🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وعلي رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11562
عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا قَالَ فَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالثَّانِي قَالَ فَذَكَرَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لَوْ شِئْتُ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِالثَّالِثِ قَالَ وَسَكَتَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَعْنِي نَفْسَهُ فَقُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ يَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ وَإِلَّا صُمَّتَا
عبد خیر ہمدانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ منبر پر تشریف فرما تھے اور کہہ رہے تھے: لوگو! کیا میں تمہیں نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد کون سب سے افضل ہے؟ پھر انہوں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ پھر کہا: کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں نہ بتلاؤں جو نبی کے بعد امت میں دوسرے درجہ پر ہے؟ پھر انہوں نے خود ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ اور پھر کہا: اگر میں چاہوں تو تمہیں اس آدمی کے متعلق بتلا سکتا ہوں جو تیسرے درجہ پر ہے۔ عبد خیر کہتے ہیں کہ یہ کہہ کرو ہ خاموش رہے۔ ہم یہی سمجھے کہ وہ اپنے آپ کو مراد لے رہے ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا، کیا آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم!، اگر میں نے خود نہ سنا ہو تو میرےیہ کان بہرے ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11562]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 909 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 909»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11563
حَدَّثَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ الَّذِي كَانَ عَلِيٌّ يُسَمِّيهِ وَهْبَ الْخَيْرِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ أَلَا أُخْبِرُكَ أَفْضَلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا قَالَ قُلْتُ بَلَى وَلَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْهُ قَالَ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَبَعْدَهُمَا آخَرُ ثَالِثٌ وَلَمْ يُسَمِّهِ
ابو حجیفہ، جنہیں علی رضی اللہ عنہ وہب الخیر کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے، ان سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد افضل ترین آدمی کون ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ضرور بتلائیں اور میرا خیال تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل کوئی نہیں ہو سکتا۔ لیکن انھوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، ان کے بعد سیدناعمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے، پھر انہوں نے اس کا نام نہ لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11563]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 835»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11564
عَنْ وَهْبِ بْنِ الشَّوَائِيِّ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا فَقُلْتُ أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ لَا خَيْرُ هَذِهِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ
وہب سوائی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اورپوچھا کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ خود ہیں، اے امیر المؤمنین! لیکن انھوں نے کہا: نہیں، اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکون اور وقار عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر بولتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11564]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 834 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 834»
وضاحت: وہب سوائی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اورپوچھا کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ خود ہیں، اے امیر المؤمنین! لیکن انھوں نے کہا: نہیں، اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکون اور وقار عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر بولتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11565
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَبَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فضیلت و مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے آگے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نائب کے طور پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے امامت کے فرائض سر انجام دیئے اور تیسرا درجہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ ان کے بعد ہم فتنوں میں مبتلا ہوگئے اور اللہ جس سے چاہے گا، درگزر فرمائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11565]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الاوسط: 1661، والنسائي في مسند علي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 895 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 895»
وضاحت: فوائد: … فتنوں سے مراد سیدنا عثمان کی شہادت اور جنگ جمل اور جنگ صفین وغیرہ ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11566
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ كَانَ أَبِي مِنْ شُرَطِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ فَحَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَالثَّانِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَالَ يَجْعَلُ اللَّهُ تَعَالَى الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ
عون بن ابی جحیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میرے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خصوصی پہرہ داروں میں سے تھے، وہ منبر کے قریب بیٹھے تھے، انہوں نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر آکر اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا اور کہا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں۔ پھر کہا: اللہ جہاں چاہتا ہے، خیر وبرکت نازل کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11566]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 837»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11567
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ فِيهِ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ وَمَا مِنْهُمْ أَحَدٌ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ حَبْوَتِهِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لاتے، وہاں مہاجرین و انصار سب موجود تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی آدمی آپ کی طرف سر نہ اٹھاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کی طرف دیکھ کر وہ دونوں آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11567]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحكم بن عطية ضعيف يعتبر به، اخرجه الترمذي: 3668، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12544»
وضاحت: فوائد: … جب محبت اور راز داری زیادہ ہو تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہی بلا اختیار مسکراہٹ کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11568
عَنِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ مَا كَانَ مَنْزِلَةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَمَنْزِلَتِهِمَا السَّاعَةَ
ابن ابی حازم سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے علی بن حسین کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کیا مقام تھا؟ انہوں نے کہا: (ان دو ہستیوں کا وہی مقام تھا) جو اس گھڑی میں ان کو حاصل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11568]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن ابي حازم، لم نعرفه، فان كان عبد العزيز بن ابي حازم، فالاسناد منقطع، لانه لم يدرك علي بن الحسين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16829»
وضاحت: فوائد: … یہ بہت خوبصورت جواب ہے کہ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک کمرے میں مدفون ہیں، ایسے ہییہ اپنی زندگی میں تھے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11569
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهُ ثُمَّ قَالَ ”يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهُ ثُمَّ قَالَ ”يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُ رَأْسَهُ تَحْتَ الْوَدِيِّ فَيَقُولُ ”اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا“ فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهُ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی اور کھانا تیار کیا، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آرہا ہے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، ہم نے ان کو مبارکباد دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک جنتی آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ ہم نے انہیں مبارک باد دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہہ کر اپنا سر کھجور کے چھوٹے درختوں کے نیچے کر لیا اور فرمایا: اے اللہ! اگر تو چاہے تو آنے والا علی ہو۔ اتنے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے،اورہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11569]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، اخرجه الطبراني في الاوسط: 6998، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14604»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! کیسی کرامت اور خوبصورت ترتیب، کیا بات ہے اللہ تعالیٰ کے پیاروں کی۔رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَاَرْضَاھُمْ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11570
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنَمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ”لَوِ اجْتَمَعْتُمَا فِي مَشْوَرَةٍ مَا خَلَفْتُكُمَا“
عبدالرحمن بن غنم اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اگر کسی مشورہ میں تم دونوں کی رائے ایک ہو تو میں تمہاری رائے سے اختلاف نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11570]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، وحديث عبد الرحمن بن غنم عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم مرسل، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)17994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18157»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11571
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اقْتَدُوا بِالَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ“
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد ابو بکر اور عمر کی اقتداء کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11571]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه وشواھده، اخرجه الترمذي: 3662، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23634»
وضاحت: فوائد: … اس میں ان دو ہستیوں کی خلافت اور حسن سیرت کی طرف واضح طور پر اشارہ ہے۔
دوسری آیات و احادیث کی روشنی میں یہ کہنا درست ہے کہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی اطاعت اس وقت تک کی جائے گی، جب تک اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی نہ ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں