الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَوْمِهِ صلى الله عليه وسلم وَ فِرَاشِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند اور بستر کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11330
عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا آوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ وَقَالَ ”رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ ثَلَاثًا
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر تشریف لاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے اور تین بار یہ دعا پڑھتے: رَبِّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ (اے میرے رب! تو جس دن اپنے بندوں کو اٹھائے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11330]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 7034، والنسائي في الكبري: 10599، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26994»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 11331
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ ضِجَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوًّا لِيفًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس پر رات کو سویا کرتے تھے، چمڑے کا تھا، اس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11331]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6456،ومسلم: 2082، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24713»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6456
حدیث نمبر: 11332
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا فَقَالَ ”مَا لِي وَلِلدُّنْيَا مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم پر اثر کیا ہوا تھا، اسی حالت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، یہ منظر دیکھ کر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ذرا نرم بستر بنوالیں تو بہتر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال اس سوار کی سی ہے، جو سخت گرمی میں سفر کرے اور دن کے کسی وقت کسی درخت کے سائے میں آرام کرے۔پھر اسے وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11332]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابن حبان: 6352، والطبراني: 11898، والحاكم: 4/ 309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2744»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سادگی اور دنیوی آسائشوں اور ساز و سامان سے دوری تھی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخرت کا کوئی پہلو متأثرنہ ہو سکے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 11333
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ بِشَرِيطٍ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وَسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَدَخَلَ عُمَرُ فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْحِرَافَةً فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبِهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَكَى عُمَرُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ“ قَالَ وَاللَّهِ إِلَّا أَنْ أَكُونَ أَعْلَمَ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَهُمَا يَعْبَثَانِ فِي الدُّنْيَا فِيمَا يَعْبَثَانِ فِيهِ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ“ قَالَ بَلَى قَالَ ”فَإِنَّهُ كَذَلِكَ“
سیدناسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے تنوں سے بنی ہوئی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ چند صحابہ اسی عالم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریفلائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلو بدلا تو عمر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو اور چار پائی کے بان کے درمیان کوئی کپڑا نظر نہ آیا۔ اور بان کے نشانات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو پر ثبت تھے۔ یہ منظر دیکھ کر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: عمر! تجھے کس چیز نے رلایا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے ہاں کسریٰ اور قیصر کے مقابلے میں بہت زیادہ معزز ہیں۔ وہ دنیا میں خوب عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں اور اللہ کے رسول! آپ کی وہ حالت ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر بات ایسے ہی ہے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11333]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 2782، وابن حبان: 6362، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12444»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي لِبَاسِهِ ﷺ وَزِينَةٍ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لباس اور زینت کا بیان
حدیث نمبر: 11334
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ قَالَ عَفَّانُ أَوْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحِبَرَةُ
قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کون سا لباس سب سے زیادہ پسند تھا؟ انہوں نے جواب دیا: یمن کی سوتی اور دھاری دار چادر۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11334]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5812،ومسلم: 2079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12404»
وضاحت: فوائد: … یہیمن کا سب سے پسندیدہ اور قیمتی کپڑا ہوتا تھا، یہ نرم ہوتا تھا اور خوبصورتی اور مضبوطی سے بنا جاتا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسد اطہر بھی نرم اور خوبصورت تھا، اس لیےیہ لباس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے زیادہ موافق تھا، ایسا لباس جلدی میلا بھی نہیں ہوتا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5812
حدیث نمبر: 11335
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لباس میں سب سے زیادہ پسندیدہ لباس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں قمیص کا پہننا تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11335]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4026، والترمذي: 1763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27230»
وضاحت: فوائد: … قمیص بہت باپردہ اور خوبصورت لباس ہے، ایک دفعہ پہن کر آدمی بے فکر ہو جاتا ہے، یہ لباس نہ دوڑنے سے متاثر ہوتا ہے اور نہ اس سے کوئی کام کرنے میں حرج محسوس ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 11336
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بِرِدَاءٍ حَضْرَمِيٍّ
سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضر موت کی تیار شدہ چادر سے اضطباع کیا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11336]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه ابوداود: 1883،والترمذي: 859، وابن ماجه: 2954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18116»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 11337
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بِبُرْدٍ لَهُ نَجْرَانِيٍّ
۔(دوسری سند)سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجران کی تیار شدہ چادر سے اضطباع کر رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11337]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18119»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18119
حدیث نمبر: 11338
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ مُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ
۔(تیسری سند) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت حضر موت کی تیار شدہ چادر سے اضطباع کیا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11338]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18120»
وضاحت: فوائد: … اضطباع: دائیں بغل سے چادر وغیرہ نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا، جیسے احرام والا آدمی پہلے طواف میں کرتا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18120
حدیث نمبر: 11339
عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ فَذَكَرَ سَوَادَهَا وَبَيَاضَهَا فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ قَذَفَهَا وَكَانَ يُحِبُّ الرِّيحَ الطَّيِّبَةَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اون کی سیاہ رنگ کی چادر بنائی، پھر انھوں نے اس چادر کی سیاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفیدی کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چادر پہن لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اون کی بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اتار کر پھینک دیا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکیزہ اور اچھی خوشبو پسند کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11339]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4074، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25003 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25517»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح