الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَعِيشَيْهِﷺ وَأَهْلِ بَيْتِهِ¤فَمِنْ ذَالِكَ مَا رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کی معیشت کا بیان اس موضوع سے متعلقہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ دُعِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ قَالَ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمِ الْمِرَارِ وَهُوَ يَقُولُ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ تَمْرٍ“ وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ لَتِسْعَ نِسْوَةٍ وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ أَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا فَمَا وَجَدَ لَهَا مَا يَفْتَكُّهَا بِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دن جو کی روٹی اور ایسے سالن کے لیے دعوت دی گئی، جس سے زیادہ دیر تک پڑا رہنے کی وجہ سے بد بو آ رہی تھی اور میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دن میں کئی بار فرماتے ہوئے سنا کہ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے، آل محمد کے پاس اناج اور کھجور کا ایک صاع بھی نہیں ہے۔ جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں ایکیہودی کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اناج ادھار لیا تھا، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (قرض واپس کرنے کے لیے) اتنا مال نہیں تھا کہ وہ زرہ چھڑا سکیں۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2069، 2508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13531»
وضاحت: فوائد: … بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پاکیزہ آل کو اس دور کا بہت اچھا کھانا بھی مل جاتا تھا، لیکن زندگی کی زیادہ حصہ فقر و فاقہ کی نظر ہی رہتا تھا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2069
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا وَلَا شَاةً سَمِيطًا قَطُّ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ
جناب ِ قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے، جبکہ ان کا روٹی بنانے والا باورچی ان کے پاس کھڑا ہوتا، ایک دن انھوں نے کہا: کھاؤ، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پتلی بڑی چپاتی اور بال اتار کر بھونی ہوئی بکری دیکھی ہو، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پروردگار سے جا ملے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5385، 5421، 6457، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12321»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 5385
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْتَمِعْ لَهُ غَدَاءٌ وَلَا عَشَاءٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ إِلَّا عَلَى ضَفَفٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنگی اور قلت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس روٹی اور گوشت والا دوپہر کا کھانا اور شام کا کھانا جمع نہیں ہوا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13895»
وضاحت: فوائد: … ضَفَف کے مزید دو معانی بھی کیے گئے ہیں: ایک لوگوں کا اجتماع اور اکٹھ، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیحدہ کھانا نہیں کھاتے تھے، بلکہ لوگوں کے ساتھ تناول فرماتے تھے اور دوسرا معنییہ ہے کہ کھانے والوں کے تعداد کھانے کی مقدار سے زیادہ ہوتی تھی۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13895
2. فَمِنْ ذَالِكَ مَا رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ¤وَمِنْ ذَالِكَ مَا رُوِيَ عَنْ غَيْرِ أَنَسِ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے اس موضوع سے متعلقہ مروی احادیث
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْتَوِي مَا يَجِدُ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ مِنَ الدَّقَلِ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بل دار اور ٹیڑھا ہوتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ردّی اور خشک قسم کی کھجوریں بھی اتنی مقدار میں نہیں ہوتی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیٹ بھر کر کھا سکیں۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم اخرجه الترمذي في الشمائل: 138، وابويعلي: 3108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 159»
وضاحت: فوائد: … آج ہمارے گھروں میں دس دس ماہ اور ایک ایک سال کا راشن پڑا ہوتا ہے اور کاروبار اور سرمائے کییہ صورت ہے کہ اگلے سالوں کی بھی فکر نہیں ہے، کہیں اس کا معنییہ ہو کہ اللہ تعالی کو ہم سے محبت کم ہے یا وہ ہمارے درجات کو کم کرنا چاہتا ہو، بہرحال سرمایہ داروں کو شکر کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم اخرجه الترمذي في الشمائل : 138
حدیث نمبر: 11322M
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيتُ اللَّيَالِيَ الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً قَالَ وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل لگاتار کئی راتیں بھوک کی حالت میں گزارتے تھے، ان کے پاس شام کا کھانا نہیں ہوتا تھا اور ان کی عام روٹی جو کی ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن اخرجه ابن ماجه: 4146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2303»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن اخرجه ابن ماجه: 4146
حدیث نمبر: 11322M
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا رَجُلٌ وَالرَّجُلُ كَانَ يُسَمَّى فِي كِتَابِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَدْ ضَرَبَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِهِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ وَكَتَبَ عَلَيْهِ صَحَّ صَحَّ إِنَّمَا ضَرَبَ أَبِي عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ لِأَنَّهُ لَمْ يَرْضَ الرَّجُلَ الَّذِي حَدَّثَ عَنْهُ يَزِيدُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل سالن اور گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دنیائے فانی سے) روانہ ہو گئے۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں اس حدیث پر کراس لگا دیا تھا، جب میں نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور اس پر صَحّ صَحّ کی علامت لگائی اور انھوں نے کہا: میرے باپ نے اس حدیث پر اس لیے کراس لگا دیا تھا کہ وہ اس راوی کو پسند نہیں کرتے تھے، جس سے یزید بیان کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه الترمذي: 2360، وابن ماجه: 3347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2303 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20211»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح اخرجه الترمذي: 2360
حدیث نمبر: 11322M
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا كَانَ يَفْضُلُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں سے جو کی روٹی باقی نہیں بچتی تھی، (یعنی کھانے کی مقدار اتنی ہوتی تھی کہ بمشکل ہی گھر والوں کو کفایت کرتی تھی)۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدّا، عمرو بن عبيد البصري متروك وبعضھم اتھمه اخرجه البزار في مسنده: 3606، والطبراني في الكبير: 18/ 291، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22652»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! آج کل تو کوڑا کرکٹ کی ٹوکریوں اور ڈھیروں میں روٹی اور نان کے بہترین ٹکڑے اور بچ جانے والا سالن پایا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدّا
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ هَلْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَيْنَيْهِ يَعْنِي الْحُوَّارَى قَالَ مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ بِعَيْنَيْهِ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَقِيلَ لَهُ هَلْ كَانَ لَكُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا كَانَتْ لَنَا مَنَاخِلُ قِيلَ لَهُ فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِالشَّعِيرِ قَالَ نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وفات سے پہلے سفید آٹا دیکھا تھا؟ انھوں نے کہا:جی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے سفید آٹا نہیں دیکھا تھا، یہاں تک کہ وفات پا گئے، پھر سیدنا سہل سے یہ پوچھا گیا کہ کیا عہد ِ نبوی میں تمہارے پاس چھاننیاں ہوتی تھیں؟ انھوں نے کہا: ہمارے پاس چھاننیاں نہیں ہوتی تھیں، ان سے کہا گیا: پھر تم لوگ جو کے آٹے کا کیا کرتے تھے (اس میں چھلکا ہوتا ہے)؟ انھوں نے کہا: بس پھونک مار لیتے تھے، سو جو چھلکا اڑ گیا، وہ اڑ گیا، (باقی آٹا گوندھ دیتےتھے)۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه الترمذي: 2359، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23202»
وضاحت: فوائد: … نان، روغنی نان، قیمے والا نان، آلو کی روٹی، معدے کی روٹی وغیرہ وغیرہ،یہ سب آسودہ حالی اور دنیا پسندی کی علامتیں ہیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے دور رہنا چاہتے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح اخرجه الترمذي: 2359
3. بَابُ فِيمَا كَانَ يُعْجِبُهُ ﷺ مِنَ الْأَطْعِمَةِ
نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسندیدہ ماکولات کا بیان
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُعْجِبُهُ الْفَاغِيَةُ وَكَانَ أَعْجَبُ الطَّعَامِ إِلَيْهِ الدُّبَّاءُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فاغیہ بہت پسند تھا اور کھانوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو کا سالن تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12574»
وضاحت: فوائد: … فاغیہ کے تین معانی ہیں: خوشبو، حنا کی کلی، ہر خوشبودار پودے کی کلی۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُدِّمَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ فِيهَا قَرْعٌ قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ قَالَ فَجَعَلَ يَلْتَمِسُ الْقَرْعَ بِأَصَابِعِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک پیالہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کیا گیا، اس میں کدو بھی تھے، جبکہ یہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند بھی بڑی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی انگلی یا انگلیوں کی مدد سے کدو تلاش کرنے لگے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12657»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن