَّعْرِ قَالَ حَسَنٌ الشَّعَرَةِ شَدِيدَ الْخَلْقِ وَنَظَرْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَلَا أَنْظُرُ إِلَى إِرْبٍ مِنْ آرَابِهِ إِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ مِنِّي كَأَنَّهُ صَاحِبُكُمْ فَقَالَ جِبْرِيلُ سَلِّمْ عَلَى مَالِكٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف اسراء کرایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی رات کو ہی واپس آ گئے اور لوگوں کو اپنے سفر، بیت المقدس کی علامت اور ان کے قافلے کے بارے میں بتایا، لوگوں نے کہا: کیا ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتوںکی تصدیق کریں؟ پھر وہ کفر پر ڈٹ گئے، پس اللہ تعالیٰ (غزوۂ بدر کے موقع پر) ان کی گردنوں کو ابو جہل کے ساتھ ٹکرا دیا، ابو جہل نے (استہزاء کرتے ہوئے) کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں زقوم کے درخت سے ڈراتا ہے، لے آؤ اور کھجور اور مکھن اور کھاؤ (افریقی زبان میں کھجور اور مکھن کو زقوم کہتے تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں نہیں، بلکہ اپنی آنکھوں سے دجال کو اس کی اصلی شکل میں دیکھا،نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیسی، موسی اور ابراہیمR کو دیکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ بڑے جسم والا اور انتہائی سفید رنگ کا تھا، اس کیایک آنکھ اس طرح ابھری ہوئی تھی کہ گویا کہ وہ روشن ستارہ تھی، اس کے سر کے بال (اس قدر زیادہ تھے کہ) وہ درخت کی شاخوں کی طرح لگ رہا تھا، میں نے عیسی علیہ السلام کودیکھا، وہ سفیدرنگ کے نوجوان تھے، سر کے بال گھنگریالے تھے، وہ تیز نگاہ والے اور پتلے دبلے پیٹ والے تھے، میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ سیاہی مائل گندمی رنگ کے اور گھنے بالوں والے تھے۔ حسن راوی نے کہا: ان کے بال سخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، پس میں نے ان کا جو عضو دیکھا، ایسے لگا کہ میں اپنا عضو دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ تمہارے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح ہی ہیں،پھر جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: (جہنم کے داروغے) مالک کو سلام کہو، پس میں نے اس کو سلام کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10594]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابويعلي: 2720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3546»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10595
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ حِينَ أُسْرِيَ بِي إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدَسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قریش نے بیت المقدس کی طرف اسراء کے سلسلے میں مجھے جھٹلا دیا تو میں حطیم میں کھڑا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بیت المقدس کو واضح کر دیا، پس میں نے اس کو دیکھ کر قریشیوں کو اس کی نشانیوں کے بارے میں بتلانا شروع کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10595]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3886، ومسلم: 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15099»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3886
38. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَرْضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفْسَهُ الْكَرِيمَة عَلَى أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِي مَوَاسِمِ الْحَجُ بمِنِّي فِي مَنَازِلِهِمْ عَلَى أَنْ يَأْوُوهُ وَيَنْصُرُوهُ ويَسْتَعُوهُ مِمَّنْ كَذَبَهُ وَخَالَفَهُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
حدیث نمبر: 10596
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ عِبَادٍ الدَّيْلِيَّ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ بِمِنًى فِي مَنَازِلِهِمْ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ يَقُولُ هَذَا يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَدَعُوا دِينَ آبَائِكُمْ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ فَقِيلَ هَذَا أَبُو لَهَبٍ
۔ سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے موسم میں مِنٰی میں لوگوں کی رہائش گاہوں میں ان کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی ہوتا، وہ کہتا: یہ شخص تم کو حکم دے رہا ہے کہ تم اپنے آباء کا دین چھوڑ دو، میں نے پوچھا کہ پیچھے والا آدمی کون ہے؟ جواب دیا گیا کہ یہ ابو لہب ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10596]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 4587، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16120»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فکر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام عام کیا جائے اور لوگوں کی راہِ ہدایت کی طرف رہنمائی کی، اس مقصد کی تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منصوبہ بندی کرتے رہتے تھے، ایک منصوبے کا بیان اس حدیث میں ہے کہ حج کے موقع پر دور دراز کے علاقوں سے لوگ آتے تھے، ان کو آپ تبلیغ کرتے تھے، ممکن تھا کہ وہ خود اسلام قبول کر لیتےیا ان کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام عام ہو جاتا۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 10597
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ أَيْضًا قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَذْكُرُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى الْمَنَازِلِ بِمِنًى وَأَنَا مَعَ أَبِي غُلَامٌ شَابٌّ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ قَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَقُولُ الَّذِي خَلْفَهُ إِنَّ هَذَا يَدْعُوكُمْ إِلَى أَنْ تُفَارِقُوا دِينَ آبَائِكُمْ وَأَنْ تَسْلُخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَحُلَفَاءَكُمْ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ أُقَيْشٍ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي مَنْ هَذَا قَالَ عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
۔ (دوسری سند) سیدنا ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھی طرح یاد ہیں کہ آپ مِنٰی میں لوگوں کے پاس جاتے، جبکہ میں اس وقت جوان تھا اور اپنے باپ کے ساتھ ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا، وہ خوبصورت چہرے والا، بھینگی آنکھ والا اور دو چٹیوں والا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی قوم کے پاس کھڑے ہو کر فرماتے: میں اللہ کا رسول ہوں، وہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور پیچھے والا آدمی کہتا: یہ تمہیں اس چیز کی دعوت دیتا ہے کہ تم اپنے آباء کے دین سے باز آ جاؤ، لات و عزی کو اور بنو مالک بن اُقیش میں سے اپنے حلیفوں کو چھوڑ دو اور اس کی لائی ہوئی بدعت و ضلالت کو اختیار کر لو۔ میں نے اپنے باپ سے کہا: یہ شخص کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ابو لہب عبد العزی بن عبد المطلب ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10597]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16123»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16123
حدیث نمبر: 10598
عَنْ أَشْعَثَ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا قَالَ وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ وَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ وَتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى قَالَ وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ مَرْبُوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ حَسَنُ الْوَجْهِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ أَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ سَابِغُ الشَّعْرِ
۔ اشعث کہتے ہیں: بنو مالک بن کنانہ کے ایک بزرگ نے مجھے بیان کیا کہ اس نے ذو مجاز بازار میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں گھستے جا رہے تھے اور فرما رہے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ اُدھر ابوجہل اپنے آپ پر مٹی ڈالتے ہوئے کہہ رہا تھا، لوگو! یہ تم کو تمہارے دین کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے، یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں اور لات و عزی کو چھوڑ دو، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے تھے، ہم نے اس بزرگ سے کہا: تم ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کرو، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ رنگ کی دو چادریں زیب ِ تن کر رکھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قد معتدل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گوشت تھے، خوبصورت چہرے والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال سخت سیاہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بہت سفید تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال بھرپور تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10598]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16720»
وضاحت: فوائد: … ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
39. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَرْضِهِ الْإِسْلَامَ عَلَى فِتْيَةِ بَنِي الأَنْهَل حِينَمَا جَاء وَا يَلْتَمِسُونَ الْحَلْفَ مِنْ قُـرَیْـشٍ عَلَى قَوْمِهِمْ مِنَ الْخَزْرَجِ وَمَنْقَبَةِ لَا يَاسِ بْنِ مُعَادٍ وَذِكْرِ وَقَعَةِ بُعَاثٍ
نبی کریم ﷺ کا بنوا شہل کے نوجوانوں پر اس وقت اسلام پیش کرنا، جب وہ قریش کو اپنی قوم خزرج کی مخالفت میں اپنا حلیف بنانا چاہتے تھے، بیچ میں سیدنا ایاس بن معاذ رضی اللہ کی منقبت اور واقعہ بعاث کا بیان
حدیث نمبر: 10599
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ لَمَّا قَدِمَ أَبُو الْجُلَيْسِ أَنَسُ بْنُ رَافِعٍ مَكَّةَ وَمَعَهُ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فِيهِمْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ يَلْتَمِسُونَ الْحِلْفَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى قَوْمِهِمْ مِنَ الْخَزْرَجِ سَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُمْ فَجَلَسَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ هَلْ لَكُمْ إِلَى خَيْرٍ مِمَّا جِئْتُمْ لَهُ قَالُوا وَمَا ذَاكَ قَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي إِلَى الْعِبَادِ أَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ لَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْزَلَ عَلَيَّ كِتَابًا ثُمَّ ذَكَرَ الْإِسْلَامَ وَتَلَا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ فَقَالَ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ وَكَانَ غُلَامًا حَدَثًا أَيْ قَوْمِ هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتُمْ لَهُ قَالَ فَأَخَذَ أَبُو جُلَيْسِ أَنَسُ بْنُ رَافِعٍ حَفْنَةً مِنَ الْبَطْحَاءِ فَضَرَبَ بِهَا فِي وَجْهِ إِيَاسِ بْنِ مُعَاذٍ وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ وَانْصَرَفُوا إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَانَتْ وَقْعَةُ بُعَاثٍ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ قَالَ ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ أَنْ هَلَكَ قَالَ مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ فَأَخْبَرَنِي مَنْ حَضَرَهُ مِنْ قَوْمِي عِنْدَ مَوْتِهِ أَنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا يَسْمَعُونَهُ يُهَلِّلُ اللَّهَ وَيُكَبِّرُهُ وَيَحْمَدُهُ وَيُسَبِّحُهُ حَتَّى مَاتَ فَمَا كَانُوا يَشُكُّونَ أَنْ قَدْ مَاتَ مُسْلِمًا لَقَدْ كَانَ اسْتَشْعَرَ الْإِسْلَامَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ حِينَ سَمِعَ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعَ
۔ بنو عبد الاشہل کے بھائی سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو جلیس انس بن رافع مکہ مکرمہ میں آیا، اس کے ساتھ سیدنا ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ اپنی قوم خزرج کی مخالفت میں قریش کو اپنا حلیف بنانا چاہتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آ کر بیٹھے اور ان سے فرمایا: جس مقصد کے لیے تم آئے ہو، کیا تم کو اس سے بہتر چیز کی رغبت ہے؟ انھوں نے کہا: وہ کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے بندوں کی طرف بھیجا ہے، میں لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس نے مجھ پر کتاب بھی نازل کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام کا ذکر کیا اور قرآن مجید کی تلاوت بھی کی۔ یہ سن کر نو عمر لڑکے ایاس بن معاذ نے کہا: اے میری قوم! جس مقصد کے لیے تم آئے ہو، اللہ کی قسم ہے، یہ چیز اس سے بہتر ہے، یہ تبصرہ سن کر ابو جلیس انس نے وادیٔ بطحاء سے ایک چلو بھرا اور ایاس بن معاذ کے چہرے پر دے مارا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ مدینہ کو واپس چلے گئے، جب اوس اور خزرج میں بعاث کی لڑائی واقع ہوئی تو سیدنا ایاس رضی اللہ عنہ جلد ہی اس میں فوت ہو گئے۔ سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری قوم کے جو لوگ ایاس کی موت کے وقت اس کے پاس موجود تھے، انھوں نے مجھے بتلایا کہ وہ ایاسکو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور سُبْحَانَ اللّٰہِ کہتے ہوئے سنتے رہے، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، ان لوگوں کو یقین تھا کہ وہ اسلام کی حالت میں فوت ہوئے ہیں، انھوں نے مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے ہی اسلام کو سمجھ لیاتھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10599]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 3/ 180، والبيھقي في الدلائل: 2/ 420، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24018»
وضاحت: فوائد: … مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ کا نام بعاث ہے، زمانۂ جاہلیت میں اسی مقام پر اوس اور خزرج کے درمیان ایک لڑائی ہوئی تھی، جس میں دونوں قبیلوں کے سردار وں سمیت بہت سے لوگ قتل ہو گئے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 10600
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ وَقُتِلَتْ سَرَوَاتُهُمْ وَرَفَقُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اللہ تعالیٰ نے واقعۂ بعاث کے دن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے بنا دیا تھا، اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ان کی جماعت تتر بتر ہو چکی تھے، اس کے سردار قتل ہو چکے تھے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے نرمی برتی اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10600]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3777، 3846، 3930، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24824»
وضاحت: فوائد: … ان وجوہات کی بنا پر ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت آسان ہو گئی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3777
حدیث نمبر: 10601
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْ هَمْدَانَ قَالَ فَهَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنَعَةٍ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَحْقِرَهُ قَوْمُهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ آتِيهِمْ فَأُخْبِرُهُمْ ثُمَّ آتِيكَ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ قَالَ نَعَمْ فَانْطَلَقَ وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِي رَجَبٍ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عرفات کے) موقف میں اپنے آپ کو لوگوں پر پیش کرتے اور فرماتے: کیا کوئی ایسا آدمی ہے، جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کا کلام لوگوں تک پہنچا سکوں، کیونکہ قریش نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا ہے؟ ہمدان سے ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہمدان سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری قوم کے پاس طاقت و عزت ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، لیکن پھر وہ آدمی ڈر گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی قوم اس کو حقیر قرار دے، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں اپنی قوم کے پاس جا رہا ہوں، ان کو یہ تفصیل بتاؤں گا اور پھر اگلے سال آپ کے پاس آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پس وہ چلا گیا اور پھر رجب میں انصاریوں کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10601]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 4734، وابن ماجه: 201، والترمذي: 2925، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15260»
وضاحت: فوائد: … ہمدان، یمن کا ایک قبیلہ تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
40. بَابُ قُدُوْمِ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى الْمَدِينَةِ وَبَيْعَةِ الْعَقَبَةِ الْأُولَى
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
حدیث نمبر: 10602
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ حَضَرَ الْعَقَبَةَ الْأُولَى وَكُنَّا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا فَبَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَيْعَةِ النِّسَاءِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ الْحَرْبُ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلَا نَعْصِيهِ فِي مَعْرُوفٍ فَإِنْ وَفَيْتُمْ فَلَكُمُ الْجَنَّةُ وَإِنْ غَشِيتُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَأَمْرُكُمْ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَكُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَكُمْ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیعت ِ عقبہ اولی میں موجود تھا، ہم کل بارہ مرد تھے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان امور پر بیعت کی، جن امور کا ذکر عورتوں کی بیعت میں ہے، یہ بیعت لڑائی اور جہاد فرض ہونے سے پہلے ہوئی تھی، ہم نے اس بات پر بیعت کی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے، بہتان گھڑ کر نہیں لگائیں گے اور نیکی کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے، اگر تم نے یہ بیعت پوری کر دی تو تمہارے لیے جنت ہو گی اور اگر تم نے کسی چیز میںمخالفت کر دی تو تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو گا، وہ چاہے تو تم کو عذاب دے اور چاہے تو تم کو بخش دے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10602]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 3893، 6873، ومسلم: 1709، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23134»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10603
(مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ الْوَلِيدِ عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ بَيْعَةَ الْحَرْبِ وَكَانَ عُبَادَةُ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ بَايَعُوا فِي الْعَقَبَةِ الْأُولَى عَلَى بَيْعَةِ النِّسَاءِ فِي السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَلَا نُنَازِعُ فِي الْأَمْرِ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُولَ الْحَقَّ حَيْثُمَا كَانَ لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، جو نقباء میں سے ایک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لڑائی کرنے پر بیعت کی، سیدنا عبادہ بن صامت ان بارہ افراد میں سے تھے، جنہوں نے عقبۂ اولی میں ان امور پر بیعت کی تھی، جن امور پر عورتوں کی بیعت ہوتی تھی، بیعت یہ تھی کہ بدحالی میں، خوشحالی میں، خوشی میں اور ناخوشی میں خلیفہ کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، امارت کے اہل لوگوں سے امارت نہیں چھینیں گے، حق کہیں گے، وہ جہاں بھی ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10603]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23076»
وضاحت: فوائد: … بیرون مکہ جن ابتدائی سعادت مندوں نے اسلام قبول کیا، ان میں قبیلہ خزرج کے درج ذیل افراد تھے: سیدنا اسعد بن زرارہ، سیدنا قطبہ بن عامر، سیدنا عوف بن حارث، سیدنا عقبہ بن عامر، سیدنا رافع بن مالک اور سیدنا جابر بن عبد اللہ۔
یہ لوگ ۱۱نبوتمیں حج کے لیے آنے والوں کے ساتھ آئے اور مِنٰی کی گھاٹی میں رات کے وقت باتیں کر رہے تھے کہ وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان کے ساتھ بیٹھک ہوئی اور یہ مسلمان ہو گئے اور اگلے سال حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرنے کا وعدہ کیا۔
پس وعدے کے مطابق اگلے سال ۱۲نبوتکےموسمحجمیں بارہ آدمی حاضر ہوئے، دس خزرج سے اور دو اوس سے، یہ لوگ منی کی گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمع ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اسلام کی تعلیم دی۔
پانچ افراد تو مذکورہ بالا ہی تھی، باقی لوگ یہ تھے:
سیدنا معاذ بن حارث (معاذ بن عفرائ)، سیدنا ذکوان بن عبد القیس، سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنایزید بن ثعلبہ اور سیدنا عباس بن عبادہ۔
قبیلہ اوس کے دو آدمییہ تھے: سیدنا ابو الہیثم بن التیہان اور سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہما۔
اس کے بعد یہ لوگ واپس چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ روانہ کیا، تاکہ وہ لوگوں کو قرآن پڑھائیں اور دین کی تعلیم دیں۔
بعد ازاں اگلے سال دوسری بیعت ِ عقبہ پیش آئی، جس کا ذکر اگلے باب میں ہے۔
یہ لوگ ۱۱نبوتمیں حج کے لیے آنے والوں کے ساتھ آئے اور مِنٰی کی گھاٹی میں رات کے وقت باتیں کر رہے تھے کہ وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان کے ساتھ بیٹھک ہوئی اور یہ مسلمان ہو گئے اور اگلے سال حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرنے کا وعدہ کیا۔
پس وعدے کے مطابق اگلے سال ۱۲نبوتکےموسمحجمیں بارہ آدمی حاضر ہوئے، دس خزرج سے اور دو اوس سے، یہ لوگ منی کی گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمع ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اسلام کی تعلیم دی۔
پانچ افراد تو مذکورہ بالا ہی تھی، باقی لوگ یہ تھے:
سیدنا معاذ بن حارث (معاذ بن عفرائ)، سیدنا ذکوان بن عبد القیس، سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنایزید بن ثعلبہ اور سیدنا عباس بن عبادہ۔
قبیلہ اوس کے دو آدمییہ تھے: سیدنا ابو الہیثم بن التیہان اور سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہما۔
اس کے بعد یہ لوگ واپس چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ روانہ کیا، تاکہ وہ لوگوں کو قرآن پڑھائیں اور دین کی تعلیم دیں۔
بعد ازاں اگلے سال دوسری بیعت ِ عقبہ پیش آئی، جس کا ذکر اگلے باب میں ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23076