الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ سَرِيَّةِ أَبِي عَامِرِ نِ الْأَشْعَرِى إِلَى أَوْطَاسِ لِإِدْرَاكِهِ مَنْ فَرَّ إِلَيْهَا مِنْ مُشْرِكِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ
غزوۂ حنین میں جو مشرکین اوطاس کی طرف فرار ہو گئے تھے، ان کو گرفتار کرنے کے لیے ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ کی مہم کا بیان
حدیث نمبر: 10910
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَكْثَرِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقُتِلَ عُبَيْدٌ يَوْمَ أَوْطَاسٍ وَقَتَلَ أَبُو مُوسَى قَاتِلَ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ قَاتِلِ عُبَيْدٍ وَبَيْنَ أَبِي مُوسَى فِي النَّارِ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو عامر عبید کو قیامت کے دن اکثر لوگوں پر مرتبہ کے لحاظ سے فوقیت عطا کرنا۔ یہ سیدنا عبید رضی اللہ عنہ او طاس کے دن شہید ہو گئے تھے اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبید کے قاتل (ابن درید) کو قتل کر دیاتھا،ابو وائل کہتے ہیں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ عبید رضی اللہ عنہ کے قاتل اور میرے والد کو جہنم میں جمع نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10910]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19929»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
21. بَابُ غَزْوَةِ الطَّائِفِ بِسَبَبٍ مَنْ لَجَأَ إِلَيْهَا وَتَحَصَّنَ بِهَا مِنْ مُشْرِكِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ
اس امر کا بیان کہ غزوۂ طائف ان مشرکین کی وجہ سے پیش آیا جو غزوۂ حنین سے جان بچا کر بھاگ گئے تھے
حدیث نمبر: 10911
عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِصْنَ الطَّائِفِ أَوْ قَصْرَ الطَّائِفِ فَقَالَ مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ لَهُ عِدْلُ مُحَرَّرٍ وَمَنْ أَصَابَهُ شَيْبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیدنا ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں طائف کے قلعہ یا محل کا محاصرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر چلایا، اسے جنت میں ایک درجہ ملے گا۔ چنانچہ میں نے اس دن سولہ تیر چلائے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: اور جس نے اللہ کی راہ میں دشمن کو تیر مارا، اسے ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنے کے برابر ثواب ہو گا اور جو آدمی اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو گیا تو بڑھاپے کییہ سفیدی قیامت کے دن اس کے لیے نور کا سبب ہو گی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10911]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مطولا ومختصرا ابوداود: 3965، والترمذي: 1638، والنسائي: 6/ 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19429 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19648»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 10912
عَنْ أَبِي طَرِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ وَكَانَ يُصَلِّي بِنَا صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا رَمَى لَرَأَى مَوْقِعَ نَبْلِهِ
سیدنا ابو طریف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں عصرکی نماز ایسے وقت پڑھاتے تھے کہ اگر کوئی آدمی اس نماز سے فارغ ہو کر تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھنا چاہتا تو (باآسانی) دیکھ سکتا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10912]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 22/ 795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15516»
وضاحت: فوائد: … درست اور راجح بات یہ ہے کہ یہ عصر کی نماز نہیں ہوتی تھی، بلکہ مغرب کی نماز ہوتی تھی۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 10913
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ فَأَعْتَقَهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا خَرَجُوا إِلَيْهِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ طائف کا محاصرہ کیا تو ان میں سے دو غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آملے، ان میں سے ایک کا نام ابو بکرہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو آزاد کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ یہی تھی کہ جب دشمن کی طرف سے کوئی غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آ ملتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو آزاد فرما دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10913]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 2564، والطبراني: 12079، والبيھقي: 9/ 229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2176 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2176»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی وجۂ کنیتیہ ہے کہ وہ قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر ایک چرخی کی مدد سے، جس کے ذریعے رہٹ سے پانی کھینچا جاتا ہے، لٹک کر نیچے آ گئے، جبکہ عربی میں چرخی کو بَکْرَۃ کہتے ہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی کنیت ابو بکرہ رکھ دی۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 10914
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْنَا مِنَ الْعَبِيدِ فَهُوَ حُرٌّ فَخَرَجَ عَبِيدٌ مِنَ الْعَبِيدِ فِيهِمْ أَبُو بَكْرَةَ فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف والے دن فرمایا: جو غلام ہمارے پاس آ جائیں گے، وہ آزاد ہوں گے۔ پھر سیدنا ابو بکرہ سمیت کچھ غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10914]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2229»
وضاحت: فوائد: … دیگر احادیث بھی موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کسی کافر کا غلام مسلمان ہو جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا، لیکن ذہن نشین رہے کہ اگر مالک اپنے غلام سے پہلے مسلمان ہو جائے اور پھر غلام مسلمان ہو تو غلام کو مالک کی طرف لوٹا دیا جائے گا، کیونکہ مالک نے قبولیت ِ اسلام کے ذریعے اپنا مال محفوظ کر لیا اور اس کا غلام بھی اس کا مال ہے۔ دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۲۰)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2229
حدیث نمبر: 10915
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَحْصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ وَلَمْ يُقَدِّرْ مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ قَالَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَكَأَنَّ الْمُسْلِمِينَ كَرِهُوا ذَلِكَ فَقَالَ اغْدُوا فَغَدَوْا عَلَى الْقِتَالِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اہلِ طائف کا محاصرہ کیا اور کامیابی نہیں ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ان شاء اللہ کل واپس روانہ ہو جائیں گے۔ یوں محسوس ہوا کہ گویا مسلمانوں نے اس فیصلہ کو پسند نہیں کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے صبح لڑائی کرنا۔ جب صبح ہوئی تو مسلمانوں نے لڑائی کی، جس کے نتیجہ میں کافی مسلمان زخمی ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ہم ان شاء اللہ کل واپس روانہ ہو جائیں گے۔ یہ سن کر مسلمان خوش ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کییہ کیفیت دیکھ کر ہنس دئیے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10915]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4325، ومسلم: 1878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4588»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4325
22. بَابُ تَقْسِيمِ غَنَائِمِ حُنَيْنِ بِالْجِعْرَانَةِ وَمَجِيءِ وَفْدِ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ وَاسْتِعْطَافِهِمْ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي أَخْذِ سَبَايَاهُمْ وَأَمْوَالِهِمْ
جعرانہ کے مقام پر حنین کی غنیمتوں کی تقسیم، بنو ہوازن کے وفد کی مسلمان ہو کر آمد اور ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے قیدیوں اور اموال کی واپسی کی درخواست کا بیان
حدیث نمبر: 10916
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعِرَّانَةِ قَالَ فَازْدَحَمُوا عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى قَوْمِهِ فَكَذَّبُوهُ وَشَجُّوهُ فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ وَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ جَبْهَتَهُ يَحْكِي الرَّجُلَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے اموالِ غنیمت جعرانہ کے مقام پر تقسیم کیے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگر جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہجوم کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا، جب قوم نے اس کی تکذیب کی اور اس کا سر زخمی، خون آلود کیا، تو وہ اپنی پیشانی سے خون صاف کرتا اور کہتا تھا، اے میرے رب! میری قوم کو معاف کر دے، وہ حقیقت سے واقف نہیں۔ ابو وائل کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس بندے کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پیشانی کو صاف کرنے کا اشارہ بھی کر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10916]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3477، 6929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4057»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بردباری، شفقت،صبر اور معافی جیسی صفات سے متصف تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3477
حدیث نمبر: 10917
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ فَمَا زَالَ يُعْطِينِي حَتَّى صَارَ وَإِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ بغض تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے دن مجھے مالِ غنیمت میں سے حصہ دیا اور مجھے برابر عنایت فرماتے رہے تاآنکہ وہ میری نظروں میں سب لوگوں سے زیادہ محبوب ٹھہرے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10917]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2313، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15378»
وضاحت: فوائد: … صفون بن امیہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین میں شریک ہوئے تھے، جبکہ وہ کافر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تالیف قلبی کے لیے ان کو بہت سارا مال و دولت عطا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد پورا ہو گیا اور یہ مسلمان ہو گئے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2313
حدیث نمبر: 10918
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْجِعْرَانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ فِضَّةً فِي ثَوْبِ بِلَالٍ لِلنَّاسِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ فَقَالَ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ لَقَدْ خِبْتُ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَقْتُلْ هَذَا الْمُنَافِقَ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ أَوْ تَرَاقِيهِمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جعرانہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چاندی ڈال کر لوگوں میں تقسیم فرما رہے تھے، تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! انصاف کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر بڑا افسوس ہے، اگر میں نے انصاف نہیں کیا تو اور کون کرے گا؟ اگر میں انصاف نہیں کیا تو پھر میں یقینا سر ا سر خسارے میں ہوں۔ اس آدمی کی بات سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کا کام تمام کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات سے اللہ کی پناہ، لوگ باتیں بنائیں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں۔ بے شک یہ اور اس کے دوسرے ساتھی (بظاہر) قرآن تو پڑھتے ہیں۔ لیکن وہ ان کے حلق سے یا سینے سے نیچے نہیں اترتا۔ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جاتے ہیں جیسے تیر شکار میں سے پار گزر جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10918]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1063، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14864»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1063
حدیث نمبر: 10919
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَجَاءَتْهُ وُفُودُ هَوَازِنَ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ فَمُنَّ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ فَإِنَّهُ قَدْ نَزَلَ بِنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ فَقَالَ اخْتَارُوا بَيْنَ نِسَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَأَبْنَائِكُمْ قَالُوا خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا نَخْتَارُ أَبْنَاءَنَا فَقَالَ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ فَإِذَا صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَقُولُوا إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَبِالْمُؤْمِنِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نِسَائِنَا وَأَبْنَائِنَا قَالَ فَفَعَلُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي فَزَارَةَ فَلَا وَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا فَقَالَتِ الْحَيَّانِ كَذَبْتَ بَلْ هُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ تَمَسَّكَ بِشَيْءٍ مِنَ الْفَيْءِ فَلَهُ عَلَيْنَا سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَيْنَا ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَتَعَلَّقَ بِهِ النَّاسُ يَقُولُونَ اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْئَنَا بَيْنَنَا حَتَّى أَلْجَأُوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ لَكُمْ بِعَدَدِ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمٌ لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذُوبًا ثُمَّ دَنَا مِنْ بَعِيرِهِ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ فَجَعَلَهَا بَيْنَ أَصَابِعِهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ثُمَّ رَفَعَهَا فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ وَلَا هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَرُدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَارًا وَنَارًا وَشَنَارًا فَقَامَ رَجُلٌ مَعَهُ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَذْتُ هَذِهِ أُصْلِحُ بِهَا بَرْدَعَةَ بَعِيرٍ لِي دَبِرَ قَالَ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا إِذْ بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلَا أَرَبَ لِي بِهَا وَنَبَذَهَا
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ حنین کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، کہ بنو ہوازن کے وفود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ انہوں نے عرض کیا: اے محمد! ہم آپ ہی کا خون اور قبیلہ ہیں، آپ ہم پر احسان کریں، اللہ آپ پر احسان کرے گا۔ بے شک ہم پر ایک ایسی آزمائش آن پڑی ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخفی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی عورتوں، اموال اور بیٹوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو۔ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنے حسب ونسب اور اموال کے بارے میں اختیار دیا ہے تو ہم اپنے بیٹوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں جوکچھ آتا ہے، وہ تمہیں واپس کرتا ہوں، جب میں ظہر کی نماز ادا کر لوں تو تم کہنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مومنین کے سامنے اور مومنین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش کرتے ہوئے اپنی عورتوں اور اولادوں کے بارے میں درخواست گزار ہیں۔ انھوں نے ایسے ہی کیا اور جب انھوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں آتا ہے، میں وہ تمہیں واپس کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن کر مہاجرین نے کہا: جو کچھ ہمارے حصہ میں آتا ہے، ہم وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیتے ہیں۔ انصار رضی اللہ عنہ نے بھی ایسے ہی کہا، عیینہ بن بدر بولا کہ جو میرا اور بنو فزارہ کا حصہ ہے ہم تو وہ نہیں دیں گے۔ اقرع بن حابس نے بھی کہا کہ میں اور بنو تمیم بھی اپنے حصے واپس نہیں کریں گے۔ عباس بن مرداس نے کہا کہ میں اور بنو سلیم بھی اپنے حصے واپس نہیں کرتے۔ اس پر دونوں قبائل نے کہا تم نے غلط کہا: بلکہ ہمارے حصے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو!تم ان کی عورتیں اور بیٹے انہیں لوٹا دو، جو آدمی مالِ فے میں سے کچھ رکھنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں سب سے پہلے جو مالِ فے دے گا، ہم اسے اس میں سے چھ چھ حصے دیں گے، اس کے بعد آپ اپنے اونٹ پر سوار ہو گئے اور لوگ آپ کو چمٹ گئے، وہ کہہ رہے تھے کہ آپ مال فے ہمارے درمیان تقسیم کریں۔ انہوں نے آپ کو کیکریا ببول کی طرف جانے پر مجبور کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اچک لی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میری چادر تو واپس کرو۔ اللہ کی قسم! اگر تہامہ کے درختوں کے برابر بھی اونٹ ہوں تو میں ان کو تمہارے درمیان بانٹ دوں گا اور تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہیں پاؤ گے۔ پھر آپ نے اپنے اونٹ کے قریب ہو کر اس کے کوہاں کے چند بال پکڑ کر اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے درمیان پکڑ کر انگلی کو اوپر کی طرف اُٹھا کر فرمایا: لوگو! اس مال فے میں سے اتنی سی چیز بھی میری نہیں، سوائے خمس کے، اور وہ بھی تم میں تقسیم کر دیا جاتا ہے، تم دھاگہ اور سوئی تک یعنی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی واپس کرو۔ بے شک مال غنیمتیا مالِ فے کی تقسیم سے پہلے کوئی چیز لینا اس آدمی کے لیے قیامت کے دن عار، نار اور عیب کا سبب ہو گا، ایک آدمی جس کے پاس بالوں کا ایک گچھا تھا، وہ اٹھا اور اس نے کہا: میں نے اپنے اونٹ کی پشت پر آئے ہوئے زخم کے اوپر رکھے جانے والے کپڑے کی مرمت کے لیےیہ گچھا لے لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس گچھے میں جو میرا اور بنو عبدالمطلب کا حصہ ہے، میں تمہیں وہ معاف کرتا ہوں۔ وہ کہنے لگا: یارسول اللہ! جب بات اس حد تک جا پہنچی ہے، جو میں دیکھ رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، یہ کہہ کر اس نے وہ گچھا پھینک دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10919]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه النسائي: 6/ 262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6729»
وضاحت: فوائد: … انہوں نے عرض کیا: اے محمد! ہم آپ ہی کا خون اور قبیلہ ہیں۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو سعد بن بکر بن ہوازن میں دودھ پیا تھا، دودھ پلانے والی حلیمہ سعدیہ تھیں۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن