الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ تَقْسِيمِ غَنَائِمِ حُنَيْنِ بِالْجِعْرَانَةِ وَمَجِيءِ وَفْدِ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ وَاسْتِعْطَافِهِمْ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي أَخْذِ سَبَايَاهُمْ وَأَمْوَالِهِمْ
جعرانہ کے مقام پر حنین کی غنیمتوں کی تقسیم، بنو ہوازن کے وفد کی مسلمان ہو کر آمد اور ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے قیدیوں اور اموال کی واپسی کی درخواست کا بیان
حدیث نمبر: 10920
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوا أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيُ وَإِمَّا الْمَالُ وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُوا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيئُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَجَمَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ
عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ سیدنا مروان اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے اسے خبردی کہ جب ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے اموال اور قیدی واپس لوٹا دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دیکھ رہے ہو کہ میرے ساتھ کتنے لوگ ہیں، سچی بات کرنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے، لہٰذا تم قیدیوںیا مال میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرو، میں اس سے پہلے تمہیں کچھ مہلت دے چکا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف سے واپسی پر انہیں دس سے زائد راتوں کی مہلت دی تھی،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا عرصہ ان کا انتظار کرتے رہے، جب انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دو میں سے کوئی ایک چیز ہی واپس کریں گے، تو انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کا انتخاب کرتے ہیں کہ وہ ہمیں واپس کر دئیے جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں میں کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی ان الفاظ کے ساتھ حمد وثناء بیان کی جس کا حقدار ہے اور پھر فرمایا: تمہارےیہ بھائی تائب ہو کر آئے ہیں، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ان کے قیدیوں کو ان کے حوالے کر دوں، تم میں سے جو کوئی خوشی سے ایسا کرنا چاہیے تو کرلے اور تم میں سے جو اپنا حصہ لینا چاہتا ہو تو ہمارے پاس سب سے پہلے جو مالِ فے آئے گا، ہم اس سے ان کو حصہ ادا کر دیں گے، جو کوئی ایسا کرنا چاہتا ہو وہ ایسے کر لے۔ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم بھی بخوشی ایسا ہی کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہمیں پتہ نہیں چل رہا کہ تم میں سے کس نے اس بات کی اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی، تم لوگ واپس جاؤ اور تمہاری طرف سے تمہارے نمائندے ہمارے پاس آکر تمہاری بات پہنچائیں گے۔ ان نمائندوں نے لوگوں کو جمع کر کے ان سے گفتگو کی، انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی کہ انہوں نے بخوشی اس کی اجازت دے دی ہے۔ عروہ نے کہا کہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق مجھے یہ حدیث پہنچی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10920]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2307، 2308، 2539، 2583، 2608، 3131، 4318، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19121»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2307
23. بَابُ فِي الْمَجِيء بأسرى حُنَيْن وَمُبَايَعَتِهِمْ عَلَى الإسلام وَقِصَّةِ الصَّحَابِيُّ الَّذِي نَذَرَ لَيْن جِيءَ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمِ يَحْطِمُنَا لَاضْرِبَنَّ عنقه
حنین کے قیدیوں کو لائے جانے اور ان کی قبولِ اسلام کی بیعت کا بیان اور اس صحابی کا واقعہ جس نے نذر مانی تھی کہ اگر وہ آدمی ہمارے پاس لا یا گیا جو آج سارا دن ہم پر زور دار حملے کرتا رہا تو میں اس کی گردن اڑاؤں گا
حدیث نمبر: 10921
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ يَا أَبَا حَمْزَةَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ بُعِثَ قَالَ ابْنَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ ثُمَّ كَانَ مَاذَا قَالَ كَانَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ فَتَمَّتْ لَهُ سِتُّونَ سَنَةً ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ قَالَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ هُوَ يَوْمَئِذٍ قَالَ كَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَحْسَنِهِ وَأَجْمَلِهِ وَأَلْحَمِهِ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ غَزَوْتُ مَعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ بِكَثْرَةٍ فَحَمَلُوا عَلَيْنَا حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا وَفِي الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا فَيَدُقُّنَا وَيُحَطِّمُنَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوَلَّوْا فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى الْفَتْحَ فَجَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُجَاءُ بِهِمْ أُسَارَى رَجُلًا رَجُلًا فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا لَئِنْ جِيءَ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمِ يُحَطِّمُنَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ قَالَ فَسَكَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجِيءَ بِالرَّجُلِ فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُبْتُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُبْتُ إِلَى اللَّهِ فَأَمْسَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُبَايِعْهُ لِيُوفِيَ الْآخَرُ نَذْرَهُ قَالَ فَجَعَلَ يَنْظُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ وَجَعَلَ يَهَابُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا يَأْتِيهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَذْرِي قَالَ لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَّا لِتُوفِيَ نَذْرَكَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے علاء بن زیاد عدوی نے دریافت کیا اور کہا: اے ابو حمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ کسی غزوہ میں شرکت کی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حنین میں شرکت کی تھی۔ مشرکین بہت بڑی تعداد میں ہمارے مقابلے کو نکلے اور ہمارے اوپر حملہ آور ہوئے، یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کو اپنے پیچھے دیکھا، مشرکین میں سے ایک آدمی بڑھ چڑھ کر ہم پر حملے کر رہا اور نقصان پہنچا رہا تھا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ منظر دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خچر سے نیچے اترے اور اللہ تعالیٰ نے مشرکینکو ہزیمت سے دوچار کیا اور وہ پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب فتح دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے، ان کے قیدیوں کو ایک ایک کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو وہ قبولِ اسلام کی بیعت کرنے لگے۔ اصحابِ رسول میں سے ایک آدمی نے کہا: میری نذر ہے کہ اگر وہ آدمی لایا گیا جو آج سارا دن ہم پر حملے کر کے شدید نقصان پہنچاتا رہا تو میں اس کی گردن اُڑا دوں گا۔ ا س کی بات سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، بالآخر وہی آدمی لایا گیا، اس نے جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو فوراً کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! میں اللہ کی طرف توبہ کرتا ہوں، اے اللہ کے نبی! میں اللہ کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ اللہ کے نبی کچھ دیر تک رکے رہے اور اس کی بیعت قبول نہیں کی تاکہ دوسرا آدمی اپنی نذر پوری کر لے اور وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھنے لگا کہ آپ اسے قتل کا حکم دیں تو وہ اسے قتل کرے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرعوب ہو کر اسے قتل کرنے کی جسارت نہیں کر سکا، جب اللہ کے نبی نے دیکھا کہ وہ آدمی کچھ کارروائی نہیں کر رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بیعت قبول کر لی۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور میری نذر؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں آج اس کی بیعت قبول کرنے میں دیر کرتا رہا تاکہ تم اپنی نذر پوری کر لو۔ وہ بولا: اے اللہ کے نبی! آپ نے مجھے اشارہ ہی کر دیا ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی کو روانہیں کہ وہ اس طرح خفیہ اشارے کر ے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10921]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12557»
وضاحت: فوائد: … نذر ماننے والے نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو حکم دیں گے، جبکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے بغیر قتل کرنے سے ڈر رہا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي عُمْرَةِ الْجَعْرَانَةِ ثُمَّ رُجُوعِهِ ﷺ إِلَى الْمَدِينَةِ
عمرۂ جعرانہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا بیان
حدیث نمبر: 10922
عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلًا مِنَ الْجِعْرَانَةِ حِينَ أَمْسَى مُعْتَمِرًا فَدَخَلَ مَكَّةَ لَيْلًا فَقَضَى عُمْرَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ لَيْلَتِهِ فَأَصْبَحَ بِالْجِعْرَانَةِ كَبَائِتٍ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ حَتَّى جَامَعَ الطَّرِيقُ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ بِسَرِفَ قَالَ مُحَرِّشٌ فَلِذَلِكَ خَفِيَتْ عُمْرَتُهُ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ بَعْدَ قَوْلِهِ كَبَائِتٍ) فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ
سیدنا محرش کعبی خزاعی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عمرہ کے لیے روانہ ہوئے تو جعرانہ سے رات کے وقت چلے، آپ نے مکہ مکرمہ جا کر عمرہ ادا کیا اور راتوں رات واپس جعرانہ پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جعرانہ میں اس طرح صبح کی، جیسے وہاں ہی رات بسر کی ہو، حتیٰ کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ سے روانہ ہو کر سرف کے درمیان میں آئے تاآنکہ آپ مدینہ کے راستہ پر پہنچ گئے، محرش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی لیے بہت سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمرہ کی اطلاع نہیں ہو سکی، میں نے آپ کی پشت مبارک کو دیکھا، وہ یوں نظر آرہی تھی، جیسے چاندی کی پلیٹ ہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10922]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 5/ 200، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15604»
وضاحت: فوائد: … ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ میں ہی تھے کہ ذو القعدہ کا مہینہ شروع ہو گیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرے کا احرام باندھا اور راتوں رات عمرہ کر کے واپس تشریف لائے، اس کو عمرۂ جعرانہ کہا جاتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کو روانہ ہو گئے اور ذو القعدہ میں سے تینیا چھ دن باقی تھے کہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
25. بَابُ سَرِيَّةِ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدِ اللهُ إِلَى الْحُرَقَةِ
حرقہ کی طرف سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مہم
حدیث نمبر: 10923
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ فَصَبَّحْنَاهُمْ فَقَاتَلْنَاهُمْ فَكَانَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِذَا أَقْبَلَ الْقَوْمُ كَانَ مِنْ أَشَدِّهِمْ عَلَيْنَا وَإِذَا أَدْبَرُوا كَانَ حَامِيَتَهُمْ قَالَ فَغَشِيتُهُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَكَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ وَقَتَلْتُهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا مِنَ الْقَتْلِ فَكَرَّرَهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بنو جہینہ کے قبیلہ حرقہ کی طرف روانہ فرمایا، ہم صبح سویرے ان کے ہاں جا پہنچے اور ان سے قتال کیا، ان میں ایک آدمی ایسا تھا کہ جب وہ لوگ مقابلے کے لیے سامنے آتے تو وہ بے جگری سے لڑتا اور جب وہ لوگ کسی وقت پیٹھ دے کر بھاگتے تو وہ ان کی طرف سے دفاع کرتا، میں اور ایک انصاری اس پر غالب آگئے۔ جب ہم نے اسے قابو میں کر لیا تو اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہُ پڑھ لیا۔ انصاری رضی اللہ عنہ نے تو اسے قتل کرنے سے اپنے ہاتھ روک لیے، مگر میں نے اسے قتل کر ڈالا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اسامہ! کیااس کے کلمہ پڑھ لینے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے دلی طور پر کلمہ نہیں پڑھا تھا، وہ تو صرف جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا تھا، لیکن (میرا ردّ کرنے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات اس قدر تکرار سے فرمائی کہ میں نے یہ پسند کیا کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا، بلکہ آج مسلمان ہوا ہوتا (اور مجھ سے یہ خطا سرزد نہیں ہوئی ہوتییا قبولیت ِ اسلام کی وجہ سے یہ معاف ہو جاتی)۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10923]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4269، 6872، ومسلم: 96، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22088»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4269
حدیث نمبر: 10924
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ الْمَلَامِ وَالْقَتْلِ فَقَالَ أَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَمْ لَا مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَا زَالَ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ
۔(دوسری سند) سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو محض ملامت یا قتل سے بچنے کی خاطر یہ کلمہ پڑھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ اس نے اس وجہ سے کلمہ پڑھا یا کسی دوسری وجہ سے؟ قیامت کے دن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہُ کا سامنا کرنے کے لیے تمہارے ساتھ کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بات کو اس حد تک دہراتے رہے کہ میں نے پسند کیا کہ کاش میںآج ہی مسلمان ہوا ہوتا (اور مجھ سے یہ غلطی سرزد نہ ہوئی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملامت سے بچ جاتا)۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10924]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22145»
وضاحت: فوائد: … لَا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہُ کہنے والے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ ہمیں ظاہری حالات اور زبان سے ادا ہونے والے کلمات پر اعتماد کرنے کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے، رہا مسئلہ دل کا، کہ اس کے اندر ایمان ہے یا نفاق، تو اس پر مطلع ہونا ہمارے لیے ممکن ہی نہیں، صرف آپ کوبذریعہ وحی پتہ چل سکتاتھا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22145