الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ وَمَنَاقِبِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
انصار کے فضائل و مناقب
حدیث نمبر: 11532
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍ فَقَالَ ”أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ لَيَكْثُرُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ يَقِلُّونَ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا يَنْفَعُ فِيهِ أَحَدًا فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مرض الموت کے دنوں میں) سر اور منہ پر کپڑا لپیٹے باہر تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! عام لوگ تعداد میں بڑھتے جا رہے ہیں اور انصار کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، پس تم میں سے جو آدمی امور خلافت پر متمکن ہو اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ انصار کے نیکوکاروں کی بات کو قبول کر لے اور ان میں سے کسی سے کوئی کوتاہی ہو تو اس سے در گزر کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11532]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 927، 3628، 3800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2629»
وضاحت: فوائد: … انصاریوں کی کوتاہی کو محسوس کرنا یا اس وجہ سے ان کی مذمت کرنا یا ان سے دور ہونا، ان سب امور کا دروازہ ہی بند کر دیا گیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11533
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ السَّاعِدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ هَذَا قَالَ ”وَمَنْ هَذَا“ قَالَ ابْنُ عَمِّي حَوْطُ بْنُ يَزِيدَ أَوْ يَزِيدُ بْنُ حَوْطٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا أُبَايِعُكَ إِنَّ النَّاسَ يُهَاجِرُونَ إِلَيْكُمْ وَلَا تُهَاجِرُونَ إِلَيْهِمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ لَا يُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ يُحِبُّهُ وَلَا يَبْغُضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ يَبْغُضُهُ“
سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے ہجرت کرنے کی بیعت لے رہے تھے، حارث رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی سے بھی بیعت لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میرا چچا زاد حوط بن یزیدیایزید بن حوط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے بیعت نہیں لیتا، لوگ تمہاری طرف ہجرت کرکے آئیں گے، تم ان کی طرف ہجرت کرکے نہیں جاؤ گے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جو آدمی انصار سے محبت کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے محبت کرتا ہوگا، لیکن جو آدمی انصار سے بغض رکھے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے بغض رکھتا ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11533]
تخریج الحدیث: «اسناده قويّ، اخرجه الطبراني في الكبير: 3356، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2636، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15625»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11534
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَتَتِ الْأَنْصَارُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَمَاعَتِهِمْ فَقَالُوا إِلَى مَتَى نَنْزَعُ مِنْ هَذِهِ الْآبَارِ فَلَوْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا اللَّهَ لَنَا فَفَجَّرَ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْجِبَالِ عُيُونًا فَجَاءُوا بِجَمَاعَتِهِمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ ”مَرْحَبًا وَأَهْلًا لَقَدْ جَاءَ بِكُمْ إِلَيْنَا حَاجَةٌ“ قَالُوا إِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أُوتِيتُمُوهُ وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ“ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَقَالُوا الدُّنْيَا تُرِيدُونَ فَاطْلُبُوا الْآخِرَةَ فَقَالُوا بِجَمَاعَتِهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَغْفِرَ لَنَا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلَادُنَا مِنْ غَيْرِنَا قَالَ ”وَأَوْلَادِ الْأَنْصَارِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَوَالِينَا قَالَ ”وَمَوَالِي الْأَنْصَارِ“ قَالَ وَحَدَّثَتْنِي أُمِّي عَنْ أُمِّ الْحَكَمِ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ صُهْبَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَنَسًا يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ فِيهِ ”وَكَنَائِنِ الْأَنْصَارِ“
عبید اللہ بن ابی بکر اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ انصار نے اکٹھے ہو کر شکوہ کیا کہ ہم کب تک ان کنوؤں سے پانی کھینچتے رہیں گے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر گزارش کریں اور آپ اللہ سے دعا کریں تاکہ وہ ان پہاڑوں سے ہمارے لیے چشمے جاری کر دے۔ پس وہ سب اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، آپ نے ان کو دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: تمہیں کوئی خاص ضرورت ہی ہماری طرف لائی ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! واقعی بات ایسے ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج تم جو بھی مانگو گے، وہ تمہیں دے دیا جائے گا اور میں بھی اللہ سے جو کچھ مانگوں گا وہ مجھے عنایت کر دے گا۔ یہ سن کر وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بولے: کیا تم دنیا طلب کرنے آئے ہو؟آخرت کی کامیابی مانگ لو۔ ان سب نے بیک زبان عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں کہ وہ ہماری مغفرت فرما دے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کی، ان کے بیٹوں کی اور ان کے پوتوں کی مغفرت فرما دے۔ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور غیر انصار سے ہونے والی ہماری اولاد کے حق میں بھی دعا فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار کی سب اولاد کو بخش دے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کے حق میں بھی دعا فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کی بھی مغفرت فرما دے۔ عبید اللہ بن ابی بکر کا بیان ہے کہ مجھ سے میری والدہ نے ام حکم بنت نعما ن بن صہباء کی روایت سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ انصار نے مزید درخواست کی کہ اللہ کے رسول ہمارے بیٹوں کی بیویوں اور ہمارے بھائیوں کی بیویوں کے حق میں بھی دعائے مغفرت کر دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11534]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه البزار 2808،و أخرج منه الدعاء بالمغفرة فقط: مسلم: 2507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13301»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11535
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ شَقَّ عَلَى الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يُجْرِيَ لَهُمْ نَهْرًا سَيْحًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ لَكُمْ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ“ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ اغْتَنِمُوهَا وَاطْلُبُوا الْمَغْفِرَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ“
۔ (دوسری سند) جب انصار کے لیے اونٹوں پر پانی لاد لاد کر لانا اور کھیتوں کو سیراب کرنا شاق گزرنے لگا تو وہ اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کریں کہ آپ انہیں ایک بہتی نہر کھودنے کی اجازت فرمائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: انصار کو خوش آمدید، اللہ کی قسم! آج تم مجھ سے جو بھی طلب کرو گے، میں تمہیں عنایت کردوں گا اور میں بھی اللہ سے تمہارے لیے جو کچھ مانگوں گا، وہ مجھے دے دے گا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس وقت کو غنیمت سمجھو اور مغفرت کی درخواست کرو۔ ان سب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ہمارے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! انصار کی، ان کی اولادوں کی اور ان کی اولادوں کی اولادوں کی مغفرت فرما دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11535]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12441»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11536
إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَدَّوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک انصار میرے انتہائی خاص، راز دان اور امین لوگ ہیں، ان کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے نیکو کاروں کی بات کو قبول کرو اور ان میں سے کسی سے کوتاہی ہو تو اس سے درگزر کرو، انہوں نے اپنے عہد و پیمان کو تو پورا کر دیا ہے، لیکن ان کے حقوق کی ادائیگی باقی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11536]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3799،ومسلم: 2510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12678»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11537
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى الصِّبْيَانَ وَالنِّسَاءَ مُقْبِلِينَ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ“ وَفِي لَفْظٍ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شادی سے انصار کے بچوں اور عورتوں کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: اللہ گواہ ہے کہ تم لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین ہو۔ اللہ گواہ ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم انصار مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11537]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3785،ومسلم: 2508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12828»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11538
عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ زَمَنَ الْحَرَّةِ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ قُتِلَ مِنْ وَلَدِهِ وَقَوْمِهِ وَقَالَ أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَاغْفِرْ لِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ“
نضر بن انس سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو واقعۂ حرہ کے دنوں میں ان کی اولاد اور ان کی قوم کے افراد کے قتل کی تعزیت کے سلسلہ میں لکھا اور کہا: میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک خوش خبری سنانا چاہتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: یا اللہ! انصارکو، ان کے بیٹوں کو اور ان کے پوتوں کو بخش دے، انصار کی خواتین کو، انصار کے بیٹوں کی بیویوں کو اور انصار کے پوتوں کی خواتین کو بخش دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11538]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري بلفظ مذكور في الشرح: 4906،وأخرجه مسلم: 2506 بلفظ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاء ِ أَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19514»
وضاحت: فوائد: … یزید بن معاویہ نے اپنے دور میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے ایک لشکر بھیجا تھا، اسی کو واقعۂ حرّہ کہتے ہیں۔
صحیح بخاری کی روایت کا سیاق درج ذیل ہے:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنُ الْفَضْلِ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: حَزِنْتُ عَلَی مَنْ أُصِیبَ بِالْحَرَّۃِ فَکَتَبَ إِلَیَّ زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَبَلَغَہُ شِدَّۃُ حُزْنِییَذْکُرُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ۔)) … سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حرّہ میں شہید ہونے والوں پر مجھے غم ہوا، جب سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو میرے غم کی شدت کا علم ہوا تو انھوں نے میری طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو انصاریوں اور انصاریوں کے بیٹوں کوبخش دے۔
صحیح بخاری کی روایت کا سیاق درج ذیل ہے:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنُ الْفَضْلِ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: حَزِنْتُ عَلَی مَنْ أُصِیبَ بِالْحَرَّۃِ فَکَتَبَ إِلَیَّ زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَبَلَغَہُ شِدَّۃُ حُزْنِییَذْکُرُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ۔)) … سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حرّہ میں شہید ہونے والوں پر مجھے غم ہوا، جب سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو میرے غم کی شدت کا علم ہوا تو انھوں نے میری طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو انصاریوں اور انصاریوں کے بیٹوں کوبخش دے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11539
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ قَالَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعًا وَإِنَّا قَدْ تَبِعْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا قَالَ فَدَعَا لَهُمْ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَهُمْ مِنْهُمْ قَالَ فَنَمَّيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى فَقَالَ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَرْقَمَ
عمر و بن مرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو حمزہ طلحہ بن یزید سے سنا، انھوں نے کہا کہ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہر نبی کے کچھ پیروکار ہوتے ہیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی ہے۔ اب آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار ہم میں سے بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیرو انہی میں سے بنائے۔ میں نے اس حدیث کا ابن ابی لیلی سے ذکر کیا، تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11539]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19551»
وضاحت: فوائد: … انصار کا مطلب یہ تھا کہ جیسے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کے تقاضے پورے کیے ہیں، ان کی نسل اور حلیف بھییہ سلسلہ جاری رکھیں اور بیچ میں انقطاع نہ آنے دیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11540
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُهُمْ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار سے محبت کرنا ایمان کی اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11540]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 17، 3784،ومسلم: 74، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12396»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11541
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِحْنَةٌ حُبُّهُمْ إِيمَانٌ وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ“
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار کا یہ قبیلہ لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے، ان سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11541]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/159، والبزار: 3736، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22829»
وضاحت: فوائد: … یعنی اللہ تعالیٰ انصار کی محبت اور بغض کے ذریعے آزمائے گا، جس نے محبت کی، وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے بغض رکھا، وہ ناکام ہو گیا، گویا کہ ایمان اور نفاق کی کسوٹی اور معیار انصار ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح