الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَارِيخِ غَزْوَةِ الْفَتْحِ وَقِصَّةِ كِتَابِ خاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ
غزوۂ فتح مکہ کی تاریخ اور اہلِ مکہ کے نام حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے مکتوب کا واقعہ
حدیث نمبر: 10851
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ غَزْوَهُمْ فَدُلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَعَهَا الْكِتَابُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَأُخِذَ كِتَابُهَا مِنْ رَأْسِهَا وَقَالَ يَا حَاطِبُ أَفَعَلْتَ قَالَ نَعَمْ أَمَا إِنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ غِشًّا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يُونُسُ غِشًّا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا نِفَاقًا قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ مُظْهِرٌ رَسُولَهُ وَمُتِمٌّ لَهُ أَمْرَهُ غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ عَزِيزًا بَيْنَ ظَهْرَيْهِمْ وَكَانَتْ وَالِدَتِي مِنْهُمْ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَّخِذَ هَذَا عِنْدَهُمْ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أَضْرِبُ رَأْسَ هَذَا قَالَ أَتَقْتُلُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ مَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کے نام خط لکھ کر ان کو مطلع کر دیا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ پر چڑھائی کرنے والے ہیں)۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس عورت کے متعلق اطلاع دے دی گئی جو یہ خط لئے مکہ مکرمہ کی طرف جا رہی تھی۔ آپ نے چند صحابہ کو اس کے پیچھے روانہ کیا۔ اور وہ خط اس کے سر کے بالوں میں سے برآمد کر لیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا حاطب! کیا واقعی تم نے ہییہ کام کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! اللہ کے رسول میں نے یہ کام دھوکہ دہییا نفاق کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو ضرور غالب کرے گا اور ان کو کامیابی نصیب ہو گی اصل بات یوں ہے کہ میں باہر سے آکر مکہ مکرمہ میں آباد ہوا تھا۔ میری والدہ انہی کے درمیان مقیم تھی۔ میں اس طرح اہلِ مکہ پر احسان دھرنا چاہتا تھا۔ یہ باتیں سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا میں اس کا سر قلم نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایک بدری کو قتل کر دو گے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف دیکھ کر فرمایا: اب تم جو چاہو عمل کرتے رہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10851]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابويعلي: 2265، وابن حبان: 4797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14833»
وضاحت: فوائد: … درج حدیث میں اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَا وَالزُّبَیْرَ وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ: ((انْطَلِقُوا حَتّٰی تَأْتُوا رَوْضَۃَ خَاخٍ فَإِنَّ بِہَا ظَعِینَۃً مَعَہَا کِتَابٌ فَخُذُوہُ مِنْہَا۔)) فَانْطَلَقْنَا تَعَادٰی بِنَا خَیْلُنَا حَتّٰی أَتَیْنَا الرَّوْضَۃَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِینَۃِ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِی الْکِتَابَ، قَالَتْ: مَا مَعِی مِنْ کِتَابٍ، قُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَنَقْلِبَنَّ الثِّیَابَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتِ الْکِتَابَ مِنْ عِقَاصِہَا، فَأَخَذْنَا الْکِتَابَ، فَأَتَیْنَا بِہِ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَإِذَا فِیہِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِی بَلْتَعَۃَ إِلٰی نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ بِمَکَّۃَ،یُخْبِرُہُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((یَا حَاطِبُ! مَا ہٰذَا؟)) قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَیَّ إِنِّی کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِی قُرَیْشٍ، وَلَمْ أَکُنْ مِنْ أَنْفُسِہَا، وَکَانَ مَنْ کَانَ مَعَکَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ لَہُمْ قَرَابَاتٌ یَحْمُونَ أَہْلِیہِمْ بِمَکَّۃَ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِی ذٰلِکَ مِنَ النَّسَبِ فِیہِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِیہِمْیَدًایَحْمُونَ بِہَا قَرَابَتِی، وَمَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ کُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِینِی وَلَا رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِنَّہُ قَدْ صَدَقَکُمْ۔)) فَقَالَ عُمَرُرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: دَعْنِی أَضْرِبْ عُنُقَ ہٰذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: ((إِنَّہُ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا، وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّ اللّٰہَ قَدْ اطَّلَعَ عَلٰی أَہْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔))
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر اور سیدنا مقدار کو بھیجا اور فرمایا: تم چلو، یہاں تک کہ روضۂ خاخ تک پہنچ جاؤ، وہاں ایک مسافر خاتون کے پاس ایک خط ہو گا، وہ خط اس سے لے لو۔ سو ہم چل پڑے، ہمارے گھوڑے دوڑتے گئے، یہاں تک کہ ہم اس روضہ کے پاس پہنچے، وہاں تو واقعی ایک خاتون موجود تھی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال دے، اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکال دے، وگرنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے، یہ سن کر اس نے اپنے بالوں کی لٹ سے خط نکال دیا، ہم نے وہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، اس خط میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی: یہ خط حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے مکہ کے مشرکوں کی طرف ہے، …۔ وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امور کی خبر دے رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: مجھ پر جلدی نہ کرنا (میں تفصیل بتاتا ہوں)، بات یہ ہے کہ میں معاہدے کیبنا پر قریشیوں سے ملا ہوا تھا اور میں ان میں سے نہیں تھا، آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں، ان کی قریشیوں سے رشتہ داریاں ہیں، جن کی وجہ سے وہ مکہ میں ان کے رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہیں، جب میں نے دیکھا کہ قریشیوں سے میرا نسب تو ملتا نہیں ہے، اس لیے میں نے سوچا کہ اگر میں ان پر کوئی ایسا احسان کر دوں کہ جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی بھی حفاظت کریں (اس مقصد کے لیے میں نے یہ کام کیا ہے)، نہ میں نے یہ کاروائی کفر کرتے ہوئے کی، نہ اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے اور نہ اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ اس آدمی نے تم سے سچ بولا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: چھوڑیئے مجھے، میں اس منافق کی گردن اتار پھینکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بدر میں حاضر ہوا تھا، اور تجھے پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور کہا: آج کے بعد جو چاہو کرو، میں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۰۰۷، ۴۲۷۴، ۴۸۹۰، صحیح مسلم: ۲۴۹۴، واللفظ لاحمد)
سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیاری اور آمد کی خبر ارسال کی تھی۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں صحابۂ کرام کے مقام مرتبہ کو سمجھنے کے لیے بہت بڑا نقطہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ اقدس سے جن صحابہ کی پیشگی معافی کا اعلان ہو چکا ہے، ان سے بعد میں ہونے والی خطاؤں کو نظر انداز کر دیا جائے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اس مغفرت کا اعلان کروا رہا تھا، اس کو پتہ تھا کہ ان نفوسِ قدسیہ میں سے فلاں آدمی سے اس قسم کی غلطی ہو گی۔ دراصل آغوشِ نبوت کی پروردہ ہستیوں کی نیکیوں کو قبول کرنے اور ان کی بشری تقاضوں کو معاف کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ضابطے امت ِ مسلمہ کے دوسرے افراد سے مختلف ہیں، ایک مثال درج ذیل ہے:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَسُبُّوْا اَحَدًا مِنْ اَصْحَابِیْ، فَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَوْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَھَبًا، مَا اَدْرَکَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہُ۔)) … میرے صحابہ میں سے کسی کو برا بھلا مت کہو، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ اُن کے خرچ کیے ہوئے ایک مد یا نصف مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔(صحیح بخاری: ۳۶۷۳، صحیح مسلم: ۲۵۴۰)
ایک مُدّ کا وزن 525گرام ہوتا ہے، نصف مد کا وزن 262گرام ہوا۔ یہ صحابہ کرام کی نیکیوں کا معیار ہے کہ احد پہاڑ کے برابر کا سونا ان کی صدقہ کی ہوئی گندم، کھجور اور جو کی اس معمولی مقدار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
دیکھیں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اتنا بڑا راز فاش کر رہے ہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کو منافق سمجھ کر واجب القتل سمجھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ ان کی معافی کا اعلان تو پیشگی ہو چکا ہے۔ سبحان اللہ۔ لہذا صحابۂ کرام کے بارے میں زبان درازی کی رائے رکھنے والوں کو محتاط رہنا چاہیے اور اپنے نظریوں کی اصلاح کرنی چاہیے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَا وَالزُّبَیْرَ وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ: ((انْطَلِقُوا حَتّٰی تَأْتُوا رَوْضَۃَ خَاخٍ فَإِنَّ بِہَا ظَعِینَۃً مَعَہَا کِتَابٌ فَخُذُوہُ مِنْہَا۔)) فَانْطَلَقْنَا تَعَادٰی بِنَا خَیْلُنَا حَتّٰی أَتَیْنَا الرَّوْضَۃَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِینَۃِ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِی الْکِتَابَ، قَالَتْ: مَا مَعِی مِنْ کِتَابٍ، قُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَنَقْلِبَنَّ الثِّیَابَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتِ الْکِتَابَ مِنْ عِقَاصِہَا، فَأَخَذْنَا الْکِتَابَ، فَأَتَیْنَا بِہِ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَإِذَا فِیہِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِی بَلْتَعَۃَ إِلٰی نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ بِمَکَّۃَ،یُخْبِرُہُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((یَا حَاطِبُ! مَا ہٰذَا؟)) قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَیَّ إِنِّی کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِی قُرَیْشٍ، وَلَمْ أَکُنْ مِنْ أَنْفُسِہَا، وَکَانَ مَنْ کَانَ مَعَکَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ لَہُمْ قَرَابَاتٌ یَحْمُونَ أَہْلِیہِمْ بِمَکَّۃَ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِی ذٰلِکَ مِنَ النَّسَبِ فِیہِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِیہِمْیَدًایَحْمُونَ بِہَا قَرَابَتِی، وَمَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ کُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِینِی وَلَا رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِنَّہُ قَدْ صَدَقَکُمْ۔)) فَقَالَ عُمَرُرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: دَعْنِی أَضْرِبْ عُنُقَ ہٰذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: ((إِنَّہُ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا، وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّ اللّٰہَ قَدْ اطَّلَعَ عَلٰی أَہْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔))
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر اور سیدنا مقدار کو بھیجا اور فرمایا: تم چلو، یہاں تک کہ روضۂ خاخ تک پہنچ جاؤ، وہاں ایک مسافر خاتون کے پاس ایک خط ہو گا، وہ خط اس سے لے لو۔ سو ہم چل پڑے، ہمارے گھوڑے دوڑتے گئے، یہاں تک کہ ہم اس روضہ کے پاس پہنچے، وہاں تو واقعی ایک خاتون موجود تھی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال دے، اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکال دے، وگرنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے، یہ سن کر اس نے اپنے بالوں کی لٹ سے خط نکال دیا، ہم نے وہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، اس خط میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی: یہ خط حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے مکہ کے مشرکوں کی طرف ہے، …۔ وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امور کی خبر دے رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: مجھ پر جلدی نہ کرنا (میں تفصیل بتاتا ہوں)، بات یہ ہے کہ میں معاہدے کیبنا پر قریشیوں سے ملا ہوا تھا اور میں ان میں سے نہیں تھا، آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں، ان کی قریشیوں سے رشتہ داریاں ہیں، جن کی وجہ سے وہ مکہ میں ان کے رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہیں، جب میں نے دیکھا کہ قریشیوں سے میرا نسب تو ملتا نہیں ہے، اس لیے میں نے سوچا کہ اگر میں ان پر کوئی ایسا احسان کر دوں کہ جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی بھی حفاظت کریں (اس مقصد کے لیے میں نے یہ کام کیا ہے)، نہ میں نے یہ کاروائی کفر کرتے ہوئے کی، نہ اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے اور نہ اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ اس آدمی نے تم سے سچ بولا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: چھوڑیئے مجھے، میں اس منافق کی گردن اتار پھینکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بدر میں حاضر ہوا تھا، اور تجھے پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور کہا: آج کے بعد جو چاہو کرو، میں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۰۰۷، ۴۲۷۴، ۴۸۹۰، صحیح مسلم: ۲۴۹۴، واللفظ لاحمد)
سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیاری اور آمد کی خبر ارسال کی تھی۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں صحابۂ کرام کے مقام مرتبہ کو سمجھنے کے لیے بہت بڑا نقطہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ اقدس سے جن صحابہ کی پیشگی معافی کا اعلان ہو چکا ہے، ان سے بعد میں ہونے والی خطاؤں کو نظر انداز کر دیا جائے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اس مغفرت کا اعلان کروا رہا تھا، اس کو پتہ تھا کہ ان نفوسِ قدسیہ میں سے فلاں آدمی سے اس قسم کی غلطی ہو گی۔ دراصل آغوشِ نبوت کی پروردہ ہستیوں کی نیکیوں کو قبول کرنے اور ان کی بشری تقاضوں کو معاف کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ضابطے امت ِ مسلمہ کے دوسرے افراد سے مختلف ہیں، ایک مثال درج ذیل ہے:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَسُبُّوْا اَحَدًا مِنْ اَصْحَابِیْ، فَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَوْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَھَبًا، مَا اَدْرَکَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہُ۔)) … میرے صحابہ میں سے کسی کو برا بھلا مت کہو، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ اُن کے خرچ کیے ہوئے ایک مد یا نصف مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔(صحیح بخاری: ۳۶۷۳، صحیح مسلم: ۲۵۴۰)
ایک مُدّ کا وزن 525گرام ہوتا ہے، نصف مد کا وزن 262گرام ہوا۔ یہ صحابہ کرام کی نیکیوں کا معیار ہے کہ احد پہاڑ کے برابر کا سونا ان کی صدقہ کی ہوئی گندم، کھجور اور جو کی اس معمولی مقدار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
دیکھیں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اتنا بڑا راز فاش کر رہے ہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کو منافق سمجھ کر واجب القتل سمجھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ ان کی معافی کا اعلان تو پیشگی ہو چکا ہے۔ سبحان اللہ۔ لہذا صحابۂ کرام کے بارے میں زبان درازی کی رائے رکھنے والوں کو محتاط رہنا چاہیے اور اپنے نظریوں کی اصلاح کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دُخُولِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ مَكَّةَ حَتَّى تَمَّ لَهُمُ الْفَتْحُ وَمُعَامَلَتِهِ أَهْلَ مَكَّةَ بِالرَّافَةِ وَالْعَفْوِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کے مکہ مکرمہ میں داخلہ اور حصولِ فتح نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل مکہ کے ساتھ رحمت وشفقت اور عفوودرگزر کا بیان
حدیث نمبر: 10852
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ قَالَ وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَا فِيهِمْ وَأَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَمَضَانَ فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لِبَعْضٍ الطَّعَامَ قَالَ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ مَا يَدْعُونَا قَالَ هَاشِمٌ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ قَالَ فَقُلْتُ أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوهُمْ إِلَى رَحْلِي قَالَ فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ وَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعِشَاءِ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ قَالَ أَسَبَقْتَنِي قَالَ هَاشِمٌ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَدَعَوْتُهُمْ فَهُمْ عِنْدِي قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالَ فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ قَالَ فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَتِهِ قَالَ وَقَدْ وَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشَهَا قَالَ فَقَالُوا نُقَدِّمُ هَؤُلَاءِ فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَنَظَرَ فَرَآنِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ وَلَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ فَهَتَفْتُ بِهِمْ فَجَاءُوا فَأَطَافُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى حَصْدًا حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَانْطَلَقْنَا فَمَا يَشَاءُ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ مِنْهُمْ مَا شَاءَ وَمَا أَحَدٌ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ قَالَ فَغَلَّقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ قَالَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ قَالَ وَفِي يَدِهِ قَوْسٌ أَخَذَ بِسِيَةِ الْقَوْسِ قَالَ فَأَتَى فِي طَوَافِهِ عَلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبٍ يَعْبُدُونَهُ قَالَ فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي عَيْنِهِ وَيَقُولُ {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ} [الإسراء: 81] قَالَ ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَيْثُ يُنْظَرُ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ قَالَ وَالْأَنْصَارُ تَحْتَهُ قَالَ يَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَاءَ الْوَحْيُ وَكَانَ إِذَا جَاءَ لَمْ يَخْفَ عَلَيْنَا فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُقْضَى قَالَ هَاشِمٌ فَلَمَّا قُضِيَ الْوَحْيُ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَقُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ قَالُوا قُلْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَا اسْمِي إِذًا كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ قَالَ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ وَيَقُولُونَ وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذُرَانِكُمْ
عبداللہ بن رباح سے مروی ہے کہ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں رمضان کے مہینہ میں کئی وفود آئے میں بھی ان میں شامل تھا ہم ایک دوسرے کو کھانے کے لیے بلاتے تھے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اکثر وبیشتر ہمیں اپنے گھر بلا لیا کرتے تھے۔ تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں بھی کھانا تیار کر وں اور ان حضرات کو اپنے پاس آنے کی دعوت دوں؟ چنانچہ میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا۔ عشاء کے وقت میری سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آج رات میرے ہاں دعوت ہے؟ وہ بولے تم تو مجھ پر سبقت لے گئے۔ میں نے عرض کیا جی ہاں! میں نے ان کو بلایا۔ وہ لوگ میرے ہاں تشریف لے آئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اے انصاریو! کیا میں تمہیں تم سے متعلقہ ایک بات نہ سناؤں؟ پھر انہوں نے فتح مکہ کا ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو لشکر کے داہنے یا بائیں طرف والے ایکحصے پر اور خالد بن ولید کو دوسرے حصے پر اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں پر امیر مقرر کیا جو زرہ پوش نہ تھے۔ ان حضرات نے بطن الوادی والا راستہ اختیار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دستہ میں تھے۔ قریش نے بھی بہت سے قبائل کو جمع کر لیا تھا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم ان کو آگے آگے جانے دیں۔ اگر انہیں کچھ ملا تو ہم بھی ساتھ ہی ہوں گے۔ اور اگر ان پر حملہ ہوا تو ہم سے جو مطالبہ کیا جائے گا۔ دے دیں گے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھ کر آواز دی اور فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ فرمایا: انصار کو میری طرف بلاؤ، اور یاد رکھو صرف انصاری ہی میرے پاس آئیں۔ میں نے انصار کو پکارا تو وہ آگئے۔ اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم قریش کے قبائل اور لوگوں کو دیکھ رہے ہو؟ آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر رکھ کر یوں اشارہ کیا کہ ان کو نیست ونابود کر کے میرے پاس کوہِ صفا پر آجاؤ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم وہاں سے چل دئیے۔ اور ہم میں سے ہر ایک نے ان میں سے جتنے آدمیوں کو قتل کرنا چاہا قتل کیا۔ ان میں سے کسی نے بھی ہم سے تعرض نہ کیا۔ ابو سفیان نے کہا اے اللہ کے رسول! قریش کی جماعتوں کو تو قتل کر دیا گیا۔ یہی صورت رہی تو آج کے بعد کوئی قریشی باقی نہ رہے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جو کوئی اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے امان ہے، اور جو ابو سفیان کے گھر میں چلا جائے اسے بھی امان ہے، چنانچہ لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے بند کر لئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے۔ آپ نے اسے بوسہ دیا اور پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ آپ کے ہاتھ میں کمان تھی۔ آپ نے کمان کا ایک کنارہ پکڑا ہوا تھا طواف کے دوران آپ بیت اللہ کی ایک جانب میں پڑے ایک بت کے پاس پہنچے وہ لوگ اس کی پوچا کیا کرتے تھے۔ آپ اپنی کمان اس بت کی آنکھ میں مارنے لگے اور فرمایا {جَاء َ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ} حق آگیا اور باطل دم دبا کر بھا گ گیا۔ (سورۂ بنی اسرائیل: ۸۱) اس کے بعد آپ کوہ صفا پر گئے اور اس کے اوپر چڑھ گئے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا آپ ہاتھ اُٹھا کر اللہ کا ذکر اور دعا کرتے رہے۔ اور انصار آپ کے سامنے نیچے کھڑے تھے۔ ان میں سے بعض ایک دوسرے سے کہنے لگے اس آدمی کو(یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) اپنے شہر کی اور اپنے خاندان کی رغبت اور یاد آگئی ہے۔ وہیں پر آپ پر وحی کا نزول شروع ہو گیا۔ جب آپ پر وحی کا نزول شروع ہوتا تو ہمیں پتہ چل جاتا تھا۔ انقطاعِ وحی تک کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نظر اُٹھا کر نہ دیکھتا تھا جب وحی کا سلسلہ منقطع ہواتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اُٹھا کر فرمایا: اے انصار! تم نے کہا ہے کہ اسے اپنے شہر کی رغبت اور خاندان کی محبت نے آلیا ہے۔ وہ بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی ہم نے اس قسم کی باتیں کی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ایسا ہو تو پھر میرا نام کیا ہو گا؟ خبردار! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے اللہ کی رضا کی خاطر تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے۔ تو انصار بلکتے ہوئے آپ کی طرف بڑھے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ہم نے جو باتیں کی ہیں وہ محض اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شدید محبت کی وجہ سے کی ہیں مبادا کہ آپ ہمیں چھوڑ کر مکہ واپس آجائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری باتوں کی تصدیق کرتے اور تمہاری معذرت قبول کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10852]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1780، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10961»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1780
حدیث نمبر: 10853
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدَى (وَفِي لَفْظٍ آخَرَ) دَخَلَ مَكَّةَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا
اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن مکہ کے بالائی حصے کداء کی جانب سے اور عمرہ کے موقع پر کدیٰ کی جانب سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، دوسری روایت کے الفاظ ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں بالائی جانب سے داخل ہوئے اور نشیبی جانب سے باہر گئے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10853]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4291، ومسلم: 1258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24815»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں: حدیث نمبر (۴۳۱۹)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4291
حدیث نمبر: 10854
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْأَذْخَرِ
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثنیۃ الاذخر کی جانب سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10854]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن ابي زياد القداح، أخرجه الطبراني في الاوسط: 4286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26768»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن ابي زياد القداح
حدیث نمبر: 10855
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے تھے کہ آپ نے سیاہ پگڑی باندھی ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10855]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14966»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1358
حدیث نمبر: 10856
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اس وقت آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اتارا تو ایک آدمی نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابن خطل کافر کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ امام مالک کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس روز احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10856]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1846، 3044، ومسلم: 1357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12962»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس آدمی کا ارادہ حج یا عمرے کا نہ ہو، وہ احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہو سکتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس نے بار بار آنا ہو یا کبھی کبھار۔
حدیث نمبر (۱۰۸۸۰) میں ابن خطل کے قتل پر بحث ہو گی۔
حدیث نمبر (۱۰۸۸۰) میں ابن خطل کے قتل پر بحث ہو گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1846
حدیث نمبر: 10857
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ الْخَيْفَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے چاہا تو کل جب اللہ تعالیٰ ہمیں فتح سے نوازے گا تو ہمارا قیام خیف وادی میں ہو گا، جہاں کفار قریش نے (ہمارے خلاف) کفر کی مدد کی قسمیں اُٹھائی تھیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10857]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4284، ومسلم: 1314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8261»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۴۵۷۱) والا باب اور اس کے فوائد۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4284
7. بَاب مَا جَاءَ فِي إِسْلَامِ أَبِي قُحَافَةَ وَالِدِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضي الله عنه يَوْمَ الْفَتْحِ
فتح مکہ کے دن سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے باپ ابو قحافہ کے قبولِ اسلام کا بیان
حدیث نمبر: 10858
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لِابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ أَيْ بُنَيَّةُ اظْهَرِي بِي عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ قَالَتْ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ قَالَتْ فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا بُنَيَّةُ مَاذَا تَرَيْنَ قَالَتْ أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا قَالَ تِلْكَ الْخَيْلُ قَالَتْ وَأَرَى رَجُلًا يَسْعَى بَيْنَ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا قَالَ يَا بُنَيَّةُ ذَلِكَ الْوَازِعُ يَعْنِي الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ قَدْ وَاللَّهِ انْتَشَرَ السَّوَادُ فَقَالَ قَدْ وَاللَّهِ إِذَا دَفَعَتِ الْخَيْلُ فَأَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي فَانْحَطَّتْ بِهِ وَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى بَيْتِهِ وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ فَتَلَقَّاهُ الرَّجُلُ فَاقْتَلَعَهُ مِنْ عُنُقِهَا قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ يَعُودُهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ فِيهِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِيَ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تَمْشِيَ أَنْتَ إِلَيْهِ قَالَ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَسْلِمْ فَأَسْلَمَ وَدَخَلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ فَقَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ وَبِالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَقَالَ يَا أُخَيَّةُ احْتَسِبِي طَوْقَكِ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذی طوی میں قیام کیا تو ابو قحافہ نے اپنی سب سے چھوٹی بچی سے کہا: بیٹی! تم مجھے جبل ابی قبیس پر لے چلو، ان دنوں وہ نابینا ہو چکے تھے، وہ بیان کرتی ہے کہ میں ان کو پہاڑ پر لے گئی۔ انھوں نے کہا: بیٹی تم کیا دیکھ رہی ہو؟ بیٹی نے کہا: میں ایک اکٹھا لشکر دیکھ رہی ہوں، انہوں نے کہا: یہ گھوڑے ہیں، اس نے کہا: میں ایک آدمی کو دیکھ رہی ہوں جوا ن لشکروں میں آگے پیچھے دوڑتا پھر رہا ہے۔ انھوں نے کہا: بیٹی! یہ آدمی گھڑ سواروں کو ہدایات دے رہا ہے۔ پھر اللہ کی قسم! دیکھا کہ لشکر بکھر گیا ہے، انھوں نے کہا:اللہ کی قسم تب تو گھوڑے دوڑ پڑے ہیں۔ تم جلدی سے مجھے گھر لے چلو، میں انہیں ساتھ لئے پہاڑ سے نیچے اتر آئی، وہ ابھی گھر تک نہ پہنچے تھے کہ ان کی گھڑ سواروں سے ملاقات ہو گئی۔ اس لڑکی کی گردن میں چاندی کا ایک ہار تھا، ایک آدمی نے اسے پکڑ کر اس کی گردن سے اتار لیا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ آکر مسجد حرام میں داخل ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا ہاتھ تھامے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس طرح آتے دیکھا تو فرمایا: آپ نے بزرگ کو گھر میں ہی رہنے دیا ہوتا،میں خود ان کے ہاں چلا جاتا۔ لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے ان کی طرف چل کر جانے کی نسبت وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ آپ کی طرف چل کر آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو اپنے سامنے بٹھا لیا اور ان کے سینے پر ہاتھ پھیر کر فرمایا: اسلام میں آجاؤ۔ پس انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائے تھے تو ان کے بال بڑھاپے کی وجہ سے ثغامہ بوٹی کی طرح سفید ہو چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے بالوں کی سفیدی کو بدل دو۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بہن کا ہاتھ تھامے اُٹھے اور کہا: لوگو! میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ میری بہن کا ہار جس کے پاس ہو وہ واپس کر دے۔ لیکن جب کسی نے ان کی بات کا اثبات میں جواب نہ دیا۔ تو انہوں نے کہا: بہن! ہار سے محرومی پر اللہ سے اجر کی امید رکھو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10858]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 7208، والطبراني في المعجم الكبير: 24/ 236، والحاكم: 3/ 46، والبيھقي: 9/ 121، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27496»
وضاحت: فوائد: … ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ((لَوْ اَقْرَرْتَ الشَّیْخَ،لَاَتَیْنَاہُ مَکْرُمَۃً لِاَبِيْ بَکْرٍ۔)) … اگر تم اپنے بزرگوں کو اپنے مقام پر ہی رہنے دیتے تو ہم ابو بکر کی عزت کرتے ہوئے ان کے پاس جاتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ ابو بکر کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کے والد گرامی ٔ قدر کے پاس چلے جاتے۔
اس میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بڑی عظمت و منقبت کا بیان بھی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ ابو بکر کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کے والد گرامی ٔ قدر کے پاس چلے جاتے۔
اس میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بڑی عظمت و منقبت کا بیان بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَبِهِ ﷺ مِفْتَاحَ الْكَعْبَةِ مِنْ عُثْمَانَ بن طَلْحَةَ لِيَدْخُلَهَا وَ مَا فَعَلَهُ بِالْأَصْنَامِ الَّتِي وَضَعَهَا الْمُشْرِكُونَ فِيْهَا وَتَطْهِيرِهَا مِنْ ذَلِكَ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10859
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ فَجَاءَ بِهِ فَفَتَحَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحُوهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَوَجَدْتُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار تھے، آپ اسی طرح مکہ میں داخل ہوئے اور آکر کعبہ کے قریب اونٹنی کو بٹھا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو بلوایا کہ کعبہ کی چابی لے کر آؤ، وہ چابی لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کا دروازہ کھولا اور کعبہ کے اندر داخل ہو گئے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کعبہ میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے کافی دیر تک کعبہ کا دروازہ بند کئے رکھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قوی نوجوان تھا، میں نے کوشش کی اور لوگوں سے آگے نکل گیا۔ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے پر کھڑے پا کر ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس مقام پر نماز ادا فرمائی ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ آگے والے دو ستونوں کے درمیان، مجھے یہ پوچھنا یاد نہ رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10859]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 468، ومسلم: 1329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23922 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24419»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 468
حدیث نمبر: 10860
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ فَأَخْرَجَ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اقْتَسَمَا بِهَا قَطُّ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ وَخَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتوں کی موجودگی کی وجہ سے بیت اللہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو باہر نکال دینے کا حکم دیا، چنانچہ ان کو باہر نکال دیا گیا، ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی مورتیوں کے ہاتھوں میں قسمت آزمائی والے تیر پکڑائے گئے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان لوگوں کو تباہ کرے، اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ ان دونوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں نکالی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے، اس کے سارے کونوں میں تکبیرات کہیںاور پھر باہر تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10860]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3093»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی تھییا نہیں؟ اگلے دو ابواب ملاحظہ ہوں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4288