🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ مَا أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ خَطَلٍ وَلَوْ مُتَعَلَّقًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ وَآخَرِينَ مَعَهُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عبدالعزی بن خطل کے قتل کا حکم دینا، خواہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہو اور دیگر چند اشخاص کو قتل کرنے کا حکم دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10880
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اس وقت آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اتارا تو ایک آدمی نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابن خطل کافر کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ امام مالک کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس روز احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10880]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1846، 3044، ومسلم: 1357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12962»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1846
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10881
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ «النَّاسُ آمِنُونَ غَيْرَ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ خَطَلٍ»
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن اعلان فرمایا کہ عبدالعزی بن خطل کے علاوہ باقی سب لوگوں کو امن دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10881]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20041»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10882
عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَخِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ مُطِيعٍ وَكَانَ اسْمُهُ الْعَاصَ فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَرَ بِقَتْلِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ بِمَكَّةَ يَقُولُ «لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ أَبَدًا وَلَا يُقْتَلُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بَعْدَ الْعَامِ صَبْرًا أَبَدًا» زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِسْلَامُ أَحَدًا مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ
عامر شعبی سے مروی ہے کہ وہ بنو عدی بن کعب کے ایک فرد عبداللہ بن مطیع بن اسود سے اور وہ اپنے والد سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ کا سابقہ نام عاص تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں جب ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آج کے بعد کبھی بھی مکہ پر چڑھائی نہیں کی جائے گی اور اس سال کے بعد کبھی کوئی قریشی اس طرح (یعنی کفر اور ارتداد کی وجہ سے) قتل نہ ہو گا۔ ایک روایت میں ہے: اور اسلام نے قریش کے عاص نامی لوگوں میں سے کسی کو نہیں پایا، ما سوائے سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ کے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10882]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 20/ 691، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 1508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15484»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درج ذیل افراد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔
عبدا للہ بن سعد، عبد اللہ بن خطل اور اس کی دو مغنّیہ خواتین قُریبہ اور فرتنی، حویرث بن نقیذ بن وہب،مقیس بن صبابہ، سارہ، عکرمہ بن ابی جہل
عبد اللہ بن خطل کا تعلق بنو تیم بن غالب سے تھا، اس کا نام عبد العزی تھا، ممکن ہے کہ جب یہ مسلمان ہوا ہو تو اس کا نام عبد اللہ رکھ دیا گیا ہو، جب یہ مسلمان ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوزکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور اس کے ساتھ ایک انصاری کو بھی بھیجا، لیکن اس کو انصاری پر غصہ آ گیا اور پھر اس کو قتل کر کے مرتد ہو گیا، اس کی دو مغنّیہ تھیں، فرتنی اور قریبہ،یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ہجو کرتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن خطل اور اس کی دونوں کنیزوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، جب صحابہ اس تک پہنچے تو یہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی اور سیدنا سعید بن حریث مخزومی نے اس کو قتل کیا اور اس کی کنیزاؤں میں سے صرف قُریبہ قتل ہو سکی۔
ان میں سے عبد اللہ بن سعد، فرتنی اور عکرمہ بن ابی جہل مسلمان ہو گئے تھے اور سارہ کے لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے امان لے لی گئی تھی، باقی افراد کو قتل کر دیا گیا۔
کوئی قریشی اس طرح قتل نہیں ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ تمام قریشی مسلمان ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہو گا، اس کا یہ معنی نہیں کہ کسی قریشی کو ظلماً قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ایسا تو قریش کے ساتھ ہوتا رہا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10883
عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَأَدْخَلْتُهُمَا بَيْتًا وَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابًا فَجَاءَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَكَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ زَوْجِهَا قَالَتْ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ «يَا أُمَّ هَانِئٍ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ»
سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10883]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 280، 357، 3171، 6158، ومسلم: 336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27445»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۳۶)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 280
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَحْرِيمِ غَزْوِ مَكَّةَ بَعْدَ عَامِ الْفَتْحِ رَخُطْبَتِهِ ﷺ فِي ذَلِكَ
فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10884
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بَرْصَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ ”لَا يُغْزَى هَذَا يَعْنِي بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
سیدنا حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ والے دن فرمایا: (آج کے بعد قیامت تک) اس مکہ پر چڑھائی نہیں کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10884]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 1611، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15405 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15481»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا معنییہ ہے کہ کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مکہ پر چڑھائی کرے، کیونکہیہ حرم ہے، یزید کے زمانے میں اور بعد میں حرم کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ظلم تھا۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10885
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ {كُفُّوا السِّلَاحَ إِلَّا خُزَاعَةَ عَنْ بَنِي بَكْرٍ} فَأَذِنَ لَهُمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ قَالَ {كُفُّوا السِّلَاحَ} فَلَقِيَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ رَجُلًا مِنْ بَنِي بَكْرٍ مِنْ غَدٍ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقَتَلَهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ وَرَأَيْتُهُ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالَ {إِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ فِي الْحَرَمِ أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الْجَاهِلِيَّةِ} فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ فُلَانًا ابْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا دَعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْأَثْلَبُ“ قَالُوا وَمَا الْأَثْلَبُ قَالَ {الْحَجَرُ} قَالَ {وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ وَفِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ} قَالَ {وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ} قَالَ ”وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا وَلَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں مکہ مکرمہ فتح ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ہتھیاروں کو روک لو(یعنی کسی کو قتل نہ کرو)۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف خزاعہ قبیلہ کو قبیلہ بنو بکر پر حملہ سے نہ روکا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کر لی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم بھی ہتھیاروں کو روک لو۔ لیکن ہوا یوں کہ اس کے بعد دوسرے دن بنو خراعہ کے ایک آدمی کا بنو بکر کے ایک آدمی سے مزدلفہ میں سامنا ہو گیا تو اس نے قتل کر دیا، جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت اپنی پشت مبارک کعبہ مشرفہ کے ساتھ لگائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ہاں لوگوں میں اللہ کا سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو حرم میں کسی کو قتل کرے یا اپنے قاتل کے سوا کسی دوسرے کو قتل کرے یا قبل از اسلام کی کسی دشمنی کے سبب کسی کو قتل کرے۔ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اُٹھ کر گیا اور اس نے کہا: فلاں لڑکا میرا بیٹا ہے، (کیونکہ میں نے قبل از اسلام اس کی ماں کے ساتھ زنا کیا تھا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں کسی دوسرے باپ یا قبیلہ کی طرف انتساب کی کوئی گنجائش نہیں۔ جاہلیتیعنی قبل از اسلام کی ساری باتیں ختم ہو چکیں، بچہ اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو گا اور زانی کے لیے پتھر یعنی رجم کی سزا ہو گی۔ میں نے کہا: اثلب کے معانی کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پتھر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انگلیوں کی دیت میں ہر انگلی کے عوض دس دس اونٹ ہیں اور ایسا زخم جس سے ہڈی ننگی ہو جائے، اس کے عوض پانچ پانچ اونٹ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک اور نمازِعصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں پڑھی جا سکتی اور کسی ایسی عورت کے ساتھ نکاح کرنا بھی درست نہیں، جس کی پھوپھییا خالہ پہلے سے نکاح میں موجود ہو۔ (یعنی خالہ اور اس کی بھانجی اور پھوپھی اور اس کی بھتیجی ایک نکاح میں جمع نہیں ہو سکتیں)اور کسی عورت کے لیےیہ بھی جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر کی کوئی چیز کسی کو بطور عطیہ دے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10885]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6681»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10886
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَزِيدَ أَحَدِ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيَّ ثُمَّ الْكَعْبِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي قِتَالِ بَنِي بَكْرٍ حَتَّى أَصَبْنَا مِنْهُمْ ثَأْرَنَا وَهُوَ بِمَكَّةَ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَفْعِ السَّيْفِ فَلَقِيَ رَهْطٌ مِنَّا الْغَدَ رَجُلًا مِنْ هُذَيْلٍ فِي الْحَرَمِ يَؤُمُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُسْلِمَ وَكَانَ قَدْ وَتَرَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانُوا يَطْلُبُونَهُ فَقَتَلُوهُ وَبَادَرُوا أَنْ يَخْلُصَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَأْمَنَ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْهُ فَسَعَيْنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ نَسْتَشْفِعُهُمْ وَخَشِينَا أَنْ نَكُونَ قَدْ هَلَكْنَا فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ {أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ وَإِنَّمَا أَحَلَّهَا لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ أَمْسِ وَهِيَ الْيَوْمَ حَرَامٌ كَمَا حَرَّمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِنَّ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ قَتَلَ فِيهَا وَرَجُلٌ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ وَرَجُلٌ طَلَبَ بِذَحْلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَدِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي قَتَلْتُمْ} فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو شریح خزاعی کعبی رضی اللہ عنہ،جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ہمیں بنو بکر سے قتال کی(خصوصی) اجازت مرحمت فرمائی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک مکہ مکرمہ ہی میں تھے، چنانچہ ہم نے ان کے لوگوں کو قتل کر کے اپنا انتقام خوب لیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلواروں کو اُٹھا لینے سے منع فرما دیایعنی قتال کو مکمل طور پر روک دینے کا حکم دے دیا، لیکن اگلے دن ہمارے قبیلے کے کچھ لوگوں کو بنو ہذیل کا ایک آدمی حدودِ حرم ہی میں مل گیا، وہ اسلام قبول کرنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آرہا تھا، وہ اس سے قبل جاہلیت کے دورِ میں ان لوگوں کے ساتھ کسی جرم کا مرتکب ہو چکا تھا، یہ اس کی تلاش میں تھے، چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا اور انہوں نے اس کام میں عجلت کا مظاہرہ کیا مبادا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ جائے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اسے قتل کرنے سے منع فرما دیں، جب اس بات کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید غضب ناک ہوئے، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے زیادہ غصہ کی حالت میں کبھی نہیں دیکھا، ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے اور ان کی سفارش چاہی، ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہم اپنی اس کو تاہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کے نتیجہ میں تباہ نہ ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی کما حقہ حمد و ثناء بیان کی اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم والا قرار دیا، اسے لوگوں نے حرم نہیں بنایا، اللہ تعالیٰ نے گزشتہ کل کچھ دیر کے لیے اس حرم میں مجھے قتال کی اجازت دی تھی، اب یہ آج سے اسی طرح حرم ہے اور یہاں قتال کرنا حرام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پہلے حرام ٹھہرایا تھا اور تین قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کے سخت سرکش اور باغی ہیں، ایک وہ جو حدودِ حرم میں کسی کو قتل کرے، دوسرا وہ جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی دوسرے کو قتل کرے اور تیسرا وہ جو قبل از اسلام کے کسی جرم کا بدلہ لے، تم نے جس آدمی کو قتل کیا ہے، اللہ کی قسم! میں اس کی دیتیعنی خون بہا ضرور ادا کروں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت ادا کی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10886]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح أخرجه بنحوه البخاري: 104، 1832، 4295، ومسلم: 1354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16489»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح أخرجه بنحوه البخاري: 104
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10887
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَقَالَ {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ} (فِي رِوَايَةٍ {وَلَا تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الْإِسْلَامِ}) وَفِي رِوَايَةٍ {وَلَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ} {وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ تُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعَدِهِمْ لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دِيَارِهِمْ}
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! قبل از اسلام کے ایسے معاہدے جن کی رو سے معاہدہ کرنے والے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیںتو اسلام ایسے معاہدوں کو مزید مضبوط کرتا ہے، البتہ اب اسلام میں کسی ایسے نئے معاہدہ کی ضرورت نہیں کہ ہم ایک دوسرے کے حلیف ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے۔ ایک روایت میںیوں ہے کہ تم اسلام میں ایسا کوئی نیا معاہدہ نہ کرو۔ ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ مکہ فتح ہو جانے کے بعد اب یہاں سے ہجرت نہیں کی جا سکتی، اور تمام مسلمان کفار کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی مانند ہیںاور ان سب کے خون(یعنی ان کی حرمت) برابر ہے، مسلمانوں کا ادنیٰ آدمی بھی کسی دشمن کو پناہ دے تو یہ تمام مسلمانوں کی طرف سے سمجھی جائے گی اور جہاد میں حاصل ہونے والا مالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم ہو گا خواہ وہ بہت دور ہی کیوں نہ ہو اور جہاد کے قیدی ان لوگوں میں بھی تقسیم کئے جائیں گے، جو گھروں میں بیٹھے رہے اور میدانِ جہاد میںعملی طور پر شریک نہ ہو سکے اور کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جا سکتا، کافر کی دیت مسلم کے مقابلے میں نصف ہے، کوئی مسلمان سرکاری اہل کار زکوۃ وصولی کے لیے جائے تو اسے یہ روا نہیں کہ وہ کسی ایک جگہ قیام کر کے لوگوں سے کہے کہ تم اپنے اپنے تمام جانوروں کو میرے پاس لے کر آؤ تاکہ میں ان کا حساب کر کے زکوۃ وصول کر وں، اس طرح ان لوگوں کو مشقت ہو گی اور یہ بھی جائز نہیں کہ سرکاری اہل کار زکوۃ وصول کرنے کے لیے لوگوں کی قیام گاہوں پر جائے تو وہ زکوۃ سے بچنے کے لیے اِدھر اُدھر ہو جائیںاور لوگوں سے ان کی زکوتیں ان کے گھروں یا قیام گاہوں پر ہی وصول کی جائیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10887]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1585، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6692»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث کئی مسائل پر مشتمل ہے، لیکن تمام مسائل اپنے متعلقہ موضوعات میں گزر چکے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10888
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَإِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ} وَقَالَ مَرَّةً {الْمُغَلَّظَةُ فِيهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةٌ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَدَمٍ وَدَعْوَى} وَقَالَ مَرَّةً {وَدَمٍ وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ فَإِنِّي أُمْضِيهِمَا لِأَهْلِهِمَا عَلَى مَا كَانَتْ}
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے روز کعبہ کی سیڑھی پر موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے کفار کے تمام لشکروں کو شکست سے دو چار کیا، خبر دار قتل خطا یعنی جو کوڑے یا لاٹھی سے ہو،ا اس کی دیت ایک سو اونٹ ہیں،ایک دفعہ یوں فرمایا کہ اس کا خوں بہا سخت ہے، اس میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں، جاہلیت کے تمام غرور، خون کے مطالبے اور دعوے اور اموال یہ سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہیں، البتہ حجاج کرام کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی نگرانی کی ذمہ داری حسب ِ سابق بحال رہیں گی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10888]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن جدعان، أخرجه ابوداود: 4549، والنسائي: 8/ 42، وابن ماجه: 2628، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4583»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10889
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ {لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ نَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ} قَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً أُخْرَى {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثَرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُعَدُّ وَتُدَّعَى وَكُلَّ دَمٍ أَوْ دَعْوَى مَوْضُوعَةٌ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ إِلَّا سِدَانَةَ الْبَيْتِ وَسِقَايَةَ الْحَاجِّ أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ خَطَإِ الْعَمْدِ} قَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً {بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا} وَقَالَ مَرَّةً {أَرْبَعُونَ مِنْ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ}
عقبہ بن اوس،ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا و یگانہ ہے، اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے کفار کی جماعتوں کو شکست سے دو چار کیا، حدیث کے راوی ہیثم نے ایک دفعہ یوں بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہیں، جس نے اپنا وعدہ پورا کیااور اپنے بندے کی مدد کی۔ خبردار دورِ جاہلیت کی غرور اور فخر والی تمام باتیں، جو ظلم وتعدی پر مشتمل تھیں اور اُس دور کا ہر خون اور ہر قسم کا دعوی میرے قدموں کے نیچے ہے، یعنی اب ان کی کچھ حیثیت نہیں وہ کا لعدم ہیں۔ البتہ بیت اللہ کی نگرانی اور حجاج کرام کو پانی پلانے کی خدمات وہ حسب سابق بحال ہیں۔ خبردار! قتلِ خطا یعنی کوڑے، عصا اور پتھر وغیرہ لگنے سے جو مر جائے اس میں شدید قسم کا خون بہا ہے، یعنی کل سو اونٹ ہیں، ان میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہو ں گی۔ اور ہیثم نے ایک دفعہ یوں روایت کیا: چالیس اونٹنیاں ثنیہ سے بازل کے درمیان درمیان ہوں گی اور سب کی سب حاملہ ہوں گی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10889]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15463»
وضاحت: فوائد: … بیت اللہ کی خدمت، دورِ جاہلیت میں بیت اللہ کی نگرانی بنو عبد الدار اور پانی پلانے کی ذمہ داری بنو ہاشم کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ذمہ داروں کو ایسے ہی برقرار رکھا۔ دیکھیں حدیث نمبر (۶۵۸۵)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں