🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَحْرِيمِ غَزْوِ مَكَّةَ بَعْدَ عَامِ الْفَتْحِ رَخُطْبَتِهِ ﷺ فِي ذَلِكَ
فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10890
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ يَقُولُ قَوْلًا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ {إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضُدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ فِيهَا فَقُولُوا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ} فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو قَالَ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِجِزْيَةٍ وَكَذَلِكَ قَالَ حَجَّاجٌ بِجِزْيَةٍ وَقَالَ يَعْقُوبُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَلَا مَانِعَ جِزْيَةٍ
حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (انھوں نے یزید کی طرف سے مقرر کردہ والی ٔ مدینہ عمرو بن سعید بن عاص سے کہا، جبکہ عمرو بن سعید، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے مکہ کہ طرف لشکر بھیج رہا تھا،) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ایک بات ارشاد فرمائی، میرے کانوں نے اسے سنا، میرے دل نے اسے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: بیشک مکہ کو لوگوں نے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے حرمت والا قرار دیا، اب کسی ایسے شخص کے لیے حلال نہیں، جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، کہ وہ یہاں خون بہائے یا درخت کاٹے۔ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتال (کو دلیل بنا کر اپنے لیے) رخصت نکالنا چاہے تو اسے کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ میں (قتال کی) اجازت دی اور تمھیں نہیں دی اور مجھے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے (لڑائی کرنے کی) اجازت ملی ہے، اس کے بعد اس کی حرمت اسی طرح ہو گئی جس طرح کل تھی۔ موجودہ لوگ (یہ احکام) غائب لوگوں تک پہنچا دیں۔ ابو شریح سے دریافت کیا گیا کہ پھر عمرو بن سعید نے آپ کو کیا جواب دیا؟ انہوں نے بتلایا کہ اس نے کہا ابو شریح! میں ان باتوں کو تم سے بہتر جانتا ہوں، بے شک حرم کسی نافرمان کو اور قتل کر کے فرار ہونے والے کو اور جزیہ کی ادائیگی سے بچنے کی خاطر فرار ہونے والوں کو اور جزیہ ادا نہ کرنے والوں کو پناہ نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10890]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 104، 1832، 4295، ومسلم: 1354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27706»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے آخر میں عمرو بن سعید، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وہ نافرمان ہے، وغیرہ وغیرہ، لیکن عمرو بن سعید کا یہ نظریہ درست نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 104
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ أَهْلِ مَكَّةَ رِجَالًا وَنِسَاءً وَاسْتِحَضَارِ أَوْلَادِهِمْ لِيَمْسَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ
مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10891
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَمْسَحُ عَلَى رُءُوسِهِمْ وَيَدْعُو لَهُمْ فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَإِنِّي مُطَيَّبٌ بِالْخَلُوقِ وَلَمْ يَمْسَحْ عَلَى رَأْسِي وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّ أُمِّي خَلَّقَتْنِي بِالْخَلُوقِ فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ
سیدنا ولید بن عقبہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو اہلِ مکہ اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لانے لگے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سروں پر بابرکت ہاتھ پھیر دیں اور ان کے حق میں دعا کر دیں۔ مجھے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، چونکہ مجھے خلوق خوشبو لگی ہوئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ نہیں! بخاری اور مسلم میں اس جگہ یہ الفاظ ہیں وَلَا فَارًّا بِجِزْیَۃٍ اور نہ ہی فساد کرکے بھاگنے والے کو (حرم پناہ دیتا ہے)۔ (عبداللہ رفیق)
پھیرا، میری والدہ نے مجھے یہ خوشبو لگا دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وجہ سے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10891]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله الھمداني، أخرجه ابوداود: 4181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16492»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عبد الله الھمداني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10892
أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَالَ جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَسْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قَالَ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَنَّهُ بَايَعَهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُولُونَ
عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے مروی ہے کہ ان کو محمد بن اسود بن خلف نے بیان کیا کہ ان کے والد اور اسود رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں سے بیعت لیتے دیکھا۔ آپ قرن مسقلہ نامی جگہ پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے لوگوں سے اسلام اور شہادت کی بیعت لی، عبداللہ بن عثمان کہتے ہیں میں نے ان سے دریافت کیا کہ شہادت سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے اللہ پر ایمان لانے اور اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبدیت اور رسالت کی گواہی کی بیعت لی۔ پس میں بھی اسی طرح کہتا تھا جیسے وہ کہتی تھیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10892]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه عبد الرزاق: 9820، 19222، والطبراني في المعجم الكبير: 815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15431 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15509»

الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10893
عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُجَالِدُ بْنُ مَسْعُودٍ يُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ {لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ وَلَكِنْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ}
سیدنا مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ مجالد بن مسعود آپ سے ہجرت کی بیعت کرنا چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے، البتہ میں اس سے اسلام کی بیعت لے لیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10893]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3078، 3079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20960»
وضاحت: فوائد: … جب تک کفر ہے، اس وقت تک ہجرت کا حکم بھی برقرار ہے، اس حدیث میں جس ہجرت کی نفی کی گئی ہے، اس سے مراد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا ہے، کیونکہ اب مکہ مکرمہ دار الاسلام اور دار الامن بن چکا ہے۔
اس قسم کی احادیث کا معنییہ ہے کہ جس شہر کو مسلمان فتح کر چکے ہوں، اس سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3078
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10894
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ تُبَايِعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ عَلَيْهَا {أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ} [الممتحنة: 12] قَالَتْ فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رَأْسِهَا حَيَاءً فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى مِنْهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَقِرِّي أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ فَوَاللَّهِ مَا بَايَعَنَا إِلَّا عَلَى هَذَا قَالَتْ فَنَعَمْ إِذًا فَبَايَعَهَا بِالْآيَةِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے (سورۂ ممتحنہ والی آیت) {أَنْ لَا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِینَ} کے مطابق بیعت لی، تو انہوں نے شرم وحیاء کی بنا پر اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی یہ کیفیت خوب پسند کی، اُدھر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ارے عورت! تم ان باتوں کا کھل کر اقرار کرو، اللہ کی قسم! ہم نے بھی انہی باتوں کی بیعت کی ہے، وہ بولیں اچھا ٹھیک ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی روشنی میں اس سے بیعت کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10894]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح أخرجه ابن حبان: 4554، والبزار: 70، وعبد الرزاق: 9827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25690»
وضاحت: فوائد: … یہ خاتون آیت کے الفاظ {وَلَا یَزْنِینَ} … (وہ زنا نہیں کریں گی) سے شرما گئی۔
سورۂ ممتحنہ والی درج ذیل آیت مراد ہے:
{ ٰٓیاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیںکریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح أخرجه ابن حبان: 4554
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10895
عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا مَعَ أُمِّي رَائِطَةَ بِنْتِ سُفْيَانَ الْخُزَاعِيَّةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النِّسْوَةَ وَيَقُولُ {أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقْنَ وَلَا تَزْنِينَ وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: 12] قَالَتْ فَأَطْرَقْنَ فَقَالَ لَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ «قُلْنَ نَعَمْ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ» فَكُنَّ يَقُلْنَ وَأَقُولُ مَعَهُنَّ وَأُمِّي تُلَقِّنُنِي قُولِي أَيْ بُنَيَّةُ فِيمَا اسْتَطَعْتُ
سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی والدہ سیدہ رائطہ بنت سفیان خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین سے بیعت لے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرما رہے تھے: میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری نہیں کرو گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی، بہتان تراشی نہیں کرو گی اور نیکی میں نافرمانی نہیں کرو گی۔ عورتوں نے یہ باتیں سن کر سر جھکا لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کہہ دو کہ ٹھیک ہے، تمہارییہ بیعت صرف اس حد تک ہے کہ جس کی تم کو استطاعت ہو۔ پس انھوں نے جی ہاں کہنا شروع کر دیا اور میں بھی ان کے ساتھ کہہ رہی تھی، پھر میری والدہ نے مجھے تلقین کی اور کہا: میری پیاری بیٹی! یہ بھی کہو کہ جتنی میری طاقت ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10895]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 24/ 857، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27062 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27602»
وضاحت: فوائد: … چونکہ غیر محرم خاتون کو ہاتھ لگانا حرام ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین سے بیعت لیتے وقت خواتین کے ہاتھ پرہاتھ نہیں رکھتے تھے، بلکہ زبانی کلامی بیعت لیتے تھے۔
جب صحابیات آیت میںمذکورہ امور پر علی الاطلاق پابند رہنے کا دعوی کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو لقمہ دیتے کہ طاقت اور استطاعت کے مطابق اقرار کرنا چاہیے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَدِيمَةَ
سریہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بمقابلہ بنو جزیمہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10896
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي أَحْسِبُهُ قَالَ جَذِيمَةَ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ أَسْرًا وَقَتْلًا قَالَ وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمًا أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ قَالَ فَقَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ صَنِيعَ خَالِدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ {اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ} مَرَّتَيْنِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو جزیمہ کی طرف روانہ کیا، انہوں نے جا کر انہیں اسلام کی دعوت پیش کی، وہ اچھی طرح اَسْلَمْنَا (ہم مسلمان ہیں) نہ کہہ سکے، اس کی بجائے انہوں نے صَبَأْنَا صَبَأْنَا (ہم صابی ہو گئے، صابی ہو گئے) کہا۔ ان کییہ بات سن کر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان میں سے بعض کو قتل اور بعض کو قیدی بنانا شروع کیا اور انہوں نے ایک ایک قیدی کو ہمارے حوالے کیایہاں تک کہ ایک دن صبح ہوئی تو انھوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے ہر آدمی اپنے اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! میں تو اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ ہی میرے ساتھیوں میں سے کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ پھر جب صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو انہوں نے خالد رضی اللہ عنہ کی بات کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا،یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کو اُٹھا کر دو دفعہ فرمایا: یا اللہ! خالد نے جو کچھ کیا ہے، میں اس سے برائت اور لا تعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10896]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4339، 7189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6382 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6382»
وضاحت: فوائد: … صَبَأْنَا کا معنی ایک دین سے نکل کر دوسرے دین میں داخل ہونا ہے، عرب لوگ نبی کریم کو صابی کہتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے دن کو چھوڑ کر دین اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔
اس لیے ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی موافقت کرنے کے لیے صَبَأْنَا صَبَأْنَا (ہم صابی ہو گئے، صابی ہو گئے) کہا، ان کی مراد یہ تھی کہ جو دین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اختیار کیا، ہم بھی وہی اختیار کرتے ہیں، لیکن اس کے لیے وہ صحیح الفاظ استعمال نہ کر سکے، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ یہ اسلام کی تنقیص کر رہے ہیں اور وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ ارشاد فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے خطا ہو گئی تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4339
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي غَزْوَةِ حُنين وتاريخها وسببها وَغَيْرِ ذلِكَ
غزوۂ حنین کے وقوع کی تاریخ اور سبب وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10897
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ لَبِسْتُ لَأْمَتِي وَرَكِبْتُ فَرَسِي فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي فُسْطَاطِهِ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَانَ الرَّوَاحُ فَقَالَ {أَجَلْ} فَقَالَ {يَا بِلَالُ} فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ فَقَالَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَأَنَا فِدَاؤُكَ فَقَالَ {أَسْرِجْ لِي فَرَسِي} فَأَخْرَجَ سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ لَيْسَ فِيهِمَا أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ قَالَ فَأَسْرَجَ قَالَ فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا فَصَافَفْنَاهُمْ عَشِيَّتَنَا وَلَيْلَتَنَا فَتَشَامَتِ الْخَيْلَانِ فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {يَا عِبَادَ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ} ثُمَّ قَالَ {يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ} قَالَ ثُمَّ اقْتَحَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسِهِ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَأَخْبَرَنِي الَّذِي كَانَ أَدْنَى إِلَيْهِ مِنِّي ضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ وَقَالَ {شَاهَتِ الْوُجُوهُ} فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ فَحَدَّثَنِي أَبْنَاؤُهُمْ عَنْ آبَائِهِمْ أَنَّهُمْ قَالُوا لَمْ يَبْقَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا امْتَلَأَتْ عَيْنَاهُ وَفَمُهُ تُرَابًا وَسَمِعْنَا صَلْصَلَةً بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَإِمْرَارِ الْحَدِيدِ عَلَى الطَّسْتِ الْحَدِيدِ
سیدنا ابو عبدالرحمن فہری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم شدید گرمی والے ایک دن میں چلتے رہے، ہم نے درختوں کے سائے کے نیچے قیام کیا، جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنے ہتھیار سجا لیے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف روانہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خیمہ میں تھے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت ہو، روانگی کا وقت ہو چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو آواز دی، وہ ایک کیکریا ببول کے نیچے سے جلدی سے اُٹھ کر آئے، اس کا سایہ پرندے کے سائے کی طرح تھا، انہوں نے کہا: میں آپ پر قربان جاؤں، میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے گھوڑے پر زین کسو۔ انہوں نے زین نکالی، جس کے دونوں پہلو کھجور کی جالی دار جھلی کے تھے، جن میں فخروغرور کا کوئی عنصر نہ تھا، پس انہوں نے زین کس دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے پر سوار ہو گئے اور ہم بھی اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہو گئے، جب ہم دن کے پچھلے پہر اور ساری رات دشمن کے بالمقابل صف آراء رہے۔ دونوں گروہوں کی انتہائی کوشش تھی کہ وہ اپنے فریق مخالف پر غالب رہے، مسلمان پیٹھ دے کر ہٹ آئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا قرآن کریممیں تذکرہ کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اے مہاجرین کی جماعت! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھوڑے سے اتر آئے اور جو آدمی میری نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب تر تھا، اس نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹھی بھر مٹی لے کر ان کے چہروں کی طرف پھینکی اور فرمایا: یہ چہرے رسوا اور ذلیل ہو گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو ہزیمت دی۔ یحییٰ بن عطاء نے حماد بن سلمہ کو بیان کیا کہ کفار کی اولاد نے اپنے آباء سے روایت کیا کہ انہوں نے بتایا کہ ہم میں سے ہر ایک کی آنکھیں اور منہ مٹی سے بھر گئے اور ہم نے آسمان اور زمین کے درمیان ایسی آواز سنی، جیسے لوہے کے تھال پر لوہا گھسیٹنے سے پیدا ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10897]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 529، والدارمي: 2452، والطبراني: 22/ 741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22834»
وضاحت: فوائد: … غزوہ کی ابتدا میں مسلمانوں کی شکست کی دو وجوہات ہیں
۱۔ لشکر ِ اسلام کو چھپے ہوئے دشمن کا علم نہ تھا، ابھی وہ اتر ہی رہا تھا کہ اچانک دشمن نے ٹڈی دل کی طرح تیروں کی بارش کر دی، پھر وہ فرد واحد کی طرف ٹوٹ پڑا، اس اچانک حملے سے ہراول دستے میں اضطراب پھیل گیا اور اس میں موجود مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔
۲۔ ایک مسلمان نے کہا تھا کہ اس غزوہ میں ہم قلت کی وجہ سے شکست نہیں کھائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْــــًـا وَّضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ۔} … بلاشبہ یقینا اللہ نے بہت سی جگہوں میں تمھاری مدد فرمائی اور حنین کے دن بھی، جب تمھاری کثرت نے تمھیں خود پسند بنا دیا، پھر وہ تمھارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین تنگ ہوگئی، باوجود اس کے کہ وہ فراخ تھی، پھر تم پیٹھ پھیرتے ہوئے لوٹ گئے۔ (سورۂ توبہ: ۲۵)
گویا معاملہ ایسا نہیں ہے، اسلامی لشکر کی بنیاد اللہ تعالیٰ پر توکل ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10898
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَزِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ قَالَ الْعَبَّاسُ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا وَهُوَ لَا يَأْلُو مَا أَسْرَعَ نَحْوَ الْمُشْرِكِينَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِغَرْزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {يَا عَبَّاسُ نَادِ يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ} قَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ وَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ فَاقْتَتَلُوا هُمْ وَالْكُفَّارُ فَنَادَتِ الْأَنْصَارُ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ قَصَّرَتِ الدَّاعُونَ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَادَوْا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ} قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ {انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ} قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ حنین میں شریک تھا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ صرف میں اور سیدنا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہ گئے تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہیں ہوئے، آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، یہ خچر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فروہ بن نعامہ جزامی نے بطور ہدیہ بھیجا تھا، جب مسلمانوں اور کفار کا مقابلہ ہوا تو مسلمان پیٹھ دے کر بھاگ اُٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر کو ایڑ لگا کر کفار کی طرف بڑھنے لگنے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی باگ کو پکڑے ہوئے تھا، اسے ذرا روکنے کی کوشش کرتا لیکن آپ کو شش کرکے تیزی سے مشرکین کی طرف بڑھتے رہے۔ ابو سفیان بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رکاب کو تھامے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عباس! اصحاب سمرہ کو آواز دو۔ (یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کیکریا ببول کے درخت کے نیچے بیعت کی تھی)، وہ بلند آواز والے آدمی تھے، انھوں نے کہا: اصحاب سمرہ کہاں ہیں؟ اللہ کی قسم ان لوگوں نے میری آواز سنی تو فوراً اس طرح واپس آئے، جیسے گائے اپنے بچے کی طرف دوڑ کر آتی ہے اور انہوں نے آتے ہی کہا: جی ہم حاضر ہیں، جی ہم حاضر ہیں، باقی مسلمان بھی لوٹ آئے، ان کے اور کفار کے درمیان لڑائی ہوئی۔ انصار نے ایک دوسرے کو بلایا: اے انصار کی جماعت! پھر بلانے والوں نے اپنے جدااعلیٰ کے نام سے پکارنے پر اکتفا کیا اور کہا: اے حارث بن خزرج کی اولاد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خچر کے اوپر سے نظر لمبی کر کے میدانِ قتال کی طرف دیکھا اور فرمایا: اب میدان گرم ہوا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند کنکریاں لے کر ان کو کفار کے چہروں پر پھینکا اور فرمایا: رب کعبہ کی قسم! رب کعبہ کی قسم! وہ شکست خوردہ ہو کر فرار ہو گئے۔ میں نے دیکھا تو مجھے یوں لگا جیسے لڑائی اسی طرح جا ری ہے، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کنکریاں پھینکنے کی دیر تھی کہ میں نے ان کی دھار کو کند دیکھا،یعنی ان کے حوصلے پست ہو گئے اور ان کی حالت کمزور ہو گئی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست سے دو چار کر دیا، گویایہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پیچھے اپنے خچر کو ایڑ لگا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10898]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1775، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1775»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1775
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10899
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ عَبَّاسٌ وَأَبُو سُفْيَانَ مَعَهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَطَبَهُمْ وَقَالَ ”الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ“ وَقَالَ ”نَادِ يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ“
۔(دوسری سند) کثیر بن عباس سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تنور یعنی میدان گرم ہوا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں آواز دو: اے سورۂ بقرہ والو! [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10899]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1776»
وضاحت: فوائد: … میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے والوں کو بلانے کے لیے سورۂ بقرہ کا ذکر کرنا، اس سے سورۂ بقرہ کی درج ذیل تین آیات میں سے کسی آیت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے:
(۱) … {فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَہَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْہُ فَاِنَّہ مِنِّیْٓ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃً بِیَدِہٖ فَشَرِبُوْا مِنْہُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ فَلَمَّا جَاوَزَہ ھُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ قَالُوْا لَا طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖقَالَالَّذِیْنَیَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوااللّٰہِ کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ۔} … پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر جدا ہوا تو کہا بے شک اللہ ایک نہر کے ساتھ تمھاری آزمائش کرنے والا ہے، پس جس نے اس میں سے پیا تو وہ مجھ سے نہیں اور جس نے اسے نہ چکھا تو بے شک وہ مجھ سے ہے، مگر جو اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر پانی لے لے۔ تو ان میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا سب نے اس سے پی لیا۔ تو جب وہ اور اس کے ساتھ وہ لوگ نہر سے پار ہوگئے جو ایمان لائے تھے، تو انھوں نے کہا آج ہمارے پاس جالوت اور اس کے لشکروں سے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ یقینا وہ اللہ سے ملنے والے ہیں انھوں نے کہا کتنی ہی تھوڑی جماعتیں زیادہ جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۴۹)
(۲) … {یٰبَنِیْٓ اِسْرَاء ِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَہْدِیْٓ اُوْفِ بِعَہْدِکُمْ وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ۔} … اے بنی اسرائیل!میری نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور تم میرا عہد پورا کرو، میں تمھارا عہد پورا کروں گا اور صرف مجھی سے پس ڈرو۔ (سورۂ بقرہ: ۴۰)
(۳) … {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْـتِغَاء َ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَء ُوْفٌ بِالْعِبَادِ۔} … اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو اللہ کی رضا مندی تلاش کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ بندوں پر بے حد نرمی کرنے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۰۷)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1776
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں