سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. باب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
باب: جنہوں نے رکوع کے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 751
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ، نَحْوَ حَدِيثِ شَرِيكٍ، لَمْ يَقُلْ: ثُمَّ لَا يَعُودُ، قَالَ سُفْيَانُ، قَالَ لَنَا بِالْكُوفَةِ بَعْدُ: ثُمَّ لَا يَعُودُ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ لَمْ يَذْكُرُوا: ثُمَّ لَا يَعُودُ.
اس طریق سے بھی سفیان سے یہی حدیث گذشتہ سند سے مروی ہے، اس میں ہے کہ ”آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلی دفعہ اٹھایا“، اور بعض لوگوں کی روایت میں ہے کہ ”ایک بار اٹھایا“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 751]
جناب سفیان رحمہ اللہ نے اسی سند سے اس حدیث کو بیان کیا، انہوں نے کہا: ”پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی ہی بار اپنے ہاتھ اٹھائے۔“ اور بعض نے کہا: ”ایک ہی بار اٹھائے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 751]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (748)، (تحفة الأشراف: 9468) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظرالحديث السابق (748)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
إسناده ضعيف
انظرالحديث السابق (748)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
حدیث نمبر: 752
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْهُمَا حَتَّى انْصَرَفَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِصَحِيحٍ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں اٹھایا یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 752]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے، پھر فارغ ہونے تک نہیں اٹھائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1786) (ضعیف)» (اس کے راوی محمد بن ابی لیلی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي ليليٰ ضعفه الجمهور،قاله البوصيري (زوائد ابن ماجه :854) وقال ابن حجر: وھو صدوق،اتفقوا علي ضعف حديثه من قبل سوء حفظه(فتح الباري 143/13) وقال أنور شاه الكشميري الديوبندي: فھو ضعيف عندي كما ذھب إليه الجمھور(فيض الباري168/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
إسناده ضعيف
محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي ليليٰ ضعفه الجمهور،قاله البوصيري (زوائد ابن ماجه :854) وقال ابن حجر: وھو صدوق،اتفقوا علي ضعف حديثه من قبل سوء حفظه(فتح الباري 143/13) وقال أنور شاه الكشميري الديوبندي: فھو ضعيف عندي كما ذھب إليه الجمھور(فيض الباري168/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
حدیث نمبر: 753
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ لمبے کر کے اٹھاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 753]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے ہاتھ لمبے کر کے اٹھاتے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 63 (240)، سنن النسائی/الافتتاح 6 (884)، (تحفة الأشراف: 13081)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/375، 434، 500)، سنن الدارمی/الصلاة 32 (1273) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
122. باب وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 754
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْر، يَقُولُ:" صَفُّ الْقَدَمَيْنِ وَوَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْيَدِ مِنَ السُّنَّةِ".
زرعہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: دونوں قدموں کو برابر رکھنا، اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 754]
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”(نماز میں) قدموں کو برابر رکھنا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5260) (ضعیف)» (اس کے راوی زرعہ لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ہاتھ سینے پر باندھنے چاہیے اس کے متعلق فوائد و مسائل صحیح بخاری حدیث نمبر 740 دیکھیں صحیح ابن حزیمہ حدیث نمبر 479 کے فوائد و مسائل دیکھیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
زرعة بن عبد الرحمن وثقه ابن حبان والضياء المقدسي والذھبي
زرعة بن عبد الرحمن وثقه ابن حبان والضياء المقدسي والذھبي
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،" أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (اس کیفیت میں) دیکھا تو آپ نے ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 755]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں پر رکھے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو ان کے دائیں ہاتھ کو بائیں کے اوپر کر دیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 10 (889)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 3 (811)، (تحفة الأشراف: 9378)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/347) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
ھشيم بن بشير صرح بالسماع عند ابن ماجه (811 وسنده حسن)
ھشيم بن بشير صرح بالسماع عند ابن ماجه (811 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 756
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ".
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 756]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10314)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/110) (ضعیف)» (اس کے راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی متروک ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن إسحاق الكوفي الواسطي ضعيف (تق : 3799) ضعفه الجمهور
وزياد : مجهول (تقريب التهذيب: 2078)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن إسحاق الكوفي الواسطي ضعيف (تق : 3799) ضعفه الجمهور
وزياد : مجهول (تقريب التهذيب: 2078)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
حدیث نمبر: 757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ يَعْنِي ابْنَ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ ابْنِ جَرِيرٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُمْسِكُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ عَلَى الرُّسْغِ فَوْقَ السُّرَّةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَوْقَ السُّرَّةِ، قَالَ أَبُو مِجْلَزٍ: تَحْتَ السُّرَّةِ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
جریر ضبیی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا پہنچا (گٹا) پکڑے ہوئے ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید بن جبیر سے «فوق السرة» (ناف کے اوپر) مروی ہے اور ابومجلز نے «تحت السرة» (ناف کے نیچے) کہا ہے اور یہ بات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے لیکن یہ قوی نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 757]
جناب ابن جریر ضبی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پہنچے (کلائی) کے پاس سے (یعنی جوڑ کے پاس) سے پکڑ رکھا تھا اور وہ ناف سے اوپر تھے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”جناب سعید بن جبیر سے ”ناف سے اوپر“ مروی ہے اور ابومجلز نے ”ناف سے نیچے“ کہا ہے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ”ناف سے نیچے“ ہی روایت کی گئی ہے، مگر قوی نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10030) (ضعیف)» (اس کے راوی جریر ضبّی لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه البيھقي (2/29،30) عزوان بن جرير وأبوه صدوقان وثقھما ابن حبان والبيھقي
أخرجه البيھقي (2/29،30) عزوان بن جرير وأبوه صدوقان وثقھما ابن حبان والبيھقي
حدیث نمبر: 758
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" أَخْذُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُضَعِّفُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ إِسْحَاقَ الْكُوفِيَّ.
ابووائل کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ناف کے نیچے رکھنا (سنت ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو سنا، وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق کوفی کو ضعیف قرار دے رہے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 758]
جناب ابووائل نے کہا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نماز میں ہتھیلیوں سے ناف کے نیچے سے پکڑنا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو سنا، وہ (مذکورہ اثر کے ایک راوی) عبدالرحمٰن کوفی کو ضعیف کہتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13494) (ضعیف)» (اس سند میں بھی عبدالرحمن بن اسحاق ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن إسحاق الواسطي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن إسحاق الواسطي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
حدیث نمبر: 759
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ".
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 759]
جناب طاؤس رحمہ اللہ (طاؤس بن کیسان یمانی، تابعی) بیان کرتے ہیں کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں کے اوپر رکھتے اور انہیں اپنے سینے پر باندھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18829) (صحیح)» (دو صحابہ وائل اور ہلب رضی اللہ عنہما کی صحیح مرفوع روایات سے تقویت پاکر یہ مرسل حدیث بھی صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شاھد عند أحمد (5/226 وسنده حسن)
وللحديث شاھد عند أحمد (5/226 وسنده حسن)
123. باب مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلاَةُ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: نماز کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 760
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ لِي إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، وَإِذَا رَكَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي، وَإِذَا رَفَعَ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، وَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم أنت الملك لا إله لي إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك» ”میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تابعدار ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عادتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بری عادتوں کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جا سکتی، میں تیرا ہوں، اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں“، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابعدار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے)، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شىء بعد» ”اللہ نے اس شخص کی سن لی (قبول کر لیا) جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر“۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره وتبارك الله أحسن الخالقين» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بردار و تابعدار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھ پھاڑے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے وہ بہترین تخلیق فرمانے والا ہے“۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم والمؤخر لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما، اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 760]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ لِي إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ” ﴿میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، میں اسی کی طرف یکسو ہوں﴾، اسی کا مطیع فرمان ہوں، ﴿اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں﴾ [سورة الأنعام: 79] ۔ ﴿بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔ اس کا کوئی ساجھی نہیں ہے، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں اولین اطاعت گزاروں میں سے ہوں﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ۔ اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ تو میرا پالنہار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر زیادتی کی ہے، مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔ پس میرے سب گناہ معاف فرما دے، تیرے سوا گناہوں کو اور کوئی معاف نہیں کر سکتا۔ میری عمدہ اخلاق و عادات کی طرف رہنمائی فرما، اچھے اخلاق و عادات کی توفیق تجھی سے مل سکتی ہے۔ برے اخلاق و عادات مجھ سے دور فرما دے، بری عادتوں کو تو ہی پھیر سکتا ہے۔ میں تیرے دربار میں حاضر ہوں، پھر حاضر ہوں۔ تیرا مطیع فرمان ہوں، پھر تیرا مطیع فرمان ہوں۔ خیر اور بھلائی ساری کی ساری تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور کسی شر کی نسبت تیری طرف نہیں ہے۔ میں تیرا ہوں اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے۔ تو بڑی برکتوں والا اور رفعتوں والا ہے اور میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری جانب توبہ کر رہا ہوں۔“ اور جب رکوع کرتے تو یوں کہتے: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي» ”اے اللہ! میں تیرے لیے جھک گیا ہوں، تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تیرا مطیع ہوں۔ میرے کان، میری آنکھیں، میری ہڈیاں، گودا اور پٹھے سب ہی تیرے سامنے عاجزی کا مظہر ہیں۔“ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ، مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی حمد کی۔ اے ہمارے رب! اور تیری ہی تعریف ہے آسمانوں اور زمین بھر، اور ان کے مابین بھر کر اور اس کے بعد اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے۔“ اور جب سجدہ کرتے تو یوں کہتے: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ”اے اللہ! میں تیرے حضور سجدہ ریز ہوں، تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تیرا مطیع فرمان ہوں۔ میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیا، اسے شکل دی اور بہترین شکل دی اور اس میں کان اور آنکھیں بنائیں۔ ﴿بڑی برکتوں والا ہے اللہ جو بہترین پیدا کرنے والا ہے﴾ [سورة المؤمنون: 14] ۔“ اور جب نماز سے سلام پھیرتے، تو یہ دعا کرتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! میرے سب گناہ اور میری تمام تقصیریں معاف فرما دے، جو میں پہلے کر چکا اور جو میں نے بعد میں کیں، جو چھپے ہوئے کیں اور جو ظاہر میں کیں اور جو میں حد سے بڑھا رہا اور جن کا تو مجھ سے زیادہ باخبر ہے۔ تو ہی (نیکی اور خیر میں) آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 26 (771)، سنن الترمذی/ الدعوات 32 (3421، 3422)، سنن النسائی/ الافتتاح 17 (898)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15، (864)،70 (1054)، (تحفة الأشراف: 10228)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/93، 95، 102، 103، 119)، سنن الدارمی/الصلاة 33 (1274)، ویأتي ہذا الحدیث برقم: (1509) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (771)