🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَدبِهِ ﷺ فِي الأكل
کھانے سے متعلقہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِذَا لَمْ يَشْتَهِهِ تَرَكَهُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی کھانے کا عیب نہیں نکالا، اگر چاہا تو کھا لیااور اگر نہ چاہا تو نہیں کھایا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5409، ومسلم: 2064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10146»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن اخلاق کی اعلی مثال تھی، کھانے کا عیب نکالنے سے تیار کرنے والے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ نبی ٔ مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو کسی کا دل توڑنے والے نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے خون کے پیاسوں کا دل مول لے لیتے تھے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 5409
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا أَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دسترخوان پر کھاتے تھے، نہ چھوٹے چھوٹے برتنوں میں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پتلی بڑی روٹی بنائی جاتی تھی۔ میں نے جناب قتادہ سے کہا: تو پھر وہ کس چیز پر کھانا کھایا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: بس عام سے دسترخوان پر (جو زیادہ تر چمڑے کا گولائی کی شکل میں ہوتا تھا)۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5386، 5415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12350»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سادہ سا کھانا سادے سے انداز میں تناول فرما لیتے اور بس، اب دورِ حاضر میں جو اہتمام کھانے پینے کے لیے ہوتا ہے، عصرِ نبوی میں اس قسم کا اہتمام عبادت کے لیے ہوتا تھا، جو چیز اس وقت اصل تھی، وہ ہمارے دور میں فرع بن گئی اور اُس دور کی فرعی چیز ہمارے لیے اصل بن گئی۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 5386
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ وَصَلَاتِهِ وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دائیں ہاتھ کھانے اور نماز وغیرہ کے لیے ہوتا تھا اور بائیاں ہاتھ دوسرے (مکروہ) امور کے لیے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه وشواھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25321 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25835»
وضاحت: فوائد: … مکروہ سے امور سے مراد استنجا کرنا، لیٹرین میں داخل ہونا، کپڑا اتارنا، ناک صاف کرنا وغیرہ ہے، بائیں ہاتھ اور بائیں طرف سے یہ کام کرنے چاہئیں۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11323
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِذَا لَمْ يَشْتَهِهِ تَرَكَهُ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنانہ ہوتی تو سکوت فرمالیتے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11323]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10146»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10146
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11324
عَنْ يُونُسَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا أَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی میز پر یا چھوٹی پیالیوں میں کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے باریک روٹی پکائی گئی، راوی کہتے ہیں میں نے قتادہ سےپوچھا کہ پھر وہ کس چیز پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ دستر خوانوں پر۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11324]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12350»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12350
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11325
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ وَصَلَاتِهِ وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11325]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25835»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25835
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَوْمِهِ صلى الله عليه وسلم وَ فِرَاشِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند اور بستر کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11326
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَنَامُ عَيْنِي وَلَا يَنَامُ قَلْبِي“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری آنکھ سوجاتی ہے اور میرا دل نہیں سوتا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11326]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه ابن خزيمة: 48، وابن حبان: 6386، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7411»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11327
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا سَمَرَ بَعْدَهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء سے قبل سوتے نہیں تھے اورعشاء کے بعد بات چیت نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11327]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن ماجه: 702، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26810»
وضاحت: فوائد: … نمازِ عشاء کے بعد گپ شپ اور بات چیت کرنا مکروہ ہے، کسی شرعی عذر کے بغیر عشاء کے بعد وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے، الا یہ کہ خیر اور علم شرعی والی مجلس ہو یا دنیا کی کوئی اہم ضرورت ہو۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11328
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كُنْتُ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّحَرِ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَّا وَهُوَ عِنْدِي نَائِمًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سحری کے وقت یا رات کے آخری حصہ میں اپنے ہاں سویا ہوا پاتی۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11328]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 742، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25575»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے مختلف حصوں میں قیام کرتے تھے، رات کے بالکل آخری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر آرام کر کے نمازِ فجر ادا کرتے تھے۔
جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کے بارے فرمایا: افضل قیام قیام داؤد ہے، وہ آدھی رات آرام کرتے پھر ایک تہائی رات قیام کرتے، پھر آخری چھٹا حصہ آرام کرتے۔ اسی طرح رات کا آخری حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی آرام فرماتے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 742
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11329
عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ وَكَانَتْ يَمِينُهُ لِطَعَامِهِ وَطُهُورِهِ وَصَلَاتِهِ وَثِيَابِهِ وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ وَكَانَ يَصُومُ الْإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ
زوجۂ رسول سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر دراز ہوتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دایاں ہاتھ(اور دائیں جانب) کھانا کھانے، وضوء کرنے، نماز پڑھنے اور کپڑے پہننے کے لیے مخصوص تھا اور بایاں ہاتھ (اور بائیں جانب) باقی کاموں کے لیے مخصوص تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11329]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، اخرجه ابوداود: 32، والنسائي: 4/ 203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26993»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں