الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ فِيمَا كَانَ يُعْجِبُهُ ﷺ مِنَ الْأَطْعِمَةِ
نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسندیدہ ماکولات کا بیان
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ فَجِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ ذَلِكَ الدُّبَّاءَ وَيُعْجِبُهُ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ وَلَا أَطْعَمُ مِنْهُ شَيْئًا فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا زِلْتُ أُحِبُّهُ قَالَ سُلَيْمَانُ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيَّ فَقَالَ مَا أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَطُّ فِي زَمَانِ الدُّبَّاءِ إِلَّا وَجَدْنَاهُ فِي طَعَامِهِ
سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گیا، پس کھانے میں شوربا لایا گیا، اس میں کدو تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کدو کھانے لگے، دراصل کدو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھے، جب میں نے اس چیز کا مشاہدہ کیا تو میں کدو ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دینے لگا اور میں خود نہیں کھا رہا تھا (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیر ہو کر کھا لیں)۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس میں اس وجہ سے ہمیشہ کدو پسند کرتا رہا، سلیمان تیمی کہتے ہیں: کدو کے موسم میں ہم جب بھی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے تو ان کے کھانے میں کدو پاتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2041، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13392»
وضاحت: فوائد: … یہ صحابۂ کرام کی محبت تھی کہ کھانے میں بھی اس چیز کو پسند کرتے تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ قَتَادَةَ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الدُّبَّاءُ قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو پسند تھے، پس میں وہ کدو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھتا تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح اخرجه الترمذي في الشمائل: 161، وابويعلي: 3006، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14011»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَجِدْهُ وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ صَنَعَ لَهُ طَعَامًا قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ يَأْكُلُ فَدَعَانِي لِآكُلَ مَعَهُ قَالَ وَصَنَعَ لَهُ ثَرِيدًا بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ قَالَ وَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ قَالَ فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ وَأُدْنِيهِ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا طَعِمَ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ قَالَ وَوَضَعْتُ لَهُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلیم نے مجھے ایک ٹوکرا دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طر ف بھیجا، اس میں تازہ کھجوریں تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھر پر نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریب ہی اپنے ایک غلام کی طرف گئے ہوئے تھے، دراصل اس نے کھانا تیار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی تھی، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھے کھانے کے لیے بلایا، اس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے گوشت اور کدو کا ثرید بنایا تھا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو کدو بہت پسند تھے، پس میں کدو جمع کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کرنے لگا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے سے فارغ ہو کر گھر تشریف لے آئے تو میں نے وہ ٹوکرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجوریں کھانا اور ان کو تقسیم کرنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ وہ ختم ہو گئیں۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين اخرجه ابن ماجه: 3303، وأخرج بنحوه البخاري: 5420، 5433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12052 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12075»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَرَأَيْتُ عِنْدَهُ قَرْعًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ هَذَا قَرْعٌ نُكَثِّرُ بِهِ طَعَامَنَا
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں کدو دیکھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کدو ہیں، ہم زیادہ تر اس کو اپنے کھانے میں استعمال کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه ابن ماجه: 3304، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19311»
وضاحت: فوائد: … کدو کے طبّی فوائد بھی ہیں، لیکن ہمیں نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسند سمجھ کر ہی استعمال کرنا چاہیے، اس چیز کی برکت زیادہ ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11322M
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الثُّفْلُ قَالَ عَبَّادٌ يَعْنِي ثُفْلَ الْمَرَقِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شوربے والا ثرید بہت پسند تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح اخرجه الترمذي في الشمائل: 85، والحاكم: 4/ 115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13333»
وضاحت: فوائد: … یہ بڑا مزیدار، مفید اور زود ہضم کھانا ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صُنِعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَ لِي ”يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ“ فَنَاوَلْتُهُ فَقَالَ ”يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ“ فَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ فَقَالَ ”لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مِنْهَا مَا دَعَوْتُ بِهِ“ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری بھونی گئی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے دستی پکڑاؤ۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستی پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ابو رافع! مجھے دستی پکڑاؤ۔ سو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھما دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ابو رافع! مجھے دستی پکڑاؤ۔ ‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بکری کی دو ہی دستیاں ہوتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک میں مطالبہ کرتا رہتا، تو مجھے دستیاں پکڑاتا جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دستی بڑی پسند تھی۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره اخرجه الطبراني في الكبير: 970، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24360»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہوتا کہ معمول سے زیادہ دستیاں نکالی جاتیں، لیکن سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کی بات کی وجہ اس معجزے کا انعقاد نہیں ہوا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الذِّرَاعَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستی پسند تھی۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي اخرجه بنحوه الترمذي: 1837، وابن ماجه: 3307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8359»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهَا ذَبَحَتْ فِي بَيْتِهَا شَاةً فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَطْعِمِينَا مِنْ شَاتِكُمْ فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ وَاللَّهِ مَا بَقِيَ عِنْدَنَا إِلَّا الرَّقَبَةُ وَإِنِّي أَسْتَحْيِي أَنْ أُرْسِلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالرَّقَبَةِ فَرَجَعَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”ارْجِعْ إِلَيْهَا فَقُلْ أَرْسِلِي بِهَا فَإِنَّهَا هَادِيَةُ الشَّاةِ وَأَقْرَبُ الشَّاةِ إِلَى الْخَيْرِ وَأَبْعَدُهَا مِنَ الْأَذَى“
سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے گھر میں ایک بکری ذبح کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمیں بھی اپنی بکری میں سے کچھ کھلا دو، انھوں نے قاصد کو جواباً کہا: اللہ کی قسم! صرف گردن بچی پڑی ہے اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرم آتی ہے کہ میں وہ گردن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجوں، پس قاصد لوٹ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صورتحال سے آگاہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور ان سے کہو کہ وہ یہی گردن ہی بھیج دیں، کیونکہیہ بکری کا ابتدائی حصہ ہے، لذت اور پکنے میں سب سے بہتر ہے اور پیشاب اور مینگنیوں وغیرہ سے بھی دور ہے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الفضل بن الفضل المدني اخرجه النسائي في الكبري: 6658، والطبراني في الكبير: 24/ 844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27031 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27571»
وضاحت: فوائد: … بہرحال گردن کا گوشت مزید دار اور مفید ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَنَعْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَّارَةً فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَاطَّلَعَ فِيهَا فَقَالَ ”حَسِبْتُهُ لَحْمًا“ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَهْلِي فَذَبَحُوا لَهُ شَاةً
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سنگریزوں کا ایک برتن بنایا ہوا تھا، میں وہ برتن آپ کے پاس لایا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں جھانکا اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ اس میں گوشت ہے۔ میں نے اس چیز کا ذکر گھر والوں سے کیا (اور ہم سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت کھانے کی خواہش ہے) پس انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری ذبح کی۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح أخرجه ابويعلي: 2079، 2080، وابن حبان: 7020، والحاكم: 4/111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14635»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اینڈ فیملی کو اس سے اندازہ ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت کی چاہت ہو رہی، لہذا انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس چاہت کو پورا کیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَدبِهِ ﷺ فِي الأكل
کھانے سے متعلقہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ وَلَا يَطَأُ عَقِبَيْهِ رَجُلَانِ قَالَ عَفَّانُ عَقِبَيْهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھایا ہو اور دو افراد نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایڑھیوں کا نہیں روندا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح أخرجه ابويعلي: 2079، 2080، وابن حبان: 7020، والحاكم: 4/111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6549»
وضاحت: فوائد: … ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((لَاتَأْکُلْ مُتَّکِئاً۔)) تو ٹیک لگا کر نہ کھا۔
(ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۱۲۲)
دوسرے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے اور آگے نہیں چلتے تھے۔
صحابۂ کرام کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے چلنے کہ وجہ اس حدیث میں مذکور ہے:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ أَصْحَابُہٗیَمْشُوْنَ أَمَامَہٗإِذَاخَرَجَوَیَدَعُوْنَ ظَھْرَہٗلِلْمَلَائِکَۃِ۔ (ابن ماجہ،صحیحہ: ۴۳۶) … صحابۂ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چلتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔
جبکہ سیدنا جابر کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ((اِمْشُوْا اَمَامِیْ وَخَلُّوْا ظَھْرِیْ لِلْمَلَائِکَۃِ۔)) (صحیحہ: ۱۵۵۷، الحلیۃ لابی نعیم: ۷/۱۱۷) … میرے آگے چلا کرو اور میری پشت کو فرشتوں کے لیے خالی چھوڑ دیا کرو۔
(ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۱۲۲)
دوسرے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے اور آگے نہیں چلتے تھے۔
صحابۂ کرام کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے چلنے کہ وجہ اس حدیث میں مذکور ہے:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ أَصْحَابُہٗیَمْشُوْنَ أَمَامَہٗإِذَاخَرَجَوَیَدَعُوْنَ ظَھْرَہٗلِلْمَلَائِکَۃِ۔ (ابن ماجہ،صحیحہ: ۴۳۶) … صحابۂ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چلتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔
جبکہ سیدنا جابر کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ((اِمْشُوْا اَمَامِیْ وَخَلُّوْا ظَھْرِیْ لِلْمَلَائِکَۃِ۔)) (صحیحہ: ۱۵۵۷، الحلیۃ لابی نعیم: ۷/۱۱۷) … میرے آگے چلا کرو اور میری پشت کو فرشتوں کے لیے خالی چھوڑ دیا کرو۔
الحكم على الحديث: صحیح