🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فِيْ بَيْتِ اللهِ
ان لوگوں کا بیان جو اس بات کے قائل ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10870
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ فَجَاءَ بِهِ فَفَتَحَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحُوهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَوَجَدْتُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور آگے بڑھ کر کعبہ کے صحن میں اسے بٹھا دیا، پھر عثمان بن طلحہ کو بلایا کہ وہ بیت اللہ کی چابی لے کر آئے، پس وہ چابی لے کر آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ (اور ایک روایت کے مطابق سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ بیت اللہ کے اندر چلے گئے، انہوں نے کافی دیر دروازہ بند رکھا، اس کے بعد جب کھولا تو میں (عبداللہ بن عمر)تیزی کے ساتھ لوگوں سے آگے نکل گیا اور میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے قریب کھڑے پایا۔ میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس جگہ نماز ادا کی ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سامنے والے دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی ہے، لیکن میں یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعتیں ادا کی تھیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10870]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 468، ومسلم: 1329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4891»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 468
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10871
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُ بِلَالًا مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ قَالَ إِسْحَاقُ وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ
۔(دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ سے باہر تشریف لائے تو میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کیا کچھ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سامنے والے تین ستونوں میں سے دو ستون اپنی داہنی جانب، ایک ستون بائیں جانب اور پچھلے تینوں ستون پیچھے چھوڑ کر اس طرح کھڑے ہو کر نماز ادا کی آپ کے اور قبلہ کی دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ جتنا فاصلہ تھا۔ اسحاق راوی نے بیان کیا کہ ان دنوں بیت اللہ کی عمارت چھ ستونوں پر قائم تھی، اس راوی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیانی فاصلہ کا ذکر نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10871]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5927»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5927
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10872
عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ خَرَجْتُ حَاجًّا فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ السَّارِيَتَيْنِ مَضَيْتُ حَتَّى لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ قَالَ وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَصَلَّى أَرْبَعًا قَالَ فَلَمَّا صَلَّى قُلْتُ لَهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ قَالَ فَقَالَ هَاهُنَا أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ صَلَّى قَالَ قُلْتُ فَكَمْ صَلَّى قَالَ عَلَى هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي أَنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمُرًا ثُمَّ لَمْ أَسْأَلْهُ كَمْ صَلَّى فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالَ خَرَجْتُ حَاجًّا قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِهِ قَالَ فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَلَمْ يَزَلْ يُزَاحِمُنِي حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا
ابو شعثاء سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں حج کے ارادہ سے گیا اور بیت اللہ کے اندر بھی داخل ہوا، میں جب دو ستونوں کے درمیان پہنچا تو آگے آگے ہوتا گیا حتی کہ دیوار کے ساتھ جا لگا، پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ آگئے، وہ آکر میرے پہلو میں کھڑے ہو گئے اور انہوں نے چار رکعات ادا کیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان سے دریافت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کس جگہ نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ اس جگہ یعنی جہاں خود انہوں نے نماز ادا کی ہے۔ مزید انھوں نے کہا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیتاللہ کے اندر نماز ادا کی تھی۔ ابو شعثاء کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی تھیں۔ انھوں نے کہا: اس بات پر تو میں خود کو ملامت کرتا ہوں کہ میں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک طویل عرصہ گزارا، مگر میں ان سے یہ نہ پوچھ سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعت نماز ادا کی تھی؟ جب اگلا سال آیا اور میں پھر حج کے لیے گیا اور میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ والی جگہ پرنماز ادا کر رہا تھا تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ آکر میرے پہلو میں کھڑے ہو گئے، وہ مجھے دھکیلتے رہے،یہاں تک کہ انہوں نے مجھے وہاں سے نکال ہی دیا، پھر انہوں نے چار رکعات ادا کیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10872]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار: 2562، وابن حبان: 3205، والطبراني في المعجم الكبير: 396، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22123»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10873
حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ حَجَّ فَأَرْسَلَ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ أَنِ افْتَحْ بَابَ الْكَعْبَةِ فَقَالَ عَلَيَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ هَلْ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ فَقَالَ نَعَمْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ فَتَأَخَّرَ خُرُوجُهُ فَوَجَدْتُ شَيْئًا فَذَهَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ سَرِيعًا فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا فَسَأَلْتُ بِلَالَ بْنَ رَبَاحٍ هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ قَالَ نَعَمْ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ فَصَلَّى بَيْنَهُمَا
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حج کے لیے تشریف لائے اور انہوں نے شیبہ بن عثمان کو پیغام بھیجا کہ وہ کعبہ کا دروازہ کھولے۔ پھر انھوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کیایہبات آپ کے علم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے اندر داخل ہوئے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہر آنے میں کافی دیر کر دی تو میں نے کوئی چیز محسوس کی، پس میں گیا پھر میں جلدی واپس آیا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لا چکے تھے، میں نے سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعتیں ادا کی ہیں۔پس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اُٹھے اور دونوں ستونوں کے درمیان نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10873]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 468، 504، 2988، 4400، ومسلم: 1329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23885 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24382»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 468
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10874
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَدِمَ مَكَّةَ فَدَخَلَ الْكَعْبَةَ فَبَعَثَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ بِحَيَالِ الْبَابِ فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَرَجَّ الْبَابَ رَجًّا شَدِيدًا فَفُتِحَ لَهُ فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ أَمَا أَنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي كُنْتُ أَعْلَمُ مِثْلَ الَّذِي يَعْلَمُ وَلَكِنَّكَ حَسَدْتَنِي
۔(دوسری سند) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لائے اور کعبہ کے اندر داخل ہونے لگے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس مقام پر نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دروازے کے سامنے دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی۔ اتنے میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے بیت اللہ کے دروازے کو زور زور سے پیٹا، سو ان کے لیے دروازہ کھول دیا گیا،انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ تو جانتے ہیں کہ میں بھی اس بات کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرح جانتا ہوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے حسد کیا ہے (اور مجھے نہیں بلایا)۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10874]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5449»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5449
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10875
عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْبَيْتِ وَسَتَأْتُونَ مَنْ يَنْهَاكُمْ عَنْهُ فَتَسْمَعُونَ مِنْهُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ حَجَّاجٌ فَتَسْمَعُونَ مِنْ قَوْلِهِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ قَرِيبًا مِنْهُ
سماک حنفی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی، عنقریب کچھ لوگ آئیں گے جو تمہیں بیت اللہ کے اندر نماز ادا کرنے سے روکیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ ان کے قریب ہی بیٹھے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا: ان سے بھی تم ایسی ہی بات سنو گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10875]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 1867، والبيھقي: 2/ 328، وابن حبان: 3200، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5053»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10876
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10876]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22102»
وضاحت: فوائد: … سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیت اللہ میں نماز کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا، اس سلسلے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے، بعض راوی سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے اثبات روایت کرتے ہیں اور بعض ان سے اس کی نفی روایت کرتے ہیں۔
ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز بھی پڑھی اور ذکر اذکار بھی کیا۔
امام نووی نے کہا: محدثین کرام کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ اس معاملے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث کو معتبر اور قابل عمل سمجھا جائے گا، کیونکہ وہ مثبت ہے اور مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، کیونکہ مثبت کی بنیاد زائد علم پر ہوتی ہے۔ مزید دیکھیں: حدیث نمبر (۴۵۹۳)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ الْتِزَامِ الْكَعْبَةِ وَالتَّبَرُّكِ بِهَا وَمَا يَقُولُ وَمَا يَفْعَلُ مَنْ يَدْخُلُهَا
کعبہ کے ساتھ چمٹنے اور اس سے برکت حاصل کرنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ کعبہ کے اندر داخل ہونے والا آدمی کیا کچھ پڑھے اور کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10877
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَجَافَ الْبَابَ وَالْبَيْتُ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ فَمَضَى حَتَّى أَتَى الْأُسْطُوَانَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْبَابَ بَابَ الْكَعْبَةِ فَجَلَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَهُ ثُمَّ قَامَ حَتَّى أَتَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَجَسَدَهُ عَلَى الْكَعْبَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ حَتَّى أَتَى كُلَّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالِاسْتِغْفَارِ وَالْمَسْأَلَةِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَارِجًا مِنَ الْبَيْتِ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِ الْكَعْبَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ هَذِهِ الْقِبْلَةُ هَذِهِ الْقِبْلَةُ وَفِي رِوَايَةٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
سیدنااسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے دروازہ بند کر دیا، ان دنوں بیت اللہ کی عمارت چھ ستونوں پر قائم تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہوکر آگے بڑھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے قریب والے دو ستونوں کے درمیان پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی، دعائیں کی اور استغفار کیا، پھر اُٹھ کر کعبہ کی سامنے والی دیوار کے قریب آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اور اپنا جسد اطہر کعبہ کی دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سینہ، جسم اور دونوں ہاتھ کعبہ کی دیوار کے ساتھ لگا دئیے اور اسی حال میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی، دعائیں اور استغفار کیا۔ پھر واپس ہو کر بیت اللہ کے ہر گوشے میں گئے اور وہاں اللہ تعالیٰ کی تکبیر، تہلیل، تسبیح اور حمد و ثناء بیان کی، استغفار کیا اور اللہ تعالیٰ سے سوال کیے، پھر باہر آکر کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کیں اور پھر واپس ہوئے اور دو تین بار فرمایا: یہی قبلہ ہے۔ یہی قبلہ ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10877]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 398، ومسلم: 1330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22173»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کعبہ کی دیواروں پر چہرہ، جسم اور ہاتھ لگانا مسنون عمل ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں دیوار کے ساتھ چہرہ یا جسم لگانے کا ذکر نہیں ہے البتہ زیر مطالعہ حدیث سے کعبہ کے
اندر دیوار کے ساتھ چہرہ اور جسم لگانا ثابت ہو رہا ہے اور امام نسائی نے بھی اپنی سنن میں اس کے متعلق باب قائم کیا ہے باب وضع الوجہ و الصدر وعلیٰ ماستقبل من دبر الکعبۃ۔ (نسائی: ۲۹۱۸) (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 398
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10878
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُلْتَزِمًا الْبَيْتَ مَا بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْبَابِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ مُلْتَزِمِينَ الْبَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجراسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان والی جگہ پر بیت اللہ کے ساتھ چمٹے ہوئے دیکھا اور میں نے دوسرے لوگوں کو بھی دیکھا کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10878]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي الھاشمي، أخرجه ابوداود: 1898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15637»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۴۵۸۴)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي الھاشمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10879
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قُلْتُ لَأَلْبَسَنَّ ثِيَابِي وَكَانَ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ فَلَأَنْظُرَنَّ مَا يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ فَوَافَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ مِنَ الْكَعْبَةِ وَأَصْحَابُهُ قَدِ اسْتَلَمُوا الْبَيْتَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الْحَطِيمِ وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَطَهُمْ فَقُلْتُ لِعُمَرَ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
سیدنا عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ کو فتح کیا تو میں نے کہا کہ میں لباس پہن لوں، میرا گھر راستہ ہی میں تھا، اور میں جا کر دیکھوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج کیا کچھ کرتے ہیں؟ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ سے باہر آچکے تھے اور صحابہ کرام باب کعبہ سے حطیم تک کعبہ کے ساتھ لپٹے اور چمٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ کے ساتھ لگا رکھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی انہی کے درمیان تھے، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کے اندر کیا کام سر انجام دیا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10879]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي الھاشمي، أخرجه ابوداود: 2026، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15638»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي الھاشمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں