🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ وَمَنَاقِبِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
انصار کے فضائل و مناقب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11552
عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقُلْتُ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ فَبَلَغَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هَلَّا قُلْتَ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ“
سیدنا ابو عقبہ رضی اللہ عنہ، جو کہ ایک فارسی غلام تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، میں نے ایک مشرک پر زبردست قسم کا وار کرتے ہوئے کہا: لے مزہ چکھ، میں ایک فارسی لڑکا ہوں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے یوں کیوں نہ کہا کہ لے مزہ چکھ، میں ایک انصاری لڑکا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11552]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن ابي عتبة في عداد المجھولين، اخرجه ابوداود: 5123،وابن ماجه: 2784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22515 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22882»
وضاحت: فوائد: … بہتر یہی ہے کہ اسلامی نسبت اختیار کی جائے، انصار کی طرف نسبت اسلامی نسبت ہے، جبکہ اہل فارس کافر تھے اور ان کی طرف نسبت کرنا جہالت کا کام تھا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11553
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا يَضُرُّ امْرَأَةً نَزَلَتْ بَيْنَ بَيْتَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْ نَزَلَتْ بَيْنَ أَبَوَيْهَا“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو کوئی تکلیف نہیں جو انصاریوں کے گھروں میں اترے یا اپنے والدین کے گھر اترے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11553]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الحاكم: 4/ 83، وابن حبان: 7267، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26737»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں انصار لوگوں کے حسن اخلاق، تقوی اور پاکدامنی کو واضح کیا گیا ہے کہ کسی عورت کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اپنے والدین کے گھر میں آباد ہے یا انصار کے گھر میں آ چکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ خَيْرِ دُوْرِ الْأَنْصَارِ
انصار کے بہترین گھرانوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11554
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ“ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَهُمْ رَهْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ“ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ“ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ“ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ“ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ“ قَالَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ وَقَتَادَةُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ ”بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ انصار کے سب سے اچھے گھرانے کون کون سے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: ضرور بیان فرمائیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو عبدالاشھل، یہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو نجار ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو حارث بن خزرج۔ صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو ساعدہ۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! ان کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر انصار کے سب ہی گھرانوں میں خیر ہی خیر ہے۔ معمر سے مروی ہے کہ ثابت اور قتادہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ان دونوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہی حدیث بیان کرتے سنا تو انہوں نے سب سے پہلے بنو نجار کا اور ان کے بعد بنو عبدالاشھل کا ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11554]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7617»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11555
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ“ ثُمَّ قَالَ ”وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ“ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ جَعَلَنَا رَابِعَ أَرْبَعَةٍ أَسْرِجُوا لِي حِمَارِي فَقَالَ ابْنُ أَخِيهِ أَتُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَسْبُكَ أَنْ تَكُونَ رَابِعَ أَرْبَعَةٍ
ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصارکے گھرانوں میں سب سے بہترین گھر انہ بنو نجار کا، ان کے بعد بنو عبدالاشھل کا، ان کے بعد بنو حارث بن خزرج اور ان کے بعد بنو ساعدہ کا ہے، ویسے انصار کے سب گھرانوں میں خیر ہی خیر ہے۔ یہ سن کر سیدناسعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارا نام چوتھے نمبر پر لیا، میرے گدھے پر زین کسو (میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شکایت کرتا ہوں)۔ لیکن ان کے بھتیجے نے ان سے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات پر اعتراض کریں گے؟ تمہارے لیےیہ اعزاز بھی کافی ہے کہ تم چوتھے نمبر پر ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11555]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري مختصرا: 6053،و أخرجه بنحوه مسلم: 2511، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16051 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16147»
وضاحت: فوائد: … جیسے ہر مقام پر یہ معاملہ واضح ہے کہ بعض قبیلے اپنی صفات کی بنا پر بعض سے برتری رکھتے ہیں، بالکل یہی معاملہ انصار کا تھا، بہرحال انصار کے تمام قبائل میں خیر و بھلائی تو پائی ہی جاتی تھی، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اسلام کی طرف سبقت کرنے، اسلام کے لیے قربانیاں دینے اور ان کے مزاج کو دیکھ کر ان کے بعض قبائل کو بعض پر ترجیح دی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرِينَ
انصار اور مہاجرین کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11556
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ أَوْلِيَاءُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَالْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین اور انصار یہ سب ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں، اسی طرح قریش کے وہ لوگ جنہیں فتح مکہ کے دن معاف کر دیا گیا اور بنو ثقیف کے آزاد کردہ لوگ دنیا اورآخرت میں ایک دوسرے کے مددگار اور معاون ہیں اور مہاجرین و انصار قیامت تک ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11556]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الطيالسي: 671، وابن حبان: 7260، والطبراني في الكبير: 10408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19428»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11557
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَالْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریش کے جن لوگوں کو فتح مکہ کے دن معاف کر دیا گیا، وہ اور بنو ثقیف کے وہ لوگ جنہیں آزاد کر دیا گیا،یہ سب دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے معاون اور مدد گار ہیں، اور مہاجرین و انصار بھی دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11557]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19431»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11558
أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا فَأَجَابَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار نے یوں کہا: نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدًا، عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدًا (ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی ہے کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے، جہاد کرتے رہیں گے۔) تو ان کے اس قول کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے، پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ ایک روایت میں ہے: پس تو انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11558]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2961، 3796، ومسلم: 1805، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12762»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11559
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ الْمُهَاجِرُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِي كَثِيرٍ لَقَدْ كَفَوْنَا الْمَؤُونَةَ وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَإِ حَتَّى لَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ قَالَ ”لَا مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ وَدَعَوْتُمُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے، ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء کم ہوں تو خوب ہمدردی کرتے ہیں اور اگر ان کے پاس کھانے پینے کو وافر ہو تو بھی خوب خرچ کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں محنت مزدوری سے بچایا اور اپنی کمائی میں ہمیں اپنا شریک بنایا۔ ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا اجرو ثواب یہ لوگ لے جائیں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ بات نہیں ہے، تم لوگ جب تک ان کی تعریف کرو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرو گے توتمہیں بھی اجر و ثواب ملتا رہے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11559]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابوداود: 4812، والترمذي: 2487، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13153»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر بندے کے پاس احسان کا بدلہ چکانے کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ زبان سے اچھے انداز میں شکریہ ادا کرے اور اس انداز میں تعریفی کلمات کہے کہ احسان کرنے والے کی حوصلہ افزائی ہو جائے، لیکن تعریف کرنے میں نہ غلوّ کیا جائے اور نہ احسان کرنے والاریاکاری میں مبتلا ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11560
عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا قَالَ سُفْيَانُ كَأَنَّهُ يَقُولُ آخَى
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین اور انصار کے ما بین ایک معاہدہ کرایا۔اس حدیث کا ایک راوی سفیان کہتے ہیں:سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی معاہدہ سے مراد مواخات اور بھائی چارہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11560]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2294، ومسلم: 2529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12113»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11561
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَسْمَاءَ لَمَّا قَدِمَتْ لَقِيَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ آلْحَبَشِيَّةُ هِيَ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ سُبِقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ فَقَالَتْ هِيَ لِعُمَرَ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ وَيُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا أَمَا إِنِّي لَا أَرْجِعُ حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلْ لَكُمُ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ“
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا جب حبشہ سے واپس آئیں تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں کہا: کیایہ وہی ہے جو حبشہ سے آئی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر لوگ ہجرت کرنے میں تم پر سبقت نہ لے چکے ہوتے تو تم بہترین لوگ ہوتے، یہ سن کر انھوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے، تم میں سے جو سواری سے محروم ہوتا یعنی پیدل ہوتا، اللہ کے رسول اسے سواری دیتے اور تم میں سے جو کوئی دین کے مسائل سے واقف نہ ہوتا، اللہ کے رسول اسے تعلیم دیتے اور ہم تو اپنا دین بچانے کے لیےیہاں سے فرار ہو گئے تھے، اب میں جب تک اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر نہ کر لوں واپس نہیں آؤں گی۔ پس وہ آپ کی خدمت میں گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: بلکہ تمہاری تو دوہجرتیں ہو گئیں، ایک مدینہ کی طرف اور ایک حبشہ کی طرف۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11561]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4230، 4231، ومسلم: 2503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19753»
وضاحت: فوائد: … مہاجرین حبشہ کی فضیلت و منقبت بھی مسلم ہے کہ انہیں دو ہجرتوں کا ثواب ہوگا، انہوںنے ایک دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور دوسری دفعہ مدینہ منورہ کی طرف۔
گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر بن خطاب کی تائید نہیں کی جو یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہم نے حبشہ کی طرف جانے والوں سے پہلے ہجرت کی۔ بلکہ آپ نے حبشہ کی طرف جانے کو بھی اللہ کی طرف ہجرت قرار دیا اور اسماء اور دیگر قافلہ کو دو ہجرتیں کرنے والے قرار دیا۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں