الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي غَزْوَةِ حُنين وتاريخها وسببها وَغَيْرِ ذلِكَ
غزوۂ حنین کے وقوع کی تاریخ اور سبب وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 10900
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ فَوَلَّى عَنْهُ النَّاسُ وَثَبَتَ مَعَهُ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَنَكَصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا وَلَمْ نُوَلِّهِمُ الدُّبُرَ وَهُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةَ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ يَمْضِي قُدُمًا فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ فَمَالَ عَنِ السَّرْجِ فَقُلْتُ لَهُ ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللَّهُ فَقَالَ"نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ“ فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا ثُمَّ قَالَ"أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ؟“ قُلْتُ هُمْ أُولَاءِ قَالَ"اهْتِفْ بِهِمْ“ فَهَتَفْتُ بِهِمْ فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ حنین کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، لوگ پیٹھ دے کر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میدان میں چھوڑ کر فرار ہو نے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف اسی مہاجرین اور انصار باقی رہ گئے تھے، ہم اپنے قدموں پر تقریباً اسی قدم پیچھے ہٹے تھے اور ہم نے کفار کو پیٹھ نہیں دکھائی تھی، انہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے سکینت نازل کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار ہو کر آگے بڑھتے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خچر بدکا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی کاٹھی سے ذرا اُچھکے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ سیدھے ہو جائیں، اللہ آپ کو مزید بلند کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک مٹھی بھر مٹی پکڑاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مٹی کفار کے چہروں کی طرف پھینکی، ان کی آنکھیں مٹی سے بھر گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین اور انصار کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ لوگ ادھر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو آواز دے کر بلاؤ۔ میں نے ان کو آواز دے کر بلایا، وہ سب آگئے، ان کی تلواریں ان کے ہاتھوں میں تھیں۔ یوں لگتا تھا کہ وہ آگ کے شعلے ہیں، اس کے بعد مشرکین پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10900]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن والد القاسم يترجح عدم سماعه ھذا الخبر من ابيه، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 10351، والحاكم: 2/ 117، والبزار: 1829، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4336»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 10901
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَتَحْنَا مَكَّةَ ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ أَوْ رَأَيْتَ فَصُفَّتِ الْخَيْلُ ثُمَّ صُفَّتِ الْمُقَاتَلَةُ ثُمَّ صُفَّتِ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ثُمَّ صُفَّتِ الْغَنَمُ ثُمَّ صُفَّتِ النَّعَمُ قَالَ وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ فَجَعَلَتْ خُيُولُنَا تَلُوذُ خَلْفَ ظُهُورِنَا قَالَ فَلَمْ نَلْبَثْ أَنِ انْكَشَفَتْ خُيُولُنَا وَفَرَّتِ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ قَالَ فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ثُمَّ قَالَ يَا لَلْأَنْصَارِ يَا لَلْأَنْصَارِ قَالَ أَنَسٌ هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ قَالَ قُلْنَا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَيْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ قَالَ فَنَزَلْنَا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ وَيُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ قَالَ فَتَحَدَّثَ الْأَنْصَارُ بَيْنَهَا أَمَّا مَنْ قَاتَلَهُ فَيُعْطِيهِ وَأَمَّا مَنْ لَمْ يُقَاتِلْهُ فَلَا يُعْطِيهِ قَالَ فَرُفِعَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَمَرَ بِسَرَاةِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا أَنْصَارِيٌّ أَوِ الْأَنْصَارُ قَالَ فَدَخَلْنَا الْقُبَّةَ حَتَّى مَلَأْنَا الْقُبَّةَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَوْ كَمَا قَالَ مَا حَدِيثٌ أَتَانِي قَالُوا مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا حَدِيثٌ أَتَانِي قَالُوا مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَدْخُلُوا بُيُوتَكُمْ قَالُوا رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَخَذَ النَّاسُ شِعْبًا وَأَخَذَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا قَالَ فَارْضَوْا أَوْ كَمَا قَالَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مکہ مکرمہ کو فتح کر لیا، پھر ہم نے حنین پر چڑھائی کی، اس موقع پر مشرکین اس قدر عمدہ صف بندی کر کے آئے کہ میں نے اور تم نے اس سے بہتر صف بندی نہیں دیکھی ہو گی۔ سب سے پہلے گھوڑوں کی قطار بنائی گئی، پھر پیدل جنگ جو لوگوں کی قطار تھی، ان کے پیچھے عورتوں کی قطار تھی، ان کے پیچھے بکریوں کی اور ان سے پیچھے اونٹوں کی، ہماری بھی بہت تعداد تھی، ہم چھ ہزار کی تعداد کو پہنچ رہے تھے اور ہمارے گھڑ سواروں کے جو دستے لشکر کے دونوں پہلوؤں میں تھے، ان کے سربراہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، ہمارے گھوڑے ہماری سواریوں اونٹوں کی پناہ ڈھونڈنے لگے، تھوڑی دیر گزری تھی کہ ہمارے گھوڑے بھاگ اُٹھے اور دیہاتی لوگ اور جن لوگوں کو ہم پہنچانتے تھے، وہ سب فرار ہونے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آوازیں دیں: او مہاجرو! او مہاجرو! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو آواز دی اور فرمایا: او انصاریو! او انصاریو! سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جو مجھے میرے چچا نے بیان کی ہیں، (اور قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جو مجھے بہت سے لوگوں نے بیان کی ہے۔) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پکار پر ہم سب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!ہم حاضر ہیں، تب اللہ کے رسول آگے بڑھے، اللہ کی قسم! ہمارے ان کے پاس پہنچتے ہی اللہ تعالیٰ نے ان دشمنوں کو شکست سے دو چار کر دیا۔ ہم نے وہ سارا مال اپنے قبضے میں لے لیا، پھر ہم طائف کی طرف چل دئیے، ہم نے چالیس دن تک ان کا محاصرہ کئے رکھا، اس کے بعد ہم مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹ آئے، ہم یہاں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک آدمی کو سو سو (اونٹ) دینا شروع کیے، انصار آپس میں کچھ ایسی باتیں کرنے لگے کہ جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑائیاں کیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ہی کو دے رہے ہیں اور جن لوگوں نے آپ سے کبھی لڑائی نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو نہیں دے! حَدِیثُ عِمِّیَّۃٍ کے حوالے سے مختلف وجوہات کے لیے شرح النووی ملاحظہ فرمائیں۔ (عبداللہ رفیق)
رہے۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جا پہنچی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے سرکردہ لوگوں کو اپنے پاس بلوا کر فرمایا: انصار کے سوا کوئی دوسرا آدمی میرے پاس نہ آئے۔ ہم خیمہ کے اندر چلے گئے، خیمہ بھر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! یہ مجھ تک کیا بات پہنچی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تک کون سی بات پہنچی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ اموال لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھروں میں ساتھ لے کر جاؤ؟ وہ سب کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم راضی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اسی پر راضی رہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10901]
رہے۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جا پہنچی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے سرکردہ لوگوں کو اپنے پاس بلوا کر فرمایا: انصار کے سوا کوئی دوسرا آدمی میرے پاس نہ آئے۔ ہم خیمہ کے اندر چلے گئے، خیمہ بھر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! یہ مجھ تک کیا بات پہنچی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تک کون سی بات پہنچی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ اموال لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھروں میں ساتھ لے کر جاؤ؟ وہ سب کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم راضی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اسی پر راضی رہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10901]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12635»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1059
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَكَائِدِ الْحَرْبِ وَسَبَبٍ إِنْهِزَامِ الْمُسْلِمِينَ أَولا وَتُبُوتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَكَابِرِ أَصْحَابِهِ وَآلِ بَيْته
لڑائی کی تدبیروں، ابتدائی طور پر مسلمانوں کی شکست کے سبب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اکابر صحابہ اور آلِ بیت کی ثابت قدمی کا بیان
حدیث نمبر: 10902
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا اسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ قَالَ انْحَدَرْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ أَجْوَفَ حَطُوطٍ إِنَّمَا نَنْحَدِرُ فِيهِ انْحِدَارًا قَالَ وَفِي عِمَايَةِ الصُّبْحِ وَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ كَمَنُوا لَنَا فِي شِعَابِهِ وَفِي أَجْنَابِهِ وَمَضَايِقِهِ قَدْ أَجْمَعُوا وَتَهَيَّأُوا وَأَعَدُّوا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا رَاعَنَا وَنَحْنُ مُنْحَطُّونَ إِلَّا الْكَتَائِبُ قَدْ شَدَّتْ عَلَيْنَا شَدَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ وَانْهَزَمَ النَّاسُ رَاجِعِينَ فَاسْتَمَرُّوا لَا يَلْوِي أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى أَحَدٍ وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ الْيَمِينِ ثُمَّ قَالَ إِلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَيَّ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَلَا شَيْءَ احْتَمَلَتِ الْإِبِلُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَانْطَلَقَ النَّاسُ إِلَّا أَنَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ غَيْرَ كَثِيرٍ وَفِيمَنْ ثَبَتَ مَعَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَابْنُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ وَرَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَأَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ أَيْمَنَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ وَرَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ فِي يَدِهِ رَايَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فِي رَأْسِ رُمْحٍ طَوِيلٍ لَهُ أَمَامَ النَّاسِ وَهَوَازِنُ خَلْفَهُ فَإِذَا أَدْرَكَ طَعَنَ بِرُمْحِهِ وَإِذَا فَاتَهُ النَّاسُ رَفَعَهُ لِمَنْ وَرَاءَهُ فَاتَّبَعُوهُ
عبدالرحمن بن جابر سے مروی ہے، وہ اپنے والد سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب ہم وادیٔ حنین کے سامنے پہنچے تو ہمارا گزر تہامہ کی ایک ایسی وادی سے ہوا، جو کافی وسیع اور چوڑی تھی اور بلندی سے پستی کی طرف مائل تھی،ہم اس میں اوپر سے نیچے کی طرف اترے جا رہے تھے، صبح کے جھٹ پٹے کا وقت تھا، دشمن ہمارے مقابلہ کے لیے وادی کے پہاڑوں کی گھاٹیوں میں مختلف مقامات اور تنگ جگہوں میں چھپے ہوئے تھے، وہ ہمارے مقابلہ کے لیے جمع تھے اور پوری طرح تیار تھے۔ اللہ کی قسم! ہم وادی میں نیچے کو اترتے جا رہے تھے کہ ان کے دستوں نے ہم پر یک بار گی حملہ کر دیا، ہمارے لوگ اس اچانک حملے سے بدحواس ہو کر شکست خوردہ ہو کر دوڑ گئے۔ کوئی کسی کی طرف دیکھتا نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی راستے سے داہنی طرف ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میری طرف آجاؤ، میرے پاس آجاؤ، میں اللہ کا رسول ہوں، میں محمد بن عبداللہ ہوں۔ وقتی طور پر کسی نے جواب نہ دیا، اونٹ ایک دوسرے پر غضب ناک ہوکر بھاگ رہے تھے لوگ چل رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ کچھ مہاجرین وانصار اور اہل بیت کے کچھ افراد رہ گئے۔ آپ کے پاس رہ جانے والوں میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما اور اہل بیت میں سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، ان کے فرزند سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ بن حارث، سیدنا ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے بیٹے سیدنا ایمن بن عبید اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے نام ہیں۔ بنو ہوازن کا ایک فرد جو سرخ اونٹ پر سوار تھا، اور اس کے ہاتھ میں طویل نیزے کے سرے پر سیاہ علم لہرا رہا تھا، وہ اپنے قبیلہ کے آگے آگے تھا اور باقی سارا بنو ہوازن اس کی اقتداء میں چلا جا رہا تھا، جب راستے میں کوئی مسلمان ملتا وہ اس پر نیزے کا وار کر دیتا اور جب لوگ گزر جاتے تو اپنے جھنڈے کو اپنے پیچھے والوں کی راہنمائی کے لیے بلند کر دیتا اور لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلتے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10902]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البزار: 1834، وابويعلي: 1862، وابن حبان: 4774، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15091»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۰۸۹۷) کے فوائد میں شکست کی وجہ بیان کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 10903
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَيْنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ قَالَ فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَضَرَبَ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّتْ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ وَاجْتَلَدَ النَّاسُ فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ مِنْ هَزِيمَتِهِمْ حَتَّى وَجَدُوا الْأَسْرَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: وہ ہوازن کا علم بردار آدمی اپنے اونٹ پر سوار ایسی ہی کاروائیاں کرتا جا رہا تھا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری شخص اس کی طرف گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے پیچھے جا کر اونٹ کی کونچوں پر وار کیا، اونٹ اپنے پیچھے کے بل گر پڑا، انصاری نے پھرتی سے دوڑ کر اس پر وار کر کے نصف پنڈلی سے اس کا پاؤں کاٹ ڈالا، جس سے ہڈی کے ٹوٹنے کی آواز بھی آئی، پس وہ اپنے اونٹ سے نیچے جا گرا اور مسلمانوں نے جرأت وبہادری کا مظاہرہ کیا،اللہ کی قسم! یہ شکست خوردہ مسلمان جب پلٹ کر آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دشمن قیدیوں کو اس حال میں پایا کہ ان کے ہاتھ بندھے ہو ئے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10903]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البزار: 1834، وابويعلي: 1862، وابن حبان: 4774، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15092»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 10904
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَاءُ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ كَانَتْ هَوَازِنُ نَاسًا رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ انْكَشَفُوا فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
ابو اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ بنو قیس کے ایک آدمی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ لوگ غزوۂ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرار نہیں ہو ئے تھے، دراصل بنو ہوازن ماہر تیر انداز تھے، جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ تتر بترہو گئے۔ ہم اموالِ غنیمت جمع کرنے لگے، انہوں نے تیروں کے ذریعے ہمارا سامنا کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، اور ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی باگ کو تھامے ہوئے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رجز کہتے جاتے تھے۔ أَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ (میں اللہ کا نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں)۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10904]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2864، 4317، ومسلم: 1776، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18667»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2864
حدیث نمبر: 10905
حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ وَغَطَفَانَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَانْتَزَعَ شَيْئًا مِنْ حَقَبِ الْبَعِيرِ فَقَيَّدَ بِهِ الْبَعِيرَ ثُمَّ جَاءَ يَمْشِي حَتَّى قَعَدَ مَعَنَا يَتَغَدَّى قَالَ فَنَظَرَ فِي الْقَوْمِ فَإِذَا ظَهْرُهُمْ فِيهِ قِلَّةٌ وَأَكْثَرُهُمْ مُشَاةٌ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى الْقَوْمِ خَرَجَ يَعْدُو قَالَ فَأَتَى بَعِيرَهُ فَقَعَدَ عَلَيْهِ قَالَ فَخَرَجَ يَرْكُضُهُ وَهُوَ طَلِيعَةٌ لِلْكُفَّارِ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ وَرْقَاءَ قَالَ إِيَاسٌ قَالَ أَبِي فَاتَّبَعْتُهُ أَعْدُو عَلَى رِجْلَيَّ قَالَ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ قَالَ وَلَحِقْتُهُ فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ وَتَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَقُلْتُ لَهُ إِخْ فَلَمَّا وَضَعَ الْجَمَلُ رُكْبَتَهُ إِلَى الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَضَرَبْتُ رَأْسَهُ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ أَقُودُهَا فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ قَالَ مَنْ قَتَلَ هَذَا الرَّجُلَ قَالُوا ابْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر بنو ہوازن اور غطفان پر حملہ کیا، ہم لڑائی میں مصروف تھے کہ ایک آدمی اپنے سرخ اونٹ پر سوار آیا، اس نے اونٹ کے اوپر بندھی تھیلی سے کوئی چیز نکال کر اس کے ساتھ اونٹ کو باندھا، پھر وہ چلتا چلتا آکر ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا، اس نے لوگوں پر نظر ڈالی اس نے دیکھا کہ تعداد بہت کم ہے، اور اکثر لوگ پیدل ہیں، اس نے جب یہ حالت دیکھی تو بھاگ کھڑا ہوا، اونٹ کے پاس پہنچ کر اس پر بیٹھا اور اسے ایڑ لگا دی، درحقیقت وہ کفار کا جاسوس تھا، ہم میں سے بنو اسلم کا ایک آدمی اپنی سفید اونٹنی پر سوار ہو کر اس کے پیچھے ہو لیا۔ سیدنا سلمہ کہتے ہیں: میں بھی پیدل اس کے پیچھے دوڑا، مسلمان کی اونٹنی کا سر کافر کے اونٹ کے پچھلے حصے کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ (یعنی دونوں قریب قریب تھے) میں آگے بڑھ کر اونٹ کے پیچھے پہنچ گیا۔ پھر میں نے اونٹ سے آگے نکل کر اس کی لگام پکڑ لی، اورمیں نے مخصوص آواز دے کر اونٹ کو بٹھایا، جب اونٹ نے اپنے گھٹنے زمین پر رکھ دئیے تو میں نے اپنی تلوار لہرا کر اس کے سر پر ماری، اس کا سر اڑ گیا، پھر میں اس کا اونٹ لیے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لوگوں کے ہمراہ ملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: اس آدمیکو کس نے قتل کیا؟ لوگوں نے بتلایا کہ سیدنا ابن اکوع رضی اللہ عنہ نے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے چھینا ہوا سارا مال اسی کا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10905]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1754، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16651»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1754
19. بَابُ قَوْلِهِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ وَمَا قَالَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ وَالِدَهُ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ وَجَرْحِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَاهْتِمَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِأَمْرِهِ
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا، سیدنا انس بن مالک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10906
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمِ رَجُلٍ فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبِ أَحَدٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی جس کو قتل کرنے میں اکیلا ہو گا، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کے لیے ہو گا۔ اس دن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10906]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا مسلم: 1809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13072»
وضاحت: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی جس کو قتل کرنے میں اکیلا ہو گا، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کے لیے ہو گا۔ اس دن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا مسلم: 1809
حدیث نمبر: 10907
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ عِشْرِينَ
۔(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اسی کے لیے اس کا سلب ہو گا۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس کافر قتل کیے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10907]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12155»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12155
حدیث نمبر: 10908
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ لَهُ وَأُجْهِضْتُ عَنْهُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَدَقَ عُمَرُ وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خَنْجَرٌ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ قَالَتْ أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ حنین کے دن سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے ایک کافر کی گردن پر وار کر کے اس کی گردن کاٹی ہے، وہ مقتول ایک زرہ پہنے ہوئے تھا، میں وہ نہیں اتار سکا، آپ ذرا دیکھیں کہ کس آدمی نے وہ زرہ اتار لی ہے، (وہ تو میرا حق تھا)۔ایک آدمی نے کہا: وہ زرہ میرے پاس ہے، لیکن اے اللہ کے رسول! اس زرہ کے متعلق آپ اسے راضی کریں اور یہ میرے پاس ہی رہنے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دے دیتےیا خاموش رہتے۔ اس آدمی کییہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ نہیں ہو گا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے ایک شیر سے یہ زرہ لے کر تمہیں دے دیں۔ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس دئیے اور فرمایا: عمر نے ٹھیک کہا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:اس روز سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں خنجر تھا، ان کے شوہر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارے پاس یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ میں نے اسے اپنے پاس رکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس کے ساتھ اس کا پیٹ چیر ڈالوں گی۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ام سلیم کی بات سن رہے ہیں؟ اتنے میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بولیں: اللہ کے رسول! آپ پیچھے رہ جانے والے ان طلقاء کو قتل کر دیں، جو آپ کے ساتھ شکست کھا گئے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی اور کیا خوب مدد کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10908]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14020»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1809
20. بَابُ سَرِيَّةِ أَبِي عَامِرِ نِ الْأَشْعَرِى إِلَى أَوْطَاسِ لِإِدْرَاكِهِ مَنْ فَرَّ إِلَيْهَا مِنْ مُشْرِكِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ
غزوۂ حنین میں جو مشرکین اوطاس کی طرف فرار ہو گئے تھے، ان کو گرفتار کرنے کے لیے ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ کی مہم کا بیان
حدیث نمبر: 10909
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُعَيْمٍ الْقَيْسِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ الْأَشْعَرِيُّ أَنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ لَمَّا هَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ عَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ عَلَى خَيْلِ الطَّلَبِ فَطَلَبَ فَكُنْتُ فِيمَنْ طَلَبَهُمْ فَأَسْرَعَ بِهِ فَرَسُهُ فَأَدْرَكَ ابْنَ دُرَيْدِ بْنِ الصِّمَّةِ فَقَتَلَ أَبَا عَامِرٍ وَأَخَذَ اللِّوَاءَ وَشَدَدْتُ عَلَى ابْنِ دُرَيْدٍ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ اللِّوَاءَ وَانْصَرَفْتُ بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْمِلُ اللِّوَاءَ قَالَ يَا أَبَا مُوسَى قُتِلَ أَبُو عَامِرٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو يَقُولُ اللَّهُمَّ عُبَيْدَكَ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ اجْعَلْهُ مِنَ الْأَكْثَرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حنین میں بنو ھوازن کو ہزیمت سے دو چار کیا، تو رسول اللہ نے بھاگ جانے والے مشرکین کا پیچھا کرنے کے لیے سیدنا ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ کو گھڑ سواروں کے ایک دستہ پر مامور فرمایا،یہ ان کے پیچھے روانہ ہوئے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا، سیدنا ابو عامر رضی اللہ عنہ کا گھوڑا تیزی سے ان کو لے کر آگے نکل گیا، انہوں نے ابن درید بن کو جا لیا، ابن درید نے ابو عامر رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا اور ان کا جھنڈا قبضے میں لے لیا، میں نے ابن درید کا پیچھا کر کے اسے قتل کر دیا اور جھنڈا دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا، اور میں لوگوں کے ہمراہ واپس ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھنڈا اُٹھائے دیکھا تو فرمایا: اے ابو موسیٰ! کیا ابو عامر قتل ہو گئے ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوںہاتھ اٹھائے یہ دعا کر رہے تھے: اے اللہ اپنے پیارےبندے عبید ابو عامر کو قیامت کے روز ان لوگوں میں بنانا جن کے صالح اعمال بہت اور بے شمار بلند درجات ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10909]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بغير ھذه السياقة، وھذا اسناد ضعيف لضعف عبد الله بن نُعيم، ولانقطاعه، الضحاك بن عبد الرحمن روايته عن ابي موسي مرسلة، أخرجه ابويعلي: 7222، وابن حبان: 7191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19796»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں درج ذیل سیاق کے ساتھ ہے:
سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَمَّا فَرَغَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ حُنَیْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلٰی جَیْشٍ إِلٰی أَوْطَاسٍ فَلَقِیَ دُرَیْدَ بْنَ الصِّمَّۃِ فَقُتِلَ دُرَیْدٌ وَہَزَمَ اللّٰہُ أَصْحَابَہُ قَالَ أَبُو مُوسٰی: وَبَعَثَنِی مَعَ أَبِی عَامِرٍ فَرُمِیَ أَبُو عَامِرٍ فِی رُکْبَتِہِ رَمَاہُ جُشَمِیٌّ بِسَہْمٍ فَأَثْبَتَہُ فِی رُکْبَتِہِ فَانْتَہَیْتُ إِلَیْہِ فَقُلْتُ: یَا عَمِّ! مَنْ رَمَاکَ؟ فَأَشَارَ إِلٰی أَبِی مُوسٰی فَقَالَ: ذَاکَ قَاتِلِی الَّذِی رَمَانِی فَقَصَدْتُ لَہُ فَلَحِقْتُہُ فَلَمَّا رَآنِی وَلّٰی فَاتَّبَعْتُہُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَہُ: أَلَا تَسْتَحْیِی، أَلَا تَثْبُتُ فَکَفَّ فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَیْنِ بِالسَّیْفِ فَقَتَلْتُہُ ثُمَّ قُلْتُ لِأَبِی عَامِرٍ: قَتَلَ اللّٰہُ صَاحِبَکَ، قَالَ: فَانْزِعْ ہٰذَا السَّہْمَ فَنَزَعْتُہُ فَنَزَا مِنْہُ الْمَائُ، قَالَ: یَا ابْنَ أَخِی! أَقْرِئِ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم السَّلَامَ وَقُلْ لَہُ: اِسْتَغْفِرْ لِی وَاسْتَخْلَفَنِی أَبُو عَامِرٍ عَلَی النَّاسِ فَمَکُثَ یَسِیرًا ثُمَّ مَاتَ فَرَجَعْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی بَیْتِہِ عَلٰی سَرِیرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَیْہِ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِیرِ بِظَہْرِہِ وَجَنْبَیْہِ فَأَخْبَرْتُہُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِی عَامِرٍ وَقَالَ قُلْ لَہُ اسْتَغْفِرْ لِی فَدَعَا بِمَاء ٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِعُبَیْدٍ أَبِی عَامِرٍ وَرَأَیْتُ بَیَاضَ إِبْطَیْہِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَوْقَ کَثِیرٍ مِنْ خَلْقِکَ مِنَ النَّاسِ۔)) فَقُلْتُ: وَلِی فَاسْتَغْفِرْ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ذَنْبَہُ وَأَدْخِلْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُدْخَلًا کَرِیمًا۔))
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوعامر کو ایک لشکر کا سردار بنا کر قوم اوطاس کی جانب بھیجا، ان کا مقابلہ درید سے ہوا، درید مارا گیا اور اس کے ساتھیوں کو اللہ نے شکست دی، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھی ابوعامر کے ساتھ بھیجا تو ابوعامر کے گھٹنا میں ایک تیر آکر لگا جو ایک جشمی آدمی نے پھینکا تھا، وہ تیر ان کے زانو میں اتر گیا، میں ان کے پاس گیا اور پوچھا، چچا جان! آپ کو کس نے تیر مارا ہے؟ انہوں نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بتایا کہ میرا قاتل وہ ہے، جس نے میرے تیر مارا ہے، پس میں اس کی تاک میں چلا، جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ بھاگا۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے کہتا جارہا تھا: اوبے غیرت، اوبے غیرت، اب ٹھہرتا کیوں نہیں؟ وہ ٹھہر گیا میں اور وہ ایک دوسرے پر تلواروں سے حملہ آور ہوئے اور میں نے اسے قتل کردیا، پھر میں نے ابوعامر سے کہا: اللہ نے آپ کے قاتل کو ہلاک کر دیا ہے، انہوں نے کہا: میرایہ پیوست شدہ تیر تو نکالو میں نے وہ تیر نکالا تو اس (زخم) سے پانی نکلا، انہوں نے کہا: برادر زادہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور آپ سے عرض کرنا کہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں، ابوعامر نے مجھے اپنی جگہ امیر لشکر نامزد کیا۔ پھر وہ تھوڑی دیر زندہ رہ کر شہید ہوگئے، میں واپس لوٹا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مکان میں ایک بان والی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس پر (برائے نام ایسا) بستر تھا کہ چارپائی کے بان کے نشانات آپ کی پشت اور پہلو میں پڑے ہوئے تھے، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے اور ابوعامر کے حالات کی اطلاع دی اور (میں نے کہا کہ) انہوں نے آپ سے یہ عرض کرنے کو کہا ہے کہ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! ابو عامر عبید کی مغفرت فرما اور (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اتنے اونچے تھے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی میں دیکھ رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسے قیامت کے دن اپنی بہت ساری مخلوق پر فضیلت عطا فرما۔ میں نے عرض کیا: میرے لئے بھی دعائے مغفرت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! عبداللہ بن قیس کے گناہوں کو بخش دے اور قیامت کے دن اسے معزز جگہ داخل فرما۔ ابوبردہ کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک دعا سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے لئے تھی اور دوسری سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے لئے۔
سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَمَّا فَرَغَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ حُنَیْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلٰی جَیْشٍ إِلٰی أَوْطَاسٍ فَلَقِیَ دُرَیْدَ بْنَ الصِّمَّۃِ فَقُتِلَ دُرَیْدٌ وَہَزَمَ اللّٰہُ أَصْحَابَہُ قَالَ أَبُو مُوسٰی: وَبَعَثَنِی مَعَ أَبِی عَامِرٍ فَرُمِیَ أَبُو عَامِرٍ فِی رُکْبَتِہِ رَمَاہُ جُشَمِیٌّ بِسَہْمٍ فَأَثْبَتَہُ فِی رُکْبَتِہِ فَانْتَہَیْتُ إِلَیْہِ فَقُلْتُ: یَا عَمِّ! مَنْ رَمَاکَ؟ فَأَشَارَ إِلٰی أَبِی مُوسٰی فَقَالَ: ذَاکَ قَاتِلِی الَّذِی رَمَانِی فَقَصَدْتُ لَہُ فَلَحِقْتُہُ فَلَمَّا رَآنِی وَلّٰی فَاتَّبَعْتُہُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَہُ: أَلَا تَسْتَحْیِی، أَلَا تَثْبُتُ فَکَفَّ فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَیْنِ بِالسَّیْفِ فَقَتَلْتُہُ ثُمَّ قُلْتُ لِأَبِی عَامِرٍ: قَتَلَ اللّٰہُ صَاحِبَکَ، قَالَ: فَانْزِعْ ہٰذَا السَّہْمَ فَنَزَعْتُہُ فَنَزَا مِنْہُ الْمَائُ، قَالَ: یَا ابْنَ أَخِی! أَقْرِئِ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم السَّلَامَ وَقُلْ لَہُ: اِسْتَغْفِرْ لِی وَاسْتَخْلَفَنِی أَبُو عَامِرٍ عَلَی النَّاسِ فَمَکُثَ یَسِیرًا ثُمَّ مَاتَ فَرَجَعْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی بَیْتِہِ عَلٰی سَرِیرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَیْہِ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِیرِ بِظَہْرِہِ وَجَنْبَیْہِ فَأَخْبَرْتُہُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِی عَامِرٍ وَقَالَ قُلْ لَہُ اسْتَغْفِرْ لِی فَدَعَا بِمَاء ٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِعُبَیْدٍ أَبِی عَامِرٍ وَرَأَیْتُ بَیَاضَ إِبْطَیْہِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَوْقَ کَثِیرٍ مِنْ خَلْقِکَ مِنَ النَّاسِ۔)) فَقُلْتُ: وَلِی فَاسْتَغْفِرْ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ذَنْبَہُ وَأَدْخِلْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُدْخَلًا کَرِیمًا۔))
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوعامر کو ایک لشکر کا سردار بنا کر قوم اوطاس کی جانب بھیجا، ان کا مقابلہ درید سے ہوا، درید مارا گیا اور اس کے ساتھیوں کو اللہ نے شکست دی، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھی ابوعامر کے ساتھ بھیجا تو ابوعامر کے گھٹنا میں ایک تیر آکر لگا جو ایک جشمی آدمی نے پھینکا تھا، وہ تیر ان کے زانو میں اتر گیا، میں ان کے پاس گیا اور پوچھا، چچا جان! آپ کو کس نے تیر مارا ہے؟ انہوں نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بتایا کہ میرا قاتل وہ ہے، جس نے میرے تیر مارا ہے، پس میں اس کی تاک میں چلا، جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ بھاگا۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے کہتا جارہا تھا: اوبے غیرت، اوبے غیرت، اب ٹھہرتا کیوں نہیں؟ وہ ٹھہر گیا میں اور وہ ایک دوسرے پر تلواروں سے حملہ آور ہوئے اور میں نے اسے قتل کردیا، پھر میں نے ابوعامر سے کہا: اللہ نے آپ کے قاتل کو ہلاک کر دیا ہے، انہوں نے کہا: میرایہ پیوست شدہ تیر تو نکالو میں نے وہ تیر نکالا تو اس (زخم) سے پانی نکلا، انہوں نے کہا: برادر زادہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور آپ سے عرض کرنا کہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں، ابوعامر نے مجھے اپنی جگہ امیر لشکر نامزد کیا۔ پھر وہ تھوڑی دیر زندہ رہ کر شہید ہوگئے، میں واپس لوٹا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مکان میں ایک بان والی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس پر (برائے نام ایسا) بستر تھا کہ چارپائی کے بان کے نشانات آپ کی پشت اور پہلو میں پڑے ہوئے تھے، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے اور ابوعامر کے حالات کی اطلاع دی اور (میں نے کہا کہ) انہوں نے آپ سے یہ عرض کرنے کو کہا ہے کہ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! ابو عامر عبید کی مغفرت فرما اور (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اتنے اونچے تھے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی میں دیکھ رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسے قیامت کے دن اپنی بہت ساری مخلوق پر فضیلت عطا فرما۔ میں نے عرض کیا: میرے لئے بھی دعائے مغفرت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! عبداللہ بن قیس کے گناہوں کو بخش دے اور قیامت کے دن اسے معزز جگہ داخل فرما۔ ابوبردہ کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک دعا سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے لئے تھی اور دوسری سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے لئے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بغير ھذه السياقة