الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي رِفْقِهِ بِهِنَّ وَاهْتِمَامِهِ ﷺ بِأَمْرِ هِنَّ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ازواج کے ساتھ نرمی اور ان کے امور کا اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11482
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَقَالَ ”وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ“ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ يَعْنِي قَوْلَهُ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ
ابو قلابہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج کے پاس آئے۔ تو ایک شتر بان (حدی خوان) ان کے اونٹوں کو ہانکے جا رہا تھا۔ اس کا نام انجشہ تھا۔ آپ نے فرمایا، انجشہ! تمہارا بھلا ہو۔ تم ان آبگینوں کو ذرا آرام سے لے چلو۔ ابوقلابہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسا لفظ بولا کہ اگر تم میں سے کوئی اور آدمی یہ لفظ بولتا تو تم اسے معیوب گردانتے۔ یعنی آپ نے اس سے کہا کہ ان آبگینوں کو آرام سے لے چلو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11482]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12966»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں عورتوں کو شیشے سے تشبیہ دی گئی ہے، اس سے مراد عورتوں کی رقت، ضعف اور نزاکت ہے اور یہ مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے کہ عام طور پر خواتین وفا پر دوام اختیار نہیں کر سکتیں اور بہت جلدی رضامندی کی حالت سے پھر جاتی ہیں، جیسے شیشہ جلدی ٹوٹ جاتا ہے۔
بہرحالیہ ایک بدیع استعارہ ہے، جس کے ذریعے عورتوں سے نرمی کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔
سیّدنا انجشہ رضی اللہ عنہا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حبشی غلام تھے، ان کی کنیت ابو ماریہ تھی۔
بہرحالیہ ایک بدیع استعارہ ہے، جس کے ذریعے عورتوں سے نرمی کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔
سیّدنا انجشہ رضی اللہ عنہا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حبشی غلام تھے، ان کی کنیت ابو ماریہ تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11483
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ وَفِي رِوَايَةٍ كَانَتْ مَرَقَتُهُ أَطْيَبَ شَيْءٍ رِيحًا فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهُ يَدْعُوهُ فَقَالَ ”وَهَذِهِ لِعَائِشَةَ“ فَقَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا“ ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَهَذِهِ“ قَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَهَذِهِ“ قَالَ نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ہمسایہ فارس کا رہنے والا تھا، وہ بہترین قسم کا شور با بناتا تھا۔ (دوسری روایت کے لفظ ہیں کہ اس کا تیار کردہ شورباانتہائی مزیدار ہوتا تھا۔) اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے شوربا تیار کیا، پھر آپ کو وہ بلانے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ (یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا) بھی؟ (یعنی ان کو بھی ساتھ لاؤں)؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: کیایہ عائشہ بھی؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اور یہ عائشہ؟ اب کی بار اس نے کہا: جی ہاں، اس کے بعد آپ دونوں خوشی خوشی اس کے گھر گئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11483]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12268»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11484
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ ”إِنَّ أَمْرَكُنَّ لَمِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ تم ازواج کے معاملے نے مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں فکر مند کر رکھا ہے اور تمہاری باتوں کو وہی لوگ برداشت کر سکیں گے جو صبر کرنے والے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11484]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن،اخرجه الترمذي: 3749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24990»
وضاحت: فوائد: … پھر سیدہ عائشہ نے ابو سلمہ سے کہا: اللہ تعالیٰ تیرے باپ کو جنت کی سلسبیل سے مشروب پلائے۔ انھوں نے واقعی صلہ رحمی کا ثبوت دیتے ہوئے امہات المؤمنین کو (ایک باغ) دیا، جو چالیس ہزار کا فروخت کیا گیا۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک شاہد یہ بھی نقل کیا ہے: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے فرمایا: ((اِنَّ الَّذِیْیَحْنُوْ عَلَیْکُنَّ بَعْدُ ھُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ، اَللّٰھُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِیْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (حاکم) … (میری بیویو!) بیشک جو آدمی تم پر شفقت و مہربانی کرے گا، وہی سچا اور نیک ہو گا، اے اللہ! تو عبد الرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرما دے۔
معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا انتہائی درجے کا احترام و اکرام اور ان کے ساتھ شفقت و رافت والا معاملہ ہوناچاہئے۔ آج اگرچہ امہات المؤمنین موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا تذکرۂ خیر کرنا اور ان کے بشری تقاضوں کو سامنے رکھ کر ان پر کیچڑ نہ اچھالنا ہمارے ایمان و ایقان کا تقاضا ہے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک شاہد یہ بھی نقل کیا ہے: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے فرمایا: ((اِنَّ الَّذِیْیَحْنُوْ عَلَیْکُنَّ بَعْدُ ھُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ، اَللّٰھُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِیْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (حاکم) … (میری بیویو!) بیشک جو آدمی تم پر شفقت و مہربانی کرے گا، وہی سچا اور نیک ہو گا، اے اللہ! تو عبد الرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرما دے۔
معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا انتہائی درجے کا احترام و اکرام اور ان کے ساتھ شفقت و رافت والا معاملہ ہوناچاہئے۔ آج اگرچہ امہات المؤمنین موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا تذکرۂ خیر کرنا اور ان کے بشری تقاضوں کو سامنے رکھ کر ان پر کیچڑ نہ اچھالنا ہمارے ایمان و ایقان کا تقاضا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11485
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْنَى عَلَيَّ فَقَالَ ”إِنَّكُنَّ لَأَهَمُّ مَا أَتْرُكُ إِلَى وَرَاءِ ظَهْرِي وَاللَّهِ لَا يَعْطِفُ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ أَوِ الصَّادِقُونَ“
۔(دوسری سند) ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اوپر جھک کر انتہائی شفقت سے فرمایا: میں اپنے بعد جو امور چھوڑ کر جاؤں گا، تم میری بیویوں کا معاملہ میرے نزدیک ان سب سے زیادہ اہم ہے۔ اللہ کی قسم! تمہارے اوپر جو لوگ شفقت کریں گے، وہ صبر اور صدق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11485]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25405»
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَيْدِ بَعْضِهِنَّ لَهُ وَاحْتِمَالِهِ إِبْدَاءَ هُنَّ وَعَفْوِهِ عَنْهُنَّ وَتَوَاضُعِهِ فِي بَيْتِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11486
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَى وَيُحِبُّ الْعَسَلَ وَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لِي أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةَ عَسَلٍ فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ وَقُلْتُ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ فَقُولِي لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ لَا فَقُولِي لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحٌ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ فَقُولِي لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ لَهُ ذَلِكَ فَقُولِي لَهُ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ قَالَتْ سَوْدَةُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ فَرَقًا مِنْكِ فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ ”لَا“ قُلْتُ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ قَالَ ”سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ“ قُلْتُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ قَالَ ”لَا حَاجَةَ لِي بِهِ“ قَالَ تَقُولُ سَوْدَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ قُلْتُ لَهَا اسْكُتِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میٹھی چیز اور شہد خوب مرغوب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز ادا فرمانے کے بعد اپنی ازواج کے ہاں چکر لگایا کرتے اور ان کے پاس جایا کرتے تھے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اور سابقہ معمول سے ذرا زیادہ دیر تک وہاں ٹھہرے، میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو مجھے بتلایا گیا کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ان کی قوم کی ایک عورت نے شہد کا ایک بڑا ڈبہ ہدیہ بھیجا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس شہد میں سے پلایا ہے۔ میں نے سوچا کہ اللہ کی قسم! ہم اس سلسلہ میں ضرور کوئی پروگرام بنائیں۔ تو میں نے اس بات کا سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا، میں نے ان سے کہا کہ اللہ کے رسول جب آپ کے پاس آکر آپ کے قریب آئیں تو کہہ دینا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں گے کہ نہیں، تو تم نے کہنا ہے کہ تو پھر آپ سے یہ کیسی مہک (بو) آرہی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بالکل گوارا نہ تھی کہ آپ سے کسی قسم کی بو آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد پلایا ہے۔ تو تم کہہ دینا کہ شہد کی مکھی اس درخت پر جا بیٹھی ہو گی، جب آپ میرے پاس تشریف لائیں گے تو میں بھییہی بات آپ سے کہوں گی۔ اور صفیہ! جب اللہ کے رسول آپ کے ہاں آئیں تو تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کہنا۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو وہ بیان کرتی ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر ہی تھے کہ میں تمہارے ڈر کی وجہ سے جلدی میں آپ سے وہ بات کہنے والی تھی، جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔ بہر حال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو میں نے کہہ دیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: تو پھر یہ بو کیسی ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے تو حفصہ نے شہد پلایا ہے۔ میں نے کہا: پھر شہد کی مکھی مغافیر پر جا بیٹھی ہوگی، اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے بھی اسی طرح کہا۔ اس کے بعد جب آپ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو انہوں نے بھی آپ سے ایسی ہی بات کی۔ بعد میں جب آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کووہ شہد نہ پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مجھے اس کی حاجت نہیں۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سبحان اللہ! ہم نے آپ کو اس شہد سے محروم کر دیا ہے۔ تو میں نے ان سے کہا: چپ رہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11486]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5431، 5599، 5614،ومسلم: 1474، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24820»
وضاحت: فوائد: … مغافیر ایک قسم کا پھول ہوتا ہے، جس میںبساند ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11487
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَقَدْ كَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ شَيْءٌ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْضَهُنَّ عَنْ بَعْضٍ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ احْثُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت ہو چکی تھییا نماز کی اقامت کا وقت ہو چکا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی ازواج کے مابین کوئی بحث ہو رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو ایک دوسری سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے مونہوں میں مٹی ڈالیں اور آپ نماز کے لیے تشریف لے چلیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11487]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم مطولا: 1462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12037»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11488
عَنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ قَالَتْ كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ
اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر آکر کیا کچھ کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل خانہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے، نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11488]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 676، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24730»
وضاحت: فوائد: … امہات المؤمنین اگرچہ نبی کی بیویاں اور ساری امت میں سے نہایت نمایاں مقام کی حامل تھیں، تاہم بتقضائے بشریت ان کے مابین بھی سوکنون والی لڑائی اور ناراضگی کی نوبت آہی جاتی تھی،یہ خواتین کا ایسا طبعی معاملہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسانی کے ساتھ اس کو برداشت کر جاتے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ بَعْض خَدَمِهِ ﷺ مِنْهُمْ أَنَّسُ بِنْ مَالِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
خادم رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور دیگر خدام رسول کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11489
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَتَوَانَيْتُ عَنْهُ أَوْ ضَيَّعْتُهُ فَلَامَنِي فَإِنْ لَامَنِي أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلَّا قَالَ ”دَعُوهُ فَلَوْ قُدِّرَ“ أَوْ قَالَ ”لَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ كَانَ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی۔ (ایک روایت میں نو سال کا ذکر ہے)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جو حکم بھی دیا اور پھر مجھ سے اس بارے میں کوتاہی ہو گئییا نقصان ہو گیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں سے کسی نے بھی مجھے برابھلا کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اسے چھوڑ دو،اگر ایسا ہونا مقدر میں ہوتا تو وہ ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11489]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13451»
وضاحت: فوائد: … سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہو جانے والے نقصان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقدیر کی طرف منسوب کر کے بچے کو تسلی دے دیتے۔
دس سال کے طویل عرصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدمت کرنے والے ایک بچے کو ملامت تک نہیں کیا، سبحان اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا در گزر کرنے کا پہلو تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے خون کے پیاسوں اور اپنے دشمنوں کو بھی معاف کر دینے والے تھے، اب قابل غور بات یہ ہے کہ ہمارا اپنے خادموں اور نوکروں کے ساتھ کیسا سلوک ہے؟
دس سال کے طویل عرصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدمت کرنے والے ایک بچے کو ملامت تک نہیں کیا، سبحان اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا در گزر کرنے کا پہلو تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے خون کے پیاسوں اور اپنے دشمنوں کو بھی معاف کر دینے والے تھے، اب قابل غور بات یہ ہے کہ ہمارا اپنے خادموں اور نوکروں کے ساتھ کیسا سلوک ہے؟
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11490
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ فَرَكِبَهَا فَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ ”اقْرَأْ“ فَقَالَ وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اقْرَأْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}“ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ حَتَّى قَرَأَهَا فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا فَقَالَ ”لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا فَمَا قُمْتَ تُصَلِّي بِشَيْءٍ مِثْلِهَا“
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفے میں ایک سفید خچر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ اس کو چلا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: پڑھو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میںکیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سورت کو دہرایا،یہاں تک کہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس سورت کو پڑھ لیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ میں اس سورت سے زیادہ خوش نہیں ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے، تم اس کو معمولی سمجھ رہے ہو، تو نے نماز میں اس جیسی سورت نہیں پڑھی ہو گی (یعنییہ بے مثال سورت ہے، جس کو نماز میں پڑھا جائے)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11490]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17475»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ سیدنا انس اور سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادمین میں سے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بن مَسْعُودٍ وَأُمه رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور ان کی ماں رضی اللہ عنہما بھی خدام رسول میں سے تھے
حدیث نمبر: 11491
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ“ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي بِسَوَادِي سِرِّي قَالَ أَذِنَ لَهُ أَنْ يَسْمَعَ سِرَّهُ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پردہ کو اٹھا دیا جانا تمہارے لیے آگے آجانے کی اجازت کے مترادف ہے اور تم میری راز کی باتوں کو سننے کے بھی مجازہو، یہاں تک کہ میں تمہیں اس سے روک دوں۔ ابو عبدالرحمن نے کہا: سِوَاد کے معانی راز کے ہیں،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں راز کی باتیں سننے کی اجازت دے رکھی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11491]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3684»
وضاحت: فوائد: … کسی کو اجازت دینے کے لیے کوئی علامت مقرر کی جا سکتی ہے۔
آزاد لوگوں میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کل گیارہ خادم تھے، ان کے نام درج ذیل ہیں:
سیدنا انس، سیدنا ہند بن حارثہ، سیدنا اسماء بن حارثہ، سیدنا ربیعہ بن کعب، سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور ان کی ماں، سیدنا عقبہ بن عامر، سیدنا بلال بن رباح، سیدنا سعد، سیدنا بکیر بن شداخ، سیدنا ابو ذر غفاری۔
آزاد لوگوں میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کل گیارہ خادم تھے، ان کے نام درج ذیل ہیں:
سیدنا انس، سیدنا ہند بن حارثہ، سیدنا اسماء بن حارثہ، سیدنا ربیعہ بن کعب، سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور ان کی ماں، سیدنا عقبہ بن عامر، سیدنا بلال بن رباح، سیدنا سعد، سیدنا بکیر بن شداخ، سیدنا ابو ذر غفاری۔
الحكم على الحديث: صحیح