🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي إسْلَام عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَخَالِدِ بنِ الْوَلِيدِ رضي الله عنهم
سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے قبول اسلام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10841
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ فِيهِ قَالَ لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنَ الْأَحْزَابِ عَنِ الْخَنْدَقِ جَمَعْتُ رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا يَرَوْنَ مَكَانِي وَيَسْمَعُونَ مِنِّي فَقُلْتُ لَهُمْ تَعْلَمُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى أَمْرَ مُحَمَّدٍ يَعْلُو الْأُمُورَ عُلُوًّا كَبِيرًا مُنْكَرًا وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَأْيًا فَمَا تَرَوْنَ فِيهِ قَالُوا وَمَا رَأَيْتَ قَالَ رَأَيْتُ أَنْ نَلْحَقَ بِالنَّجَاشِيِّ فَنَكُونَ عِنْدَهُ فَإِنْ ظَهَرَ مُحَمَّدٌ عَلَى قَوْمِنَا كُنَّا عِنْدَ النَّجَاشِيِّ فَإِنَّا أَنْ نَكُونَ تَحْتَ يَدَيْهِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ أَنْ نَكُونَ تَحْتَ يَدَيْ مُحَمَّدٍ وَإِنْ ظَهَرَ قَوْمُنَا فَنَحْنُ مَنْ قَدْ عُرِفَ فَلَنْ يَأْتِيَنَا مِنْهُمْ إِلَّا خَيْرٌ فَقَالُوا إِنَّ هَذَا الرَّأْيَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُمْ فَاجْمَعُوا لَهُ مَا نُهْدِي لَهُ وَكَانَ أَحَبَّ مَا يُهْدَى إِلَيْهِ مِنْ أَرْضِنَا الْأَدَمَ فَجَمَعْنَا لَهُ أُدْمًا كَثِيرًا فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَعِنْدَهُ إِذْ جَاءَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَعَثَهُ إِلَيْهِ فِي شَأْنِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي هَذَا عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ لَوْ قَدْ دَخَلْتُ عَلَى النَّجَاشِيِّ فَسَأَلْتُهُ إِيَّاهُ فَأَعْطَانِيهِ فَضَرَبْتُ عُنُقَهُ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَأَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي قَدْ أَجْزَأْتُ عَنْهَا حِينَ قَتَلْتُ رَسُولَ مُحَمَّدٍ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدْتُ لَهُ كَمَا كُنْتُ أَصْنَعُ فَقَالَ مَرْحَبًا بِصَدِيقِي أَهْدَيْتَ لِي مِنْ بِلَادِكَ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَيُّهَا الْمَلِكُ قَدْ أَهْدَيْتُ لَكَ أُدْمًا كَثِيرًا قَالَ ثُمَّ قَدَّمْتُهُ إِلَيْهِ فَأَعْجَبَهُ وَاشْتَهَاهُ ثُمَّ قُلْتُ لَهُ أَيُّهَا الْمَلِكُ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا خَرَجَ مِنْ عِنْدِكَ وَهُوَ رَسُولُ رَجُلٍ عَدُوٍّ لَنَا فَأَعْطِنِيهِ لِأَقْتُلَهُ فَإِنَّهُ قَدْ أَصَابَ مِنْ أَشْرَافِنَا وَخِيَارِنَا قَالَ فَغَضِبَ ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ فَضَرَبَ بِهَا أَنْفَهُ ضَرْبَةً ظَنَنْتُ أَنْ قَدْ كَسَرَهُ فَلَوِ انْشَقَّتْ لِيَ الْأَرْضُ لَدَخَلْتُ فِيهَا فَرَقًا مِنْهُ ثُمَّ قُلْتُ أَيُّهَا الْمَلِكُ وَاللَّهِ لَوْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ تَكْرَهُ هَذَا مَا سَأَلْتُكَهُ فَقَالَ لَهُ أَتَسْأَلُنِي أَنْ أُعْطِيَكَ رَسُولَ رَجُلٍ يَأْتِيهِ النَّامُوسُ الْأَكْبَرُ الَّذِي كَانَ يَأْتِي مُوسَى لِتَقْتُلَهُ قَالَ قُلْتُ أَيُّهَا الْمَلِكُ أَكَذَاكَ هُوَ فَقَالَ وَيْحَكَ يَا عَمْرُو أَطِعْنِي وَاتَّبِعْهُ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَعَلَى الْحَقِّ وَلَيَظْهَرَنَّ عَلَى مَنْ خَالَفَهُ كَمَا ظَهَرَ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ وَجُنُودِهِ قَالَ قُلْتُ فَبَايِعْنِي لَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ قَالَ نَعَمْ فَبَسَطَ يَدَهُ وَبَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى أَصْحَابِي وَقَدْ حَالَ رَأْيِي عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ وَكَتَمْتُ أَصْحَابِي إِسْلَامِي ثُمَّ خَرَجْتُ عَامِدًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُسْلِمَ فَلَقِيتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَذَلِكَ قُبَيْلَ الْفَتْحِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ فَقُلْتُ أَيْنَ يَا أَبَا سُلَيْمَانَ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَقَامَ الْمَنْسِمُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَنَبِيٌّ أَذْهَبُ وَاللَّهِ أُسْلِمُ فَحَتَّى مَتَى قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا جِئْتُ إِلَّا لِأُسْلِمَ قَالَ فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَسْلَمَ وَبَايَعَ ثُمَّ دَنَوْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَلَا أَذْكُرُ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {يَا عَمْرُو بَايِعْ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَإِنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهَا} قَالَ فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَقَدْ حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ كَانَ مَعَهُمَا أَسْلَمَ حِينَ أَسْلَمَا
حبیب بن اوس سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے مجھے براہ راست بیان کیا کہ جب ہم غزوۂ احزاب میں خندق سے واپس ہوئے، تو میں نے چند ان قریشی لوگوں کو جمع کیا، جو میرا مقام سمجھتے اور میری بات کو توجہ سے سنتے تھے، میں نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ میری نظر میں محمد کی دعوت سب پر غالب ہو کر رہے گی اور ہم لوگ اسے پسند بھی نہیں کرتے، میری ایک رائے ہے، اب تم بتاؤ کہ اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: جی آپ کی رائے کیا ہے؟ میں نے کہا: میرا خیال ہے کہ ہم نجاشی کے پاس چلے جائیں اور وہیں رہیں، اگر محمد ہماری قوم پر غالب آ گئے، تو ہم نجاشی کے ہاں ہوں گے اور محمد کے ماتحت رہنے کی نسبت نجاشی کے ماتحت رہنا ہمیں زیادہ پسند ہے اور اگر ہماری قوم غالب ہوئی تو ہم معروف ہیں،ہمیں ان کے ہاں خیر ہی خیر ملے گی۔ لوگوں نے کہا: واقعی آپ کی رائے مناسب ہے۔پھر میں نے ان سے کہا: تم اس کو تحائف دینے کے لیے مال جمع کرو، اسے ہمارے علاقے کا چمڑا بطور ہدیہ بہت پسند تھا، پس ہم نے اسے دینے کے لیے بہت سے چمڑے جمع کر لئے اور ہم روانہ ہو گئے اور اس کے ہاں پہنچ گئے، اللہ کی قسم!ہم اس کے پاس موجود تھے کہ عمرو بن امیہ ضمریبھی وہاں آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جعفر اور ان کے ساتھیوںکے سلسلہ میں بات چیت کے سلسلہ میں وہاں بھیجا تھا، وہ اس کے پاس آئے اور اس کے ہاں سے چلے گئے، اب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ عمرو بن امیہ ضمری ہے، اگر میں نجاشی کے ہاں جا کر اس سے اس کا مطالبہ کروں کہ اسے میرے حوالے کر دے تو وہ اسے میرے حوالے کر دے گا اور میں اسے قتل کر دوں گا تو قریش اعتراف کریں گے کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفیر کو قتل کر کے ان کی نیابت کا حق ادا کر دیا۔ چنانچہ میں اس کے دربار میں گیا اور جاتے ہی اسے تعظیمی سجدہ کیا، جیسا کہ میں اس سے پہلے بھی کیا کرتا تھا،اس نے کہا: دوست کی آمد مبارک، تم اپنے وطن سے میرے لیے کچھ تحفہ لائے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! بادشاہ سلامت! میں آپ کے لیے کثیر مقدار میں چمڑے لے کر حاضر ہوا ہوں۔ پھر میں نے وہ اس کی خدمت میں پیش کئے، اس نے ان کو خوب پسند کیا اور یہ بھی اظہار کیا کہ اس کو ان کی ضرورت تھی، اس کے بعد میں نے کہا: بادشاہ سلامت! میں نے یہاں ایک آدمی کو دیکھا ہے، جو آپ کے ہاں سے باہر گیا ہے، وہ تو ہمارے دشمن کا قاصد ہے، آپ اسے میرے حوالے کر دیں تاکہ میں اسے قتل کر سکوں، وہ تو ہمارے معزز اور بہترین لوگوں کا قاتل ہے، یہ سن کر نجاشی غضبناک ہو گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ لمبا کر کے اپنے ہی ناک پر اس قدر زور سے مارا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اس نے اپنے ناک کی ہڈی توڑ دی ہو گی، اس کے خوف کی وجہ سے میرییہ حالت ہوئی کہ اگر زمین پھٹ جاتی تو میں اس میں داخل ہو جاتا۔ پھر میں نے کہا: بادشاہ سلامت! اللہ کی قسم اگر مجھے علم ہوتا کہ یہ بات آپ کو اس قدر ناگوار گزرے گی تو میں آپ سے اس کا مطالبہ ہی نہ کرتا۔ نجاشی نے کہا: جو فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا، اب وہ جس آدمی کے پاس آتا ہے، کیا میں اس کے قاصد کو تمہارے حوالے کر دوں تاکہ تم اسے قتل کر سکو؟ میں نے کہا: بادشاہ سلامت! کیا وہ واقعی ایسا ہی ہے؟ وہ بولا: اے عمرو! تجھ پر افسوس ہے، تم میری بات مان لو اور اس کی اتباع کر لو، اللہ کی قسم وہ یقینا حق پر ہے اور وہ ضرور بالضرور اپنے مخالفین پر غالب آئے گا، جیسے موسیٰ علیہ السلام، فرعون اور اس کے لشکروں پر غالب آئے تھے۔ میں نے کہا: آپ مجھ سے اس کے حق میں قبولِ اسلام کی بیعت لے لیں۔ نجاشی نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور میں نے اس کے ہاتھ پر قبولِ اسلام کی بیعت کر لی۔ پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف گیا، جبکہ میری رائے سابقہ رائے سے یکسر بدل چکی تھی، لیکن میں نے اپنے ساتھیوں سے اپنے قبولِ اسلام کو چھپائے رکھا، پھر میں مسلمان ہونے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل دیا، خالد بن ولید سے میری ملاقات ہوئی، وہ مکہ مکرمہ سے آرہے تھے، یہ فتح مکہ سے پہلے کی بات ہے اور میں نے ان سے دریافت کیا: ابو سلیمان! کہاں سے آرہے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! راستہ خوب واضح ہو چکا ہے، وہ محمد یقینا نبی ہے، اللہ کی قسم میں تو جا کر مسلمان ہوتا ہوں۔ کب تک یوں ہی ادھر ادھربھٹکتا رہوں گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں بھی اسلام قبول کرنے کے لیے ہی آیاہوں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ خالد بن ولید آگے بڑھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اوربیعت کی، ان کے بعد میں بھی قریب ہوا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اس شرط پر بیعت کرتا ہوں کہ میرے سابقہ سارے گناہ معاف ہو جائیں اور مجھے بعد میں سرزد ہونے والے گناہوں کانام لینایاد نہ رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! تم بیعت کرو، بے شک اسلام پہلے کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت سابقہ تمام گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کر لی اور پھر میں واپس آگیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: مجھ سے ایک ایسے آدمی نے بیان کیا جومیرے نزدیک قابلِ اعتماد ہے، اس نے کہا کہ سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بھی ان دونوں کے ہم راہ تھے، جب یہ دونوں اسلام میں داخل ہوئے تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی مسلمان ہوئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10841]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن في المتابعات والشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17930»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن في المتابعات والشواھد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ إِلَى مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ فِي جُمَادَى الأولى سَنَةَ ثَمَان وَيُقَالُ لَهَا غَزْوَةُ مُؤْتَةَ وَاسْتِشْهَادِ زَيْدٍ وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طالب وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ
ارضِ فلسطین میں موتہ کے مقام پر سریہ زید بن حارثہ کا بیان، اسی غزوہ کو غزوۂ موتہ بھی کہتے ہیں، نیز سیدنا زید، سیدنا جعفر بن ابی طالب اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ کی شہادت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10842
عَنْ خَالِدِ بْنِ شُمَيْرٍ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ فَوَجَدْتُهُ قَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ وَقَالَ {عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ} فَوَثَبَ جَعْفَرٌ فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَأُمِّي مَا كُنْتُ أَرْهَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا قَالَ {امْضُوا فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ خَيْرٌ} قَالَ فَانْطَلَقَ الْجَيْشُ فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {نَابَ خَيْرٌ أَوْ ثَابَ خَيْرٌ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي إِنَّهُمْ انْطَلَقُوا حَتَّى لَقُوا الْعَدُوَّ فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ} فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ {ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا أَشْهَدُ لَهُ بِالشَّهَادَةِ فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأَثْبَتَ قَدَمَيْهِ حَتَّى أُصِيبَ شَهِيدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ} وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأُمَرَاءِ هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ وَقَالَ {اللَّهُمَّ هُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ فَانْصُرْهُ} وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَرَّةً فَانْتَصِرْ بِهِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ خَالِدٌ سَيْفَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَكُمْ وَلَا يَتَخَلَّفَنَّ أَحَدٌ} فَنَفَرَ النَّاسُ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ مُشَاةً وَرُكْبَانًا
خالد بن شمیر سے مروی ہے کہ عبداللہ بن رباح رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ تو میں نے ان کو اس حال میں پایا کہ لوگ ان کے اردگرد جمع تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہسوار ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش الامراء بھیجا اور فرمایا تمہارے اوپر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ امیر ہیں۔ اگر وہ شہید ہو جائیں تو ان کے بعد جعفر رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ یہ سن کر جعفر رضی اللہ عنہ اچھل کر بولے اے اللہ کے نبی میرا والد آپ پر فدا ہو مجھے یہ توقع نہ تھی کہ آپ زید رضی اللہ عنہ کو مجھ پر امیر مقرر فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ۔ تم نہیں جانتے کہ کونسی بات زیادہ بہتر ہے۔ لشکر روانہ ہو گیا۔ جب تک اللہ کو منظور تھا وہ لوگ سفر میں رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے۔ اور آپ نے حکم دیا کہ نماز ہونے کا اعلان کیا جائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک خبر پھیلی ہے۔ کیا میں تمہیں غزوہ میں مصروف اس لشکر کے متعلق نہ بتلاؤں؟ یہ لوگ گئے ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی۔ اور زید رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ تم ان کی مغفرت کی دعاء کرو۔ تو لوگوں نے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھام لیا۔ وہ دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔ تم ان کی شہادت کی گواہی دو۔ لوگوں نے ان کے حق میں بھی مغفرت کی دعا کی۔ پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اُٹھا لیا۔ وہ بھی دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہے یہاں تک کہ وہ بھی شہادت سے سرفراز ہوئے۔ صحابہ نے ان کے حق میں بھی دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اُٹھایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ امیروں میں سے نہ تھے۔ پیش آمدہ حالات کے پیش ِنظر وہ از خود امیر بن گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں اُٹھا کر فرمایا: یا اللہ! یہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ تو اس کی مدد فرما۔ عبدالرحمن راوی نے ایک دفعہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے وہ فتح یاب ہوئے۔ اس روز سے خالد رضی اللہ عنہ سیف اللہ کہلائے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ اور جا کر اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ اور تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے۔ لوگ شدید گرمی میں پیدل اور سوار روانہ ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10842]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي في الكبري: 8159، وابن ابي شيبة: 14/ 512، والدارمي: 2448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22918»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10843
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا اسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَقَالَ {فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ أَوِ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ جَعْفَرٌ فَإِنْ قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ} فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَتَى خَبَرُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ {إِنَّ إِخْوَانَكُمْ لَقُوا الْعَدُوَّ وَإِنَّ زَيْدًا أَخَذَ الرَّايَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ بَعْدَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ} فَأَمْهَلَ ثُمَّ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَالَ {لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ ادْعُوا لِي ابْنَيْ أَخِي} قَالَ فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ فَقَالَ {ادْعُوا إِلَيَّ الْحَلَّاقَ} فَجِيءَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا ثُمَّ قَالَ {أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِيهُ عَمِّنَا أَبِي طَالِبٍ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَشَبِيهُ خَلْقِي وَخُلُقِي} ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَشَالَهَا فَقَالَ {اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي أَهْلِهِ وَبَارِكْ لِعَبْدِ اللَّهِ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ} قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَجَاءَتْ أُمُّنَا فَذَكَرَتْ لَهُ يُتْمَنَا وَجَعَلَتْ تُفْرِحُ لَهُ فَقَالَ {الْعَيْلَةَ تَخَافِينَ عَلَيْهِمْ وَأَنَا وَلِيُّهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ}
عبداللہ بن جعفر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا۔ اور فرمایا اگر زید رضی اللہ عنہ شہید ہو جائیں تو جعفر رضی اللہ عنہ بن ابی طالب تمہارے امیر ہوں گے۔ اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تمہارے امیر ہوں گے۔ مسلمانوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا۔ تو جھنڈا زید رضی اللہ عنہ نے اُٹھایا۔ وہ دشمن سے لڑتے رہے بالآخر شہید ہو گئے۔ ان کے بعد جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھام لیا۔ وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا۔ وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے شہادت سے سرفراز ہوگئے۔ ان کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھال لیا۔ اور اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائی۔ ان کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی۔ آپ لوگوں کی طرف باہر تشریف لائے۔ اور اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ تمہارے بھائیوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا۔ سب سے پہلے زید نے جھنڈا اُٹھایا۔ وہ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد جعفر رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے جھنڈا اُٹھایا وہ بھی لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا لیا۔ وہ بھی لڑتے لڑتے شہادت کے رتبہ پر فائز ہو گئے۔ ان کے بعد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا اور ان کے ہاتھوں اللہ نے فتح نصیب فرمائی۔ آل جعفر تین روز تک اس انتظار میں رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے جائیں تیسرے دن کے بعد آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا تم آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا، میرے بھتیجوں کوبلاؤ ہمیں لایا گیا تو ہم چوزوں کی طرح بالکل چھوٹے چھوٹے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نائی کو بلاؤ اسے بلایا گیا تو اس نے ہمارے سر مونڈ دئیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایایہ محمد تو ہمارے چچا ابو طالب کے مشابہ ہے۔ اور عبداللہ شکل وصورت اور مزاج میں میرے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر کو اُٹھا کر فرمایایا اللہ جعفر رضی اللہ عنہ کے اہل وعیال میں اس کا نائب بنا اور عبداللہ کی تجارت میں برکت فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا تین مرتبہ کی۔ ہماری والدہ آپ کے پاس آئی اور اس نے اس قسم کا اظہار کیاکہیہ بچے اب بے آسرا ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کیا تم ان کے بارے میں فقروفاقہ کا اندیشہ کرتی ہو؟ دنیا اور آخرت میں میں ان کا سرپرست ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10843]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مختصرا ابوداود: 4192، والنسائي: 8/ 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1750»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10844
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فِي سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ فَقَدَّمَ أَصْحَابَهُ وَقَالَ أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ {مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ} قَالَ فَقَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَتَهُمْ}
سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناعبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر میں بھیجا،یہ جمعہ کا دن تھا، انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بھیج دیا اور اپنے بارے میں کہا: میں پیچھے رہ جاتا ہوں، تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر لوں، پھر ان کو جا ملوں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: کس چیز نے تجھے صبح کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جانے سے روک لیا؟ انھوں نے کہا: جی میرا ارادہ یہ تھا کہ آپ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر کے ان کو جا ملوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین میں جو کچھ ہے، اگر تو وہ سارا کچھ خرچ کر دے تو ان کے صبح کو روانہ ہو جانے کے اجر کو نہیں پا سکتا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10844]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه عنعنة الحجاج بن ارطاة، والحكمُ بن عتيبة لم يسمع من مقسم، أخرجه الترمذي: 527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1966»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ
سریہ ذات السلاسل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10845
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَاسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْمُهَاجِرِينَ وَاسْتَعْمَلَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى الْأَعْرَابِ فَقَالَ لَهُمَا {تَطَاوَعَا} قَالَ وَكَانُوا يُؤْمَرُونَ أَنْ يُغِيرُوا عَلَى بَكْرٍ فَانْطَلَقَ عَمْرٌو فَأَغَارَ عَلَى قُضَاعَةَ لِأَنَّ بَكْرًا أَخْوَالُهُ فَانْطَلَقَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَكَ عَلَيْنَا وَإِنَّ ابْنَ فُلَانٍ قَدِ ارْتَبَعَ أَمْرَ الْقَوْمِ وَلَيْسَ لَكَ مَعَهُ أَمْرٌ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَتَطَاوَعَ فَأَنَا أُطِيعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ عَصَاهُ عَمْرٌو
عامر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات السلاسل کے لیے لشکر روانہ کیا، مہاجرین پر سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اور دیہاتیوں پر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جا کر بنو قضاعہ پر چڑھای کر دی کیونکہ بنو بکر ان کے ماموں تھے۔ سیدنا مغیر ہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو ہم پر امیر مقرر فرمایا ہے، جب کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کی رعایت کی ہے اور آپ کا تو ان سے کچھ بھی معاملہ نہیں ہے۔ تو سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جو حکم دیا ہم اس کی اطاعت کریں گے، پس میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی اطاعت کروں گا، خواہ عمر و رضی اللہ عنہ نے آپ کی بات نہ مانی ہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10845]
تخریج الحدیث: «مرسل، عامر بن شراحبيل الشعبي لم يدرك القصة فحكاھا مرسلة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1698 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1698»

الحكم على الحديث:
مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10846
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ {عَائِشَةُ} قَالَ قُلْتُ فَمِنَ الرِّجَالِ قَالَ {أَبُوهَا} قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ {عُمَرُ} قَالَ فَعَدَّ رِجَالًا
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ذات السلاسل کی طرف بھیجے گئے لشکر پر امیر مقرر فرماکر روانہ کیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اللہ کے رسول!آپ کو لوگوں میں سے کونسا آدمی سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ۔ میں نے عرض کیا: اور مردوں میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا باپ (یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ)۔ میں نے دریافت کیا: اور ان کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید مردوں کانام لیے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10846]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3662، ومسلم: 2384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17964»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں صرف ذات السلاسل کا نام ذکر کیا گیا ہے۔
اس غزوے میں سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما جیسے عظیم لوگ بھی شریک تھے، لیکن سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا گیا، اس لیے جب وہ واپس آئے تو انھوں نے سمجھا کہ ان کی کسی خاص منزلت اور مرتبت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا امیر بنایا ہے، اس لیے انھوں نے یہ سوال کیے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور مردوں کے نام لیے تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا تو خود اس ڈر سے خاموش ہو گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا نام آخر میں لیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3662
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10847
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ {خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ ثُمَّ ائْتِنِي} فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَهُ فَقَالَ {إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ وَأَرْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً} قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ {يَا عَمْرُو نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ}
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ لے کر میرے پاس پہنچو، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نظر میری طرف اُٹھا کر جھکالی اور پھر فرمایا: میں تمہیں ایک لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجنا چاہتا ہوں۔ اللہ تمہاری حفاظت کرے گا اور تمہیں غنیمت سے نوازے گا۔ اور میں تمہارے حق میں مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں مال ودولت حاصل کرنے کے لیے تو مسلمان نہیں ہوا۔ میں تو محض اسلام کی رغبت کی وجہ سے مسلمان ہوا ہوں۔ اور میری خواہش ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا مال، نیک آدمی کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10847]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 2/ 236، والطبراني في الاوسط: 3213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17915»
وضاحت: فوائد: … نیک آدمی کو مال و دولت کے حقوق کا علم ہوتا ہے، اس لیے وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
یہ ذات السلاسل والا ہی لشکر تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو امیر منتخب فرمایا، کیونکہ وہ جنگی مہارتوں اور فنون سے متصف تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ سِيفِ الْبَحْرِ وَتُسَمَّى أيضًا سَرِيَّةَ الْخَبَطِ
سریہ سیف البحر کا بیان، اس کو سریۂ خبط بھی کہتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10848
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ قَالَ فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا قَالَ نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبِيُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ فَتَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ قَالَ وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِينَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ فَنَأْكُلُهُ قَالَ وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ يُدْعَى الْعَنْبَرَ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَيْتَةٌ قَالَ حَسَنُ بْنُ مُوسَى ثُمَّ قَالَ لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا وَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنَيْهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ قَالَ وَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ وَأَخَذَ ضِلْعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مَعَنَا قَالَ حَسَنٌ ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ كَانَ مَعَنَا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ {هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكُمْ فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا} قَالَ فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَهُ
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تین سو آدمیوں کے ایک دستہ کی صورت میں روانہ کیا اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہمارے اوپر مقرر فرمایا۔ تاکہ ہم قریش کے ایک قافلہ کا مقابلہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کھجوروں کی ایک تھیلی عنایت فرمائی۔ آپ کے پاس ہمیں دینے کے لیے اس علاوہ کے او رکچھ نہ تھا۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں روزانہ ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے۔ ابوالزبیر کہتے ہیں میں نے پوچھا آپ اس کا کیا کرتے تھے؟ فرمایا ہم اسے چوستے رہتے تھے جیسے بچے کسی چیز کو چوستے رہتے ہیں۔ اور اس کے بعد ہم پانی نوش کر لیتے۔ سارا دن ہمارییہی خوراک ہوتی۔ اور ہم لاٹھیوں سے درختوں کے پتے جھاڑ تے اور انہیں پانی میں بھگو بھگو کر کھاتے۔ ہم ساحلِ سمندر پر چلے، ہمیں سمندر کے ساحل پر ایک بہت بڑا ٹیلہ سا دکھائی دیا۔ ہم وہاں پہنچے تو وہ عنبر نامی ایک جانور تھا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ تو مردہ ہے۔ (یعنی مردہ ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے اس کو کھانا حلال نہیں) امام احمد کے شیخ حسن بن موسیٰ کہتے ہیں۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر کہا، یہ حرام نہیں بلکہ ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نمائندے ہیں۔ امام احمد کے دوسرے شیخ ھاشم نے اپنی حدیث میںیوں بیان کیا کہ بلکہ ہم تو اللہ کے نمائندے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہوئے ہیں۔ اور تم اس وقت اضطرار کی کیفیت میں ہو پس اسے کھالو۔ ہم تین سو آدمی تھے۔ ہم نے وہاں ایک ماہ قیام کیا۔ ہم نے وہ اس قدر کھایا کہ ہم خوب موٹے تازے ہو گئے۔ ہم اس کی آنکھ کے گڑھے سے مٹکوں کے ذریعے چربی نکالتے تھے۔ اور اونٹو ں کے برابر برابر اس سے گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لے کر اس کی آنکھ کے گڑھے میں بٹھا دیا۔ اور اس کی ایک پسلی کو سیّدھا کھڑا کیا۔ پھر لشکر میں سے سب سے بڑے اونٹ پر پالان کسا تو اس کے نیچے سے گزر گئے۔ اور ہم اس کے گوشت کے ٹکرے نیم پختہ کر کے ساتھ لے گئے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خصوصی رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا۔ تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ بچا ہوا موجود ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ گے؟ چنانچہ ہم نے اس میں سے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھجوادیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10848]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4362، ومسلم: 1935، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14338 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14390»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں روزانہ ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے۔ اس کی تفصیل صحیح بخاری کی روایت میںیوں ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ساحل کی طرف ایک لشکر میں بھیجا اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر بنایا،یہ تین سو کا لشکر تھا، ہم نکل پڑے، راستے میں وہ زادِ راہ ختم ہو گیا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تھیلے میں دیا تھا، پھر لوگ اپنے اپنے زادِ راہ لے کر سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انھوں نے ان کو جمع کر لیا اور پھر ہر روز ہمیں تھوڑا تھوڑا دیتے تھے، جہاں تک کہ وہ بھی ختم ہو گیا اور بالآخر ہمارا نصیب ایک ایک کھجور رہ گیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4362
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَارِيخِ غَزْوَةِ الْفَتْحِ وَقِصَّةِ كِتَابِ خاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ
غزوۂ فتح مکہ کی تاریخ اور اہلِ مکہ کے نام حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے مکتوب کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10849
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ (وَفِي لَفْظٍ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ) فَصَامَ حَتَّى مَرَّ بِغَدِيرٍ فِي الطَّرِيقِ وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ فَعَطِشَ النَّاسُ وَجَعَلُوا يَمُدُّونَ أَعْنَاقَهُمْ وَتَتُوقُ أَنْفُسُهُمْ إِلَيْهِ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَأَمْسَكَهُ عَلَى يَدِهِ حَتَّى رَآهُ النَّاسُ ثُمَّ شَرِبَ فَشَرِبَ النَّاسُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تھے، ایک روایت میں ہے کہ ماہِ رمضان کے دس دن گزر چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا،عین دوپہر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کے ایک تالاب کے پاس سے گزرے، چونکہ لوگ پیاسے تھے، اس لیے وہ گردنیں لمبی کر کے دیکھ رہے تھے اور ان کے نفس پانی کو چاہ رہے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوا کر اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پی لیا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا (اور اس طرح روزہ توڑ دیا)۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10849]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 4276، ومسلم: 1113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3460»
وضاحت: فوائد: … کدید مقام، مدینہ منورہ سے سات دنوں کی مسافت پر ہے، اس کے قریب ہی قُدَید مقام ہے اور یہ دونوں عسفان کے ما تحت انتظامی علاقے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 4276
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10850
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسَفَرِهِ وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ خَلَفٍ الْغِفَارِيَّ وَخَرَجَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ مَاءٍ بَيْنَ عُسْفَانَ وَأَمْجٍ أَفْطَرَ ثُمَّ مَضَى حَتَّى نَزَلَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر روانہ ہو گئے اور مدینہ منورہ میں سیدنا ابو رُھم کلثوم بن حصین غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کر گئے، آپ نے دس رمضان کو سفر شروع کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سب صحابہ نے روزہ رکھا ہوا تھا،جب عسفان اور امج کے درمیان کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ افطار کر لیا، اس کے بعد چل کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرالظہران میں جا کر ٹھہرے، دس ہزار مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم سفر تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10850]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البيھقي: 9/ 40، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2392»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں