الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وعلي رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
حدیث نمبر: 11572
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَسَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَنَا انْطَلِقُوا إِلَى مَسْجِدِ التَّقْوَى فَانْطَلَقْنَا نَحْوَهُ فَاسْتَقْبَلْنَاهُ يَدَاهُ عَلَى كَاهِلِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَثُرْنَا فِي وَجْهِهِ فَقَالَ ”مَنْ هَؤُلَاءِ يَا أَبَا بَكْرٍ“ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَسَمُرَةُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، لوگوں نے ہمیں بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تقویٰ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ہیں، ہم بھی ادھر چل دیئے،جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پہنچے تو دیکھا کہ آپ کے ہاتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کاندھوں پر تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار محسوس کیے، آپ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11572]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي ھلال، ولجھالة ابي امين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10777»
وضاحت: فوائد: … مدینہ منورہ کے اطراف میں ایک مسجد کا نام تقوی تھا، شناخت کے لیے مسجد کا کوئی نام بھی رکھا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابي ھلال
حدیث نمبر: 11573
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ”بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبَهَا فَضَرَبَهَا قَالَتْ إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَةِ“ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَتَكَلَّمُ فَقَالَ ”فَإِنِّي أُومِنُ بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ“ وَمَا هُمَا ثَمَّ ”وَبَيْنَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا عَلَيْهَا الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاةً مِنْهَا فَطَلَبَهُ فَأَدْرَكَهُ فَاسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ فَقَالَ يَا هَذَا اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي“ قَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ ”إِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ“ وَمَا هُمَا ثَمَّ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ایک دفعہ ایک آدمی بیل کو ہانکے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہوگیا اور اس نے اسے مارا، آگے سے بیل نے بول کر کہا کہ ہمیں سواری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیا، ہمیں تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے یہ بات سن کر ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بیل باتیں کرنے لگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر اور عمرکا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما وہاں موجود نہیں تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیئے نے حملہ کرکے ایک بکری کو اچک لیا، اس نے اس کا پیچھا کرکے اسے جا لیا اور اس سے بکری کو چھڑا لیا، تو بھیڑیئے نے بول کر کہا: ارے تو نے آج تو اسے مجھ سے چھڑا لیا، فتنوں کے دنوں میں جب لوگ مویشیوں کو یونہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور اس دن میرے سوا ان کا کوئی چرواہا (محافظ) نہ ہوگا، تب ان کو مجھ سے کون بچائے گا؟ لوگوں نے یہ سن کر بھی ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرنے لگا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر کا اور عمر کا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11573]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3471، ومسلم: 2388، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7345»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان و ایقان پر کتنا اعتماد تھا کہ ان کی عدم موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تصدیق کی شہادت دے رہے ہیں،یہ شیخین کی بڑی عظیم منقبت ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3471
حدیث نمبر: 11574
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ ”يَا عَلِيُّ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَشَبَابِهَا عَدَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! یہ دونوں جنتی بزرگوں اور نوجوانوں کے سردار ہوں گے، ماسوائے انبیاء و رسل کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11574]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 3666،وابن ماجه: 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 602»
وضاحت: فوائد: … کُھُوْل کا واحد کَھْل ہے، جو آدمی اپنی عمر کے تیسیا چونتیس برس سے اکاون برس کے درمیان ہوتا ہے، اس کو کَھْل کہتے ہیں، ہم نے اس لفظ کا معنی بزرگ کیا ہے۔ جنت میں تو ہر ایک کو ایک ہی عمر کی نوجوانی ملے گی، اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جو افراد بزرگی اور نوجوانی کی عمر میں وفات پا کر جنت میں جائیں گے، ان کے سردار سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہوں گے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 11575
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِ وَسَارَ بِسِيرَتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى ذَلِكَ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا وَسَارَ بِسِيرَتِهِمَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ
عبد خیر سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر خیر کیا اور فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوں نے سارے امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کے مطابق سر انجام دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے طریقے پر چلتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ا پنے پاس بلا لیا۔ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوں نے بھی اپنے دونوں پیش روؤں کے عمل کے مطابق امور سرانجام دیئے اور ان دونو ں کے طریقے پر چلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اپنے ہاں بلا لیااور وہ اسی منہج پر قائم تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11575]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1055»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت کی بہت سی احادیث مروی ہیں، باب کی آخری حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہر دو حضرات کی خلافت اور ان کے طریق کار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقہ کے مطابق قرار دیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پہلے دونوں خلفاء کی خلافت اور ان کے کسی بھی امر پر قطعاً اعتراض نہ تھا۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن
6. بَابُ مَا اشْتَرَكَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
حدیث نمبر: 11576
قَالَ نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لِي أَمْسِكْ عَلَيَّ الْبَابَ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ فَضُرِبَ الْبَابُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ قَالَ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَفِي رِوَايَةٍ قُفِّ الْبِئْرِ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُمَرُ قَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ قَالَ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ قَالَ ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عُثْمَانُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُثْمَانُ قَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ“ وَفِي رِوَايَةٍ وَسَيَلْقَى بَلَاءً فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ
سیدنا نافع بن عبدالحارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گیا،یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے باغات میں سے ایک ایسے باغ میں داخل ہو گئے، اس کے باہر چار دیواری بنی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم دروازے پر ٹھہرو۔ اور آپ خود کنوئیں کی منڈیر پر جا بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں کنوئیں کے اندر لٹکالیے، کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟آنے والے نے کہا: میں ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت دے دی۔ وہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی اسی طرح کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے، کچھ دیر بعد پھر دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ اس نے کہا: میں عمر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عمرآئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنا دی، وہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کنوئیں کی منڈیر پر کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ پھر کچھ دیربعد دروازے پر دستک دی گئی۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں عثمان ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عثمان رضی اللہ عنہ آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو، لیکن کچھ آزمائش کے بعد۔ میں نے انہیں بھی اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنائی۔ وہ بھی آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (آپ کے سامنے) کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11576]
تخریج الحدیث: «أخرجه عن ابي موسي الاشعري البخاري: 3695، 7097، 7262ومسلم: 2403،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15448»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی آزمائش سے مراد وہ حالات ہیں، جو ان کی شہادت کے وقت پیدا ہو گئے تھے اور جن کی وجہ سے وہ بالآخر شہید ہو گئے تھے۔
الحكم على الحديث: أخرجه عن ابي موسي الاشعري البخاري: 3695
حدیث نمبر: 11577
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ قَالَ فَقُلْتُ فَأَيْنَ أَنَا قَالَ ”أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ“
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی دے دو۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: انہیں بھی اندر کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم انہیں اندر آنے کی اجازت اور جنت کی بشارت دے دو۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا کہ میں کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے باپ کے ساتھ ہو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11577]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6548»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 11578
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَسِبْتُهُ قَالَ فِي حَائِطٍ فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اذْهَبْ فَأْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ ”اذْهَبْ فَأْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ“ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ اللَّهُمَّ صَبْرًا حَتَّى جَلَسَ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک باغ میں تھا کہ ایک آدمی نے آکر سلام کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر ان کو اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے دروازے پر جا کر دیکھا تو وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: جی اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرنے لگے یہاں تک کہ بیٹھ گئے۔ اس کے بعد ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں دروازے پر گیا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرتے ہوئے بیٹھ گئے۔ پھر ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا، لیکن یہ جنت ایک سخت امتحان کے بعد ملے گی۔ میں گیا تو وہ عثمان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان سے کہا کہ اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو، لیکن ایک سخت امتحان اور آزمائش کے بعد ملے گی۔ تو وہ کہنے لگے: یا اللہ! مجھے اس وقت صبر کی توفیق سے نوازنا، وہ یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ بھی بیٹھ گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11578]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3695، 7262،ومسلم: 2403، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19738»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3695
حدیث نمبر: 11579
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَتْ مِنَ السَّمَاءِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ مِنْهُ شَرْبًا ضَعِيفًا قَالَ عَفَّانُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ فَانْتَشَطَتْ مِنْهُ فَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک ڈول نیچے لٹکایا گیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آکر ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر اس سے تھوڑا سا پانی پیا اور ان کے پینے میں کچھ کمزوری سی تھی۔ ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر خوب سیراب ہو کر پیا، ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے بھی ڈول کو دونوں طرف سے تھام لیا، اس میں کچھ لرزہ سا تھا۔ اس میں سے کچھ چھینٹے عثمان رضی اللہ عنہ پر جا گرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11579]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 4637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20505»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد کی روایت میں ایک جملہ ساقط ہو گیا ہے، ممکن ہے کہ کاتب یا پبلشر سے یہ غلطی ہو گئی ہو، اس جملے کے علاوہ حدیث کا معنی سمجھ نہیں آتا، سنن ابو داود کی روایت مکمل ہے، اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد اس طرح ذکر ہے: پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر خوب سیر ہو کر پانی پیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوںنے ڈول کو دونوں طرف سے تھام لیا، اس میں کچھ لرزہ سا تھا۔ اس میں سے کچھ چھینٹے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر جا گرے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کمزوری سے مراد ان کی مدتِ خلافت کا کم ہونا ہے، جو کہ دو برسوں سے کچھ زیادہ تھی اور سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے سیراب ہونے سے مراد ان کی مدتِ خلافت کا طویل ہونا ہے، جو کہ بالترتیب تقریباً دس سال اور بارہ برس تھی، لرزے سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلافت کا مختصر ہونا ہے، جو کہ چار برس اور نو ماہ تھی۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 11580
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا عَلَى حِرَاءٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ“
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہ حراء پر تشریف فرما تھے،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدناعثمان رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک کوہ حراء (خوشی سے) جھومنے لگا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حراء ٹھہر جا، تجھ پر نبی ہے، یا صدیق ہے، یا شہید ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11580]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23324»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود نبی تھے، سیدنا ابو بکر صدیق تھے اور سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما شہید تھے۔
الحكم على الحديث: اسناده قوي
حدیث نمبر: 11581
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَعُدُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ وَأَصْحَابُهُ مُتَوَافِرُونَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ثُمَّ نَسْكُتُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ہم ابو بکر، عمر اور عثمان کے نام اسی ترتیب سے لیا کرتے اور اس کے بعد ہم خاموش ہو جاتے تھے، جبکہ صحابۂ کرام کثیر تعداد میں تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11581]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4626»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3655